Sunan Ibne-Majah 2501

گمشدہ چیزوں کا بیان

2501Sunan Ibne-Majah

طلب شفعہ

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَيْلَمَانِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا شُفْعَةَ لِشَرِيكٍ عَلَى شَرِيكٍ إِذَا سَبَقَهُ بِالشِّرَاءِ وَلَا لِصَغِيرٍ وَلَا لِغَائِبٍ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: شریک کو شریک پر اس وقت شفعہ نہیں رہتا ہے، جب وہ خریداری میں اس سے سبقت کر جائے، اسی طرح نہ کم سن (نابالغ) کے لیے شفعہ ہے، اور نہ غائب کے لیے ١ ؎۔

It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah ﷺ said. "There is no preemption for a partner when his co-partner has beaten him to it (in another deal before), nor for a minor nor one who is absent."

Notes · وضاحت
١ ؎: مثلاً کسی جائیداد میں زید، عمر اور بکر شریک ہیں، بکر نے اپنا حصہ زید کے ہاتھ بیچ دیا، تو عمر کو زید پر شفعہ کے دعویٰ کا حق حاصل نہ ہوگا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٢٩٣، ومصباح الزجاجة: ٨٨٧) (ضعیف جدا) (سند میں محمد بن الحارث ضعیف راوی ہیں، اور محمد بن عبد الرحمن البیلمانی متہم با لکذب راوی ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٤٨٠٤ )