Sunan Ibne-Majah 1950

نکاح کا بیان

1950Sunan Ibne-Majah

مرد اسلام لائے اور اس کے نکاح میں دو بہنیں ہوں

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ الْجَيْشَانِيِّ، عَنْ أَبِي خِرَاشٍ الرُّعَيْنِيِّ، عَنْ الدَّيْلَمِيِّ، قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدِي أُخْتَانِ تَزَوَّجْتُهُمَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَقَال: إِذَا رَجَعْتَ، فَطَلِّقْ إِحْدَاهُمَا.

دیلمی (فیروز دیلمی) ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، اور میرے نکاح میں دو بہنیں تھیں جن سے میں نے زمانہ جاہلیت میں شادی کی تھی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: جب تم گھر واپس جاؤ تو ان میں سے ایک کو طلاق دے دو ۔

It was narrated that Dailami said: "I came to the Messenger of Allah ﷺ , I was married to two sisters whom I had married during the Ignorance period. He said: When you go back, divorce one of them" (Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطلاق ٢٥ (٢٢٤٣)، سنن الترمذی/النکاح ٣٣ (١١٢٩)، (تحفة الأشراف: ١١٠٦١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٣٢) (حسن) (اسحاق بن عبد اللہ ضعیف و متروک الحدیث ہے، لیکن آنے والی حدیث سے تقویت پاکر یہ حسن ہے )