ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں برتن ڈھانکنے، مشک کا منہ بند کردینے، اور برتن کو الٹ کر رکھنے کا حکم دیا ہے۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ commanded us to cover our vessels, tie up our water skins and turn over our vessels.” (Hasan)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٦٣٩، ومصباح الزجاجة: ١١٨١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٦٧)، سنن الدارمی/الأشربة ٢٦ (٢١٧٨) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے لیے رات کو تین ڈھکے ہوئے پانی کے برتن رکھتی: ایک آپ کے استنجاء کے لیے، دوسرا آپ کے مسواک یعنی وضو کے لیے، اور تیسرا آپ کے پینے کے لیے۔
It was narrated that Aisha (RA) said: "I used to prepare three covered vessels for the Messenger of Allah ﷺ at night: A vessel for his water for purification, a vessel for his tooth stick and a vessel for his drink.”(Da`if)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦٢٣٧، ومصباح الزجاجة: ١١٨٢) (ضعیف) (حریش بن خریت ضعیف راوی ہیں )
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص چاندی کے برتن میں پیتا ہے، وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ غٹ غٹ اتارتا ہے ۔
It was narrated from Umm Salamah that the Messenger of Ailah ﷺ said: "The one who drinks from a silver vessel is swallowing Hell-fire into his belly." (Sahih)
حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سونے چاندی کے برتن میں پینے سے منع فرمایا ہے، آپ کا ارشاد ہے: یہ ان (کافروں) کے لیے دنیا میں ہیں اور تمہارے لیے آخرت میں ہیں ۔
It was narrated that Hudhaifah said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade drinking from vessels of gold and silver. He said: They are for them in this World and for yo u in the Hereafter " (Sahih)
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص چاندی کے برتن میں پیتا ہے گویا وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ غٹ غٹ اتارتا ہے ۔
It was narrated from ‘ Aisha (RA) that the Prophet ﷺ said; “Whoever drinks from a silver vessel, it is as if he swallowing Hell-fire into his belly.” (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٨٦٥، ومصباح الزجاجة: ١١٨٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٩٨) (صحیح )
انس ؓ سے روایت ہے کہ وہ برتن سے تین سانسوں میں پیتے اور کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ بھی تین سانسوں میں پیا کرتے تھے ١ ؎۔
It was narrated from Anas that he used to drink from a vessel in three draughts, and Anas said that the Messenger of Allah ﷺ used to drink from a vessel in three draughts. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: تین سانس میں پانی پینا مستحب ہے، مگر ضروری ہے کہ جب سانس لے تو برتن کو اپنے منہ سے علیحدہ کرلے، اور دوسری حدیث میں جو برتن میں سانس لینے سے منع کیا ہے اس کا یہی مطلب ہے کہ برتن منہ سے لگا ہو، اور سانس لے یہ مکروہ ہے، اس لئے کہ پانی ناک میں چڑھ جانے کا ڈر ہے۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مشک کے منہ باہر کر کے پانی پینے سے منع فرمایا، رسول اللہ ﷺ کی اس ممانعت کے بعد ایک شخص نے رات کو اٹھ کر مشک کے منہ سے پانی پینا چاہا، تو اس میں سے ایک سانپ نکلا۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade tipping up water skins. After the Messenger of Allah ﷺ had forbidden that, a man got up at night and tipped up a water skin, and a snake fell out of it onto him," (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٠٩٩، ومصباح الزجاجة: ١١٨٤) (ضعیف) (سند میں زمعہ بن صالح ضعیف راوی ہیں، لیکن مرفوع حدیث صحیح ہے، کما تقدم، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ١١٢٦ )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مشک کے منہ سے پانی پینے سے منع فرمایا ١ ؎۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade drinking (directly) from the mouth of a water skin." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: ممانعت کی وجہ ظاہر ہے کہ پانی اس صورت میں نظر نہیں آتا، اور اندیشہ ہے کہ پانی میں کوڑا یا کیڑا ہو، اور وہ پی جائے، دوسرے یہ کہ مشک میں بدبو ہوجانے کا خیال ہے، تیسرے یہ کہ پانی گرنے کا اندیشہ ہے، اور اکثر علماء کے نزدیک یہ ممانعت تنزیہی ہے، یعنی خلاف اولیٰ۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو زمزم کا پانی پلایا، تو آپ نے کھڑے کھڑے پیا ١ ؎۔ شعبی کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث عکرمہ سے بیان کی تو انہوں نے قسم کھا کر کہا کہ نبی اکرم ﷺ نے ایسا نہیں کیا۔
Asim narrated from Shabi, from Ibn Abbas who said: "I drew water from Zamzam for the Prophet ﷺ and he drank standing up." (Sahih) I ( Asim) mentioned that to Ikrimah and he swore by Allah that he did not do that.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی کھڑے ہو کر پانی نہیں پیا، یہ عکرمہ نے اپنے گمان کے مطابق قسم کھائی، ورنہ مشہور روایتوں سے یہ ثابت ہے کہ آپ ﷺ نے زمزم کا پانی کھڑے کھڑے ہی پیا، اور بعض علماء نے کہا کہ زمزم کا پانی اور وضو سے بچا ہوا پانی کھڑے رہ کر پینا مستحب ہے، اور باقی کل پانی بیٹھ کر پینا چاہیے، اور احتمال ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے جو زمزم کا پانی کھڑے رہ کر پیا یہ عذر کی وجہ سے ہو کہ وہاں بھیڑ بھاڑ کی وجہ سے آپ ﷺ نے بیٹھنے کی جگہ نہ پائی ہو، اور بعضوں نے کہا کہ کھڑے رہ کر پانی پینا پہلے منع تھا، اس کی ممانعت منسوخ ہوگئی، اور بعضوں نے کہا: پہلے جائز تھا، پھر منع ہوا، جابر ؓ سے ایسا مروی ہے، غرض بہتر یہی ہے بیٹھ کر پانی پیئے، مجبوری کی بات اور ہے۔
کبشہ انصاریہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لے گئے، ان کے پاس ایک پانی کی مشک لٹکی ہوئی تھی، آپ ﷺ نے کھڑے کھڑے اس کے منہ سے منہ لگا کر پانی پیا، تو انہوں نے مشک کے منہ کو جہاں رسول اللہ ﷺ کے منہ کا لمس ہوا تھا برکت کے لیے کاٹ کر رکھ لیا۔
It was narrated from Abdur-Rahman bin Abi Amrah, from a grandmother of his who was called Kabshah AIAnsariyyah, that the Messenger of Allah ﷺ entered upon her, and there was a water skin hanging there. He drank from it while standing, and she cut off the mouth of the water skin, seeking the blessing of the place where the mouth of the Messenger of Allah ﷺ had been. (Hasan)
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأشربة ١٨ (١٨٩٢)، (تحفة الأشراف: ١٨٠٤٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٣٤) (صحیح )
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس دودھ آیا جس میں پانی ملا ہوا تھا، اس وقت آپ کے دائیں جانب ایک اعرابی اور آپ کے بائیں جانب ابوبکر ؓ تھے، تو آپ ﷺ نے پیا، پھر اعرابی کو دیا اور فرمایا: دائیں طرف والے کو دینا چاہیئے، پھر وہ اپنے دائیں طرف والے کو دے ١ ؎۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah ﷺ was brought some milk mixed with water. On his right there was a Bedouin and on his left was Abu Bakr. He drank some, then he gave it to the Bedouin and said: "Pass it around to the right." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: حالانکہ ابوبکر صدیق ؓ کا درجہ اس اعرابی سے بہت زیادہ تھا مگر آپ ﷺ نے داہنے کی رعایت مقام و مرتبت پر مقدم رکھی۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس دودھ آیا، اس وقت آپ کے دائیں جانب ابن عباس ؓ اور بائیں جانب خالد بن ولید ؓ تھے، رسول اللہ ﷺ نے ابن عباس ؓ سے پوچھا: کیا تم مجھے اس کی اجازت دیتے ہو کہ پہلے خالد کو پلاؤں؟ ابن عباس ؓ نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ کے جو ٹھے کے لیے اپنے اوپر کسی کو ترجیح دینا پسند نہیں کرتا، چناچہ ابن عباس ؓ نے لیا، اور پیا، اور پھر خالد ؓ نے پیا ١ ؎۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "The Messenger of Allah ﷺ was brought some milk.On his right was Ibn Abbas and on his left was Khalid bin Walid. The Messenger of Allah ﷺ said to Ibn Abbas (RA) : Will you permit me to give Khillid to drink? Ibn "Abbas said: I would not like to give preference to anyone over myself when it comes to the leftover drink of the Messenger of Allah ﷺ . So Ibn Abbas took it and drank some, then Khalid drank some." (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: عبداللہ بن عباس ؓ کم عمر بچے تھے، اور خالد ؓ بڑی عمر والے، اس لئے آپ ﷺ نے ابن عباس ؓ سے پہلے ان کو دینے کی اجازت چاہی، لیکن جب انہوں نے اجازت نہ دی تو آپ ﷺ خاموش ہے کیونکہ اصولاً اور قاعدے سے پہلے ابن عباس ؓ کا حق تھا، ان پر زبردستی نہیں ہوسکتی تھی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٨٥٨، ومصباح الزجاجة: ١١٨٥)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأشربة ٢١ (٣٧٣٠)، سنن الترمذی/الدعوات ٥٥ (٣٤٥٥)، مسند احمد (١/٢٢٠، ٢٢٥) (حسن )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کچھ پئے تو برتن میں سانس نہ لے، اور اگر سانس لینا چاہے تو برتن کو منہ سے علیحدہ کرلے، پھر اگر چاہے تو دوبارہ پئے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "When anyone of you drinks let him not breathe I into the vessel. If he wants to continue drinking, let him move the vessel away (in order to breathe) then bring it back, if he wants." (Hasan)