Sunan Ibne-Majah 1983

نکاح کا بیان

1983Sunan Ibne-Majah

بیویوں کو مارنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ، قَالَ: خَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ ذَكَرَ النِّسَاءَ، فَوَعَظَهُمْ فِيهِنَّ، ثُمَّ قَالَ: إِلَامَ يَجْلِدُ أَحَدُكُمُ امْرَأَتَهُ جَلْدَ الْأَمَةِ وَلَعَلَّهُ أَنْ يُضَاجِعَهَا مِنْ آخِرِ يَوْمِهِ.

عبداللہ بن زمعہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے خطبہ دیا، پھر عورتوں کا ذکر کیا، اور مردوں کو ان کے سلسلے میں نصیحت فرمائی، پھر فرمایا: کوئی شخص اپنی عورت کو لونڈی کی طرح کب تک مارے گا؟ ہوسکتا ہے اسی دن شام میں اسے اپنی بیوی سے صحبت کرے ١ ؎۔

It was narrated that Abdullah bin Zam’ah said: “The Prophet ﷺ delivered a sermon then he made mention of women, and exhorted (the men) concerning them. Then he said: How long will one of you whip his wife like a slave, then lie with her at the end of the day? (sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: تو پہلے ایسی سخت مار پھر اس کے بعد اتنا پیار بالکل نامناسب ہوگا، اور دل شرمائے گا، مناسب یہ ہے کہ امکانی حد تک عورت پر ہاتھ ہی نہ اٹھائے، اگر ایسا ہی سخت قصور کرے تو زبان سے خفا ہو، بستر الگ کر دے، اگر اس پر بھی نہ مانے تو ہلکی مار مارے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر سورة الشمس (٤٩٤٢)، النکاح ٩٣ (٥٢٠٤)، صحیح مسلم/صفة الجنة ونعیمہا ٣ (٢٨٥٥)، سنن الترمذی/تفسیر القرآن ٧٩ (٣٣٤٣)، (تحفة الأشراف: ٥٢٩٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٧)، سنن الدارمی/النکاح ٣٤ (٢٢٦٦) (صحیح )