بچہ ہمیشہ باپ کا ہوتا ہے اور زانی کیلئے تو (فقط) پتھر ہی ہے۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا شُرَحْبِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ.
ابوامامہ باہلی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا: بچہ صاحب فراش کا ہے، اور زانی کے لیے پتھر ہے ١ ؎۔
Shurahjil bin Muslim said:"I heard Abu Umamah Al-Bahili say: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: "The child is for the bed and the fornicator gets nothing." (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: وللعاهرالحجر یعنی زانی کے لیے ناکامی و نامرادی ہے، بچے میں اس کا کوئی حق نہیں، اور ایک قول یہ بھی ہے کہ حجر (پتھر) سے مراد یہ ہے کہ اسے سنگسار کیا جائے گا، مگر یہ قول کمزور و ضعیف ہے کیونکہ سنگسار صرف شادی شدہ زانی کو کیا جائے گا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٨٨٥، ومصباح الزجاجة: ٧١٣) (صحیح) (سند میں سابقہ شواہد سے یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس میں اسماعیل بن عیاش اور شرجیل بن مسلم کی وجہ سے کچھ کلام ہے )