Sunan Ibne-Majah 1951

نکاح کا بیان

1951Sunan Ibne-Majah

مرد اسلام لائے اور اس کے نکاح میں دو بہنیں ہوں

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ الْجَيْشَانِيِّ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَالضَّحَّاكَ بْنَ فَيْرُوزَ الدَّيْلَمِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَسْلَمْتُ وَتَحْتِي أُخْتَانِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِي: طَلِّقْ أَيَّتَهُمَا شِئْتَ.

فیروز دیلمی ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے اسلام قبول کرلیا ہے اور میرے نکاح میں دو سگی بہنیں ہیں، رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ان دونوں میں سے جس کو چاہو طلاق دے دو ١ ؎۔

Dahhak bin Fairuz Dailami narrated that his father said: "I came to the Prophet ﷺ and said: a Messenger of Allah ﷺ : I have become Muslim and I am married to two sisters. The Messenger of Allah ﷺ said: Divorce whichever of them you want. (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: جمہور علماء کا یہی قول ہے، اس لئے کہ جاہلیت میں ان دونوں کا نکاح صحیح ہوگیا تھا۔ اب جب اسلام لایا تو گویا ایسا ہوا کہ دو بہنوں سے ایک ساتھ نکاح کیا، نیز کفر کے نکاح قائم رہیں گے اگر شرع کے خلاف نہ ہوں، گو ان نکاحوں میں ہماری شرع کے موافق شرطیں نہ ہوں جیسے گواہ یا ولی وغیرہ۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (حسن) (سند میں ابن لہیعہ ہیں، اور ابن وہب کی ان سے روایت صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ٦ /٣٣٤- ٣٣٥ و صحیح أبی داو د: ١٩٤٠ )