Sunan Ibne-Majah 3445

طب کا بیان

3445Sunan Ibne-Majah

ہریرہ کا بیان

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ السَّائِبِ بْنِ بَرَكَةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْعَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَخَذَ أَهْلَهُ الْوَعْكُ أَمَرَ بِالْحَسَاءِ، قَالَتْ: وَكَانَ يَقُولُ: إِنَّهُ لَيَرْتُو فُؤَادَ الْحَزِينِ، وَيَسْرُو عَنْ فُؤَادِ السَّقِيمِ، كَمَا تَسْرُو إِحْدَاكُنَّ الْوَسَخَ عَنْ وَجْهِهَا بِالْمَاءِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے گھر والوں کو جب بخار آتا تو آپ حریرہ کھانے کا حکم دیتے، اور فرماتے: یہ غمگین کے دل کو سنبھالتا ہے، اور بیمار کے دل سے اسی طرح رنج و غم دور کردیتا ہے جس طرح کہ تم میں سے کوئی عورت اپنے چہرے سے میل کو پانی سے دور کردیتی ہے ١ ؎۔

It was narrated that Aisha (RA) said: "If any of his family members became ill, the Messenger of Allah ﷺ would order that some broth be made. And he would say: It consoles the grieving heart and cleanses the ailing heart, as anyone of you cleanses her face of dirt with water. (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: حسا یعنی حریرہ آٹا، پانی، گھی یا تیل وغیرہ سے بنایا جاتا ہے، اس میں کبھی میٹھا بھی ڈالتے ہیں، اور کبھی شہد اور کبھی آٹے کے بدلے میں آٹے کا چھان ڈالتے ہیں، اس کو تلبینہ کہتے ہیں، اردو میں حریرہ مشہور ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطب ٣ (٢٠٣٩)، (تحفة الأشراف: ١٧٩٩٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٢) (ضعیف) (سند میں ام محمد بن سائب ضعیف ہیں )