عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے اور جس کی زیادہ مقدار نشہ لانے والی ہو اس کا تھوڑا بھی حرام ہے ۔
It was narrated from Abdullah bin Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: "Every intoxicant is unlawful and whatever causes intoxication in large amount, a small amount of it is (also) unlawful.” (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٠٨٩، ومصباح الزجاجة: ١١٧٧) (صحیح) (سند میں زکریا بن منظور ضعیف ہیں، لیکن دوسرے شواہد سے یہ صحیح ہے )
جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کی زیادہ مقدار نشہ آور ہو، اس کا تھوڑا بھی حرام ہے ۔
It was narrated from Jabir bin Abdullah that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whatever causes intoxication in large amounts, a small amount of it is (also) unlawful." (Hasan)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأشربة ٥ (٣٦٨١)، سنن الترمذی/الأشربة ٣ (١٨٦٥)، (تحفة الأشراف: ٣٠١٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٤٣) (حسن صحیح )
عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کی زیادہ مقدار نشہ لانے والی ہو، اس کا تھوڑا بھی حرام ہے ۔
It was narrated from Amr bin Shuai, om is a er,his grandfather, that the Messenger of Allah ﷺ said: for "Whatever causes intoxication in large amounts, a small amount of it is (also) unlawful." (Hasan)
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الأشربة ٢٥ (٥٦١٠)، (تحفة الأشراف: ٨٧٦٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٦٧، ١٧٩) (حسن صحیح )
جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کھجور اور انگور کو ملا کر، اور کچی کھجور اور تر کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔
It was narrated from Jabir bin Abdullah that the Messenger of Allah ﷺ forbade making Nabidh with dates and raisins together, Orwith unripe dates and fresh dates together." (Sahih) Another chain with similar wording.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأشربة ١١ (١٩٨٦)، سنن النسائی/الأشربة ٨ (٥٥٦٤)، (تحفة الأشراف: ٢٩١٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٨٩) (صحیح )
لیث بن سعد کہتے ہیں کہ مجھ سے عطاء بن ابی رباح مکی نے بیان کیا، وہ جابر بن عبداللہ ؓ سے اور وہ مرفوعاً نبی اکرم ﷺ سے اسی کے مثل روایت کرتے ہیں۔
صحیح مسلم/الأشربة ٥ (١٩٨٦)، سنن ابی داود/الأشربة ٨ (٣٧٠٣)، سنن الترمذی/الأشربة ٩ (١٨٧٦)، سنن النسائی/الأشربة ٩ (٥٥٥٨)، (تحفة الأشراف: ٢٤٧٨)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأشربة ١١ (٥٦٠١)، مسند احمد (٣/٢٩٤، ٣٠٠، ٣٠٢، ٣١٧، ٣٦٣، ٣٦٩)، (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پکی اور کچی کھجوریں ملا کر نبیذ نہ بناؤ، بلکہ ان میں سے ہر ایک کا الگ الگ نبیذ بناؤ ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: Do not make Nabidh with dried dates and unripe dates together, make Nabidh with each of them on its own." (Sahih)
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأشربة ٥ (١٩٨٩)، سنن النسائی/الأشربة ١٧ (٥٥٧٣)، (تحفة الأشراف: ١٤٨٤٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٥٢٦) (صحیح )
ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: تر اور کچی کھجوروں کو نہ ملاؤ، اور نہ ہی انگور اور کھجور کو، بلکہ ان میں سے ہر ایک کا الگ الگ نبیذ بناؤ ۔
It was narrated from Abdullâh bin Abu Qatâdah, from his father, that he heard the Messenger of Allah ﷺ say: “Do not combine fresh dates and unripe dates, or raisins and dates; rather make Nabidh with each one of them on its own.” (Sahih)
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے لیے ایک مشک میں نبیذ تیار کرتے اس کے لیے ہم ایک مٹھی کھجور یا ایک مٹھی انگور لے لیتے، پھر اسے مشک میں ڈال دیتے، اس کے بعد اس میں پانی ڈال دیتے، اگر ہم اسے صبح میں بھگوتے تو آپ اسے شام میں پیتے، اور اگر ہم شام میں بھگوتے تو آپ اسے صبح میں پیتے۔ ابومعاویہ اپنی روایت میں یوں کہتے ہیں: دن میں بھگوتے تو رات میں پیتے اور رات میں بھگوتے تو دن میں پیتے ۔
It was narrated that Aisha (RA) said: "We used to make Nabidh for the Messenger of Allah ﷺ in a water skin. We would take a handful of dates or a handful of raisins, and put them in it, then pour water over it. We would make that in the morning and he would drink it in the evening, or we would make it in the evening and he would drink it in the morning." (Sahih) Abu Muawiyah said: " ...in the day and he would drink it at night, or at night and he would drink it during the day."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٨٢٤)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الأشربة ٩ (٢٠٠٥)، سنن ابی داود/الأشربة ١٠ (٣٧١١)، سنن الترمذی/الأشربة ٧ (١٨٧١)، مسند احمد (٦/٤٦، ١٢٤) (صحیح) (سند میں نبانة بنت یزید غیر معروف ہیں، لیکن یہ حدیث ابن عباس کی حدیث سے تقویت پاکر صحیح ہے )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے لیے نبیذ تیار کی جاتی تو آپ اسے اسی دن پیتے، پھر اگلے دن، پھر تیسرے دن، اور اگر اس کے بعد بھی اس میں سے کچھ بچ جاتا تو اسے بہا دیتے یا کسی کو حکم دیتے تو وہ بہا دیتا۔
It was narrated that Ibn ‘Abbâs said: “Nabidh would be made for the Messenger of Allah ﷺ and he would drink it on the same day, or the next day, or the third day, and if there was any left he would throw it away or give orders that it was to be thrown away.” (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: نبیذ یعنی انگور، کھجور یا کسی پھل کا شربت پینا صحیح ہے، بشرطیکہ اس میں جوش پیدا نہ ہوا، ابوہریرہ ؓ کی حدیث میں ہے جو آگے آئے گی کہ نبیذ میں جو ش آگیا تھا، تو رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: اس کو دیوار پر مار، یہ تو وہ پیئے گا جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان نہ رکھتا ہو (ابوداود، اور نسائی)، اور مسند احمد میں ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبیذ کو پیو جب تک شیطان اس کو نہ لے لے، کہا گیا: کتنے دن میں اس کو شیطان لیتا ہے؟ کہا: تین دن میں۔ (ملاحظہ ہو: الروضۃ الندیۃ )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے کہ نقیر، مزفت، دباء اور حنتمہ میں نبیذ تیار کی جائے، اور آپ ﷺ کا ارشاد ہے: ہر نشہ آور چیز حرام ہے ١ ؎۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade making Nabidh in Naqir, Muzaffat, Dubba, and Hantamah. And he said: Every intoxicant is unIawful." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: نقیر: لکڑی کا برتن، مزفت: روغنی برتن، دباء: کدو کے تون بےکا برتن، حنتمہ: سبز روغنی گھڑا، ان برتنوں میں شراب بنا کرتی ہے ان میں نبیذ بنانے کی ممانعت اس خیال سے ہوئی ایسا نہ ہو نبیذ تیز ہوجائے، اور کوئی اس کو پی لے، اور ان برتنوں کو دیکھ کر شراب پینے کی خواہش پیدا ہو۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٥٠٩٣، ومصباح الزجاجة: ١١٧٨)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الأشربة ٦ (١٩٩٢)، سنن ابی داود/الأشربة ٧ (٣٦٩٣)، سنن النسائی/الأشربة ٣٨ (٥٦٤٩)، موطا امام مالک/الأشربة ٢ (٦)، مسند احمد (٢/٤١٤، ٤٩١) (حسن صحیح )
بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں نے تمہیں (مخصوص) برتنوں کے استعمال سے روکا تھا، اب ان میں نبیذ تیار کرسکتے ہو لیکن ہر نشہ لانے والی چیز سے بچو ۔
It was narrated from Ibn Buraidah from his father that the Prophet ﷺ said: "I used to forbid you to use certain vessels, but now make Nabidh in them, but avoid all intoxicants," (Sahih)
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے تمہیں (مخصوص) برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع کیا تھا، سنو! برتن کی وجہ سے کوئی چیز حرام نہیں ہوتی، البتہ ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے ۔
It was narrated from Ibn Mas’ud that the Messenger of Allah ﷺ said: “I used to forbid you from making Nabidh in certain vessels, but a vessel does not make something unlawful. All intoxicants are unlawful.” (Sahih)
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ انہوں نے سوال کیا: کیا تم میں سے کوئی عورت اس بات سے عاجز ہے کہ وہ ہر سال اپنی قربانی کے جانور کی کھال سے ایک مشک تیار کرے؟ پھر کہا: رسول اللہ ﷺ نے مٹی کے روغنی گھڑے میں نبیذ تیار کرنے سے منع فرمایا ہے، اور فلاں فلاں برتن میں بھی، البتہ ان میں سرکہ بنایا جاسکتا ہے۔
It was narrated that Aisha (RA) said: "Is anyone of you incapable of taking a water skin from the skin of her sacrifice each year?" Then she said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade making Nabidh in (earthenware) jars, and in such and such, and uch and such, except for svinegar. " (Dai)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٨٤٠، ومصباح الزجاجة: ١١٨٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٨٠، ٩٨) (ضعیف الإسناد) (سند میں سوید بن سعید مختلف فیہ ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک ایسے گھڑے میں نبیذ لائی گئی جو جوش مار رہی تھی، آپ ﷺ نے فرمایا: اسے دیوار پر مار دو، اس لیے کہ یہ ایسے لوگوں کا مشروب ہے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ١ ؎۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "Some Nabidh from an (earthenware) jar was brought to the Messenger of Allah ﷺ and it was bubbling, He said: Throw this against the wall, for this is the drink of one who does not believe in Allah and the Last Day:" (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نبیذ کا استعمال صرف اس وقت تک جائز ہے جب تک کہ اس میں تیزی سے جھاگ نہ اٹھنے لگے اگر اس میں تیزی کے ساتھ جھاگ اٹھنے لگے تو اس کا استعمال جائز نہیں۔
جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: برتن کو ڈھانک کر رکھو، مشک کا منہ بند کر کے رکھو، چراغ بجھا دو، اور دروازہ بند کرلو، اس لیے کہ شیطان نہ ایسی مشک کو کھولتا ہے، اور نہ ایسے دروازے کو اور نہ ہی ایسے برتن کو جو بند کردیا گیا ہو، اب اگر تم میں سے کسی کو ڈھانکنے کے لیے لکڑی کے علاوہ کوئی چیز نہ ہو تو اسی کو بسم الله کہہ کر برتن پر آڑا رکھ دے، اس لیے کہ چوہیا لوگوں کے گھر جلا دیتی ہے ١ ؎۔
It was narrated from Jabir bin Abdullah that the Messenger of Allah ﷺ said: "Cover your vessels, tie your water skins, extinguish your lamps and lock your doors. for Satan does not untie a water skin, open a door or uncover a vessel. If a person cannot find anything but a stick with which to cover his vessel and mention the Name of Allah. then let him do so. And the mouse could set fire to the house with its people inside." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: چوہیا چراغ کی بتی منہ میں پکڑ کرلے جاتی ہے، اور اس سے گھر میں آگ لگ جاتی ہے، تو سوتے وقت چراغ بجھا دینا ضروری ہے، بعض علماء نے کہا ہے کہ پانی کا برتن ڈھانپ کر رکھنے میں ایک تو شیطان سے حفاظت ہے، دوسرے وباء سے حفاظت ہے جو سال میں ایک رات میں آسمان سے اترتی ہے، اور کھلے برتن میں سما جاتی ہے، تیسرے نجاستوں سے حفاظت ہے، چوتھے کیڑے مکوڑوں سے حفاظت ہے، اور کبھی پانی میں کیڑا ہوتا ہے، اور آدمی غفلت میں پی جاتا ہے، اور نقصان اٹھاتا ہے اس لئے برتن ڈھانپنا بہت ضروری ہے، دوسری روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ جب رات کا ایک حصہ گزر جائے، تو اپنے بچوں کو باہر جانے سے روک رکھو، غرض اس حدیث میں دین اور دنیا دونوں کے فائدے جمع ہیں۔