مشروبات کا بیان

Sunan Ibne-Majah · Chapter 31 · 65 hadiths · Page 3 of 4

3411Sunan Ibne-Majah

برتن کو ڈھانپ دینا چاہیے

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بِتَغْطِيَةِ الْإِنَاءِ، وَإِيكَاءِ السِّقَاءِ، وَإِكْفَاءِ الْإِنَاءِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں برتن ڈھانکنے، مشک کا منہ بند کردینے، اور برتن کو الٹ کر رکھنے کا حکم دیا ہے۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ commanded us to cover our vessels, tie up our water skins and turn over our vessels.” (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٦٣٩، ومصباح الزجاجة: ١١٨١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٦٧)، سنن الدارمی/الأشربة ٢٦ (٢١٧٨) (صحیح )
3412Sunan Ibne-Majah

برتن کو ڈھانپ دینا چاہیے

حَدَّثَنَا عِصْمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ، حَدَّثَنَا حَرِيشُ بْنُ خِرِّيتٍ، أَنْبَأَنَا ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كُنْتُ أَصنَعُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ آنِيَةٍ مِنَ اللَّيْلِ مُخَمَّرَةً: إِنَاءً لِطَهُورِهِ، وَإِنَاءً لِسِوَاكِهِ، وَإِنَاءً لِشَرَابِهِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے لیے رات کو تین ڈھکے ہوئے پانی کے برتن رکھتی: ایک آپ کے استنجاء کے لیے، دوسرا آپ کے مسواک یعنی وضو کے لیے، اور تیسرا آپ کے پینے کے لیے۔

It was narrated that Aisha (RA) said: "I used to prepare three covered vessels for the Messenger of Allah ﷺ at night: A vessel for his water for purification, a vessel for his tooth stick and a vessel for his drink.”(Da`if)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦٢٣٧، ومصباح الزجاجة: ١١٨٢) (ضعیف) (حریش بن خریت ضعیف راوی ہیں )
3413Sunan Ibne-Majah

چاندی کے برتن میں پینا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ الَّذِي يَشْرَبُ فِي إِنَاءِ الْفِضَّةِ، إِنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارَ جَهَنَّمَ.

ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص چاندی کے برتن میں پیتا ہے، وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ غٹ غٹ اتارتا ہے ۔

It was narrated from Umm Salamah that the Messenger of Ailah ﷺ said: "The one who drinks from a silver vessel is swallowing Hell-fire into his belly." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأشربة ٢٨ (٥٦٣٤)، صحیح مسلم/اللباس ١ (٢٠٦٥)، (تحفة الأشراف: ١٨١٨٢)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/صفة النبی ﷺ ٧ (١١)، مسند احمد (٦/٩٨، ٣٠١، ٣٠٢، ٣٠٤، ٣٠٦)، سنن الدارمی/الأشربة ٢٥ (٢١٧٥) (صحیح )
3414Sunan Ibne-Majah

چاندی کے برتن میں پینا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَنِ الشُّرْبِ فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّة وَقَالَ: هِيَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا، وَهِيَ لَكُمْ فِي الْآخِرَةِ.

حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سونے چاندی کے برتن میں پینے سے منع فرمایا ہے، آپ کا ارشاد ہے: یہ ان (کافروں) کے لیے دنیا میں ہیں اور تمہارے لیے آخرت میں ہیں ۔

It was narrated that Hudhaifah said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade drinking from vessels of gold and silver. He said: They are for them in this World and for yo u in the Hereafter " (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأطعمة ٢٩ (٥٤٢٦)، الأشربة ٢٧ (٥٦٣٢)، ٢٨ (٥٦٣٣)، اللباس ٢٥ (٥٨٣١)، ٢٧ (٥٨٣٧)، صحیح مسلم/اللباس ٢ (٢٠٦٧)، سنن ابی داود/الأشربة ١٧ (٣٧٢٣)، سنن الترمذی/الأشربة ١٠ (١٨٧٨)، سنن النسائی/الزینة من المجتبیٰ ٣٣ (٥٣٠٣)، (تحفة الأشراف: ٣٣٧٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٨٥، ٣٩، ٣٩٦، ٣٩٨، ٤٠٠، ٤٠٨)، سنن الدارمی/الأشربة ٢٥ (٢١٧٥، ٢١٧٦) (صحیح )
3415Sunan Ibne-Majah

چاندی کے برتن میں پینا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ امْرَأَةِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَن رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ شَرِبَ فِي إِنَاءِ فِضَّةٍ، فَكَأَنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارَ جَهَنَّمَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص چاندی کے برتن میں پیتا ہے گویا وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ غٹ غٹ اتارتا ہے ۔

It was narrated from ‘ Aisha (RA) that the Prophet ﷺ said; “Whoever drinks from a silver vessel, it is as if he swallowing Hell-fire into his belly.” (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٨٦٥، ومصباح الزجاجة: ١١٨٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٩٨) (صحیح )
3416Sunan Ibne-Majah

تین سانس میں پینا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّهُ كَانَ يَتَنَفَّسُ فِي الْإِنَاءِ ثَلَاثًا، وَزَعَمَ أَنَسٌ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يَتَنَفَّسُ فِي الْإِنَاءِ ثَلَاثًا.

انس ؓ سے روایت ہے کہ وہ برتن سے تین سانسوں میں پیتے اور کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ بھی تین سانسوں میں پیا کرتے تھے ١ ؎۔

It was narrated from Anas that he used to drink from a vessel in three draughts, and Anas said that the Messenger of Allah ﷺ used to drink from a vessel in three draughts. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: تین سانس میں پانی پینا مستحب ہے، مگر ضروری ہے کہ جب سانس لے تو برتن کو اپنے منہ سے علیحدہ کرلے، اور دوسری حدیث میں جو برتن میں سانس لینے سے منع کیا ہے اس کا یہی مطلب ہے کہ برتن منہ سے لگا ہو، اور سانس لے یہ مکروہ ہے، اس لئے کہ پانی ناک میں چڑھ جانے کا ڈر ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأشربة ٦٦ (٥٦٣١)، صحیح مسلم/الأشربة ١٦ (٢٠٢٨)، سنن الترمذی/الأشربة ١٣ (١٨٨٤)، (تحفة الأشراف: ٤٩٨)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأشربة ١٩ (٣٧٢٨)، مسند احمد (٣/١١٤، ١١٩، ١٢٨، ١٨٥)، سنن الدارمی/الأشربة ٢٠ (٢١٦٦) (صحیح )
3417Sunan Ibne-Majah

تین سانس میں پینا

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ كُرَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: شَرِبَ فَتَنَفَّسَ فِيهِ مَرَّتَيْنِ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے پانی پیا، تو آپ نے دو بار سانس لی۔

It was narrated from Ibn Abbas that the Prophet ﷺ drank, and took two breaths while doing so. (Daif)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأشربة ١٤ (١٨٨٦)، (تحفة الأشراف: ٦٣٤٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٨٤، ٢٨٥) (ضعیف) (رشدین بن کریب ضعیف راوی ہے )
3418Sunan Ibne-Majah

مشکیزوں کا منہ الٹ کر پینا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَعَنْ، اخْتِنَاثِ الْأَسْقِيَةِ، أَنْ يُشْرَبَ مِنْ أَفْوَاهِهَا.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مشک کے منہ باہر نکال کر ان سے پانی پینے سے منع فرمایا ہے۔

It was narrated that Abu Saeed Al-Khudri said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade tipping up water skins in order to drink from their mouths." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأشربة ٢٣ (٥٦٢٥، ٥٦٢٦)، صحیح مسلم/الأشربة ١٣ (٢٠٢٣)، سنن ابی داود/الأشربة ١٥ (٣٧٢٠)، سنن الترمذی/الأشربة ١٧ (١٨٩٠)، (تحفة الأشراف: ٤١٣٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٦، ٦٧، ٦٩، ٩٣)، سنن الدارمی/الأشربة ١٩ (٢١٩٥) (صحیح )
3419Sunan Ibne-Majah

مشکیزوں کا منہ الٹ کر پینا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَعَنِ اخْتِنَاثِ الْأَسْقِيَةِ، وَإِنَّ رَجُلًا بَعْدَ مَا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، قَامَ مِنَ اللَّيْلِ إِلَى سِقَاءٍ فَاخْتَنَثَهُ، فَخَرَجَتْ عَلَيْهِ مِنْهُ حَيَّةٌ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مشک کے منہ باہر کر کے پانی پینے سے منع فرمایا، رسول اللہ ﷺ کی اس ممانعت کے بعد ایک شخص نے رات کو اٹھ کر مشک کے منہ سے پانی پینا چاہا، تو اس میں سے ایک سانپ نکلا۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade tipping up water skins. After the Messenger of Allah ﷺ had forbidden that, a man got up at night and tipped up a water skin, and a snake fell out of it onto him," (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٠٩٩، ومصباح الزجاجة: ١١٨٤) (ضعیف) (سند میں زمعہ بن صالح ضعیف راوی ہیں، لیکن مرفوع حدیث صحیح ہے، کما تقدم، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ١١٢٦ )
3420Sunan Ibne-Majah

مشکیزہ کو منہ لگا کر پینا

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،عَنِ الشُّرْبِ مِنْ فِي السِّقَاءِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مشک کے منہ سے پانی پینے سے منع فرمایا ١ ؎۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade drinking (directly) from the mouth of a water skin." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: ممانعت کی وجہ ظاہر ہے کہ پانی اس صورت میں نظر نہیں آتا، اور اندیشہ ہے کہ پانی میں کوڑا یا کیڑا ہو، اور وہ پی جائے، دوسرے یہ کہ مشک میں بدبو ہوجانے کا خیال ہے، تیسرے یہ کہ پانی گرنے کا اندیشہ ہے، اور اکثر علماء کے نزدیک یہ ممانعت تنزیہی ہے، یعنی خلاف اولیٰ۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأشربة ٢٤ (٥٦٢٧، ٥٦٢٨)، (تحفة الأشراف: ١٤٢٤٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٣٠، ٢٤٧، ٣٢٧، ٣٥٣، ٤٨٧)، سنن الدارمی/الأشربة ١٩ (٢١٦٤) (صحیح )
3421Sunan Ibne-Majah

مشکیزہ کو منہ لگا کر پینا

حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى أَنْ يُشْرَبَ مِنْ فَمِ السِّقَاءِ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ مشک کے منہ سے پانی پیا جائے۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade drinking (directly) from the mouth of a water skin." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأشربة ٢٤ (٥٦٢٩)، (تحفة الأشراف: ٦٠٥٦)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأشربة ١٤ (٣٧١٩)، الأطعمة ٢٥ (٣٧٨٦)، سنن الترمذی/الأطعمة ٢٤ (١٨٢٥)، سنن النسائی/الضحایا ٤٣ (٤٤٥٣)، مسند احمد (١/٢٢٦، ٢٤١، ٢٩٣، ٣٣٩)، سنن الدارمی/الأشربة ١٩ (٢١٦٣) (صحیح )
3422Sunan Ibne-Majah

کھڑے ہو کر پینا

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: سَقَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ زَمْزَمَ، فَشَرِبَ قَائِمًا، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعِكْرِمَةَ، فَحَلَفَ بِاللَّهِ مَا فَعَلَ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو زمزم کا پانی پلایا، تو آپ نے کھڑے کھڑے پیا ١ ؎۔ شعبی کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث عکرمہ سے بیان کی تو انہوں نے قسم کھا کر کہا کہ نبی اکرم ﷺ نے ایسا نہیں کیا۔

Asim narrated from Shabi, from Ibn Abbas who said: "I drew water from Zamzam for the Prophet ﷺ and he drank standing up." (Sahih) I ( Asim) mentioned that to Ikrimah and he swore by Allah that he did not do that.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی کھڑے ہو کر پانی نہیں پیا، یہ عکرمہ نے اپنے گمان کے مطابق قسم کھائی، ورنہ مشہور روایتوں سے یہ ثابت ہے کہ آپ ﷺ نے زمزم کا پانی کھڑے کھڑے ہی پیا، اور بعض علماء نے کہا کہ زمزم کا پانی اور وضو سے بچا ہوا پانی کھڑے رہ کر پینا مستحب ہے، اور باقی کل پانی بیٹھ کر پینا چاہیے، اور احتمال ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے جو زمزم کا پانی کھڑے رہ کر پیا یہ عذر کی وجہ سے ہو کہ وہاں بھیڑ بھاڑ کی وجہ سے آپ ﷺ نے بیٹھنے کی جگہ نہ پائی ہو، اور بعضوں نے کہا کہ کھڑے رہ کر پانی پینا پہلے منع تھا، اس کی ممانعت منسوخ ہوگئی، اور بعضوں نے کہا: پہلے جائز تھا، پھر منع ہوا، جابر ؓ سے ایسا مروی ہے، غرض بہتر یہی ہے بیٹھ کر پانی پیئے، مجبوری کی بات اور ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٧٦ (١٦٣٧)، الأشربة ١٦ (٥٦١٧)، صحیح مسلم/الأشربة ١٥ (٢٠٢٧)، ولیس عندہ فذکرت، سنن الترمذی/الأشربة ١٢ (١٨٨٢)، الشمائل ٣١ (١٩٧، ١٩٩)، سنن النسائی/الحج ١٦٥ (٢٩٦٧)، (تحفة الأشراف: ٥٧٦٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢١٤، ٢٢٠، ٢٤٢، ٢٤٣، ٢٤٩، ٢٨٧، ٣٤٢، ٣٦٩، ٣٧٢) (صحیح )
3423Sunan Ibne-Majah

کھڑے ہو کر پینا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ جَدَّةٍ لَهُ يُقَالُ لَهَا كَبْشَةُ الْأَنْصَارِيَّةُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَدَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا قِرْبَةٌ مُعَلَّقَةٌ، فَشَرِبَ مِنْهَا وَهُوَ قَائِمٌ، فَقَطَعَتْ فَمَ الْقِرْبَةِ، تَبْتَغِي بَرَكَةَ مَوْضِعِ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

کبشہ انصاریہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لے گئے، ان کے پاس ایک پانی کی مشک لٹکی ہوئی تھی، آپ ﷺ نے کھڑے کھڑے اس کے منہ سے منہ لگا کر پانی پیا، تو انہوں نے مشک کے منہ کو جہاں رسول اللہ ﷺ کے منہ کا لمس ہوا تھا برکت کے لیے کاٹ کر رکھ لیا۔

It was narrated from Abdur-Rahman bin Abi Amrah, from a grandmother of his who was called Kabshah AIAnsariyyah, that the Messenger of Allah ﷺ entered upon her, and there was a water skin hanging there. He drank from it while standing, and she cut off the mouth of the water skin, seeking the blessing of the place where the mouth of the Messenger of Allah ﷺ had been. (Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأشربة ١٨ (١٨٩٢)، (تحفة الأشراف: ١٨٠٤٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٣٤) (صحیح )
3424Sunan Ibne-Majah

کھڑے ہو کر پینا

حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنِ الشُّرْبِ قَائِمًا.

انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کھڑے ہو کر پینے سے منع فرمایا۔

It was narrated from Anas that the Messenger of Allah ﷺ forbade drinking standing up. (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأشربة ١٤ (٢٠٢٤)، سنن الترمذی/الأشربة ١١ (١٨٧٩)، (تحفة الأشراف: ١١٨٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٣١، ١٨٢، ٢٧٧) (صحیح )
3425Sunan Ibne-Majah

جب مجلس میں کوئی چیز پئے تو اپنے بعد دائیں طرف والے کو دے اور وہ بھی بعد میں دائیں والے کو دے۔

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلَبَنٍ قَدْ شِيبَ بِمَاءٍ، وَعَنْ يَمِينِهِ أَعْرَابِيٌّ، وَعَنْ يَسَارِهِ أَبُو بَكْرٍ فَشَرِبَ، ثُمَّ أَعْطَى الْأَعْرَابِيَّ، وَقَالَ: الْأَيْمَنُ فَالْأَيْمَنُ.

انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس دودھ آیا جس میں پانی ملا ہوا تھا، اس وقت آپ کے دائیں جانب ایک اعرابی اور آپ کے بائیں جانب ابوبکر ؓ تھے، تو آپ ﷺ نے پیا، پھر اعرابی کو دیا اور فرمایا: دائیں طرف والے کو دینا چاہیئے، پھر وہ اپنے دائیں طرف والے کو دے ١ ؎۔

It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah ﷺ was brought some milk mixed with water. On his right there was a Bedouin and on his left was Abu Bakr. He drank some, then he gave it to the Bedouin and said: "Pass it around to the right." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: حالانکہ ابوبکر صدیق ؓ کا درجہ اس اعرابی سے بہت زیادہ تھا مگر آپ ﷺ نے داہنے کی رعایت مقام و مرتبت پر مقدم رکھی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأشربة ١٤ (٥٦١٢)، ١٨ (٥٦١٩)، المساقاة ١ (٢٣٥٢)، الھبة ٤ (٢٥٧١)، صحیح مسلم/الأشربة ١٧ (٢٠٢٩)، سنن ابی داود/الأشربة ١٩ (٣٧٢٦)، سنن الترمذی/الأشربة ١٩ (١٨٩٣)، (تحفة الأشراف: ١٥٢٨)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/صفة النبی ﷺ ٩ (١٧)، مسند احمد (٣/١١٠، ١١٣، ١٩٧)، سنن الدارمی/الأشربة ١٨ (٢١٦٢) (صحیح )
3426Sunan Ibne-Majah

جب مجلس میں کوئی چیز پئے تو اپنے بعد دائیں طرف والے کو دے اور وہ بھی بعد میں دائیں والے کو دے۔

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَبَنٍ، وَعَنْ يَمِينِهِ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَعَنْ يَسَارِهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِابْنِ عَبَّاسٍ: أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أَسْقِيَ خَالِدًا؟، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مَا أُحِبُّ أَنْ أُوثِرَ بِسُؤْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَلَى نَفْسِي أَحَدًا، فَأَخَذَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَشَرِبَ، وَشَرِبَ خَالِدٌ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس دودھ آیا، اس وقت آپ کے دائیں جانب ابن عباس ؓ اور بائیں جانب خالد بن ولید ؓ تھے، رسول اللہ ﷺ نے ابن عباس ؓ سے پوچھا: کیا تم مجھے اس کی اجازت دیتے ہو کہ پہلے خالد کو پلاؤں؟ ابن عباس ؓ نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ کے جو ٹھے کے لیے اپنے اوپر کسی کو ترجیح دینا پسند نہیں کرتا، چناچہ ابن عباس ؓ نے لیا، اور پیا، اور پھر خالد ؓ نے پیا ١ ؎۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "The Messenger of Allah ﷺ was brought some milk.On his right was Ibn Abbas and on his left was Khalid bin Walid. The Messenger of Allah ﷺ said to Ibn Abbas (RA) : Will you permit me to give Khillid to drink? Ibn "Abbas said: I would not like to give preference to anyone over myself when it comes to the leftover drink of the Messenger of Allah ﷺ . So Ibn Abbas took it and drank some, then Khalid drank some." (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: عبداللہ بن عباس ؓ کم عمر بچے تھے، اور خالد ؓ بڑی عمر والے، اس لئے آپ ﷺ نے ابن عباس ؓ سے پہلے ان کو دینے کی اجازت چاہی، لیکن جب انہوں نے اجازت نہ دی تو آپ ﷺ خاموش ہے کیونکہ اصولاً اور قاعدے سے پہلے ابن عباس ؓ کا حق تھا، ان پر زبردستی نہیں ہوسکتی تھی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٨٥٨، ومصباح الزجاجة: ١١٨٥)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأشربة ٢١ (٣٧٣٠)، سنن الترمذی/الدعوات ٥٥ (٣٤٥٥)، مسند احمد (١/٢٢٠، ٢٢٥) (حسن )
3427Sunan Ibne-Majah

برتن میں سانس لینا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ، عَنْ عَمِّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا شَرِبَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَتَنَفَّسْ فِي الْإِنَاءِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَعُودَ فَلْيُنَحِّ الْإِنَاءَ، ثُمَّ لِيَعُدْ إِنْ كَانَ يُرِيدُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کچھ پئے تو برتن میں سانس نہ لے، اور اگر سانس لینا چاہے تو برتن کو منہ سے علیحدہ کرلے، پھر اگر چاہے تو دوبارہ پئے ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "When anyone of you drinks let him not breathe I into the vessel. If he wants to continue drinking, let him move the vessel away (in order to breathe) then bring it back, if he wants." (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٥٤٩٠، ومصباح الزجاجة: ١١٨٦) (صحیح )
3428Sunan Ibne-Majah

برتن میں سانس لینا

حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَعَنِ التَّنَفُّسِ فِي الْإِنَاءِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے برتن میں سانس لینے سے منع فرمایا۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade breathing into the vessel." (Sahih)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأشربة ٢٠ (٣٧٢٨)، سنن الترمذی/الأشربة ١٥ (١٨٨٨)، (تحفة الأشراف: ٦٠٥٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٢٠ ھ ٣٠٩، ٣٥٧)، سنن الدارمی/الأشربة ٢٧ (٢١٨٠) (صحیح )
3429Sunan Ibne-Majah

مشروب میں پھونکنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَنْ يُنْفَخَ فِي الْإِنَاءِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے برتن میں پھونک مارنے سے منع فرمایا ہے۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade blowing into the vessel." (Sahih)

Takhrij · تخریج
(انظر حدیث رقم: ٣٢٨٨)، (تحفة الأشراف: ٦١٤٩) (صحیح )
3430Sunan Ibne-Majah

مشروب میں پھونکنا

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَنْفُخُ فِي الشَّرَابِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مشروب میں پھونک نہیں مارتے تھے۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "The Messenger of Allah ﷺ did not blow into his drinks." (Sahih)

Takhrij · تخریج
(أنظر حدیث رقم: ٣٢٨٨) (ضعیف) (سند میں شریک القاضی ضعیف الحفظ ہے )