Sunan Ibne-Majah 2005

نکاح کا بیان

2005Sunan Ibne-Majah

بچہ ہمیشہ باپ کا ہوتا ہے اور زانی کیلئے تو (فقط) پتھر ہی ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالْوَلَدِ لِلْفِرَاشِ.

عمر بن خطاب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صاحب فراش کے لیے بچے کا فیصلہ کیا ہے ١ ؎۔

It was narrated from Umar that the Messenger of Allah ﷺ ruled that the child belonged to the bed. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: فراش سے مراد صاحب فراش یعنی شوہر یا مولیٰ ہے کیونکہ یہ دونوں عورت کو بستر پر لٹاتے اور اس کے ساتھ سوتے ہیں وللعاهرالحجر یعنی زانی کے لیے ناکامی و نامرادی ہے، بچے میں اس کا کوئی حق نہیں، اور ایک قول یہ بھی ہے کہ حجر (پتھر) سے مراد یہ ہے کہ اسے سنگسار کیا جائے گا، مگر یہ قول کمزور و ضعیف ہے کیونکہ سنگسار صرف شادی شدہ زانی کو کیا جائے گا۔ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ عورت جب بچے کو جنم دے گی تو وہ جس کی بیوی یا لونڈی ہوگی اسی کی طرف بچے کے نسب کا الحاق ہوگا اور وہ اسی کا بچہ شمار کیا جائے گا، میراث اور ولادت کے دیگر احکام ان کے درمیان جاری ہوں گے خواہ کوئی دوسرا اس عورت کے ساتھ ارتکاب زنا کا دعویٰ کرے، اور یہ بھی دعوی کرے کہ یہ بچہ اس کے زنا سے پیدا ہوا ہے، اس بچے کی مشابہت بھی اسی کے ساتھ ہو، اور صاحب فراش کے مشابہ نہ ہو، اس ساری صورتحال کے باوجود بچے کا الحاق صاحب فراش کے ساتھ کیا جائے گا، اس میں زانی کا کوئی حق نہیں ہوگا، اور یہ اس صورت میں ہے جب صاحب فراش اس کی نفی نہ کرے اور اگر اس نے اس کی نفی کردی تو پھر بچے کا الحاق ماں کے ساتھ ہوگا، اور وہ بچہ ماں کے ساتھ منسوب ہوگا، زانی سے منسوب نہیں ہوگا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٦٧٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٥) (صحیح )