بیوی اپنی باری سوکن کو دے سکتی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْسُمَيَّةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ عَلَى صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ فِي شَيْءٍ، فَقَالَتْ صَفِيَّةُ: يَا عَائِشَةُ، هَلْ لَكِ أَنْ تُرْضِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِّي وَلَكِ يَوْمِي؟، قَالَتْ: نَعَمْ، فَأَخَذَتْ خِمَارًا لَهَا مَصْبُوغًا بِزَعْفَرَانٍ، فَرَشَّتْهُ بِالْمَاءِ لِيَفُوحَ رِيحُهُ، ثُمَّ قَعَدَتْ إِلَى جَنْبِ رَسُولُ اللَّه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا عَائِشَةُ إِلَيْكِ عَنِّي إِنَّهُ لَيْسَ يَوْمَكِ، فَقَالَتْ: ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ، فَأَخْبَرَتْهُ بِالْأَمْرِ فَرَضِيَ عَنْهَا.
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ صفیہ بنت حیی ؓ پر کسی وجہ سے ناراض ہوگئے، تو صفیہ ؓ نے کہا: عائشہ! کیا تم رسول اللہ ﷺ کو مجھ سے راضی کرسکتی ہو، اور میں اپنی باری تم کو ہبہ کر دوں گی؟ انہوں نے کہا: ہاں، چناچہ انہوں نے زعفران سے رنگا ہوا اپنا دوپٹہ لیا، اور اس پہ پانی چھڑکا تاکہ اس کی خوشبو پھوٹے، پھر رسول اللہ ﷺ کے پہلو میں بیٹھیں، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: عائشہ مجھ سے دور ہوجاؤ، آج تمہاری باری نہیں ہے ، تو انہوں نے کہا: یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے دیتا ہے، اور پورا قصہ بتایا تو نبی اکرم ﷺ صفیہ ؓ سے راضی ہوگئے۔
It was narrated from " Aisha (RA) that the Messenger of Allah ﷺ became angry with Safiyyah bint Huyai for something, and Safiyyah said: "O "Aish ah, can you make the Messenger of Allah ﷺ be pleased with me, and I will give you my day?" She said: "Yes." So she took a headeaver of hers that was dyed with saffron, and sprinkled it with water so that its fragrance would become stronger, then she sat beside the Messenger of Allah ﷺ . The Prophet ﷺ said: "O Aisha (RA) , go away, because it is not your day." She said: "That is the Grace of Allah which He bestows on whom He pleases." Then she told him about that matter and he was pleased with her. (Sahih)