Sunan Ibne-Majah 3490

طب کا بیان

3490Sunan Ibne-Majah

داغ دے کر علاج کرنا۔

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، وَيُونُسُ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَعَنِ الْكَيِّ فَاكْتَوَيْتُ، فَمَا أَفْلَحْتُ وَلَا أَنْجَحْتُ.

عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (آگ یا لوہے سے جسم) داغنے سے منع فرمایا، لیکن میں نے داغ لگایا، تو نہ میں کامیاب ہوا، اور نہ ہی میری بیماری دور ہوئی ١ ؎۔

It was narrated that ‘Imrân bin Husain said: “The Messenger of Allah ﷺ forbade cauterization I had myself cauterized and l have not prospered or succeeded. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ نہی کراہت تنزیہی ہے یعنی خلاف اولیٰ پر محمول ہے کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے خود سعد بن معاذ اور اسعد بن زرارہ ؓ کو اپنے ہاتھ سے داغا، اگر حرام ہوتا تو ایسا نہ کرتے، کراہت کی وجہ یہ ہے کہ یہ آگ کا عذاب ہے جو اللہ رب العالمین کے لیے خاص ہے، یہ عمل نہ کرنا اولیٰ و افضل ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٨٠٩، ١٠٨١٤)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطب ٧ (٣٨٦٥)، سنن الترمذی/الطب ١٠ (٢٠٤٩)، مسند احمد (٤/٤٢٧، ٤٤٤، ٤٤٦) (صحیح )