جبلہ بن سحیم سے روایت ہے کہ میں نے ابن عمر ؓ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ آدمی دو دو کھجوریں ملا کر کھائے، یہاں تک کہ وہ اپنے ساتھیوں سے اجازت لے لے۔
Ibn ‘Umar said: “The Messenger of Allah ﷺ forbade eating dates at once unless he lids companions permission to do so.” (Sahih)
ابوبکر ؓ کے غلام سعد ؓ (جو نبی اکرم ﷺ کے خادم تھے، اور آپ کو ان کی گفتگو اچھی لگتی تھی) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک ساتھ ملا کر کھانے سے منع فرمایا، یعنی کھجوروں کو۔
It was narrated from Sad the freed slave of Abu Bakr (RA) - and Sad used to serve the Messenger of Allah ﷺ and he liked this Hadith - that. the Prophet ﷺ P.U.B.H forbade eating two dates at once.(Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٤٥٢، ومصباح الزجاجة: ١١٤٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٩٩) (صحیح )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ کے پاس پرانی کھجوریں لائی گئیں، تو آپ اس میں سے اچھی کھجوریں چھانٹنے لگے ١ ؎۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "I saw the Messenger of Allah ﷺ when he was brought some old dates· he started to inspect them." (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس میں سے اچھی اچھی کھجوریں نکال کر کھاتے تھے، ابوداود کی روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ آپ ﷺ اس میں سے کیڑے سسریاں نکالتے تھے، دوسری روایت میں کھجور چھانٹنے سے منع فرمایا، اور یہ محمول ہے اس حالت پر جب نئی کھجور ہو تو اس وقت چھانٹنے کی ضرورت نہیں۔
بسر سلمی کے دو بیٹے ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے، ہم نے آپ کے نیچے اپنی ایک چادر بچھائی جسے ہم نے پانی ڈال کر ٹھنڈا کر رکھا تھا، آپ اس پر بیٹھ گئے، پھر اللہ تعالیٰ نے ہمارے گھر میں آپ پر وحی نازل فرمائی، ہم نے آپ ﷺ کی خدمت میں مکھن اور کھجور پیش کیے، آپ ﷺ مکھن پسند فرماتے تھے۔
It was narrated that the two sons of Busr, who were of the tribe of Sulaim, said: "The Messenger of Allah ﷺ entered upon us. We placed a velvet cloth of ours beneath him and sprinkled water on it. He sat on it, and Allah sent down Revelation to him in our house. We offered him butter and dates, and he liked butter." (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥١٩، ومصباح الزجاجة: ١١٥٠)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأطعمة ٤٥ (٣٨٣٧) (صحیح )
ابوحازم کہتے ہیں کہ میں نے سہل بن سعد ؓ سے پوچھا: کیا آپ نے میدہ دیکھا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی وفات تک میدہ نہیں دیکھا تھا، تو میں نے پوچھا: کیا لوگوں کے پاس رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں چھلنیاں نہ تھیں؟ انہوں نے جواب دیا: میں نے کوئی چھلنی نہیں دیکھی یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوگئی، میں نے عرض کیا: آخر کیسے آپ لوگ بلا چھنا جو کھاتے تھے؟ فرمایا: ہاں! ہم اسے پھونک لیتے تو اس میں اڑنے کے لائق چیز اڑ جاتی اور جو باقی رہ جاتا اسے ہم گوندھ لیتے ١ ؎۔
‘ Abdul Aziz bin Abu Hâzim said: My father told me: I asked Sahl bin Sa’d: “Did you ever see dough made from well 5……. flour?” He said: “I never saw dough made from well-sifted flour until the Messenger of Allah ﷺ passed away.” I said: “Did they have sieves at the time of the Messenger of Allah ﷺ ?“ He said: “i never saw a sieve until the Messenger of Allah ﷺ , passed away.” I said: “How did you eat barley that was not sifted?” He said: “We used to blow on it, and whatever flew away, flew away, and whatever was left we made dough with it.” (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اور گوندھ کر روٹی پکا لیتے، غرض رسول اکرم ﷺ کے وقت میں آٹا چھاننے کی اور میدہ کھانے کی رسم نہ تھی، یہ بعد کے زمانے کی ایجاد ہے، اور اس میں کوئی فائدہ نہیں بلکہ نقصان ہے، آٹا جب چھانا جائے، اور اس کا بھوسی بالکل نکل جائے، تو وہ ثقیل اور دیر ہضم ہوجاتا ہے، اور پیٹ میں سدہ اور قبض پیدا کرتا ہے، آخر یہ چھاننے والے لوگ اتنا غور نہیں کرتے کہ رب العالمین نے جو حکیم الحکماء ہے گیہوں میں بھوسی بیکار نہیں پیدا فرمائی، پس بہتر یہی ہے کہ بےچھنا ہوا آٹا کھائے، اور اگر چھانے بھی تو تھوڑی سی موٹی بھوسی نکال ڈالے لیکن میدہ کھانا بالکل خطرناک اور باعث امراض شدیدہ ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٧٣١، ومصباح الزجاجة: ١١٥١)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأطعمة ٢٢ (٥٤١٠)، سنن الترمذی/الزہد ٣٨ (٢٣٦٤)، مسند احمد (٥/٣٣٢، ٦/٧١) (صحیح )
ام ایمن ؓ کہتی ہیں کہ انہوں نے آٹا چھانا، اور نبی اکرم ﷺ کے لیے اس کی روٹی بنائی، آپ نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: یہ وہ کھانا ہے جو ہم اپنے علاقہ میں بناتے ہیں، میں نے چاہا کہ اس سے آپ کے لیے بھی روٹی تیار کروں، آپ ﷺ نے فرمایا: اسے (چھان کر نکالی گئی بھوسی) اس میں ڈال دو، پھر اسے گوندھو ۔
It was narrated from Umm Ayman that she sifted some flour and made a loaf of bread for the Prophet ﷺ , He said: "What is this?" She said: "It is food that we make in our land, and I wanted to take a loaf of it for you. He said: Fold it onto itself and knead it." (Hasan)
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے میدہ کی روٹی ایک آنکھ سے بھی نہیں دیکھی، یہاں تک کہ آپ اللہ تعالیٰ سے جا ملے۔
It was narrated that Arras bin Malik said: "The Messenger of Allah ﷺ never saw a thin loaf made from well-sifted flour with his own eyes, until he met Allah." (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٦٧) (ضعیف) (سعید بن بشیر ضعیف راوی ہیں )
عطا کہتے ہیں کہ ابوہریرہ ؓ نے اپنی قوم کی زیارت کی یعنی راوی کا خیال ہے کہ ینانامی بستی میں تشریف لے گئے، وہ لوگ آپ کی خدمت میں پہلی بار کی پکی ہوئی چپاتیوں میں سے کچھ باریک چپاتیاں لے کر آئے، تو وہ رو پڑے اور کہا: رسول اللہ ﷺ نے یہ روٹی اپنی آنکھ سے کبھی نہیں دیکھی (چہ جائے کہ کھاتے) ١ ؎۔
It was narrated from Ibn Ata that his father said: " Abu Hurairah (RA) visited his people, meaning, a village" - I (one of the narrators) think he said: "Yuna" -"And they brought him some of the first thin loaves of bread. He wept and said: The Messenger of Allah ﷺ never saw such a thing with his own eyes." (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: صحیح بخاری میں ہے کہ آپ ﷺ نے باریک روٹی نہیں دیکھی یعنی چپاتی کیونکہ یہ روٹی موٹے آٹے کی نہیں پک سکتی بلکہ اکثر میدے کی پکاتے ہیں، بلکہ آپ ہمیشہ موٹی روٹی وہ بھی اکثر جو کی کھایا کرتے، اور بےچھنے آٹے کی وہ بھی روز پیٹ بھر کر نہ ملتی تھی، ایک دن کھایا، تو ایک دن فاقہ سبحان اللہ ہمارے رسول ﷺ کا تو یہ حال تھا، اور ہم روز کیسے کیسے عمدہ کھانے خوش ذائقہ اور نئی ترکیب کے جن کو اگلے لوگوں نے نہ دیکھا تھا نہ سنا تھا کھاتے ہیں، اور وہ بھی ناکوں ناک پیٹ بھر کر وہ بھی اسی طرح سے کہ حلال حرام کا کچھ خیال نہیں، مشتبہ کا تو کیا ذکر ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٢٠٥، ومصباح الزجاجة: ١١٥٣) (ضعیف) (ابن عطاء یہ عثمان بن عطاء ہیں اور ضعیف ہیں )
قتادہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ انس بن مالک ؓ کے پاس آتے تھے (اسحاق کی روایت میں یہ اضافہ ہے: اس وقت ان کا نان بائی کھڑا ہوتا تھا، اور دارمی نے اس اضافے کے ساتھ روایت کی ہے کہ ان کا دستر خوان لگا ہوتا تھا یعنی تازہ روٹیوں کا کوئی اہتمام نہ ہوتا) ، ایک دن انس بن مالک ؓ نے کہا: کھاؤ، مجھے نہیں معلوم کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی اپنی آنکھ سے باریک چپاتی دیکھی بھی ہو، یہاں تک کہ آپ اللہ سے جا ملے، اور نہ ہی آپ نے کبھی مسلّم بھنی بکری دیکھی۔
Qatâdah said: “We used to go to (visit) Anas bin Mâlik.” (One of the narrators) Ishâq said: “And his baker was standing there.” (In another narration) Darimi said: “And his table was set. He said one day: ‘(Come and) eat, for the Messenger of Allah ﷺ never saw any thin loaf of bread until he met Allah, nor an roasted sheep (with skin)" (Sahih)
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأطعمة ٢٦ (٥٣٨٥)، (تحفة الأشراف: ١٤٠٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٢٨، ١٣٤، ٢٥٠) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ سب سے پہلے ہم نے فالوذج کا نام اس وقت سنا جب جبرائیل (علیہ السلام) نبی اکرم ﷺ کے پاس تشریف لائے، اور عرض کیا: تمہاری امت ملکوں کو فتح کرے گی، اور اس پر دنیا کے مال و متاع کا ایسا فیضان ہوگا کہ وہ لوگ فالوذج کھائیں گے، نبی اکرم ﷺ نے سوال کیا: فالوذج کیا ہے ؟ جبرائیل (علیہ السلام) نے عرض کیا: لوگ گھی اور شہد ایک ساتھ ملائیں گے، یہ سن کر نبی اکرم ﷺ کی ہچکیاں بندھ گئیں۔
It was narrated that Ibn ‘Abbâs said: “The first we heard of Fâludhaj was when Jibril came to the Prophet ﷺ and said: ‘The world will be opened for your nation and they will conquer the world, until they eat Faiudhaj.’ The Prophet ﷺ , said: ‘What is Ediudhu]?’ He said: ‘They mix ghee and honey together.’ At that, the Prophet ﷺ sobbed.” (Da’if)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٨٧٥، ومصباح الزجاجة: ١١٥٤) (موضوع) (سند منکر اور متن موضوع ہے، عبدالوہاب سلمی کے یہاں عجائب وغرائب ہیں، نیز محمد بن طلحہ ضعیف، اور عثمان بن یحییٰ مجہول ہیں، ابن الجوزی نے اسے موضوعات میں درج کیا ہے )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن فرمایا: میری خواہش ہے کہ اگر ہمارے پاس گھی میں چپڑی ہوئی گیہوں کی سفید روٹی ہوتی، تو ہم اسے کھاتے، ابن عمر ؓ نے کہا کہ یہ بات انصار میں ایک شخص نے سن لی، تو اس نے یہ روٹی تیار کی، اور اسے لے کر آپ کے پاس آیا، تو آپ ﷺ نے پوچھا: یہ گھی کس چیز میں تھا؟ اس نے جواب دیا: گوہ کی کھال کی کپی میں، ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے اسے کھانے سے انکار کردیا۔
It was narrated that Ibn Umar said: "One day, the Messenger of Allah ﷺ said: I wish that We had some white bread made of brown wheat, softened with ghee, that we could eat. A man from among the Ansar heard that, so he took some (of that food) and brought it to him, The Messenger of Allah ﷺ said: Where Was this ghee kept?He said: In a container made of mastigure skin: And he refused to eat it." (Daif)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأطعمة ٣٨ (٣٨١٨)، (تحفة الأشراف: ٧٥٥١) (ضعیف) (سند میں حسین بن واقد وہم و خطا والے راوی ہیں )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ (میری والدہ) ام سلیم ؓ نے نبی اکرم ﷺ کے لیے روٹی تیار کی، اور اس میں تھوڑا سا گھی بھی لگا دیا، پھر کہا: جاؤ نبی اکرم ﷺ کو بلا لاؤ، میں نے آپ کے پاس آ کر عرض کیا کہ میری ماں آپ کو دعوت دے رہی ہیں تو آپ کھڑے ہوئے اور اپنے پاس موجود سارے لوگوں سے کہا کہ اٹھو، چلو ، یہ دیکھ کر میں ان سب سے آگے نکل کر ماں کے پاس پہنچا، اور انہیں اس کی خبر دی (کہ نبی اکرم ﷺ بہت سارے لوگوں کے ساتھ تشریف لا رہے ہیں) اتنے میں آپ ﷺ آپہنچے، اور فرمایا: جو تم نے پکایا ہے، لاؤ، میری ماں نے عرض کیا کہ میں نے تو صرف آپ کے لیے بنایا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: لاؤ تو سہی ، پھر فرمایا: اے انس! میرے پاس لوگوں میں سے دس دس آدمی اندر لے کر آؤ، انس ؓ کہتے ہیں کہ میں دس دس آدمی آپ کے پاس داخل کرتا رہا، سب نے سیر ہو کر کھایا، اور وہ سب اسّی کی تعداد میں تھے ١ ؎۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "Umm Sulaim made some bread for the Prophet ﷺ and she put a little ghee on it.Then she said: Go to the Prophet ﷺ and invite him (to corne and eat): So I went and told him: My mother is inviting you (to come and eat): So he stood up, and said to the people who were with him: Get up: I went ahead of him and told her, Then the Prophet ﷺ came and said: Bring what you have made: She said: I only made it for you alone.’ He said: ‘Bring it.’ Then he said: ‘O ,Anas, bring (them) in to me ten by ten.’ So I kept bringing them in ten by ten, and they ate their ff, and there were eighty of them.” (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: سبحان اللہ! کھانا ایک آدمی کا اور اسی ٨٠ آدمیوں کو کافی ہوگیا، اس حدیث میں آپ ﷺ کے ایک بڑے معجزہ کا ذکر ہے، اور اس قسم کے کئی بار اور کئی موقعوں پر آپ ﷺ سے معجزے صادر ہوئے ہیں، عیسیٰ (علیہ السلام) سے بھی ایسا ہی معجزہ انجیل میں مذکور ہے، اور یہ کچھ عقل کے خلاف نہیں ہے، ایک تھوڑی سی چیز کا بہت ہوجانا ممکن ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کے سامنے نہایت سہل ہے، وہ اگر چاہے تو دم بھر میں رتی کو پہاڑ کے برابر کر دے، اور پہاڑ کو رتی کے برابر، اور جن لوگوں کے عقل میں فتور ہے، وہ ایسی باتوں میں شک و شبہ کرتے ہیں، ان کو اب تک ممکن اور محال کی تمیز نہیں ہے، اور جو امور ممکن ہیں ان کو وہ نادانی سے محال سمجھتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کا انکا کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے شر سے ہر مسلمان کو بچائے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٣١)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأطعمة ٦ (٥٣٨١)، صحیح مسلم/الأشربة ٢٠ (٢٠٤٠)، سنن الترمذی/المناقب ٦ (٣٦٣٠)، موطا امام مالک/صفة النبی صفة ١٠ (١٩)، مسند احمد (١/١٥٩، ١٩٨، ٣/١١، ١٤٧، ١٦٣، ٢١٨) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، نبی اکرم ﷺ نے مسلسل تین روز تک کبھی گیہوں کی روٹی سیر ہو کر نہیں کھائی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دے دی ١ ؎۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "By the One in Whose Hand is my soul, the Prophet ﷺ of Allah ﷺ never ate his fill of wheat bread for three days in a row, until Allah took his soul," (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی برابر تین دن تک کبھی گیہوں کی روٹی آپ ﷺ کو نہیں ملی، اس طرح کہ پیٹ بھر کر کھائے ہوں، ہر روز بلکہ کبھی ایک دن گیہوں کی روٹی کھائی، تو دوسرے دن جو کی ملی، اور کبھی پیٹ بھر کر نہیں ملی، غرض ساری عمر تکلیف اور فقر و فاقہ ہی میں کٹی، سبحان اللہ! شہنشاہی میں فقیری یہی ہے۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ محمد ﷺ کے گھر والوں نے جب سے وہ مدینہ آئے ہیں، کبھی بھی تین دن مسلسل گیہوں کی روٹی سیر ہو کر نہیں کھائی، یہاں تک کہ آپ وفات پا گئے۔
It was narrated that Aisha (RA) said: "The family of Muhammad ﷺ never ate their fill of wheat bread for three nights in a row, from the time they came to Al·Madinah until he passed away: (Sahih)
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ وفات پا گئے، اور حال یہ تھا کہ میرے گھر میں کھانے کی کوئی چیز نہ تھی جسے کوئی جگر والا کھاتا، سوائے تھوڑے سے جو کے جو میری الماری میں پڑے تھے، میں انہیں میں سے کھاتی رہی یہاں تک کہ وہ ایک مدت دراز تک چلتے رہے، پھر میں نے انہیں تولا تو وہ ختم ہوگئے۔
It was narrated that Aisha (RA) said: "When the Prophet ﷺ passed away, there was nothing in my house that any liVing soul could eat, except a little bit of barley on a shelf of mine. I ate from it for a long time, then I weighed it and Soon it was all gone." (Sahih)
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مسلسل کئی راتیں بھوکے گزارتے، اور ان کے اہل و عیال کو رات کا کھانا میسر نہیں ہوتا، اور اکثر ان کے کھانے میں جو کی روٹی ہوتی۔
it was narrated that lbn Abbas said: “The Messenger of Allah ﷺ used to spend many nights in a row hungry and his family could find no supper, and usually their bread was barley bread. (Hasan)
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اون کا لباس اور پیوند لگا جوتا پہن لیتے تھے اور فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے موٹا کھایا اور موٹا پہنا۔ حسن بصری سے پوچھا گیا کہ موٹا کھانے سے کیا مراد ہے؟ جواب دیا: جو کی موٹی روٹی جو پانی کے گھونٹ کے بغیر حلق سے نیچے نہیں اترتی تھی۔
t was narrated from Hasan that Anas bin Malik (RA) said: The Messenger of Allah ﷺ wore wool, and his shoes were sandals. He said: The Messenger of Allah ﷺ ate coarse food and wore rough garments. It was said to Hasan: What is coarse food? He said: Coarse barley which cannot be swallowed except with a mouthful of water. (Da`if)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٤٢، ومصباح الزجاجة: ١١٥٥) (ضعیف) (نوح بن ذکوان ضعیف راوی ہیں )
مقدام بن معد یکرب ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: آدمی نے پیٹ سے زیادہ برا کوئی برتن نہیں بھرا، آدمی کے لیے کافی ہے کہ وہ اتنے لقمے کھائے جو اس کی پیٹھ سیدھی رکھ سکیں، لیکن اگر آدمی پر اس کا نفس غالب آجائے، تو پھر ایک تہائی پیٹ کھانے کے لیے، ایک تہائی پینے کے لیے، اور ایک تہائی سانس لینے کے لیے رکھے ١ ؎۔
Miqdam bin Madikarib said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: A human being fills no worse vessel than his stomach. It is sufficient for a human being to eat a few mouthfuls to keep his spine straight. But if he must (fill it), then one third for food, one third for drink and one third for air.": (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جو لوگ خواہش نفس کی اتباع سے دور ہیں وہ تہائی پیٹ سے بھی کم کھاتے ہیں، اور تہائی پیٹ سے زیادہ کھانا سنت کے خلاف ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٥٧٨)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الزہد ٤٧ (٢٣٨٠)، مسند احمد (٤/١٣٢) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کے پاس ڈکار لی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اپنی ڈکار کو ہم سے روکو، اس لیے کہ قیامت کے دن تم میں سب سے زیادہ بھوکا وہ رہے گا جو دنیا میں سب سے زیادہ سیر ہو کر کھا تا ہے ١ ؎۔
It was narrated that Ibn ‘Umar said: “A man burped in the presence of the Prophet ﷺ and he said: ‘Withhold your burps from us! For the most hungry of you on the Day of Resurrection will be those who most ate theft fill in this world.” (Da`if)
Notes · وضاحت
١ ؎: جو آدمی کھاتا ہے اس کو اگر کھانا نہ ملے تو اس کو بڑی تکلیف ہوتی ہے، بہ نسبت اس کے جو کم کھاتا ہے جو بھوک پر صبر کرسکتا ہے، قیامت کا دن بہت لمبا ہوگا، اور دن بھر کھانا نہ ملنے سے زیادہ کھانے والے بہت پریشان ہوں گے، بعضوں نے کہا: جو لوگ بہت کھاتے ہیں ان کی آخری خواہش کھانا اور پینا ہوتی ہے، اور موت سے یہ خواہشیں ختم ہوجاتی ہیں، تو ان کو بہت ناگوار ہوگا، اور جو لوگ کم کھاتے ہیں، ان کو کھانے کی خواہش نہیں ہوتی، بلکہ زندگی کی بقاء اور عبادت کے لئے اپنی ضروریات اور بھوک پیاس پر قابو پالیتے ہیں، ان کی خواہش عبادت اور تصفیہ قلب کی ہوتی ہے، اور وہ موت کے بعد قائم رہے گی، اس لئے وہ راحت اور عیش میں رہیں گے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/القیامة ٣٧ (٢٤٧٨)، (تحفة الأشراف: ٨٥٦٣) (حسن) (سند میں عبدالعزیز بن عبد اللہ منکر الحدیث، اور یحییٰ البکاء ضعیف راوی ہیں، لیکن حدیث شاہد کی وجہ سے حسن ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٣٤٣ )