تین سانس میں پینا
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّهُ كَانَ يَتَنَفَّسُ فِي الْإِنَاءِ ثَلَاثًا، وَزَعَمَ أَنَسٌ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يَتَنَفَّسُ فِي الْإِنَاءِ ثَلَاثًا.
انس ؓ سے روایت ہے کہ وہ برتن سے تین سانسوں میں پیتے اور کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ بھی تین سانسوں میں پیا کرتے تھے ١ ؎۔
It was narrated from Anas that he used to drink from a vessel in three draughts, and Anas said that the Messenger of Allah ﷺ used to drink from a vessel in three draughts. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: تین سانس میں پانی پینا مستحب ہے، مگر ضروری ہے کہ جب سانس لے تو برتن کو اپنے منہ سے علیحدہ کرلے، اور دوسری حدیث میں جو برتن میں سانس لینے سے منع کیا ہے اس کا یہی مطلب ہے کہ برتن منہ سے لگا ہو، اور سانس لے یہ مکروہ ہے، اس لئے کہ پانی ناک میں چڑھ جانے کا ڈر ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأشربة ٦٦ (٥٦٣١)، صحیح مسلم/الأشربة ١٦ (٢٠٢٨)، سنن الترمذی/الأشربة ١٣ (١٨٨٤)، (تحفة الأشراف: ٤٩٨)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأشربة ١٩ (٣٧٢٨)، مسند احمد (٣/١١٤، ١١٩، ١٢٨، ١٨٥)، سنن الدارمی/الأشربة ٢٠ (٢١٦٦) (صحیح )