ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رجم کی آیت اور بڑی عمر کے آدمی کو دس بار دودھ پلا دینے کی آیت اتری، اور یہ دونوں آیتیں ایک کاغذ پہ لکھی ہوئی میرے تخت کے نیچے تھیں، جب نبی اکرم ﷺ کی وفات ہوئی، اور ہم آپ کی وفات میں مشغول تھے ایک بکری آئی اور وہ کاغذ کھا گئی۔
It was narrated that Aisha (RA) said: "The Verse of stoning and of breastfeeding an adult ten times was revealed, and the paper was with me under my pillow. When the Messenger of Allah ﷺ died, we were preoccupied with his death, and a tame sheep came in and ate it" (Hasan)
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ان کے پاس تشریف لائے، اور اس وقت ایک شخص ان کے پاس بیٹھا ہوا تھا، آپ ﷺ نے پوچھا یہ کون ہیں ؟ انہوں نے کہا: یہ میرے بھائی ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: دیکھو جن لوگوں کو تم اپنے پاس آنے دیتی ہو انہیں اچھی طرح دیکھ لو (کہ ان سے واقعی تمہارا رضاعی رشتہ ہے یا نہیں) حرمت تو اسی رضاعت سے ثابت ہوتی ہے جو بچپن کی ہو جس وقت دودھ ہی غذا ہوتا ہے ۔
It was narrated from Aisha (RA) that the Prophet ﷺ entered upon her and there was a man with her. He said: "Who is this?" She said: "This is my brother," He said: Look at whom you allow to enter upon you, because the breastfeeding (that makes a person Mahram) is that which satisfies hunger." (sahih)
عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رضاعت معتبر نہیں ہے مگر وہ جو آنتوں کو پھاڑ دے ١ ؎۔
It was narrated from Abdullah bin Zubair that the Messenger of Allah ﷺ said: "There is no breastfeeding except that which fills the stomach." (sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جو کم سنی میں دو برس کے اندر ہو۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٢٨٢، ومصباح الزجاجة: ٦٩١) (صحیح) (سند میں ابن لہیعہ ضعیف ہیں، لیکن حدیث دوسرے طریق سے صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ٢١٥٠ )
زینب بنت ابی سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کی ساری بیویوں نے اس مسئلہ میں ام المؤمنین عائشہ ؓ کی مخالفت کی، اور انہوں نے انکار کیا کہ سالم مولی ابوحذیفہ ؓ جیسی رضاعت کوئی کر کے ان کے پاس آئے جائے، اور انہوں نے کہا: ہمیں کیا معلوم شاید یہ صرف سالم کے لیے رخصت ہو۔
It was narrated from Zainab bint Abi Salamah that the wives of the Prophet ﷺ all differed with ‘ Aisha (RA) and refused to allow anyone with ties of breastfeeding like Sâlim, the freed slave of Abu Hudhaifah, to enter upon them. They said: “How do we know? That may be a concession granted only to Sâiim.” (Sahih)
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میرے رضاعی چچا افلح بن ابی قیس میرے پاس آئے اور اندر آنے کی اجازت چاہی، یہ اس وقت کا ذکر ہے جب حجاب (پردے) کا حکم اتر چکا تھا، میں نے ان کو اجازت دینے سے انکار کردیا یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ میرے پاس آئے، اور فرمایا: یہ تمہارے چچا ہیں ان کو اجازت دو ، میں نے کہا: مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے مرد نے نہیں! ١ ؎ آپ ﷺ نے فرمایا: تمہارے دونوں ہاتھ یا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو ٢ ؎۔
It was narrated that , Aisha (RA) said: "My paternal uncle through breastfeeding, Aflah bin Abu Qu`ais, came and asked permission to visit me, after the ruling on veiling had been enjoined, and I refused to let him in, until the Prophet ﷺ came in and said: He is your paternal uncle; let him in. I said: But it is the woman who breastfed me; the man did not breastfeed me. He said: May your hands be rubbed with dust, or: May your right hand be rubbed with dust" (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ہرچند بچہ عورت کا دودھ پیتا ہے، مگر اس کا شوہر بچے کا باپ ہوجاتا ہے، کیونکہ عورت کا دودھ اسی مرد کی وجہ سے ہوتا ہے، اب اس مرد کا بھائی بچہ کا چچا ہوگا، اور نسبی چچا کی طرح وہ بھی محرم ہوگا۔ ٢ ؎: جب کوئی شخص نادانی کی بات کہتا ہے تو یہ کلمہ اس موقعے پر اس پر افسوس کے اظہار کے لیے کہا جاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الرضاع ١ (١٤٤٤)، سنن النسائی/النکاح ٥٢ (٣٣١٩)، (تحفة الأشراف: ١٦٤٤٣، ١٦٩٢٦)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الشہادات ٧ (٢٦٤٤)، تفسیر سورة السجدة ٩ (٤٧٩٦)، النکاح ٢٣ (٥١٠٣)، موطا امام مالک/الرضاع ١ (٣)، مسند احمد (٦/١٧٨) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میرے رضاعی چچا آئے اور اندر آنے کی اجازت مانگنے لگے، تو میں نے ان کو اجازت دینے سے انکار کردیا، اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنے چچا کو اپنے پاس آنے دو ، میں نے کہا: مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے مرد نے نہیں!، آپ ﷺ نے فرمایا: وہ تمہارے چچا ہیں انہیں اپنے پاس آنے دو ۔
It was narrated that ‘ Aisha (RA) said: “My paternal uncle through reastfeeding came to visit me and I refused to let him in. The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Let your paternal uncle visit you.’ I said: ‘But it is the woman who breastfed me; the man did not breastfeed me.’ He said: ‘He is your paternal uncle; let him visit you.” (Sahih)
دیلمی (فیروز دیلمی) ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، اور میرے نکاح میں دو بہنیں تھیں جن سے میں نے زمانہ جاہلیت میں شادی کی تھی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: جب تم گھر واپس جاؤ تو ان میں سے ایک کو طلاق دے دو ۔
It was narrated that Dailami said: "I came to the Messenger of Allah ﷺ , I was married to two sisters whom I had married during the Ignorance period. He said: When you go back, divorce one of them" (Hasan)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطلاق ٢٥ (٢٢٤٣)، سنن الترمذی/النکاح ٣٣ (١١٢٩)، (تحفة الأشراف: ١١٠٦١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٣٢) (حسن) (اسحاق بن عبد اللہ ضعیف و متروک الحدیث ہے، لیکن آنے والی حدیث سے تقویت پاکر یہ حسن ہے )
فیروز دیلمی ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے اسلام قبول کرلیا ہے اور میرے نکاح میں دو سگی بہنیں ہیں، رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ان دونوں میں سے جس کو چاہو طلاق دے دو ١ ؎۔
Dahhak bin Fairuz Dailami narrated that his father said: "I came to the Prophet ﷺ and said: a Messenger of Allah ﷺ : I have become Muslim and I am married to two sisters. The Messenger of Allah ﷺ said: Divorce whichever of them you want. (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: جمہور علماء کا یہی قول ہے، اس لئے کہ جاہلیت میں ان دونوں کا نکاح صحیح ہوگیا تھا۔ اب جب اسلام لایا تو گویا ایسا ہوا کہ دو بہنوں سے ایک ساتھ نکاح کیا، نیز کفر کے نکاح قائم رہیں گے اگر شرع کے خلاف نہ ہوں، گو ان نکاحوں میں ہماری شرع کے موافق شرطیں نہ ہوں جیسے گواہ یا ولی وغیرہ۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (حسن) (سند میں ابن لہیعہ ہیں، اور ابن وہب کی ان سے روایت صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ٦ /٣٣٤- ٣٣٥ و صحیح أبی داو د: ١٩٤٠ )
قیس بن حارث ؓ کہتے ہیں کہ میں نے اسلام قبول کیا، اور میرے پاس آٹھ عورتیں تھیں، چناچہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور آپ سے بیان کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ان میں سے چار کا انتخاب کرلو ١ ؎۔
It was narrated that Qais bin Harith said: "I became Muslim and I had eight wives. I went to the Prophet ﷺ and told him about that. He said: Choose four of them:" (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ زمانہ کفر کا نکاح معتبر ہوگا اگر میاں بیوی دونوں اسلام قبول کرلیں تو ان کا سابقہ نکاح برقرار رہے گا، تجدید نکاح کی ضرورت نہیں ہوگی، یہی امام مالک، امام شافعی اور امام احمد رحمہم اللہ کا مذہب ہے، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جدائی کے وقت ترتیب نکاح غیر موثر ہے، مرد کے لیے یہ ضروری نہیں کہ وہ پہلی بیوی کو روک رکھے بلکہ اسے اختیار ہے جسے چاہے روک لے اور جسے چاہے جدا کر دے، یہ حدیث اور اس کے بعد والی حدیثیں حنفیہ کے خلاف حجت ہیں۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ غیلان بن سلمہ ؓ نے اسلام قبول کیا اور ان کے نکاح میں دس عورتیں تھیں، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ان میں سے چار کو رکھو ١ ؎۔
It was narrated that Ibn Umar said: "Ghailan bin Salamah became Muslim and he had ten wives. The Prophet ﷺ said to him: Choose four of them:" (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس باب کی دونوں حدیثوں سے معلوم ہوا کہ مسلمان کے لیے چار سے زائد بیویاں ایک ہی وقت میں رکھنا حرام ہے، لیکن اس حکم سے نبی اکرم ﷺ کی ذات گرامی مستثنیٰ ہے، آپ کے حرم میں بیک وقت نو بیویاں تھیں، یہ رعایت خاص آپ کے لیے تھی، اور اس میں بہت سی دینی اور سیاسی مصلحتیں کار فرما تھیں، آپ ﷺ کے بعد یہ کسی کے لیے جائز نہیں، غیلان بن سلمہ ؓ ثقیف کے سرداروں میں سے تھے، فتح طائف کے بعد انھوں نے اسلام قبول کیا۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/النکاح ٣٢ (١١٢٨)، (تحفة الأشراف: ٦٩٤٩)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطلاق ٢٩ (٧٦)، مسند احمد (٢/١٣، ١٤، ٤٤، ١٨٣) (صحیح )
عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: سب سے زیادہ پوری کی جانے کی مستحق شرط وہ ہے جس کے ذریعے تم نے شرمگاہوں کو حلال کیا ہے ١ ؎۔
It was narrated from Uqbah bin Amir that the Prophet ﷺ said: "The conditions most deserving to be fulfilled are those by means of which the private parts become permissible for you." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: شرط سے مراد وہ شرط ہے جس پر عورت سے نکاح کیا، اس حدیث کی روشنی میں مرد نکاح کے وقت جو شرطیں مقرر کرے ان کو پورا کرنا واجب ہے، گو وہ شرطیں کسی قسم کی ہوں، اور بعضوں نے کہا: مراد وہ شرطیں ہیں جو مہر کے متعلق ہوں، یا نکاح سے، اور جو دوسری شرطیں ہوں جیسے یہ کہ عورت کو اس کے گھر سے نہ نکالے گا، یا اس کے ملک سے نہ لے جائے گا، یا اس کے اوپر دوسرا نکاح نہ کرے گا، تو ایسی شرطوں کا پورا کرنا شوہر پر واجب نہیں ہے، لیکن اگر اس نے ان شرطوں پر قسم کھائی ہو، اور ان کے خلاف کرے، تو قسم کا کفارہ لازم ہوگا۔
عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مہر یا عطیہ یا ہبہ میں سے جو نکاح ہونے سے پہلے ہو وہ عورت کا حق ہے، اور جو نکاح کے بعد ہو تو وہ اس کا حق ہے، جس کو دیا جائے یا عطا کیا جائے، اور مرد سب سے زیادہ جس چیز کی وجہ سے اپنے اعزازو اکرام کا مستحق ہے وہ اس کی بیٹی یا بہن ہے ۔
It was narrated from ‘Amir bin Shu’aib, from his father, that his grandfather said: “The Messenger of Allah ﷺ , said: ‘Whatever is given as a dowry or gift before the marriage, it belongs to her. Whatever is given after the marriage belongs to the one to whom it was given. And the most deserving matter for which a man is honored is (the marriage of) his daughter or sister.’” (Hasan)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/النکاح ٣٦ (٢١٢٩)، سنن النسائی/النکاح ٦٧ (٣٣٥٥)، (تحفة الأشراف: ٨٧٤٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٨٢) (ضعیف) (سند میں ابن جریج مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے )
ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کے پاس لونڈی ہو وہ اس کو اچھی طرح ادب سکھائے، اور اچھی طرح تعلیم دے، پھر اسے آزاد کر کے اس سے شادی کرلے، تو اس کے لیے دوہرا اجر ہے، اور اہل کتاب میں سے جو شخص اپنے نبی پر ایمان لایا، پھر محمد ﷺ پر ایمان لایا، تو اسے دوہرا اجر ملے گا، اور جو غلام اللہ کا حق ادا کرے، اور اپنے مالک کا حق بھی ادا کرے، تو اس کو دوہرا اجر ہے ١ ؎۔ شعبی نے صالح سے کہا: ہم نے یہ حدیث تم کو مفت سنا دی، اس سے معمولی حدیث کے لیے آدمی مدینہ تک سوار ہو کر جایا کرتا تھا ٢ ؎۔
It was narrated from Abu Musa that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever has a slave woman and teaches her good manners and educates her, then sets her free and marries her, will have two rewards. Any man from among the People of the Book who believed in his Prophet ﷺ and believed in Muhammad will have two rewards. Any slave who does his duty towards Allah and towards his masters will have two rewards: (Sahih) (One of the narrators) Salih said: "Shabi said: I have given this (Hadith) to you for little effort on your part. A rider would travel to Al-Madinah for less than this."
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ایک اجر اس کے آزاد کرنے کا، اور دوسرا اجر اس کی تعلیم یا نکاح کا، اب اہل حدیث کا قول یہ ہے کہ اپنی لونڈی کو آزاد کرے اور اسی آزادی کو مہر مقرر کر کے اس سے نکاح کرلے تو جائز ہے۔ ٢ ؎: امام شعبی (عامر بن شراحیل) کوفہ میں تھے، ان کے عہد میں کوفہ سے مدینہ تک دو ماہ کا سفر تھا، مطلب یہ ہے کہ ایک ایک حدیث سننے کے لئے محدثین کرام دو دو مہینے کا سفر کرتے تھے، سبحان اللہ، اگلے لوگوں کو اللہ بخشے اگر وہ ایسی محنتیں نہ کرتے تو ہم تک دین کیوں کر پہنچتا۔
انس ؓ کہتے ہیں کہ پہلے ام المؤمنین صفیہ ؓ دحیہ کلبی ؓ کے حصہ میں آئیں، پھر نبی اکرم ﷺ کی ہوگئیں، تو آپ نے ان سے شادی کی، اور ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر بنایا ١ ؎۔ حماد کہتے ہیں کہ عبدالعزیز نے ثابت سے پوچھا: اے ابومحمد! کیا آپ نے انس ؓ سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان (صفیہ) کا مہر کیا مقرر کیا تھا؟ تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر قرار دیا تھا۔
It was narrated that Anas said: "Safiyyah was given to Dihyah Al-Kalbi (as his share of the war booty), then she was given to the Messenger of Allah ﷺ after that. He married her, and made her ransom (i.e., freedom from slavery) her dowry: (Sahih) Hammad said: "Abdul- Aziz said to Thabit. O Abu Muhammad ﷺ ! Did you ask Anas what ,her bridal-money was? He said: Her bridal-money was her freedom.
Notes · وضاحت
١ ؎: صفیہ ؓ ہارون (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھیں، اور یہودیوں کے بادشاہ حی بن اخطب کی بیٹی تھیں، اس لئے مسلمانوں کے سردار کے پاس ان کا رہنا مناسب تھا۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: غلام اپنے مالک کی اجازت کے بغیر نکاح کرلے تو وہ زانی ہے ١ ؎۔
It was narrated from Ibn Umar (RA) that the Messenger of Allah ﷺ salid: "If a slave gets married without his masterr s ….permissin, he is a fornicator"
Notes · وضاحت
١ ؎: جابر ؓ کی ایک روایت میں ہے کہ نکاح باطل ہے، اسی وجہ سے اس حدیث میں اسے زانی کہا گیا ہے۔
علی بن ابی طالب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے دن عورتوں کے ساتھ متعہ کرنے سے، اور پالتو گدھوں کے گوشت کھانے سے منع فرما دیا ١ ؎۔
It was narrated from Ali bin Abu Talib that the Messenger of Allah ﷺ forbade on the Day of Khaibar, the temporary marriage of women and (he forbade) the flesh of domestic donkeys. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: متعہ: کسی عورت سے ایک متعین مدت تک کے لیے نکاح کرنے کو متعہ کہتے ہیں، جب مقررہ مدت پوری ہوجاتی ہے تو ان کے درمیان خودبخود جدائی ہوجاتی ہے، متعہ دو مرتبہ حرام ہوا اور دو ہی مرتبہ مباح و جائز ہوا، چناچہ یہ غزوہ خیبر سے پہلے حلال تھا پھر اسے غزوہ خیبر کے موقع پر حرام کیا گیا، پھر اسے فتح مکہ کے موقع پر مباح کیا گیا اور عام اوطاس بھی اسی کو کہتے ہیں اس کے بعد یہ ہمیشہ ہمیش کے لیے حرام کردیا گیا جیسا کہ امام نووی نے بیان فرمایا ہے۔ لیکن علامہ ابن القیم کی رائے یہ ہے کہ متعہ غزوہ خیبر کے موقع پر حرام نہیں کیا گیا بلکہ اس کی حرمت فتح مکہ کے سال ہوئی، اور یہی رائے صحیح ہے، اس سے پہلے مباح و جائز تھا، اور علی ؓ نے متعہ کی حرمت اور گھریلو گدھے کی حرمت کو جو ایک ساتھ جمع کردیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ابن عباس ؓ ان دونوں کو مباح و جائز سمجھتے تھے تو علی نے نبی اکرم ﷺ سے ان دونوں کی تحریم ابن عباس ؓ کی تردید میں بیان کی ہے، اور پالتو گدھے کی حرمت غزوہ خیبر میں ہوئی تھی، اور اس کی تحریم کے لیے غزوہ خیبر کے دن کو بطور ظرف ذکر کیا ہے، اور تحریم متعہ کو مطلق بیان کیا ہے، صحیح سند سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے دن گھریلو گدھے کو حرام قرار دیا، نیز عورتوں سے متعہ کو بھی حرام کیا، اور ایک روایت میں حرم متعة النساء وحرم لحوم الحمر الأهلية کے الفاظ بھی ہیں جس سے بعض راویوں نے یہ سمجھا کہ ان دونوں کو خیبر کے روز ہی حرام کیا گیا تھا، تو انھوں نے دونوں کو خیبر کے روز ہی سے مقید کردیا، اور بعض راویوں نے ایک کی تحریم پر اقتصار کیا اور وہ ہے گھریلو گدھے کی تحریم، یہیں سے وہم ہوا کہ دونوں کی تحریم غزوہ خیبر کے موقع پر ہوئی، رہا خیبر کا قصہ تو اس روز نہ تو صحابہ کرام ؓ نے یہودی عورتوں سے متعہ کیا، اور نہ ہی اس بارے میں رسول اللہ ﷺ سے انھوں نے اجازت طلب کی اور نہ ہی کسی نے کبھی اس غزوہ میں اس کو نقل کیا ہے اور نہ اس متعہ کے فعل یا اس کی تحریم کا حتمی ذکر ہے بخلاف فتح مکہ کے، فتح مکہ کے موقع پر متعہ کے فعل اور اس کی تحریم کا ذکر مشہور ہے اور اس کی روایت صحیح ترین روایت ہے۔ (ملاحظہ ہو: زاد المعاد )
سبرہ بن معبد جہنی ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حجۃ الوداع میں نکلے، تو لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! عورت کے بغیر رہنا ہمیں گراں گزر رہا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ان عورتوں سے متعہ کرلو ، ہم ان عورتوں کے پاس گئے وہ نہیں مانیں، اور کہنے لگیں کہ ہم سے ایک معین مدت تک کے لیے نکاح کرو، لوگوں نے نبی اکرم ﷺ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اپنے اور ان کے درمیان ایک مدت مقرر کرلو چناچہ میں اور میرا ایک چچا زاد بھائی دونوں چلے، اس کے پاس ایک چادر تھی، اور میرے پاس بھی ایک چادر تھی، لیکن اس کی چادر میری چادر سے اچھی تھی، اور میں اس کی نسبت زیادہ جوان تھا، پھر ہم دونوں ایک عورت کے پاس آئے تو اس نے کہا: چادر تو چادر کی ہی طرح ہے (پھر وہ میری طرف مائل ہوگئی) چناچہ میں نے اس سے نکاح (متعہ) کرلیا، اور اس رات اسی کے پاس رہا، صبح کو میں آیا تو رسول اللہ ﷺ رکن (حجر اسود) اور باب کعبہ کے درمیان کھڑے فرما رہے تھے: اے لوگو! میں نے تم کو متعہ کی اجازت دی تھی لیکن سن لو! اللہ نے اس کو قیامت تک کے لیے حرام قرار دے دیا ہے، اب جس کے پاس متعہ والی عورتوں میں سے کوئی عورت ہو تو اس کو چھوڑ دے، اور جو کچھ اس کو دے چکا ہے اسے واپس نہ لے ۔
It was narrated from Rabi bin Sabrah that his lather said: "We went out with the Messenger of Allah ﷺ on the Farewell pilgrimage, and they said: O Messenger of Allah ﷺ , celibacy has become too difficult lor us. He said: Then make temporary marriages with these women. So we went to them, but they insisted on setting a fixed time between us and them. They mentioned that to the Prophet ﷺ and he said: Set a fixed time between you and them. So I went out with a cousin of mine. He had a cloak and I had a cloak, but his cloak was finer than mine, and I was younger than him. We came to a woman and she said: One cloak is like another. So I married her and stayed with her that night. Then the next day I saw the Messenger of Allah ﷺ standing between the Rukn (corner) and the door (of the Ka’bahh), saying: O people, I had permitted temporary marriage for you, but Allah has forbidden it until the Day of Resurrection. Whoever had any temporary wives, he should let them go, and do not take back anything that you had given to them. (Sahih)
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/النکاح ٣ (١٤٠٦)، سنن ابی داود/النکاح ١٤ (٢٠٧٢)، سنن النسائی/النکاح ٧١ (٣٣٧٠)، (تحفة الأشراف: ٣٨٠٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٠٤، ٤٠٥)، سنن الدارمی/النکاح ١٦ (٢٢٤٢) (صحیح) (حجة الوداع کا لفظ صحیح نہیں ہے، صحیح یوم الفتح ہے جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ جب عمر بن خطاب ؓ خلیفہ ہوئے، تو انہوں نے خطبہ دیا اور کہا: رسول اللہ ﷺ نے ہم لوگوں کو تین بار متعہ کی اجازت دی پھر اسے حرام قرار دیا، قسم ہے اللہ کی اگر میں کسی کے بارے میں جانوں گا کہ وہ شادی شدہ ہوتے ہوئے متعہ کرتا ہے تو میں اسے پتھروں سے رجم کر دوں گا، مگر یہ کہ وہ چار گواہ لائے کہ رسول اللہ ﷺ نے اسے حرام قرار دینے کے بعد حلال کیا تھا۔
It was narrated that Ibn "Umar said: "When Umar bin Khattab was appointed caliph, he addressed the people and said: The Messenger of Allah ﷺ permitted temporary marriage for us three times, then he forbade it. By Allah, if I hear of any married person entering a temporary marriage, I will stone him to death, unless he can bring me four witnesses who will testify that the Messenger of Allah ﷺ allowed it aiter he forbade it:" (Hasan)