کھانوں کے ابواب

Sunan Ibne-Majah · Chapter 30 · 120 hadiths · Page 6 of 6

3351Sunan Ibne-Majah

میانہ روی سے کھانا اور سیر ہو کر کھانے کی کراہت

حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْعَسْكَرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالَا: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الثَّقَفِيُّ، عَنْ مُوسَى الْجُهَنِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ سَلْمَانَ وَأُكْرِهَ عَلَى طَعَامٍ يَأْكُلُهُ، فَقَالَ: حَسْبِي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ شِبَعًا فِي الدُّنْيَا، أَطْوَلُهُمْ جُوعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

عطیہ بن عامر جہنی کہتے ہیں کہ سلمان فارسی ؓ کو کھانا کھانے پر مجبور کیا گیا تو میں نے ان کو کہتے سنا: میرے لیے کافی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: دنیا میں سب سے زیادہ شکم سیر ہو کر کھانے والا قیامت کے دن سب سے زیادہ بھوکا ہوگا ۔

It was narrated that Atiyyah bin Amir Al-Juhani said.: "I heard Salman, when he was forced to eat food, say: It is sufficient for me that I heard the Messenger of Allah ﷺ say: The people who most eat their fill in this world will be the most hungry on the Day of Resurrection." (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٥٠٦، ومصباح الزجاجة: ١١٥٦) (حسن) (سند میں سعید بن محمد الوراق ضعیف ہے، لیکن شاہد کی وجہ سے یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٣٤٣ )
3352Sunan Ibne-Majah

ہر وہ چیز جس کو جی چاہے کھالینا اسراف میں داخل ہے

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، وَيَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ، قَالُوا: حَدَّثَنَابَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ نُوحِ بْنِ ذَكْوَانَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنَ السَّرَفِ، أَنْ تَأْكُلَ كُلَّ مَا اشْتَهَيْتَ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ اسراف ہے کہ تم ہر اس چیز کو کھاؤ جس کی تمہیں رغبت اور خواہش ہو ۔

It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "It is extravagance to eat everything you want."(Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٤٣، ومصباح الزجاجة: ١١٥٧) (موضوع) (نوح بن ذکوان باطل احادیث روایت کرتا تھا، ابن الجوزی نے اس حدیث کو موضوعات میں داخل کیا ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٢٤١ )
3353Sunan Ibne-Majah

کھانا پھینکنے سے ممانعت

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، حَدَّثَنَا وَسَّاجُ بْنُ عُقْبَةَ بْنِ وَسَّاجٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُوَقَّرِيُّ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ، فَرَأَى كِسْرَةً مُلْقَاةً فَأَخَذَهَا فَمَسَحَهَا، ثُمَّ أَكَلَهَا، وَقَالَ: يَا عَائِشَةُ أَكْرِمِي كَرِيمكِ، فَإِنَّهَا مَا نَفَرَتْ عَنْ قَوْمٍ قَطُّ فَعَادَتْ إِلَيْهِمْ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ گھر میں داخل ہوئے تو روٹی کا ایک ٹکڑا پڑا ہوا دیکھا، آپ نے اسے اٹھایا، صاف کیا پھر اسے کھالیا، اور فرمایا: عائشہ! احترام کے قابل چیز (یعنی اللہ کے رزق کی) عزت کرو، اس لیے کہ جب کبھی کسی قوم سے اللہ کا رزق پھر گیا، تو ان کی طرف واپس نہیں آیا ۔

It was narrated that Aisha (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ entered the house and saw a piece of bread that had been thrown (on the floor). He picked it up, wiped it and ate it, and said: O Aisha (RA) , show honor to the precious (i.e., food), for if the blessing of food departs from people, it never comes back.": (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦٦٨٤، ومصباح الزجاجة: ١١٥٨) (ضعیف) (ولید بن محمد الموقری ضعیف ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإواء: ١٩٦١ )
3354Sunan Ibne-Majah

بھوک سے پناہ مانگنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا هُرَيْمٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ كَعْبٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُوعِ، فَإِنَّهُ بِئْسَ الضَّجِيعُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخِيَانَةِ، فَإِنَّهَا بِئْسَتِ الْبِطَانَةُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے: اللهم إني أعوذ بک من الجوع فإنه بئس الضجيع وأعوذ بک من الخيانة فإنها بئست البطانة اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں بھوک سے کہ وہ بدترین ساتھی ہے، اور تیری پناہ مانگتا ہوں خیانت سے کہ وہ بری خفیہ خصلت ہے ۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ used to say: (O Allah, I seek refuge with You from hunger, for it is a bad companion, and I seek refuge with You from treachery, for it is a bad thing to hide in ones heart)." (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٢٩٦، ومصباح الزجاجة: ١١٥٩)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة ٣٦٧ (١٥٤٧)، سنن النسائی/الاستعاذة ١٩ (٥٤٧١) (حسن) (لیث بن ابی سلیم ضعیف اور کعب مجہول ر ١ وی ہیں، لیکن شاہد کی وجہ سے یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: ١٣٨٣ )
3355Sunan Ibne-Majah

رات کا کھانا چھوڑ دینا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَاهُ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَيْمُونٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَدَعُوا الْعَشَاءَ وَلَوْ بِكَفٍّ مِنْ تَمْرٍ، فَإِنَّ تَرْكَهُ يُهْرِمُ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: شام کا کھانا مت ترک کرو اگرچہ اس کی مقدار ایک مشت کھجور ہو، اس لیے کہ شام کا کھانا نہ کھانے سے بڑھاپا آتا ہے ۔

It was narrated from Jabir bin Abdullah that the Messenger of Allah ﷺ said: "Do not leave dinner, even if it is only a handful of dates, because abandoning it makes one weak." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٠٥٢، ومصباح الزجاجة: ١١٦٠) (ضعیف جداً ) (ابراہیم بن عبدالسلام ضعیف اور متہم بالوضع راوی ہے، نیز ابن الجوزی نے اس حدیث کو موضوعات میں ذکر کیا ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ١١٦ )
3356Sunan Ibne-Majah

دعوت و ضیافت

حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْخَيْرُ أَسْرَعُ إِلَى الْبَيْتِ الَّذِي يُغْشَى، مِنَ الشَّفْرَةِ إِلَى سَنَامِ الْبَعِيرِ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس طرح چھری اونٹ کے کوہان کی طرف تیزی سے جاتی ہے اس سے کہیں زیادہ تیزی سے بھلائی اس گھر میں آتی ہے جس میں مہمان کثرت سے آتے ہیں ۔

It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “Goodness comes more quickly to a house where there are frequent guests than a knife to a camel’s hump.” (Da’if)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٤٧، ومصباح الزجاجة: ١١٦١) (ضعیف) (جبارہ اور کثیر دونوں ضعیف ہیں )
3357Sunan Ibne-Majah

دعوت و ضیافت

حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ نَهْشَلٍ، عَنْ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْخَيْرُ أَسْرَعُ إِلَى الْبَيْتِ الَّذِي يُؤْكَلُ فِيهِ، مِنَ الشَّفْرَةِ إِلَى سَنَامِ الْبَعِيرِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس طرح چھری اونٹ کے کوہان کی طرف چلتی ہے اس سے بھی تیزی سے بھلائی اس گھر میں آتی ہے جس میں (مہمانوں کی کثرت کی وجہ سے) کھانا پینا ہوتا رہتا ہے ۔

It was narrated from Ibn Abbas that the Messenger of Allah ﷺ said: "Goodness comes more quickly to a house where food is eaten than a knife to a camels hump." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٦٩١، ومصباح الزجاجة: ١١٦٢) (ضعیف) (جبارہ ضعیف اور عبدالرحمن بن نہشل متروک ہے )
3358Sunan Ibne-Majah

دعوت و ضیافت

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنَ السُّنَّةِ أَنْ يَخْرُجَ الرَّجُلُ مَعَ ضَيْفِهِ إِلَى بَابِ الدَّارِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ بات سنت میں سے ہے کہ آدمی اپنے مہمان کے ساتھ (اسے رخصت کرتے وقت) گھر کے دروازے تک نکل کر آئے ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of AlIah ﷺ said: “It is the Sunnah for a man to go out with his guest to the door of the house.” (Maudu)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤١٨٩، ومصباح الزجاجة: ١١٦٣) (موضوع) (علی بن عروہ متروک راوی ہے، حدیث وضع کرتا تھا، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٢٥٨ )
3359Sunan Ibne-Majah

اگر مہمان کوئی خلاف شرع بات دیکھے تو واپس لوٹ جائے

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: صَنَعْتُ طَعَامًا، فَدَعَوْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ فَرَأَى فِي الْبَيْتِ تَصَاوِيرَ فَرَجَعَ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے کھانا تیار کیا، اور رسول اللہ ﷺ کو مدعو کیا، آپ تشریف لائے تو آپ کی نظر گھر میں تصویروں پر پڑی، تو آپ واپس لوٹ گئے ١ ؎۔

It was narrated that Ali said: "I made some food and called the Messenger of Allah ﷺ (to come and eat). He came and saw sonte images in the house, so ilewent back." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اکثر علماء کا یہی قول ہے کہ جس دعوت میں خلاف شرع باتیں ہوں جیسے ناچ گانا، اور بےحیائی بےپردگی وغیرہ وغیرہ یا شراب نوشی، یا دوسری نشہ آور چیزوں کا استعمال تو اس میں شریک ہونا ضروری نہیں، اور جب وہاں جا کر یہ باتیں دیکھے تو لوٹ آئے اور کھانا نہ کھائے، اور اگر عالم دین اور پیشوا ہو اور اس بات کو دور نہ کرسکے تو لوٹ آئے کیونکہ وہاں بیٹھنے میں دین کی بےحرمتی اور اہانت ہے، اور دوسرے لوگوں کو گناہ کرنے کی جرأت بڑھے گی، یہ جب کہ دعوت میں جانے سے پہلے ان باتوں کی خبر نہ ہو، اگر پہلے سے یہ معلوم ہو کہ وہاں خلاف شرع کوئی بات ہے تو دعوت قبول کرنا اس پر ضروری نہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الزینة من المجتبیٰ ٥٧ (٥٣٥٣)، (تحفة الأشراف: ١٠١١٧) (صحیح )
3360Sunan Ibne-Majah

اگر مہمان کوئی خلاف شرع بات دیکھے تو واپس لوٹ جائے

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْجَزَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ، حَدَّثَنَا سَفِينَةُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ رَجُلًا أَضَافَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، فَصَنَعَ لَهُ طَعَامًا، فَقَالَتْ فَاطِمَةُ: لَوْ دَعَوْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلَ مَعَنَا، فَدَعَوْهُ فَجَاءَ، فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى عِضَادَتَيِ الْبَابِ، فَرَأَى قِرَامًا فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ، فَرَجَعَ، فَقَالَتْ فَاطِمَةُ لِعَلِيٍّ: الْحَقْ فَقُلْ لَهُ: مَا رَجَعَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: إِنَّهُ لَيْسَ لِي أَنْ أَدْخُلَ بَيْتًا مُزَوَّقًا.

سفینہ ابو عبدالرحمٰن ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے علی بن ابی طالب ؓ کی ضیافت کی اور آپ کے لیے کھانا تیار کیا، فاطمہ ؓ نے کہا: کاش ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کو بلا لیتے تو آپ بھی ہمارے ساتھ کھانا تناول فرماتے، چناچہ لوگوں نے آپ کو بھی مدعو کیا، آپ ﷺ تشریف لائے، آپ نے اپنے ہاتھ دروازے کے دونوں بازو پر رکھے، تو آپ کی نظر گھر کے ایک گوشے میں ایک باریک منقش پردے پر پڑی، آپ لوٹ آئے، فاطمہ ؓ نے علی ؓ سے کہا: جائیے اور پوچھئے: اللہ کے رسول! آپ کیوں واپس آگئے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ میرے لیے مناسب نہیں کہ میں ایسے گھر میں قدم رکھوں جس میں آرائش و تزئیین کی گئی ہو ١ ؎۔

Safinah, Abu ‘Abdur-Rehman, narrated that a man visited ‘Ali bin Abu Tâlib and he made some food for him. Fãtimah said: ‘Why don’t we invite the prophet to eat with us?” So they thvi him and he came. Pie put his hand on the dooQo5t of the house and saw a tiun curtain in the corner of the house, so he went back. Fâtimah said to ‘All: “Go and catch up with him, and ask him: ‘What made you go back, O Messenger of Allah? ﷺ He said: “I do not enter a well decorated house.” (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث میں مزوق کا لفظ آیا ہے یعنی آرائش و تزیین، بعضوں نے کہا کہ مزوق کے معنی یہ ہیں کہ سونا چڑھا ہوا، یعنی جس گھر کی چھت یا دیوار پر طلائی نقرئی کام ہو یا قیمتی پردے لٹکے ہوں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأطعمة ٨ (٣٧٥٥)، (تحفة الأشراف: ٤٤٨٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٢٠، ٢٢١، ٢٢٢) (حسن )
3361Sunan Ibne-Majah

گھی اور گوشت ملا کر کھانا

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَرْحَبِيُّ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي الْيَعْفُورِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: دَخَلَ عَلَيْهِ عُمَرُ وَهُوَ عَلَى مَائِدَتِهِ، فَأَوْسَعَ لَهُ عَنْ صَدْرِ الْمَجْلِسِ، فَقَالَ: بِسْمِ اللَّهِ، ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدِهِ فَلَقِمَ لُقْمَةً، ثُمَّ ثَنَّى بِأُخْرَى، ثُمّ قَالَ: إِنِّي لَأَجِدُ طَعْمَ دَسَمٍ مَا هُوَ بِدَسَمِ اللَّحْمِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنِّي خَرَجْتُ إِلَى السُّوقِ أَطْلُبُ السَّمِينَ لِأَشْتَرِيَهُ فَوَجَدْتُهُ غَالِيًا، فَاشْتَرَيْتُ بِدِرْهَمٍ مِنَ الْمَهْزُولِ وَحَمَلْتُ عَلَيْهِ بِدِرْهَمٍ سَمْنًا، فَأَرَدْتُ أَنْ يَتَرَدَّدَ عِيَالِي عَظْمًا عَظْمًا، فَقَالَ عُمَرُ: مَا اجْتَمَعَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطُّ، إِلَّا أَكَلَ أَحَدَهُمَا، وَتَصَدَّقَ بِالْآخَرِ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: خُذْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَلَنْ يَجْتَمِعَا عِنْدِي، إِلَّا فَعَلْتُ ذَلِكَ، قَالَ: مَا كُنْتُ لِأَفْعَلَ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ان کے پاس عمر ؓ تشریف لائے اور وہ اس وقت دستر خوان پر تھے، انہوں نے عمر ؓ کے لیے مجلس کے درمیان میں جگہ بنائی، عمر ؓ نے بسم اللہ کہا، پھر کھانے کی طرف ہاتھ بڑھایا، اور ایک لقمہ لیا، پھر دوسرا لقمہ لیا، پھر کہا: مجھے اس میں چکنائی کا ذائقہ مل رہا ہے، اور یہ چکنائی گوشت کی چربی نہیں ہے، عبداللہ بن عمر ؓ نے کہا: اے امیر المؤمنین! میں فربہ گوشت کی تلاش میں بازار نکلا تاکہ اسے خریدوں، لیکن میں نے اسے مہنگا پایا تو ایک درہم میں دبلا گوشت خرید لیا، اور ایک درہم کا گھی خرید کر اس میں ملا دیا، اس سے میرا مقصد یہ تھا کہ ایک ایک ہڈی میرے تمام گھر والوں کے حصے میں آجائے، اس پر عمر ؓ نے کہا: جب کبھی بھی رسول اللہ ﷺ کے پاس یہ دونوں چیزیں بیک وقت اکٹھا ہوئیں تو آپ ﷺ نے ان میں سے ایک کھالی، اور دوسری صدقہ کردی۔ عبداللہ بن عمر ؓ نے کہا: امیر المؤمنین! اب تو اسے کھا لیجئیے پھر جب کبھی میرے پاس یہ دونوں چیزیں اکٹھی ہوں گی میں بھی ایسا ہی کروں گا، عمر ؓ بولے: میں اسے کھانے والا نہیں۔

It was narrated that Ibn Umar said that Umar entered upon him when he was eating, and he made room for him in the middle of the gathering. He said: Bismillah, then he took a morsel and ate it, then a second. Then he said: "I notice some fat in the food but it is not the fat of the meat." Abdullah said: "O Commander of the Believers! I wlent out to the marketplace oak ing for some fatty meat (bones with plenty of meat on them) to buy, but it was expensive, so I bought some lean meat (bones with not much meat on them) for a Dirham, and added a Dirhams worth of ghee. I wanted my family to go through it bone by bone." Umar said: "The Messenger of Allah ﷺ never had these two things together; he would eat one and give the other in charity." Abdullah said: "Eat it this time, a Commander of the Believers, and I will never have them both together again but I will do that (i.e., give one in charity). He said: "I will not eat it" (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٥٧٩، ومصباح الزجاجة: ١١٦٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٢٠، ٢٢١، ٢٢٢) (ضعیف) (یونس بن أبی یعفور ضعیف راوی ہے )
3362Sunan Ibne-Majah

جب گوشت پکائیں تو شوربہ زیادہ رکھیں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا عَمِلْتَ مَرَقَةً، فَأَكْثِرْ مَاءَهَا وَاغْتَرِفْ لِجِيرَانِكَ مِنْهَا.

ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم سالن پکاؤ تو اس میں شوربا بڑھا لو، اور اس میں سے ایک ایک چمچہ پڑوسیوں کو بھجوا دو ۔

It was narrated from Abu Dharr (RA) that the Prophet ﷺ said: "When you make broth, add more water and give some to your neighbor." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/البر ٤٢ (٢٦٢٥)، سنن الترمذی/الأطعمة ٣٠ (١٨٣٣)، (تحفة الأشراف: ١١٩٥١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٦١، ١٧١)، سنن الدارمی/الأطعمة ٣٧ (٢١٢٤) (صحیح )
3363Sunan Ibne-Majah

لہسن، پیاز اور گندنا کھانا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْغَطَفَانِيِّ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَامَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ خَطِيبًا، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّكُمْ تَأْكُلُونَ شَجَرَتَيْنِ لَا أُرَاهُمَا إِلَّا خَبِيثَتَيْنِ: هَذَا الثُّومُ وَهَذَا الْبَصَلُ، وَلَقَدْ كُنْتُ أَرَى الرَّجُلَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوجَدُ رِيحُهُ مِنْهُ، فَيُؤْخَذُ بِيَدِهِ حَتَّى يُخْرَجَ بِهِ إِلَى الْبَقِيعِ، فَمَنْ كَانَ آكِلَهُمَا لَا بُدَّ فَلْيُمِتْهُمَا طَبْخًا.

معدان بن أبی طلحہ یعمری ؓ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب ؓ جمعہ کے دن خطبے کے لیے کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی پھر کہا: لوگو! تم دو ایسے پودے کھاتے ہو جو میرے نزدیک خبیث ہیں: ایک لہسن، دوسرا پیاز، میں نے رسول اللہ ﷺ کے عہد میں دیکھا کہ جس شخص کے منہ سے ان کی بو آتی اس کا ہاتھ پکڑ کر بقیع تک لے جا کر چھوڑا جاتا، تو جس کو لہسن، پیاز کھانا ہی ہو وہ انہیں پکا کر ان کی بو مار دے ١ ؎۔

It was narrated from Madan bin Abu Talhah AIYamuri that Umar bin Khattab stood up one Friday delivering a sermon. He praised and glorified Allah, then he said: "O people, you eat two plants which I do not regard as anything but offensive: This garlic and these onions. At the time of the Messenger of Allah ﷺ , I would see a man, if the smell (of these vegetables) was found on him, being taken by the hand and led out to Beqi (graveyard). Whoever must eat them, let him cook them to death." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی کچا نہ کھائے چونکہ کچے میں بو ہوتی ہے، پکانے سے بو کم ہوجاتی ہے، یا بالکل ختم ہوجاتی ہے، گرچہ پیاز اور لہسن حرام نہیں ہے مگر رسول اکرم ﷺ ان کو برا جانتے تھے، اور نہیں کھاتے تھے اس وجہ سے کہ آپ ﷺ پر وحی آتی، اور فرشتوں کو اس کی بونا گوار ہوتی، اور دوسرے لوگوں کے لئے بھی یہ حکم ہے کہ کچا نہ کھائیں اگر کچا کھائیں تو ان کو کھا کر مسجد میں نہ جائیں تاکہ دوسرے مسلمانوں کو تکلیف نہ ہو۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ١٧ (٥٦٧)، (تحفة الأشراف: ١٠٦٤٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٥، ٤٩، ٢٦، ٢٧، ٤٨، ٤/١٩، ٢٦، ٢٧، ٤٨) (صحیح )
3364Sunan Ibne-Majah

لہسن، پیاز اور گندنا کھانا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ أَيُّوبَ، قَالَتْ: صَنَعْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا فِيهِ مِنْ بَعْضِ الْبُقُولِ، فَلَمْ يَأْكُلْ، وَقَالَ: إِنِّي أَكْرَهُ أَنْ أُوذِيَ صَاحِبِي.

ام ایوب ؓ کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے لیے کھانا تیار کیا، اس میں کچھ سبزیاں (پیاز اور لہسن) پڑی تھیں، آپ نے اسے نہیں کھایا، اور فرمایا: مجھے یہ بات ناپسند ہے کہ میں (اس کی بو سے) اپنے ساتھی (جبرائیل علیہ السلام) کو تکلیف پہنچاؤں ١ ؎۔

It was narrated that Umm Ayyub said: "I made some food for the Prophet ﷺ , in which there were some vegetables. He did not eat It, and he said: I do not like to annoy my companion:" (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: فتح الباری میں ہے کہ پیاز اور لہسن اور گندنا حلال ہیں، لیکن جو کوئی ان کو کھائے اس کو مسجد میں جانا مکروہ ہے، اور فقہاء نے مولی کو بھی ان کی مثل سمجھا ہے، اور جس ترکاری میں بری بو ہو وہ اس کی مثل ہے، اور جمہور اسی کے قائل ہیں کہ کراہت تنزیہی ہے۔ اور بیڑی سگریٹ، سگار وغیرہ کے پینے والوں یا تمباکو کھانے والوں کے منہ بھی عموما ً بدبو کرتے ہیں، جس سے لوگوں کو مسجد اور مسجد سے باہر اذیت اور تکلیف ہوتی ہے، اس لیے اس سے بھی احتیاط ضروری ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأطعمة ١٤ (١٨١٠)، (تحفة الأشراف: ١٨٣٠٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٣٣، ٤٦٢)، سنن الدارمی/الأطعمة ٢١ (٢٠٩٨) (حسن) (تراجع الألبانی: رقم: ٥٠٤ ) .
3365Sunan Ibne-Majah

لہسن، پیاز اور گندنا کھانا

حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَنْبَأَنَا أَبُو شُرَيْحٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نِمْرَانَ الْحَجْرِيِّ، عَنْأَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ نَفَرًا أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ مِنْهُمْ رِيحِ الْكُرَّاثِ، فَقَالَ: أَلَمْ أَكُنْ نَهَيْتُكُمْ عَنْ أَكْلِ هَذِهِ الشَّجَرَةِ، إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَتَأَذَّى مِمَّا يَتَأَذَّى مِنْهُ الْإِنْسَانُ.

جابر ؓ سے روایت ہے کہ کچھ لوگ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ کو ان کی جانب سے گندنے کی بو محسوس ہوئی تو فرمایا: کیا میں نے تمہیں اس پودے کو کھانے سے نہیں روکا تھا؟ یقیناً فرشتوں کے لیے وہ چیزیں باعث اذیت ہوتی ہیں، جو انسان کے لیے باعث اذیت ہیں ۔

It was narrated from Jabir that a group of people came to the Prophet ﷺ and he noticed the smell of leeks coming from them. He said: "Did I not forbid you to eat these vegetables? For the angels are offended by that which offends people." (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٨٧)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان ١٦٠ (٨٥٤، ٨٥٥)، الأطعمة ٤٩ (٥٤٥٢)، الاعتصام ٢٤ (٧٣٥٩)، صحیح مسلم/المساجد ١٧ (٥٦٤)، سنن ابی داود/الأطعمة ٤١ (٣٨٢٢)، سنن الترمذی/الأطعمة ١٣ (١٨٠٦)، سنن النسائی/المساجد ١٦ (٧٠٨)، مسند احمد (٣/٣٧٤، ٣٨٧) (صحیح )
3366Sunan Ibne-Majah

لہسن، پیاز اور گندنا کھانا

حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يُحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ نُعَيْمٍ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ دُخَيْنٍ الْحَجْرِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِأَصْحَابِهِ: لَا تَأْكُلُوا الْبَصَلَ، ثُمَّ قَالَ كَلِمَةً خَفِيَّةً: النِّيءَ.

دخین حجری سے روایت ہے کہا انہوں نے عقبہ بن عامر جہنی ؓ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ سے فرمایا: پیاز مت کھاؤ،، پھر ایک لفظ آہستہ سے کہا: کچی ۔

Uqbah bin Amir AI-Juhani said: "The Messenger of Allah ﷺ said to his Companions: Do not eat onions, then he said in a low voice: Raw:" (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٩٢٥، ومصباح الزجاجة: ١١٦٥) (صحیح) (سند میں عثمان اور مغیرہ دونوں مجہول ہیں، لیکن شواہد کی وجہ سے حدیث صحیح ہے، آخری جملہ ثم قال کلمة خفية: النيئ ضعیف ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٢٣٨٩ )
3367Sunan Ibne-Majah

دہی اور گھی کا استعمال

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى السُّدِّيُّ، حَدَّثَنَا سَيْفُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ السَّمْنِ وَالْجُبْنِ وَالْفِرَاءِ، قَالَ: الْحَلَالُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ، وَالْحَرَامُ مَا حَرَّمَ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ، وَمَا سَكَتَ عَنْهُ فَهُوَ مِمَّا عَفَا عَنْهُ.

سلمان فارسی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے گھی، پنیر اور جنگلی گدھے کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: حلال وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں حلال قرار دیا ہے، اور حرام وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں حرام قرار دیا ہے، اور جس کے بارے میں چپ رہے وہ معاف (مباح) ہے ١ ؎۔

It was narrated that Salman AlFârisi said: “The essenger of Allah was asked about ghee, cheese and wild donkeys. He said: ‘What is lawful is that which Allah has pennitted, in His Book and what is unlawful is that which Allah has forbidden in His Book. What He remained silent about is what is pardoned.” (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی حلال ہے اس کے کھانے میں کچھ مواخذہ نہیں، کیونکہ حلال سیکڑوں چیزیں ہیں، ان سب کا بیان کرنا دشوار تھا، اس لئے جو چیزیں حرام تھیں ان کو قرآن اور حدیث میں بیان کردیا گیا، اسی طرح وہ چیزیں جو حلال تھیں لیکن مشرکین جہالت سے ان کو حرام سمجھتے تھے، انہیں بھی بیان کردیا گیا۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/اللباس ٦ (١٧٢٦)، (تحفة الأشراف: ٤٤٩٦) (حسن) (سند میں ہارون ضعیف ہے، لیکن شاہد کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے، تراجع الألبانی: رقم: ٤٢٨ )
3368Sunan Ibne-Majah

پھل کھانے کا بیان

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عِرْقٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: أُهْدِيَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنَبٌ مِنْ الطَّائِفِ فَدَعَانِي، فَقَالَ: خُذْ هَذَا الْعُنْقُودَ، فَأَبْلِغْهُ أُمَّكَ، فَأَكَلْتُهُ قَبْلَ أَنْ أُبْلِغَهُ إِيَّاهَا، فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ لَيَالٍ، قَالَ لِي: مَا فَعَلَ الْعُنْقُودُ؟ هَلْ أَبْلَغْتَهُ أُمَّكَ؟، قُلْتُ: لَا، فَسَمَّانِي غُدَرَ.

نعمان بن بشیر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس طائف سے انگور ہدیہ میں آئے، آپ نے مجھے بلایا اور فرمایا: یہ خوشہ لو اور اپنی ماں کو پہنچا دو ، میں نے وہ خوشہ ماں تک پہنچانے سے پہلے ہی کھالیا، جب چند روز ہوگئے تو آپ ﷺ نے مجھ سے پوچھا: خوشے کا کیا ہوا؟ کیا تم نے اسے اپنی ماں کو دیا ؟ میں نے عرض کیا: نہیں، تو آپ ﷺ نے میرا نام (محبت و مزاح سے) دغا باز رکھ دیا۔

It was narrated that Nurnan bin Bashir said: "The Prophet ﷺ was given a gift of Some grapes from Taif. He called me and said: Take this bunch of grapes and give it to your mother: But I ate it before I gave it to her. A few nights later he said to me: What happened to the bunch of grapes? Did you give it to your mother? I said: No., So he called me treacherous:" (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٦٣٣، ومصباح الزجاجة: ١١٦٦) (ضعیف) (اس کی سند میں عبدالرحمن بن عرق مقبول راوی ہیں، جن کا کوئی متابع نہیں اس لئے وہ لین الحدیث ہیں، اور اس کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے )
3369Sunan Ibne-Majah

پھل کھانے کا بیان

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّلْحِيُّ، حَدَّثَنَا نُقَيْبُ بْنُ حَاجِبٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ الزُّبَيْرِيِّ، عَنْطَلْحَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِيَدِهِ سَفَرْجَلَةٌ، فَقَالَ: دُونَكَهَا يَا طَلْحَةُ فَإِنَّهَا تُجِمُّ الْفُؤَادَ.

طلحہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور آپ کے ہاتھ میں بہی (سفرجل) ١ ؎ تھا، آپ نے مجھ سے فرمایا: طلحہ! اسے لے لو، یہ دل کے لیے راحت بخش ہے ١ ؎۔

It was narrated that Talhah said: “I entered upon the Prophet ﷺ and in his hand was some quince. He said: ‘Take it, O Tatha}i, for it soothes the heart.” (Da’if)

Notes · وضاحت
١ ؎: بہی اور سیب دونوں دل کے لئے مقوی اور دل کی دھڑکن دور کرنے میں مفید ہیں، اگرچہ حدیث ضعیف ہے، مگر یہ دونوں گرم مزاج والوں کے لئے مفید ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٠٠٤، ومصباح الزجاجة: ١١٦٧) (ضعیف الإسناد) (سند میں نقیب بن حاجب، ابو سعید اور عبدالملک سب مجہول ہیں )
3370Sunan Ibne-Majah

اوندھے ہو کر کھانا منع ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْ يَأْكُلَ الرَّجُلُ وَهُوَ مُنْبَطِحٌ عَلَى وَجْهِهِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ آدمی اوندھے منہ لیٹ کر کھائے ١ ؎۔

It was narrated from Salim that his father said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade a man from eating while lying down on his face." (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: اوندھے ہو کر سونا بھی منع ہے کیونکہ جہنمیوں کی مشابہت ہے وہ اوندھے منہ جہنم میں گھسیٹ کر ڈالے جائیں گے جیسے قرآن میں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٨١٠)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأطعمة ١٩ (٣٧٧٤)، مسند احمد (٣/٤٣٠، ٥/٤٢٦) (حسن) (حدیث شواہد کی بنا پر حسن ہے، سند میں جعفر بن برقان ہیں جو زہری کی احادیث میں خاص کر وہم کا شکار تھے۔ ملاحظہ ہو سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٣٣٩٤ )