طب کا بیان

Sunan Ibne-Majah · Chapter 32 · 113 hadiths · Page 3 of 6

3476Sunan Ibne-Majah

پچھنے لگانے کا بیان۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَن النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنْ كَانَ فِي شَيْءٍ مِمَّا تَدَاوَوْنَ بِهِ خَيْرٌ، فَالْحِجَامَةُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جن چیزوں سے تم علاج کرتے ہو اگر ان میں سے کسی میں خیر ہے تو پچھنے میں ہے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said:"If there is any good in any of the remedies you use, it is in cupping." (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: پچھنا لگوانے کے کافی فوائد ہیں، بالخصوص جب بدن میں خون کی کثرت ہو تو یہ نہایت مفید ہوتا ہے، اور بعض امراض میں اس سے اللہ تعالیٰ کے حکم سے فوراً آرام ہوجاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطب ٣ (٣٨٥٧)، (تحفة الأشراف: ١٠٥١١)، وقد أخرجہ، مسند احمد (٢/٢٤٢، ٤٢٣) (صحیح )
3477Sunan Ibne-Majah

پچھنے لگانے کا بیان۔

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَا مَرَرْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي بِمَلَإٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ، إِلَّا كُلُّهُمْ، يَقُولُ لِي: عَلَيْكَ يَا مُحَمَّدُ بِالْحِجَامَةِ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: معراج کی رات میرا گزر فرشتوں کی جس جماعت پر بھی ہوا اس نے یہی کہا: محمد ( ﷺ ) ! آپ پچھنے کو لازم کرلیں ۔

It was narrated from Ibn Abbas that the Messenger of Allah ﷺ said: "On the night on which I was taken on the Night Journey (Isra), I did not pass by any group of angels but all of them said to me: O Muhammad ﷺ , you should use cupping:" (Daif)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطب ١٢ (٢٠٥٣)، (تحفة الأشراف: ٦١٣٨)، وقد أخرجہ: (١/٣٥٤) (صحیح) (سند میں عباد بن منصور صدوق اور مدلس ہیں، اور آخری عمر میں حافظہ میں تبدیلی پیدا ہوگئی تھی، لیکن شواہد کی وجہ سے حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: حدیث ٣٤٧٩ ، وحدیث ابن عمر فی مسند البزار و سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٢٢٦٣ )
3478Sunan Ibne-Majah

پچھنے لگانے کا بیان۔

حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نِعْمَ الْعَبْدُ الْحَجَّامُ، يَذْهَبُ بِالدَّمِ، وَيُخِفُّ الصُّلْبَ، وَيَجْلُو الْبَصَرَ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پچھنا لگانے والا بہت بہتر شخص ہے کہ وہ خون نکال دیتا ہے، کمر کو ہلکا اور نگاہ کو تیز کرتا ہے ۔

It was narrated that Ibn said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘What a good slave is the cupper. He takes away the blood, reduces pressure on the spinei and improves the eyesight”

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطب ١٢ (٢٠٥٣)، (تحفة الأشراف: ٢٠٥٣) (ضعیف) (سند میں عباد بن منصور صدوق اور مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، نیز آخری عمر میں حافظہ میں تبدیلی آگئی تھی، ترمذی نے حدیث کی تحسین کی ہے، اور حاکم نے تصحیح، اور ان کی موافقت ذہبی نے ایک جگہ ( ٤؍٢١٢ ) کی ہے، اور دوسری جگہ نہیں ( ٤؍٤١٠ )، البانی صاحب نے اس کو ذہبی کا وہم بتایا ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٢٠٣٦ )
3479Sunan Ibne-Majah

پچھنے لگانے کا بیان۔

حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ سُلَيْمٍ، سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مَرَرْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي بِمَلَإٍ، إِلَّا قَالُوا: يَا مُحَمَّدُ، مُرْ أُمَّتَكَ بِالْحِجَامَةِ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس رات معراج ہوئی میرا گزر فرشتوں کی جس جماعت پر ہوا اس نے کہا: محمد ( ﷺ ) ! اپنی امت کو پچھنا لگانے کا حکم دیں ۔

Anas bin Malik (RA) said:Messenger of Allah , said: On the night on which I was taken on the Night Journey (lsra), I did not pass by any group (of angels) but they said to me: " O Muhammad ﷺ : tell your nation to use cupping. (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٤٨، ومصباح الزجاجة: ١٢١١) (صحیح) (سند میں جبارہ اور کثیر بن سلیم ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: حدیث: ٣٤٧٨ )
3480Sunan Ibne-Majah

پچھنے لگانے کا بیان۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، اسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحِجَامَةِ،فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا طَيْبَةَ أَنْ يَحْجُمَهَا، وَقَالَ: حَسِبْتُ أَنَّهُ كَانَ أَخَاهَا مِنَ الرِّضَاعَةِ أَوْ غُلَامًا لَمْ يَحْتَلِمْ.

جابر ؓ سے روایت ہے کہ ام المؤمنین ام سلمہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے پچھنا لگانے کی اجازت طلب کی تو نبی اکرم ﷺ نے ابوطیبہ کو حکم دیا کہ وہ انہیں پچھنا لگائے، جابر ؓ کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ ابوطیبہ یا تو ام سلمہ ؓ کے رضاعی بھائی تھے یا پھر نابالغ لڑکے ١ ؎۔

It was narrated from Jabir that Umm Salamah, the wife of the Prophet ﷺ , asked the Messenger of Allah ﷺ for permission to be cupped, and the Prophet ﷺ told Abu Taibah to cup her. (Sahih) He said "I think that he was her brother through breastfeeding, or a boy who had not yet reached puberty."

Notes · وضاحت
١ ؎: ورنہ اجنبی مرد کو آپ پچھنے لگانے کا کیسے حکم دیتے، اگرچہ ضرورت کے وقت بیماری کے مقام کو طبیب کا دیکھنا جائز ہے بیماری کے مقام کی طرف۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/السلام ٢٦ (٢٢٠٦)، سنن ابی داود/اللباس ٣٥ (٤١٠٥)، (تحفة الأشراف: ٢٩٠٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٥٠) (صحیح )
3481Sunan Ibne-Majah

پچھنے لگانے کی جگہ۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، حَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ أَبِي عَلْقَمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُحَيْنَةَ، يَقُولُ: احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِلَحْيِ جَمَلٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ وَسَطَ رَأْسِهِ.

عبداللہ بن بحینہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے احرام کی حالت میں مقام لحی جمل میں اپنے سر کے بیچ میں پچھنا لگوایا۔

Abdur-Rahman AI-A raj said: "I heard Abdullah bin Buhainah say: The Messenger of Allah ﷺ was cupped in Lahyi Jamal, in the middle of his head, while he was a Muhrim." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/جزاء الصید ١١ (١٨٣٦)، الطب ١٤ (٥٦٩٨)، صحیح مسلم/الحج ١١ (١٢٠٣)، سنن النسائی/الحج ٩٥ (٢٨٥٣)، (تحفة الأشراف: ٩١٥٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٤٥)، سنن الدارمی/المناسک ٢٠ (١٨٦١) (صحیح )
3482Sunan Ibne-Majah

پچھنے لگانے کی جگہ۔

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ سَعْدٍ الْإِسْكَافِ، عَنْ الْأَصْبَغِ بْنِ نُبَاتَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: نَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِجَامَةِ الْأَخْدَعَيْنِ وَالْكَاهِلِ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ جبرائیل (علیہ السلام) گردن کی دونوں رگوں اور دونوں مونڈھوں کے درمیان کی جگہ پر پچھنا لگانے کا حکم لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے۔

It was narrated that Ali said: "jibrail came down to the Prophet ﷺ with (the recommendation of) cupping in the two veins at the side of the neck and the base of the neck." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٠٢٥، ومصباح الزجاجة: ١٢١٢) (ضعیف جدا) (سند میں سوید بن سعید، سعد الاسکاف دونوں ضعیف ہیں، اور اصبغ بن نباتہ متروک ہے )
3483Sunan Ibne-Majah

پچھنے لگانے کی جگہ۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي الْخَصِيبِ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَاحْتَجَمَ فِي الْأَخْدَعَيْنِ وَعَلَى الْكَاهِلِ.

انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے گردن کی رگوں اور مونڈھے کے درمیان کی جگہ پچھنا لگوایا۔

It was narrated from Anas that the prophet was cupped the two veins at the side of the neck and the base of the neck.

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطب ٤ (٣٨٦٠)، سنن الترمذی/الطب ١٢ (٢٠٥١)، (تحفة الأشراف: ١١٤٧) (صحیح )
3484Sunan Ibne-Majah

پچھنے لگانے کی جگہ۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيِّ أَنَّهُ حَدَّثَهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَحْتَجِمُ عَلَى هَامَتِهِ وَبَيْنَ كَتِفَيْهِ، وَيَقُولُ: مَنْ أَهْرَاقَ مِنْهُ هَذِهِ الدِّمَاءَ، فَلَا يَضُرُّهُ أَنْ لَا يَتَدَاوَى بِشَيْءٍ لِشَيْءٍ.

ابوکبشہ انماری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے سر پر اور دونوں کندھوں کے درمیان پچھنا لگواتے اور فرماتے تھے: جو ان مقامات سے خون بہا دے، تو اگر وہ کسی بیماری کا کسی چیز سے علاج نہ کرے تو اس کے لیے نقصان دہ نہیں ہوسکتا ۔

It was narrated from Abu Kabshah Al-Anmari that the Prophet ﷺ used to be cupped on his head and between his shoulders, and he said: "Whoever lets blood from these places, It does not matter if he does not seek treatment for anything else." (Daif)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطب ٤ (٣٨٥٩)، (تحفة الأشراف: ١٢١٤٣) (ضعیف) (ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ١٨٦٧، تراجع الألبانی: رقم: ١٩٤) ۔
3485Sunan Ibne-Majah

پچھنے لگانے کی جگہ۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،سَقَطَ عَنْ فَرَسِهِ عَلَى جِذْعٍ، فَانْفَكَّتْ قَدَمُهُ، قَالَ وَكِيعٌ يَعْنِي: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ عَلَيْهَا مِنْ وَثْءٍ.

جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ ایک بار اپنے گھوڑے سے کھجور کے درخت کی پیڑی پر گرپڑے، اس سے آپ کے پیر میں موچ آگئی۔ وکیع کہتے ہیں: مطلب یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے صرف درد کی وجہ سے وہاں پر پچھنا لگوایا۔

It was narrated from Jabir that the Prophet ﷺ fell from His horse onto the trunk of a palm tree and dislocated his foot. (One of the narrators) Waki’ said: Meaning that the Prophet ﷺ was cupped because of that for bruising.” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: وثء: عربی میں اس درد کو کہتے جو کسی عضو میں عضو ٹوٹنے کے بغیر پیدا ہو۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٣١٠، ومصباح الزجاجة: ١٢١٣)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة ٦٩ (٦٠٢)، الطب ٥ (٣٨٦٣)، سنن النسائی/الحج ٩٣ (٢٨٥١)، مسند احمد (٣/٣٠٥، ٣٥٧، ٣٦٣، ٣٨٢) (صحیح )
3486Sunan Ibne-Majah

پچھنے کن دنوں میں لگائے؟

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مَطَرٍ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ النَّهَّاسِ بْنِ قَهْمٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ أَرَادَ الْحِجَامَةَ، فَلْيَتَحَرَّ سَبْعَةَ عَشَرَ، أَوْ تِسْعَةَ عَشَرَ، أَوْ إِحْدَى وَعِشْرِينَ، وَلَا يَتَبَيَّغْ بِأَحَدِكُمُ الدَّمُ فَيَقْتُلَهُ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص پچھنا لگوانا چاہے تو (ہجری) مہینے کی سترہویں، انیسویں یا اکیسویں تاریخ کو لگوائے، اور (کسی ایسے دن نہ لگوائے) جب اس کا خون جوش میں ہو کہ یہ اس کے لیے موجب ہلاکت بن جائے ١ ؎۔

It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever wants to be cupped, let him seek out the seventeenth, nineteenth or twenty-first (of the month); and let none of you allow his blood to rage so that it kills him." (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: ابوداود نے کبشہ سے روایت کی کہ ان کے باپ منگل کے دن پچھنا لگوانے کو منع کرتے تھے اور کہتے تھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: منگل کے دن ایک ساعت ایسی ہے جس میں خون بند نہیں ہوتا، اور منگل کا دن خون کا دن ہے، اور آگے ابن عمر ؓ کی حدیث میں آتا ہے کہ پیر اور منگل کے دن پچھنے لگواؤ، پس دونوں میں تعارض ہوگیا، اس کا جواب یوں دیا گیا ہے کہ ابن عمر ؓ کی حدیث میں وہ منگل مراد ہے جو مہینے کی سترھویں تاریخ کو پڑے کیونکہ طبرانی میں معقل بن یسار ؓ سے مرفوعاً مروی ہے کہ جس نے منگل کے دن سترھویں تاریخ کو پچھنے لگوائے، وہ اس کے لئے سال بھر تک دوا ہوں گے، اور کبشہ کی حدیث میں وہ منگل مراد ہے جو سترہویں تاریخ کے سوا اور کسی تاریخ میں پڑے اور سنن ابی داود میں ابوہریرہ ؓ سے مرفوعاً مروی ہے جس نے پچھنے لگوائے سترھویں، یا انیسویں، یا اکیسویں کو وہ ہر بیماری سے شفا پائیں گے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦٢٨، ومصباح الزجاجة: ١٢١٤)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الطب ١٢ (٢٠٥١) (صحیح) (تراجع الألبانی: رقم: ٣٨٥ )
3487Sunan Ibne-Majah

پچھنے کن دنوں میں لگائے؟

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مَطَرٍ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: يَا نَافِعُ، قَدْ تَبَيَّغَ بِيَ الدَّمُ، فَالْتَمِسْ لِي حَجَّامًا وَاجْعَلْهُ رَفِيقًا إِنِ اسْتَطَعْتَ، وَلَا تَجْعَلْهُ شَيْخًا كَبِيرًا وَلَا صَبِيًّا صَغِيرًا، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: الْحِجَامَةُ عَلَى الرِّيقِ أَمْثَلُ، وَفِيهِ شِفَاءٌ وَبَرَكَةٌ، وَتَزِيدُ فِي الْعَقْلِ وَفِي الْحِفْظِ، فَاحْتَجِمُوا عَلَى بَرَكَةِ اللَّهِ يَوْمَ الْخَمِيسِ، وَاجْتَنِبُوا الْحِجَامَةَ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ، وَالْجُمُعَةِ وَالسَّبْتِ، وَيَوْمَ الْأَحَدِ تَحَرِّيًا، وَاحْتَجِمُوا يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالثُّلَاثَاءِ، فَإِنَّهُ الْيَوْمُ الَّذِي عَافَى اللَّهُ فِيهِ أَيُّوبَ مِنَ الْبَلَاءِ، وَضَرَبَهُ بِالْبَلَاءِ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ، فَإِنَّهُ لَا يَبْدُو جُذَامٌ وَلَا بَرَصٌ، إِلَّا يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ أَوْ لَيْلَةَ الْأَرْبِعَاءِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے (اپنے غلام) نافع سے کہا: نافع! میرے خون میں جوش ہے، لہٰذا کسی پچھنا لگانے والے کو میرے لیے تلاش کرو، اور اگر ہو سکے تو کسی نرم مزاج کو لاؤ، زیادہ بوڑھا اور کم سن بچہ نہ ہو، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: پچھنا نہار منہ لگانا بہتر ہے، اس میں شفاء اور برکت ہے، اس سے عقل بڑھتی ہے اور قوت حافظہ تیز ہوتی ہے، تو جمعرات کو پچھنا لگواؤ، اللہ برکت دے گا، البتہ بدھ، جمعہ، سنیچر اور اتوار کو پچھنا لگوانے سے بچو، اور ان دنوں کا قصد نہ کرو، پھر سوموار (دوشنبہ) اور منگل کے دن پچھنا لگواؤ، اس لیے کہ منگل وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ایوب (علیہ السلام) کو بیماری سے نجات دی، اور بدھ کے دن آپ کو اس بیماری میں مبتلا کیا تھا، چناچہ جذام (کوڑھ) اور برص (سفید داغ) کی بیماریاں (عام طور سے) بدھ کے دن یا بدھ کی رات میں پیدا ہوتی ہیں ۔

It was narrated that Ibn Umar said: "O Nafi! The blood is boiling in me, find me a cupper, but let it be someone gentle if you can, not an old man or a young boy. For I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Cupping on an empty stomach is better, and in it there is healing and blessing, and it increases ones intellect and memory. So have yourselves cupped for the blessing of Allah on Thursdays, and avoid cupping on Wednesdays, Fridays, Saturdays and Sundays. Have yourselves cupped on Mondays and Tuesdays, for that is the day on which Allah relieved Ayyub of calamily, and He inflicted calamity upon hiim on a Wednesday, and leprosy and leucoderma only appear on Wednesdays. or on the night of Wednesday." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٤٢١، ومصباح الزجاجة: ١٢١٥) (حسن) (تراجع الألبانی: رقم: ٤٧٤ )
3488Sunan Ibne-Majah

پچھنے کن دنوں میں لگائے؟

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِصْمَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: قَالَ بْنُ عُمَرَ: يَا نَافِعُ، تَبَيَّغَ بِيَ الدَّمُ فَأْتِنِي بِحَجَّامٍ وَاجْعَلْهُ شَابًّا، وَلَا تَجْعَلْهُ شَيْخًا وَلَا صَبِيًّا، قَالَ: وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: الْحِجَامَةُ عَلَى الرِّيقِ أَمْثَلُ، وَهِيَ تَزِيدُ فِي الْعَقْلِ، وَتَزِيدُ فِي الْحِفْظِ، وَتَزِيدُ الْحَافِظَ حِفْظًا، فَمَنْ كَانَ مُحْتَجِمًا فَيَوْمَ الْخَمِيسِ عَلَى اسْمِ اللَّهِ، وَاجْتَنِبُوا الْحِجَامَةَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَيَوْمَ السَّبْتِ، وَيَوْمَ الْأَحَدِ، وَاحْتَجِمُوا يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالثُّلَاثَاءِ، وَاجْتَنِبُوا الْحِجَامَةَ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ، فَإِنَّهُ الْيَوْمُ الَّذِي أُصِيبَ فِيهِ أَيُّوبُ بِالْبَلَاءِ، وَمَا يَبْدُو جُذَامٌ وَلَا بَرَصٌ، إِلَّا فِي يَوْمِ الْأَرْبِعَاءِ أَوْ لَيْلَةِ الْأَرْبِعَاءِ.

نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر ؓ نے کہا: نافع! میرا خون جوش میں ہے، لہٰذا کوئی پچھنا لگانے والا لاؤ، جو جوان ہو، ناکہ بوڑھا یا بچہ، نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر ؓ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: نہار منہ پچھنا لگانا بہتر ہے، اس سے عقل بڑھتی ہے، حافظہ تیز ہوتا ہے، اور یہ حافظ کے حافظے کو بڑھاتی ہے، لہٰذا جو شخص پچھنا لگائے تو اللہ کا نام لے کر جمعرات کے دن لگائے، جمعہ، ہفتہ (سنیچر) اور اتوار کو پچھنا لگانے سے بچو، پیر (دوشنبہ) اور منگل کو لگاؤ پھر چہار شنبہ (بدھ) سے بھی بچو، اس لیے کہ یہی وہ دن ہے جس میں ایوب (علیہ السلام) بیماری سے دوچار ہوئے، اور جذام و برص کی بیماریاں بھی بدھ کے دن یا بدھ کی رات ہی کو نمودار ہوتی ہیں۔

It was narrated that Nafi said: "Ibn Umar said: O Nafey The blood is boiling in me. Bring me a cupper and let him be a young man, not an old man or a boy: Ibn Umar said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: "Cupping on an empty stomach is better, and it increases ones intellect and memory. And it increases the memory of one who has a good memory so whoever wants to be cupped, (let him do it) On a Thursday, in the Name of Allah. Avoid cupping on Fridays. Saturdays and Sundays. Have Yourselves cupped on Mondays and Tuesdays. and avoid cupping On Wednesdays, for that is the day on which the calamity befall ayyub, and leprosy and eucoderma only appear on Wednesday or the night of Wednesday."(Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٦٦٧، ومصباح الزجاجة: ١٢١٦) (حسن) (سند میں عثمان و عبداللہ بن عصمہ اور سعید بن میمون مجہول ہیں، لیکن متابعات کی وجہ سے حسن ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٧٦٦ )
3489Sunan Ibne-Majah

داغ دے کر علاج کرنا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَقَّارِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْأَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنِ اكْتَوَى أَوِ اسْتَرْقَى، فَقَدْ بَرِئَ مِنَ التَّوَكُّلِ.

مغیرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے (آگ یا لوہا سے بدن) داغنے یا منتر (جھاڑ پھونک) سے علاج کیا، وہ توکل سے بری ہوگیا ١ ؎۔

It was narrated from "Aqqar bin AI-Mughirah from his father that the Prophet ﷺ said: "Whoever seeks treatment by cauterization, or with Ruqyah, then he has aboslved himself of reliance upon Allah." (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: وہ دم (جھاڑ پھونک) ممنوع ہے جس میں شرکیہ الفاظ یا ایسے الفاظ ہوں جو معنی و مفہوم کے لحاظ سے واضح نہ ہوں۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطب ١٤ (٢٠٥٥)، (تحفة الأشراف: ١١٥١٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٤٩، ٢٥١، ٢٥٣) (صحیح )
3490Sunan Ibne-Majah

داغ دے کر علاج کرنا۔

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، وَيُونُسُ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَعَنِ الْكَيِّ فَاكْتَوَيْتُ، فَمَا أَفْلَحْتُ وَلَا أَنْجَحْتُ.

عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (آگ یا لوہے سے جسم) داغنے سے منع فرمایا، لیکن میں نے داغ لگایا، تو نہ میں کامیاب ہوا، اور نہ ہی میری بیماری دور ہوئی ١ ؎۔

It was narrated that ‘Imrân bin Husain said: “The Messenger of Allah ﷺ forbade cauterization I had myself cauterized and l have not prospered or succeeded. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ نہی کراہت تنزیہی ہے یعنی خلاف اولیٰ پر محمول ہے کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے خود سعد بن معاذ اور اسعد بن زرارہ ؓ کو اپنے ہاتھ سے داغا، اگر حرام ہوتا تو ایسا نہ کرتے، کراہت کی وجہ یہ ہے کہ یہ آگ کا عذاب ہے جو اللہ رب العالمین کے لیے خاص ہے، یہ عمل نہ کرنا اولیٰ و افضل ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٨٠٩، ١٠٨١٤)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطب ٧ (٣٨٦٥)، سنن الترمذی/الطب ١٠ (٢٠٤٩)، مسند احمد (٤/٤٢٧، ٤٤٤، ٤٤٦) (صحیح )
3491Sunan Ibne-Majah

داغ دے کر علاج کرنا۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ شُجَاعٍ، حَدَّثَنَا سَالِمٌ الْأَفْطَسُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: الشِّفَاءُ فِي ثَلَاثٍ: شَرْبَةِ عَسَلٍ، وَشَرْطَةِ مِحْجَمٍ، وَكَيَّةٍ بِنَارٍ، وَأَنْهَى أُمَّتِي عَنِ الْكَيِّ، رَفَعَهُ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ شفاء تین چیزوں میں ہے: گھونٹ بھر شہد پینے میں، پچھنا لگانے میں اور انگار سے ہلکا سا داغ دینے میں، اور میں اپنی امت کو داغ دینے سے منع کرتا ہوں، یہ حدیث ابن عباس ؓ نے مرفوع روایت کی ہے۔

It was narrated that Ibn ‘Abbãs said: “Healing is in three things A drink of honey, the lass of the cupper, and uterizjng with fire, but I forbid my nation to use cauterization.” And he attributed it to the Prophet ﷺ . (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الطب ٣ (٥٦٨٠، ٥٦٨١)، (تحفة الأشراف: ٥٥٠٩) (صحیح )
3492Sunan Ibne-Majah

داغ لینے کا جواز۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنَاأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ الْأَنْصَارِيُّ، قال: سَمِعَتُ عَمِّي يَحْيَى، وَمَا أَدْرَكْتُ رَجُلًا مِنَّا بِهِ شَبِيهًا يُحَدِّثُ النَّاسَ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ زُرَارَةَ وَهُوَ جَدُّ مُحَمَّدٍ مِنْ قِبَلِ أُمِّهِ، أَنَّهُ أَخَذَهُ وَجَعٌ فِي حَلْقِهِ يُقَالُ لَهُ: الذُّبْحَةُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَأُبْلِغَنَّ أَوْ لَأُبْلِيَنَّ فِي أَبِي أُمَامَةَ عُذْرًا، فَكَوَاهُ بِيَدِهِ فَمَاتَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مِيتَةَ سَوْءٍ لِلْيَهُودِ، يَقُولُونَ: أَفَلَا دَفَعَ عَنْ صَاحِبِهِ، وَمَا أَمْلِكُ لَهُ وَلَا لِنَفْسِي شَيْئًا.

محمد بن عبدالرحمٰن بن اسعد بن زرارہ انصاری سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے چچا یحییٰ بن اسعد بن زرارہ سے سنا، اور ان کا کہنا ہے کہ اپنوں میں ان جیسا متقی و پرہیزگار مجھے کوئی نہیں ملا لوگوں سے بیان کرتے تھے کہ سعد بن زرارہ ١ ؎ (جو محمد بن عبدالرحمٰن کے نانا تھے) کو ایک بار حلق کا درد ہوا، اس درد کو ذُبحہ کہا جاتا ہے تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں ابوامامہ (یعنی! اسعد ؓ) کے علاج میں اخیر تک کوشش کرتا رہوں گا تاکہ کوئی عذر نہ رہے ، چناچہ آپ ﷺ نے انہیں اپنے ہاتھ سے داغ دیا، پھر ان کا انتقال ہوگیا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: یہود بری موت مریں، اب ان کو یہ کہنے کا موقع ملے گا کہ محمد ( ﷺ ) نے اپنے ساتھی کو موت سے کیوں نہ بچا لیا، حالانکہ نہ میں اس کی جان کا مالک تھا، اور نہ اپنی جان کا ذرا بھی مالک ہوں ٢ ؎۔

Muhammad bin "Abdur-Rahman bin Sad bin Zurarah AIAnsari said: "I heard my paternal uncle Yahya - and ihave not seen a man among us like him - tell the people that Sad bin Zurarah, who was the grandfather of Muhammad through his mother, was suffering from pain in his throat, known as croup. The Prophet ﷺ said: I shall do my best for Abu Umamah. Such that I will be excused (i.e., free of blame if he is not healed). And he cau terized him with his own hand, but he died. The Prophet ﷺ said: May the Jews be doomed! They will say: "Why could he not avert death from his Companion?" But I have no power to do anything for him or for my own self:" (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: اسعد بن زرارہ یا سعد بن زرارہ اس کے لئے دیکھئے: تحفۃ الاشراف والاصابہ۔ ٢ ؎: اسعد بن زرارہ انصار کے سردار تھے، بڑے مومن کامل تھے، آپ ﷺ نے جہاں تک ہوسکا ان کا علاج کیا، لیکن موت میں کسی کا زرو نہیں چلتا، رسول اکرم ﷺ کو بھی یہ اختیار نہ تھا کہ کسی کی موت آئے اور وہ روک دیں، لیکن یہودیوں کو جو شروع سے بےایمان تھے، یہ کہنے کا موقع ملا کہ اگر یہ سچے رسول ہوتے تو اپنے ساتھی سے موت کو دور کردیتے، آپ ﷺ نے ان کا رد کیا، اور فرمایا: رسول کو اس سے کیا علاقہ؟ مجھ کو خود اپنی جان پر اختیار نہیں ہے، تو بھلا دوسرے کی جان پر کیا ہوگا، اور افسوس ہے کہ یہودی اتنا نہ سمجھے کہ اگلے تمام انبیاء و رسل جب ان کی موت آئی فوت ہوگئے بلکہ ہارون (علیہ السلام) جو موسیٰ کے بھائی تھے، موسیٰ کی زندگی میں فوت ہوئے اور موسیٰ (علیہ السلام) ان کو نہ بچا سکے، بھلا امر الٰہی کو کوئی روک سکتا ہے، ولی ہوں یا نبی، اللہ تعالیٰ کے سامنے سب عاجز بندے اور غلام ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٨٢١، ومصباح الزجاجة: ١٢١٧)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/العین ٥ (١٣) (حسن) دون قولہ: لأبلغن
3493Sunan Ibne-Majah

داغ لینے کا جواز۔

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: مَرِضَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ مَرَضًا،فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَبِيبًا، فَكَوَاهُ عَلَى أَكْحَلِهِ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ ابی بن کعب ؓ ایک بار بیمار پڑے تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے پاس ایک طبیب بھیجا، اس نے ان کے ہاتھ کی رگ پر داغ دیا۔

It was narrated that Jabir said: "Ubayy bin Kab fell sick, and the Prophet ﷺ sent a doctor to him who cauterized him on his medial arm vein." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/السلام ٢٦ (٢٢٠٧)، سنن ابی داود/الطب ٦ (٣٨٦٤)، (تحفة الأشراف: ٢٢٩٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٠٣، ٣٠٤، ٣١٥، ٣٧١) (صحیح )
3494Sunan Ibne-Majah

داغ لینے کا جواز۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي الْخَصِيبِ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَوَى سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ فِي أَكْحَلِهِ مَرَّتَيْنِ.

جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سعد بن معاذ ؓ کے ہاتھ والی رگ میں دو مرتبہ داغا ١ ؎۔

It was narrated from jabir bin Abdullah that the Messenger of Allah ﷺ cauterized Sad bin Muadh on his medial arm vein, twice. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: رسول اکرم ﷺ سے علاج و معالجہ کے لئے اعضاء بدن کو داغنے کے سلسلہ میں متعدد احادیث وارد ہوئی ہیں جو بظاہر باہم متعارض نظر آتی ہیں، جس کی وجہ سے اس مسئلہ میں علماء کے مابین اختلافات ہیں۔ ١ ۔ بعض احادیث سے اعضاء جسم کو داغنا ثابت ہے جیسے سعد بن معاذ ؓ کے زخم کو داغنے کا واقعہ۔ ٢ ۔ بعض میں اس سلسلہ میں آپ کی ناپسندیدگی کا ذکر ہے۔ ٣ ۔ بعض میں اس کے چھوڑ دینے کی تعریف کی گئی ہے۔ ٤ ۔ بعض احادیث میں اس کی ممانعت آئی ہے۔ واضح رہے کہ جن احادیث میں اعضاء جسم کو داغنے سے علاج اور شفاء کی بات آئی ہے اس سے اس کے جواز و مشروعیت کا ثبوت ملتا ہے، اور رسول اکرم ﷺ کے اس کو ناپسند کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ کام ممنوع ہے، بلکہ اس کا معاملہ ضب کے ناپسند ہونے کی طرح ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے اسے نہ کھایا، لیکن یہ آپ ﷺ کے دسترخوان پر کھائی گئی، اور آپ نے اس پر سکوت اختیار کیا، اور اس کی حلت کا اقرار فرمایا، اور آپ کے ضب نہ کھانے کا تعلق آپ کی ذاتی ناپسندیدگی سے ہے جس کا ضب کی حرمت سے کوئی تعلق نہیں ہے، اور اس کے ترک کردینے پر پسندیدگی سے پتہ چلتا ہے کہ اعضاء جسم کو داغ کر علاج نہ کرنا زیادہ بہتر بات ہے۔ اور ممانعت کی احادیث کراہت کے قبیل سے ہیں، یا ایسی صورت سے ممانعت کی بات ہے جس کی ضرورت و حاجت نہ ہو، بلکہ بیماری کے لاحق ہونے کے خوف کی بنا پر ہو۔ اس تفصیل سے پتہ چلا کہ اعضاء جسم کے داغنے کے ذریعہ علاج بلا کراہت دو شرطوں کے ساتھ جائز ہے، ایک یہ کہ اس علاج کے علاوہ اور کوئی صورت علاج کی باقی نہ ہو، بلکہ متعین طور پر اس علاج ہی کی تشخیص کی گئی ہو۔ دوسری شرط یہ ہے کہ اعضاء جسم کا داغنا شفا اور علاج کا مستقل سبب نہیں ہے، بلکہ اس کا حقیقی سبب اللہ تعالیٰ ہے جو شفا دینے والا ہے، جب دوسری صورتیں علاج کی موجود ہوں تو آگ سے داغنے کا علاج مکروہ ہوگا۔ خلاصہ یہ کہ علمائے دین نے اعضاء جسم کو داغ کر اس سے علاج کے جواز کی بات کہی ہے کہ یہ بھی علاج و معالجہ کا ایک مجرب طریقہ ہے، بعض علماء نے اس اعتقاد سے صحت مند آدمی کو داغنے سے منع کیا ہے کہ وہ اس کے بعد دوبارہ بیمار نہ ہو، تو ایسی صورت حرام اور ممنوع ہے، اور دوسری علاج کی صورتیں جن میں زخم کے فساد کا علاج یا اعضاء جسم کے کٹنے کے بعد اس کے علاج کا مسئلہ ہو جائز ہے۔ یہ واضح رہے کہ زمانہ جاہلیت میں (اور آج بھی لوگوں میں یہ رواج ہے) لوگوں کا یہ اعتقاد تھا کہ صحت مند آدمی کو اس واسطے داغتے تھے کہ وہ اس کے بعد بیمار نہ ہو، اگر یہ صورت ہو تو احادیث نہی اس طرح کی حرمت پر دلالت کرتی ہیں، اسلام نے اس اعتقاد کو باطل قرار دیا، اور اس بات پر زور دیا کہ اللہ تعالیٰ ہی شافی و کافی ہے۔ إذا مرضت فهو يشفين اوپر کی وضاحت کا خلاصہ یہ ہوا کہ اعضاء جسم کے داغنے کا طریقہ علاج مختلف صورتوں میں مختلف احکام رکھتا ہے، نہ تو ہمیشہ اس کا ترک صحیح ہے، اور نہ اس علاج کا ہمیشہ اختیار کرنا ہی صحیح ہے، کبھی کراہت کے ساتھ یہ جائز ہے، کبھی یہ علاج مکروہ ہے، اور کبھی یہ حرمت کے دائرہ میں آجاتا ہے، جواز کی صورت اس کی ضرورت کے پیش نظر ہے، بایں طور کہ علاج کی دوسری صورت باقی نہ ہو بلکہ متعین طور پر کسی بیماری میں یہی علاج موثر ہو جیسے تیزی سے جسم سے خون کے نکلنے میں داغنے کے علاوہ کوئی اس کو روکنے کی ترکیب نہ ہو، ورنہ بیمار کے مرجانے کا خدشہ ہو، اس صورت میں اس علاج کو اپنانا ضروری ہے، چناچہ نبی اکرم ﷺ نے سعد بن معاذ ؓ کے جسم سے خون نہ رکنے کی صورت میں ان کی ہلاکت کے خوف سے ان کے جسم کو داغا۔ یہ واضح رہے کہ اس علاج میں یہ اعتقاد بھی ہونا چاہیے کہ یہ ایک سبب علاج ہے، اصل شافی اللہ تعالیٰ ہے۔ کراہت کی صورتوں میں سے ایک صورت یہ ہے کہ دوسرے علاج کی موجودگی میں یہ علاج کیا جائے، اس لئے کہ اس علاج میں مریض کو سخت درد بلکہ اصل مرض سے زیادہ سخت درد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کراہت کی ایک صورت یہ ہے کہ بیماری آنے سے پہلے حفظان صحت کے لئے یہ طریقہ علاج اپنایا جائے، اس لئے کہ اس میں اللہ پر توکل و اعتماد میں کمی اور کمزوری آجاتی ہے، اور مرض کے واقع ہونے سے پہلے ہی داغنے کے درد کا سامنا کرنا پڑتا ہے، صرف اس خدشہ سے کہ ایسا مستقبل میں ممکن ہے، آگ کا عذاب اللہ تعالیٰ کا حق ہے، اس لئے اس صورت میں اس پر حرمت کا اطلاق بھی ہوسکتا ہے، داغنے کے علاج میں شفا ڈھونڈھنے میں غلو اور مبالغہ کی صورت میں آدمی حقیقی مسبب الاسباب یعنی اللہ تعالیٰ ہی کو بھول جاتا ہے، اور دنیاوی اسباب کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے، اور یہ معلوم ہے کہ اسباب کی طرف توجہ و التفات توحید میں شرک ہے۔ امام ابن القیم فرماتے ہیں کہ صحیح احادیث میں علاج کا حکم ہے، جو توکل کے منافی نہیں ہے، جیسے بھوک، پیاس، سردی اور گرمی کو اس کے اضداد کے ذریعہ دور کیا جائے، بلکہ توحید کی حقیقت کا اتمام اسی وقت ہوگا جب آدمی اللہ تعالیٰ کی شریعت میں اور سنن کونیہ (کائناتی نظام) میں نتائج تک پہنچنے کے لئے جو اسباب فراہم کئے ہیں ان کو استعمال کرے، اور ان شرعی اور کونی اسباب کو معطل کردینا دراصل نفس توکل میں قدح ہے۔ اور ایسے ہی امر الٰہی اور حکمت ربانی کا قادح اور اس میں کمزوری پیدا کرنے والا ہے کیونکہ ان اسباب کو معطل کرنے والا یہ گمان کرتا ہے کہ ان کا ترک توکل کے باب میں زیادہ قوی اور مضبوط ہے۔ پس ان اسباب کا ترک عاجزی ہے، جو اس توکل کے منافی ہے جس کی حقیقت ہی یہ ہے کہ بندہ کا دل اللہ تعالیٰ پر اپنے دینی اور دنیاوی فوائد کے حصول میں اور دینی و دنیاوی نقصانات سے دور رہنے میں اعتماد کرے۔ اس اعتماد و توکل کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ اسباب کو اختیار کیا جائے، ورنہ آدمی حکمت الٰہی اور شریعت کے اوامر کو معطل کرنے والا ہوگا، لہذا آدمی اپنی عاجزی کو توکل نہ بنائے، اور نہ ہی توکل کو عاجزی کا عنوان دے۔ (زاد المعاد: ٤ ؍١٥ ) (حررہ الفریوائی )
Takhrij · تخریج
تفرد ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٧٦٢، ومصباح الزجاجة: ١٢١٨)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/السلام ٢٦ (٢٢٠٨)، سنن ابی داود/الطب ٧ (٣٨٦٦)، سنن الترمذی/السیر ٢٩ (١٥٨٢)، مسند احمد (٣/٣٦٣)، سنن الدارمی/السیر ٦٦ (٢٥٥١) (صحیح )
3495Sunan Ibne-Majah

اثمد کا سرمہ لگانا۔

حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلَيْكُمْ بِالْإِثْمِدِ، فَإِنَّهُ يَجْلُو الْبَصَرَ وَيُنْبِتُ الشَّعَرَ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ اپنے اوپر اثمد ٢ ؎ کو لازم کرلو، اس لیے کہ وہ بینائی تیز کرتا ہے اور بال اگاتا ہے ۔

Salim bin Abdullah narrated that his father said: "The Messenger of Allah ﷺ said: You should use antimony, for it improves the eyesight and makes the hair (eyelashes) grow.": (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: ثرمد: ایک پتھر ہے جو اصفہان (ایران) میں پایا جاتا ہے۔ اس سے تیار کردہ سرمہ بہترین اور مفید ہوتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٧٧١، ومصباح الزجاجة: ١٢١٩) (صحیح) (سند میں عثمان بن عبدالملک لین الحدیث ہے، لیکن شواہد کی وجہ سے صحیح ہے، جب کہ باب کی احادیث میں ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٧٢٤ )