بیوی اپنی باری سوکن کو دے سکتی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍجَمِيعًا، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمَّا كَبِرَتْ سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ وَهَبَتْ يَوْمَهَا لِعَائِشَةَ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ لِعَائِشَةَ بِيَوْمِ سَوْدَةَ.
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ جب ام المؤمنین سودہ بنت زمعہ ؓ بوڑھی ہوگئیں، تو انہوں نے اپنی باری کا دن عائشہ ؓ کو ہبہ کردیا، چناچہ رسول اللہ ﷺ سودہ ؓ کی باری والے دن عائشہ ؓ کے پاس رہتے تھے۔
Urwah narrated from Aisha (RA) that when Saudah bint Zam ah grew old, she gave her day to Aisha (RA) , and the Messenger of Allah ﷺ went to Aisha (RA) on Saudahs day. (Sahih)