مشروبات کا بیان

Sunan Ibne-Majah · Chapter 31 · 65 hadiths · Page 4 of 4

3431Sunan Ibne-Majah

چلو سے منہ لگا کر پینا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَشْرَبَ عَلَى بُطُونِنَا وَهُوَ الْكَرْعُ، وَنَهَانَا أَنْ نَغْتَرِفَ بِالْيَدِ الْوَاحِدَةِ، وَقَالَ: لَا يَلَغْ أَحَدُكُمْ كَمَا يَلَغُ الْكَلْبُ، وَلَا يَشْرَبْ بِالْيَدِ الْوَاحِدَةِ كَمَا يَشْرَبُ الْقَوْمُ الَّذِينَ سَخِطَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ، وَلَا يَشْرَبْ بِاللَّيْلِ مِنْ إِنَاءٍ حَتَّى يُحَرِّكَهُ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ إِنَاءً مُخَمَّرًا، وَمَنْ شَرِبَ بِيَدِهِ وَهُوَ يَقْدِرُ عَلَى إِنَاءٍ يُرِيدُ التَّوَاضُعَ، كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِعَدَدِ أَصَابِعِهِ حَسَنَاتٍ، وَهُوَ إِنَاءُ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِمَا السَّلَام إِذْ طَرَحَ الْقَدَحَ، فَقَالَ، أُفٍّ هَذَا مَعَ الدُّنْيَا.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اوندھے منہ پیٹ کے بل لیٹ کر پینے سے منع فرمایا ہے، اور یہی کرع ہے، اور ہمیں اس بات سے بھی منع فرمایا کہ ایک ہاتھ سے چلو لیں، اور ارشاد فرمایا: تم میں سے کوئی کتے کی طرح برتن میں منہ نہ ڈالے، اور نہ ایک ہاتھ سے پئے، جیسا کہ وہ لوگ پیا کرتے تھے جن سے اللہ ناراض ہوا، رات میں برتن کو ہلائے بغیر اس میں سے نہ پئے مگر یہ کہ وہ ڈھکا ہوا ہو، اور جو شخص محض عاجزی و انکساری کی وجہ سے اپنے ہاتھ سے پانی پیتا ہے حالانکہ وہ برتن سے پینے کی استطاعت رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس کی انگلیوں کی تعداد کے برابر نیکیاں لکھتا ہے، یہی عیسیٰ بن مریم (علیہما السلام) کا برتن تھا جب انہوں نے یہ کہہ کر پیالہ پھینک دیا: اف! یہ بھی دنیا کا سامان ہے ۔

It was narrated from Asim bin Muhammad bin Zaid bin Abdullah, from his father, that his grandfather said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade us to drink while (lying) on our bellies, lapping up water, and he forbade us to drink from one hand only. He said: None of you should lap up water as a dog does, and he should not drink water from one hand as the people with whom Allah is angry do, and he should not drink from a vessel at night without stirring it first, unless the vessel was covered. Whoever drinks from his hand when he is able to drink from a vessel, with the intention of humility, Allah will record good deeds equivalent to the number of his fingers for him. It (i.e., the hand) is the vessel of Eisa bin Maryam A.S, when he threw away the cup and said: Ugh! That belongs to this world. (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٤٣٣، ومصباح الزجاجة: ١١٨٧) (ضعیف) (سند میں بقیہ بن ولید مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، نیز مسلم بن عبد اللہ مجہول راوی ہیں )
3432Sunan Ibne-Majah

چلو سے منہ لگا کر پینا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ وَهُوَ يُحَوِّلُ الْمَاءَ فِي حَائِطِهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنْ كَانَ عِنْدَكَ مَاءٌ بَاتَ فِي شَنٍّ فَاسْقِنَا، وَإِلَّا كَرَعْنَا، قَالَ: عِنْدِي مَاءٌ بَاتَ فِي شَنٍّ، فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقْنَا مَعَهُ إِلَى الْعَرِيشِ، فَحَلَبَ لَهُ شَاةً عَلَى مَاءٍ بَاتَ فِي شَنٍّ فَشَرِبَ، ثُمَّ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ بِصَاحِبِهِ الَّذِي مَعَهُ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ انصار کے ایک شخص کے پاس تشریف لے گئے، وہ اپنے باغ میں پانی دے رہا تھا، رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: اگر تمہارے پاس مشک میں باسی پانی ہو تو ہمیں پلاؤ، ورنہ ہم بہتے پانی میں منہ لگا کر پئیں گے، اس نے جواب دیا: میرے پاس مشک میں باسی پانی ہے، چناچہ وہ اور اس کے ساتھ ساتھ ہم چھپر کی طرف گئے، تو اس نے نبی اکرم ﷺ کی خاطر بکری کا دودھ دوھ کر اس باسی پانی میں ملایا جو مشک میں رکھا ہوا تھا، چناچہ آپ ﷺ نے اسے پیا، پھر اس نے ایسا ہی آپ کے ساتھ موجود صحابی کے ساتھ کیا ١ ؎۔

It was narrated that Jabir bin Abdullah said: "The Messenger of Allah ﷺ entered upon a man among the Ansar when he was watering his garden. The Messenger of Allah ﷺ said to him: If you have any water that has been kept overnight in a water skin, then give us some to drink, otherwise we will drink by putting our mouths in the basin. He said: I have water that has been kept in a water skin. So he went and we went with him, to the shelter, where he milked a sheep for him and (mixed it with) the water that had been kept overnight in a water skin. He drank from it, then he did likewise for his Companion who was with him." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ ساتھ والے ابوبکر صدیق ؓ تھے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأشربة ٢٠ (٥٦١٣)، سنن ابی داود/الأشربة ١٨ (٣٧٢٤)، (تحفة الأشراف: ٢٢٥٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٢٨، ٣٤٣، ٣٤٤، ٣٤٢)، ٣٥٥، سنن الدارمی/الأشربة ٢٢ (٢١٦٩) (صحیح )
3433Sunan Ibne-Majah

چلو سے منہ لگا کر پینا

حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: مَرَرْنَا عَلَى بِرْكَةٍ فَجَعَلْنَا نَكْرَعُ فِيهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَكْرَعُوا، وَلَكِنْ اغْسِلُوا أَيْدِيَكُمْ، ثُمَّ اشْرَبُوا فِيهَا، فَإِنَّهُ لَيْسَ إِنَاءٌ أَطْيَبَ مِنَ الْيَدِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ایک حوض کے پاس سے ہمارا گزر ہوا تو ہم منہ لگا کے پانی پینے لگے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: منہ لگا کر پانی نہ پیو، بلکہ اپنے ہاتھوں کو دھو لو پھر ان سے پیو، اس لیے کہ ہاتھ سے زیادہ پاکیزہ کوئی برتن نہیں ١ ؎۔

It was narrated that Ibn Umar said: "We passed by a pond and we started to lap up water from it. The Messenger of Allah ﷺ said: Do not lap up the water, rather wash your hands then drink from them, for there is no better vessel than the hand:" (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: کرع: منہ سے پینا، اس میں ایک عیب یہ بھی ہے کہ اکثر کوڑا کرکٹ یا کیڑا مکوڑا بھی پانی کے ساتھ منہ میں چلا جاتا ہے، اور ہاتھ سے پینے میں یہ بات نہیں ہوتی آدمی پانی کو ہاتھ میں لے کر دیکھ لیتا ہے، پھر اس کو پیتا ہے، حافظ ابن حجر فتح الباری میں لکھتے ہیں کہ اگر یہ روایت محفوظ ہو تو نہی تنزیہی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٠٧٤، ومصباح الزجاجة: ١١٨٨) (ضعیف) (سند میں لیث بن ابی سلیم ضعیف اور سعید بن عامر مجہول راوی ہے )
3434Sunan Ibne-Majah

میزبان (ساقی) آخر میں پئے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَاقِي الْقَوْمِ آخِرُهُمْ شُرْبًا.

ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قوم کا ساقی (پلانے والا) سب سے آخر میں پیتا ہے ۔

It was narrated from Abu Qatadah that the Messenger of Allah ﷺ said: "The one who serves water to others should be the last one to drink from it: (Sahih)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأشربة ٢٠ (١٨٩٤)، (تحفة الأشراف: ١٢٠٨٦)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد ٥٥ (٦٨١)، مسند احمد (٥/٣٠٣)، سنن الدارمی/الأشربة ٢٨ (٢١٨١) (صحیح )
3435Sunan Ibne-Majah

شیشہ کے برتن میں پینا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا مَنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدَحٌ مِنْ قَوَارِيرَ يَشْرَبُ فِيهِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس شیشے کا ایک پیالہ تھا جس میں آپ پیتے تھے۔

It was narrated that Ibn Abbiis said: "The Messenger of Allah ﷺ had a glass cup from which he would drink." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٨٥٧، ومصباح الزجاجة: ١١٨٩) (ضعیف) (سند میں مندل بن علی ضعیف اور ابن اسحاق مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے )