میانہ روی سے کھانا اور سیر ہو کر کھانے کی کراہت
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو يَحْيَى، عَنْ يَحْيَى الْبَكَّاءِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: تَجَشَّأَ رَجُلٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: كُفَّ جُشَاءَكَ عَنَّا، فَإِنَّ أَطْوَلَكُمْ جُوعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، أَكْثَرُكُمْ شِبَعًا فِي دَارِ الدُّنْيَا.
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کے پاس ڈکار لی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اپنی ڈکار کو ہم سے روکو، اس لیے کہ قیامت کے دن تم میں سب سے زیادہ بھوکا وہ رہے گا جو دنیا میں سب سے زیادہ سیر ہو کر کھا تا ہے ١ ؎۔
It was narrated that Ibn ‘Umar said: “A man burped in the presence of the Prophet ﷺ and he said: ‘Withhold your burps from us! For the most hungry of you on the Day of Resurrection will be those who most ate theft fill in this world.” (Da`if)