Sunan Ibne-Majah 1954

نکاح کا بیان

1954Sunan Ibne-Majah

نکاح میں شرط کا بیان

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ أَحَقَّ الشَّرْطِ أَنْ يُوفَى بِهِ مَا اسْتَحْلَلْتُمْ بِهِ الْفُرُوجَ.

عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: سب سے زیادہ پوری کی جانے کی مستحق شرط وہ ہے جس کے ذریعے تم نے شرمگاہوں کو حلال کیا ہے ١ ؎۔

It was narrated from Uqbah bin Amir that the Prophet ﷺ said: "The conditions most deserving to be fulfilled are those by means of which the private parts become permissible for you." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: شرط سے مراد وہ شرط ہے جس پر عورت سے نکاح کیا، اس حدیث کی روشنی میں مرد نکاح کے وقت جو شرطیں مقرر کرے ان کو پورا کرنا واجب ہے، گو وہ شرطیں کسی قسم کی ہوں، اور بعضوں نے کہا: مراد وہ شرطیں ہیں جو مہر کے متعلق ہوں، یا نکاح سے، اور جو دوسری شرطیں ہوں جیسے یہ کہ عورت کو اس کے گھر سے نہ نکالے گا، یا اس کے ملک سے نہ لے جائے گا، یا اس کے اوپر دوسرا نکاح نہ کرے گا، تو ایسی شرطوں کا پورا کرنا شوہر پر واجب نہیں ہے، لیکن اگر اس نے ان شرطوں پر قسم کھائی ہو، اور ان کے خلاف کرے، تو قسم کا کفارہ لازم ہوگا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الشروط ٦ (٢٧٢١)، النکاح ٥٣ (٥١٥١)، صحیح مسلم/النکاح ٨ (١٤١٨)، سنن ابی داود/النکاح ٤٠ (٢١٣٩)، سنن الترمذی/النکاح ٢٢ (١١٢٧)، سنن النسائی/النکاح ٤٢ (٣٢٨٣)، (تحفة الأشراف: ٩٩٥٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٤٤، ١٥٠، ١٥٢)، سنن الدارمی/النکاح ٢١ (٢٢٤٩) (صحیح )