معدان بن ابی طلحہ یعمری کہتے ہیں کہ میں ثوبان ؓ سے ملا، اور ان سے کہا: آپ مجھ سے کوئی حدیث بیان کریں، امید ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس سے فائدہ دے گا، یہ سن کر وہ خاموش رہے، پھر میں نے دوبارہ وہی بات کہی، تو بھی وہ خاموش رہے، تین بار ایسا ہی ہوا، پھر انہوں نے کہا: تم اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کے لیے سجدہ لازم کرلو، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جو بندہ اللہ تعالیٰ کے لیے ایک سجدہ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس کا ایک درجہ بلند کرتا ہے، اور ایک گناہ مٹا دیتا ہے ۔ معدان کہتے ہیں کہ پھر میں ابوالدرداء ؓ سے ملا، اور ان سے پوچھا تو انہوں نے بھی ایسا ہی بیان کیا۔
Madan bin Abu Talhah AI-Yamuri said: "I met Thawban and said to him: Tell me a Hadith that Allah may benefit me thereby. But he remained silent.Then I said the same and he remained silent. That happened three times, Then he said to me: You should prostrate to Allah for I heard the Messenger of Allah ﷺ say: "No one prostrates to Allah but Allah will raise him one degree in status thereby and will erase one of his sins." Madan said: "Then I met Abu Darda and asked him the same question, and he gave a similar answer." (Sahih)
عبادہ بن صامت ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جو کوئی بندہ اللہ تعالیٰ کے لیے ایک سجدہ کرے گا، اللہ اس کے بدلے ایک نیکی لکھے گا، اور اس کا ایک گناہ مٹا دے گا، اور اس کا ایک درجہ بلند فرمائے گا، لہٰذا تم کثرت سے سجدے کرو ۔
It was narrated from Ubadahh bin Samit that he heard the Messenger of Allah ﷺ say: "No one prostrates to Allah but Allah will record one Hasanan (good reward) for him, and will erase thereby one bad deed and raise him in status one degree. So prostrate a great deal." (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥١٠٢، ومصباح الزجاجة: ٥٠٣) (صحیح) (صحیح مسلم وغیرہ میں ثوبان کی حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں ولید بن مسلم مدلس ہیں، اور عنعنہ سے روایت کی ہے، الإرواء: ٤٥٧ )
انس بن حکیم کہتے ہیں کہ ابوہریرہ ؓ نے مجھ سے کہا کہ جب تم اپنے شہر والوں کے پاس پہنچو تو ان کو بتاؤ کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: مسلمان بندے سے قیامت کے دن سب سے پہلے جس چیز کا حساب لیا جائے گا وہ فرض نماز ہوگی، اگر اس نے اسے کامل طریقے سے ادا کی ہے تو ٹھیک ہے، ورنہ کہا جائے گا کہ دیکھو کیا اس کے پاس کچھ نفل ہے؟ اگر اس کے پاس نفل نمازیں ہوں گی تو اس سے فرض میں کمی پوری کی جائے گی، پھر باقی دوسرے فرائض اعمال کے ساتھ ایسا ہی کیا جائے گا ۔
It was narrated that Anas bin Hakim Dabbi said: " Abu Hurairah (RA) said to me: When you go to your country, tell them that I heard the Messenger of Allah ﷺ say: "The first thing for which the Muslim will be brought to account on the Day of Resurrection will be the prescribed prayers. If they are complete, all well and good, otherwise it will be said: Look and see whether he has any voluntary prayers: If he has any voluntary prayers, his prescribed prayers will be completed from his voluntary prayers. Then the same will be done wi th regard to all his obligatory deeds.(Daif)
تمیم داری ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن بندے سے جس چیز کا سب سے پہلے حساب لیا جائے گا وہ نماز ہوگی، اگر اس نے نماز مکمل طریقے سے ادا کی ہوگی تو نفل نماز علیحدہ لکھی جائے گی، اور اگر مکمل طریقے سے ادا نہ کی ہوگی تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے کہے گا: دیکھو، کیا میرے بندے کے پاس نفل نمازیں ہیں، تو ان سے فرض کی کمی کو پورا کرو، پھر باقی اعمال کا بھی اسی طرح حساب ہوگا ۔
It was narrated from Tamim Dari that the Prophet ﷺ said: "The first thing for which a person will be brought to account on the Day of Resurrection will be his prayer. If it is complete, then the voluntary (prayers) will also be recorded for him (as an increase). If it is not complete then Allah will say to His angels: Look and see whether you find any voluntary prayers for my slave, and take them to make up what is lacking from his obligatory prayers. Then all his deeds will be reckoned in like manner." (Sahih)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کیا تم میں کا کوئی اتنا عاجز و مجبور ہے کہ جب (فرض) نماز پڑھ چکے تو نفل کے لیے آگے بڑھ جائے، یا پیچھے ہٹ جائے، یا دائیں، بائیں ہوجائے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: "Is anyone of you incapable, when he prays, of stepping forward or backwards, or to his right or left?" meaning in order to offer a voluntary prayer. (Daif)
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأاذان ٥٧ (٨٤٨) تعلیقاً، سنن ابی داود/الصلاة ١٩٤ (١٠٠٦)، (تحفة الأشراف: ١٢١٧٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٢٥) (صحیح) (سند میں لیث بن أبی سلیم ضعیف، اور ابراہیم بن اسماعیل مجہول الحال ہیں، لیکن حدیث شواہد کی بناء پر صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: ٦٢٩ ، ٩٢٢ ، ١٠٣٤ )
مغیرہ بن شعبہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: امام اس جگہ سنت (نفل نماز) نہ پڑھے جہاں پر اس نے فرض پڑھائی ہے، جب تک کہ وہاں سے دور نہ جائے ۔
It was narrated from Mughirah bin Shubah that" the Messenger of Allah ﷺ said: The Imam should not pray in the place where he offered the obligatory prayer until he moves aside”.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٥٧ (٨٤٨ تعلیقاً )، سنن ابی داود/الصلاة ٧٣ (٦١٦)، (تحفة الأشراف: ١١٥١٧) (صحیح) (دوسری حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں عثمان بن عطاء ضعیف ہیں، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: ٦٢٩ )
اس سند سے بھی مغیرہ ؓ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
انظر ما قبلہ: (اس کی سند میں بقیہ ضعیف ہیں، ابو عبد الرحمن مجہول ہیں، اور عثمان ضعیف ہیں )
عبدالرحمٰن بن شبل ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (نماز میں) تین چیزوں سے منع فرمایا: ایک تو کوے کی طرح ٹھونگ مارنے سے، دوسرے درندے کی طرح بازو بچھانے سے، اور تیسرے نماز کے لیے ایک جگہ متعین کرنے سے جیسے اونٹ اپنی جگہ مقرر کرتا ہے ۔
It was narrated that ,Abdur-Rahman bin Shibl said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade three things: Pecking like a crow, spreading the forearms) like a beast of prey, and a man having a place in the Masjid in which he usually offers the prayer, like a camel has a place to which it usually goes," (Hasan)
سلمہ بن الاکوع ؓ کہتے ہیں کہ وہ نماز الضحیٰ (چاشت کی نفل نماز) کے لیے آتے اور صف سے پہلے ستون کے پاس جاتے اور اس کے نزدیک نماز پڑھتے، میں مسجد کے ایک گوشے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ان سے کہتا: آپ اس جگہ نماز کیوں نہیں پڑھتے؟ تو وہ کہتے: میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ اسی جگہ کا قصد کرتے تھے ١ ؎۔
It was narrated from Yazid bin Abu Ubaid that Salamah bin Al-Akwa used to offer the Dulta prayer, and he would come to the pillar that was near the Mushaf. I said to him: "Why do you not pray over there?" And l pointed to some comer of the Masjid. He said: "I saw the Messenger of Allah ﷺ seeking out this place." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: بظاہر یہ حدیث اگلی حدیث کے خلاف ہے جس میں مسجد کے اندر ایک جگہ متعین کرنے کی ممانعت ہے، تطبیق اس طرح ممکن ہے کہ یہ ممانعت فرائض کے لئے ہے، سنن اور نوافل کے لئے نہیں، اور بعض نے کہا ہے کہ قصد کرنا اور خاص کرنا دونوں الگ الگ چیز ہے، کیوں کہ خاص کرنے میں ملکیت ثابت ہوتی ہے، اور مسجد کسی کی ملک نہیں ہے، اور قصد کرنے کا یہ مطلب ہوگا کہ اگر جگہ خالی ہو تو وہاں پڑھے، اور نبی کریم ﷺ جو اس ستون کا قصد کرتے تو اس کی کوئی علت حدیث میں مذکور نہیں ہے۔
عبداللہ بن سائب ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فتح مکہ کے دن نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، تو آپ نے اپنے جوتے بائیں طرف رکھے۔
It was narrated that Abdullah bin Saib said: "I saw the Messenger of Allah ﷺ praying on the Day of the Conquest, and he put his shoes on his left," (Sahih)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جوتے اپنے پاؤں میں پہنے رکھو، اور اگر انہیں اتارو تو اپنے پیروں کے درمیان رکھو، اور اپنے دائیں طرف نہ رکھو، نہ اپنے ساتھی کے دائیں طرف رکھو، اور نہ پیچھے رکھو کیونکہ پیچھے والوں کو تکلیف ہو ١ ؎۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Keep your shoes on YOUl" feet. If you take them off then place them between your two feet; do not place them to your right, or to the right of your companions, or behind you, for they may annoy whoever is behind you. (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ اگر جوتے پاک و صاف ہوں تو اس کو پہن کر نماز پڑھنا صحیح ہے، خود رسول اللہ ﷺ نے اور آپ کے صحابہ کرام ؓ نے جوتے پہن کر نماز پڑھی ہے، نیز اس حدیث میں جوتے رکھنے کے آداب بھی سکھائے گئے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٩٦٩، ومصباح الزجاجة: ٥٠٤) وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة ٩٠ (٦٥٥) (ضعیف جدا) (یہ حدیث سخت ضعیف ہے کیونکہ سند میں عبد اللہ بن سعید متروک اور منکر الحدیث ہے، لیکن ابو داود کی صحیح روایت میں سیاق اس سے مختلف ہے، ألزم نعليك قدميك اور ولا ورائك فتؤذي من خلفک صرف ابن ماجہ میں ہے، اس لئے یہ الفاظ منکر ہیں )