Sunan Ibne-Majah 1980

نکاح کا بیان

1980Sunan Ibne-Majah

بیویوں کے ساتھ اچھا برتا کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ عَبَّادُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أُمِّ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، وَهُوَ عَرُوسٌ بِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ جِئْنَ نِسَاءُ الْأَنْصَارِ، فَأَخْبَرْنَ عَنْهَا، قَالَتْ: فَتَنَكَّرْتُ وَتَنَقَّبْتُ، فَذَهَبْتُ، فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَيْنِي فَعَرَفَنِي، قَالَتْ: فَالْتَفَتَ، فَأَسْرَعْتُ الْمَشْيَ فَأَدْرَكَنِي فَاحْتَضَنَنِي، فَقَالَ: كَيْفَ رَأَيْتِ؟، قَالَتْ: قُلْتُ: أَرْسِلْ يَهُودِيَّةٌ وَسْطَ يَهُودِيَّاتٍ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ (خیبر سے واپس) مدینہ آئے، اور صفیہ بنت حیی ؓ کے آپ دولہا ہوئے، تو انصار کی عورتیں آئیں، اور انہوں نے صفیہ ؓ کا حال بیان کیا، عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے اپنی صورت بدلی، منہ پر نقاب ڈالا، اور صفیہ ؓ کو دیکھنے چلی، رسول اللہ ﷺ نے میری آنکھ دیکھ کر مجھے پہچان لیا، آپ ﷺ دوسری طرف متوجہ ہوئے تو میں اور تیزی سے چلی، لیکن آپ نے مجھ کو پکڑ کر گود میں اٹھا لیا، اور پوچھا: تو نے کیسا دیکھا ؟ میں نے کہا: بس چھوڑ دیجئیے، یہودی عورتوں میں سے ایک یہودی عورت ہے۔

It was narrated that Aisha (RA) said: "When the Messenger of Allah ﷺ came to Al-Madinah, he had just married safiyyah bint Huyai, and the women of the Ansar came and told us about that. My expression changed and I covered my face and went away. The Messenger of Allah ﷺ looked at my eyes and recognized me. I turned away and walked quickly, but he caught up with me and put his arm around me and said: What did you see? I said: Let me go, (I saw) a Jewish woman among other Jewish women. (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٨٢٢، ومصباح الزجاجة: ٧٠٣) (ضعیف) (سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف راوی ہے )