Sunan Ibne-Majah 3485

طب کا بیان

3485Sunan Ibne-Majah

پچھنے لگانے کی جگہ۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،سَقَطَ عَنْ فَرَسِهِ عَلَى جِذْعٍ، فَانْفَكَّتْ قَدَمُهُ، قَالَ وَكِيعٌ يَعْنِي: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ عَلَيْهَا مِنْ وَثْءٍ.

جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ ایک بار اپنے گھوڑے سے کھجور کے درخت کی پیڑی پر گرپڑے، اس سے آپ کے پیر میں موچ آگئی۔ وکیع کہتے ہیں: مطلب یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے صرف درد کی وجہ سے وہاں پر پچھنا لگوایا۔

It was narrated from Jabir that the Prophet ﷺ fell from His horse onto the trunk of a palm tree and dislocated his foot. (One of the narrators) Waki’ said: Meaning that the Prophet ﷺ was cupped because of that for bruising.” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: وثء: عربی میں اس درد کو کہتے جو کسی عضو میں عضو ٹوٹنے کے بغیر پیدا ہو۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٣١٠، ومصباح الزجاجة: ١٢١٣)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة ٦٩ (٦٠٢)، الطب ٥ (٣٨٦٣)، سنن النسائی/الحج ٩٣ (٢٨٥١)، مسند احمد (٣/٣٠٥، ٣٥٧، ٣٦٣، ٣٨٢) (صحیح )