مشکیزہ کو منہ لگا کر پینا
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،عَنِ الشُّرْبِ مِنْ فِي السِّقَاءِ.
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مشک کے منہ سے پانی پینے سے منع فرمایا ١ ؎۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade drinking (directly) from the mouth of a water skin." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: ممانعت کی وجہ ظاہر ہے کہ پانی اس صورت میں نظر نہیں آتا، اور اندیشہ ہے کہ پانی میں کوڑا یا کیڑا ہو، اور وہ پی جائے، دوسرے یہ کہ مشک میں بدبو ہوجانے کا خیال ہے، تیسرے یہ کہ پانی گرنے کا اندیشہ ہے، اور اکثر علماء کے نزدیک یہ ممانعت تنزیہی ہے، یعنی خلاف اولیٰ۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأشربة ٢٤ (٥٦٢٧، ٥٦٢٨)، (تحفة الأشراف: ١٤٢٤٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٣٠، ٢٤٧، ٣٢٧، ٣٥٣، ٤٨٧)، سنن الدارمی/الأشربة ١٩ (٢١٦٤) (صحیح )