ابوقتادہ بن ربعی ؓ خبر دیتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے تمہاری امت پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں، اور میں نے اپنے پاس سے یہ وعدہ کیا ہے کہ جو انہیں ان کے اوقات پر پڑھنے کی پابندی کرے گا، میں اسے جنت میں داخل کروں گا، اور جو ان کی پابندی نہیں کرے گا، تو اس کے لیے میرے پاس کوئی وعدہ نہیں ۔
Saeed bin Musayyab said that Abu Qatadah bin Ribi told him that the Messenger of Allah ﷺ said: " Allah said: I have enjoined on your nation five prayers, and I have made a covenant with Myself that whoever maintains them, I will admit him to Paradise, and whoever does not maintain them, has no such covenant with Me.(Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٠٨٢، ومصباح الزجاجة: ٤٩٤)، وقد آخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة ٩ (٤٣٠) (صحیح) (شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں ضبارہ مجہول اور دوید متکلم فیہ ہیں، (تراجع الألبانی: رقم: ٥٨ )، نیز بوصیری نے اس حدیث کو زدا ئد ابن ماجہ میں داخل کیا ہے، فرماتے ہیں کہ مزی نے تحفة الأشراف میں اس حدیث کو ابن الاعرابی کی روایت سے ابوداود کی طرف منسوب کیا ہے، جس کو میں نے لئولُوی کی روایت میں نہیں دیکھا ہے )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری مسجد میں ایک نماز دوسری مسجدوں کی ہزار نماز سے افضل ہے ١ ؎، سوائے مسجد الحرام کے ٢ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "One prayer in this Masjid of mine is better than a thousand prayers anywhere else, except The Sacred Masjid (AI-Masjid AI-Haram)." (Sahih) (Another chain) from Abu Hurairah (RA) from the Prophet ﷺ with similar wording.
Notes · وضاحت
١ ؎: میری مسجد سے مراد مدینہ کی مسجد نبوی ہے، یہ فضیلت توسیع شدہ حصہ کو بھی شامل ہے، جیسا کہ شیخ الإسلام ابن تیمیہ فرماتے ہیں کہ جہاں تک یہ مسجد نبوی بڑھتی جائے، وہ تمام حصے بھی اس فضیلت میں شامل ہوں گے۔ ٢ ؎: مسجد حرام میں ایک نماز دوسری مسجدوں کی ایک لاکھ نماز سے افضل ہے۔
اس سند سے بھی ابوہریرہ ؓ سے اسی مضمون کی حدیث مروی ہے۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میری مسجد میں ایک نماز پڑھنی دوسری مسجدوں میں ہزار نماز پڑھنے سے افضل ہے، سوائے مسجد الحرام کے ۔
It was narrated from Ibn Umar (RA) that the Prophet ﷺ said: "One prayer in this Masjid of mine is better than one thousand prayers in any other Masjid except the Sacred Masjid."(Sahih)
جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری مسجد میں ایک نماز پڑھنی دوسری مسجدوں میں ہزار نماز پڑھنے سے افضل ہے سوائے مسجد الحرام کے، اور مسجد الحرام میں ایک نماز پڑھنی دوسری مسجدوں کی ایک لاکھ نماز سے افضل ہے ١ ؎۔
It was narrated from Jabir that the Messenger of Allah ﷺ said: "One prayer in my Masjid is better than one thousand prayers elsewhere, except the Sacred Masjid, and one prayer in the Sacred Masjid is better than , one hundred thousand prayers elsewhere." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یہاں مسجد الحرام کا ذکر کرتے وقت مدینہ منورہ کی مسجد کا استثناء نہیں کیا، اور بظاہر یہی ہے کہ سوائے مسجد نبوی کے اور مسجدوں کی لاکھ نماز سے افضل ہے، کیونکہ اگر مسجد نبوی کے ایک لاکھ نماز سے افضل ہو تو دوسری مسجدوں کے ایک ارب نماز سے افضل ہوگی، اور کیا عجب ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اسی قدر ثواب عطا فرمائے، اور اس صورت میں یہ کہنا کہ دوسری مسجدوں کی ایک لاکھ نماز سے افضل ہے، صحیح ہوگا کہ جب ایک ارب نماز افضل ہوئی تو ایک لاکھ سے بطریق اولیٰ افضل ہوگی، واللہ اعلم۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٤٣٢، ومصباح الزجاجة: ٤٩٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٣٤، ٣٤٣، ٣٩٧) (صحیح )
نبی اکرم ﷺ کی لونڈی میمونہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم کو بیت المقدس کا مسئلہ بتائیے ، آپ ﷺ نے فرمایا: وہ تو حشر و نشر کی زمین ہے، وہاں جاؤ اور نماز پڑھو، اس لیے کہ اس میں ایک نماز دوسری مسجدوں کی ہزار نماز کی طرح ہے میں نے عرض کیا: اگر وہاں تک جانے کی طاقت نہ ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تو تم تیل بھیج دو جسے وہاں کے چراغوں میں جلایا جائے، جس نے ایسا کیا گویا وہ وہاں گیا ۔
It was narrated that Maimunah the freed (female) slave of the Prophet ﷺ said: I said: "O Messenger of Allah. tell us about Baitil-Maqdis." He said: "It is the land of the Resurrection and the Gathering. Go and pray there, for one prayer there is like one thousand prayers elsewhere." I said: "What if I cannot travel and go there?" He said: "Then send a gift of oil to light its lamps, for whoever does that is like one who goes there." (Daif)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ١٤ (٤٥٧)، (تحفة الأشراف: ١٨٠٨٧، ومصباح الزجاجة: ٤٩٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٦٣) (منکر) (بوصیری نے کہا کہ بعض حدیث کو ابوداود نے روایت کیا ہے، شیخ البانی نے اس حدیث کو پہلے (صحیح ابو داود ٦٨ ) میں رکھا تھا، بعد میں اسے ضعیف ابی داود میں رکھ دیا، ابوداود کی روایت میں بیت المقدس میں نماز پڑھنے کی فضیلت کا ذکر نہیں ہے، وجہ نکارت یہ ہے کہ زیتون کا تیل فلسطین میں ہوتا ہے، حجاز سے اسے بیت المقدس بھیجنے کا کیا مطلب ہے؟ نیز صحیح احادیث میں مسجد نبوی میں ایک نماز کا ثواب ہزار نمازوں ہے، جب کہ بیت المقدس کے بارے میں یہ ثواب صحاح میں نہیں وارد ہوا ہے )
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب سلیمان بن داود (علیہما السلام) بیت المقدس کی تعمیر سے فارغ ہوئے، تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے تین چیزیں مانگیں، ایک تو یہ کہ میں مقدمات میں جو فیصلہ کروں، وہ تیرے فیصلے کے مطابق ہو، دوسرے مجھ کو ایسی حکومت دے کہ میرے بعد پھر ویسی حکومت کسی کو نہ ملے، تیسرے یہ کہ جو کوئی اس مسجد میں صرف نماز ہی کے ارادے سے آئے وہ اپنے گناہوں سے ایسا پاک ہوجائے جیسے اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اس کو جنا تھا، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: دو باتیں تو اللہ تعالیٰ نے سلیمان (علیہ السلام) کو عطا فرمائیں، مجھے امید ہے کہ تیسری چیز بھی انہیں عطا کی گئی ہوگی ١ ؎۔
It was narrated from Abdullah bin Amr that the Prophet ﷺ said: "When Sulaiman bin Dawud finished building Baitil-Maqdis, he asked Allah for three things: Judgment that was in harmony with His judgment, a dominion that no one after him would have, and that no one should come to this Masjid, intending only to pray there, but he would emerge free of sin as the day his mother bore him." The Prophet ﷺ said: "Two prayers were granted, and I hope that the third was also granted." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: سلیمان (علیہ السلام) کا حکم ہونا اس آیت سے معلوم ہوتا ہے: ففهمناها سليمان وکلا آتينا حکما وعلما (سورة الأنبياء: 79)،فسخرنا له الريح تجري بأمره رخاء حيث أصاب (سورة ص: 36) نیز ہوا پر اور جن و انس پر اور چرند و پرند سب پر ان کی حکومت تھی، جیسا کہ اس آیت میں موجود ہے: والشياطين كل بناء وغواص (سورة ص: 37) اور تیسری بات کی صراحت چونکہ قرآن میں نہیں ہے اس لئے نبی اکرم ﷺ نے اس میں فرمایا مجھے امید ہے کہ تیسری چیز بھی انہیں عطا کی گئی ہوگی۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/المساجد ٦ (٦٩٤)، (تحفة الأشراف: ٨٨٤٤، ومصباح الزجاجة: ٤٩٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٧٦) (صحیح) (دوسری سندوں سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں عبید اللہ بن الجہم مجہول الحال ہیں، اور ایوب بن سوید بالاتفاق ضعیف، بوصیری نے ذکر کیا ہے کہ بعض حدیث کو ابوداود نے ابن عمرو کی حدیث سے روایت کیا ہے، ایسے ہی نسائی نے سنن صغری میں روایت کی ہے)، یہ حدیث ابوداود میں ہمیں نہیں ملی، اور ایسے ہی مصباح الزجاجة کے محقق د . شہری کو بھی نہیں ملی ( ٥٠٢ ) نیز نسائی نے کتاب المساجد باب فضل المسجد الأقصی ( ١؍٨ ) میں اور احمد نے مسند میں ( ٢؍١٧٦ ) تخریج کیا ہے ابن خزیمہ ( ٢؍١٧٦ ) اور ابن حبان (١٠٤٢ مواردہ) اور حاکم ( ١؍٢٠؍٢١ ) نے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تین مساجد: مسجد الحرام، میری اس مسجد (یعنی مسجد نبوی) اور مسجد الاقصیٰ کے علاوہ کسی اور مسجد کی جانب (ثواب کی نیت سے) سفر نہ کیا جائے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "No one should prepare a mount (travel) to visit any Masjid except three: the Sacred Masjid, this Masjid of mine, and Aqsa Masjid." (Sahih)
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٩٥ (١٣٩٧)، (تحفة الأشراف: ١٣٢٨٣)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/فضائل الصلاة ١ (١١٨٩)، سنن ابی داود/الحج ٩٨ (٢٠٣٣)، سنن النسائی/المساجد ١٠ (٧٠١)، موطا امام مالک/الجمعة ٧ (١٦)، مسند احمد (٢/٢٣٤، ٢٣٨، ٢٧٨، ٥٠١)، سنن الدارمی/الصلاة ١٣٢ (١٤٦١) (صحیح )
ابو سعید خدری اور عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین مساجد: مسجد الحرام، مسجد الاقصیٰ اور میری اس مسجد (یعنی مسجد نبوی) کے علاوہ کسی اور مسجد کی طرف (ثواب کی نیت سے) سفر نہ کیا جائے ۔
It was narrated from Abu Saeed and Abdullah bin Amr bin As that the Messenger of Allah ﷺ said: "Do not prepare a mount (travel) to visit any Masjid except three: the Sacred Masjid, Aqsa Masjid, and this Masjid of mine." (Sahih)
Takhrij · تخریج
حدیث أبي سعید الخدري أخرجہ: صحیح البخاری/فضل الصلاة في مکة والمدینة ٦ (١١٨٨، ١١٨٩)، صحیح مسلم/المناسک ٧٤ (٨٢٧)، سنن الترمذی/الصلاة ١٢٧ (٣٢٦)، (تحفة الأشراف: ٤٢٧٩)، وحدیث عبد اللہ بن عمر و بن العاص قد تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٩١٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٧، ٣٤، ٤٥، ٥١، ٥٩، ٦٢، ٧١، ٧٧) (صحیح )
اسید بن ظہیر انصاری ؓ (جو نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے تھے) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مسجد قباء میں نماز پڑھنا ایک عمرہ کے برابر ہے ١ ؎۔
Abul-Abrad, the freedslave of Banu Khatmah, said that he heard Usaid bin Zuhair Ansari who was one of the Companions of the Prophet ﷺ narrating that the Prophet ﷺ said: "One prayer in the Quba Masjid is like Umrah," (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎ مسجد قباء: ایک مشہور مسجد ہے، جو مسجد نبوی سے تھوڑے سے فاصلہ پر واقع ہے، رسول اکرم ﷺ جب ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے، تو سب سے پہلے اس مسجد کی بنیاد رکھی، اور مسلسل چار دن تک اسی مسجد میں نماز پڑھتے رہے، اور مسجد نبوی کے بننے کے بعد بھی آپ ﷺ مسجد قباء تشریف لے جاتے، اور وہاں نماز پڑھتے، نیز قرآن کریم میں اس کے متعلق یوں مذکور ہے: لمسجد أسس على التقوى من أول يوم أحق أن تقوم فيه جو مسجد (نبی اکرم ﷺ کے مدینہ آمد کے وقت) اوّل روز سے تقویٰ پر قائم کی گئی تھی وہی اس بات کی زیادہ مستحق ہے کہ آپ اس میں عبادت کے لیے کھڑے ہوں (سورة التوبة: 108)، اور متعدد احادیث میں اس کی فضیلت آئی ہے۔
سہل بن حنیف ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنے گھر میں وضو کرے، پھر مسجد قباء آئے اور اس میں نماز پڑھے، تو اسے ایک عمرہ کا ثواب ملے گا ۔
(Sahl) bin Hunaif said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Whoever purifies himself in his house, then comes to the Quba Masjid and offers one prayer therein, will have a reward like that for Umrah." (Hasan)
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/المساجد ٩ (٧٠٠)، (تحفة الأشراف: ٤٦٥٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٨٧) (صحیح )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آدمی کی نماز اپنے گھر میں ایک نماز کے برابر ہے، محلہ کی مسجد میں پچیس نماز کے برابر ہے، اور جامع مسجد میں پانچ سو نماز کے برابر ہے، مسجد الاقصیٰ میں پچاس ہزار نماز کے برابر ہے، مسجد نبوی میں پچاس ہزار نماز کے برابر ہے، اور خانہ کعبہ میں ایک لاکھ نماز کے برابر ہے ۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: A mans prayer in his house is equal (in reward) to one prayer; his prayer in the Masjid of the tribes is equal to twenty-five prayers; his prayer in the Masjid in which Friday prayer is offered is equal to five hundred prayers; his prayer in Aqsa Masjid is equal to fifty thousand prayers; his prayer in my Masjid is equal to fifty thousand prayers; and his prayer in the Sacred Masjid is equal to one hundred thousand prayers." (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٣٤، ومصباح الزجاجة: ٤٩٨) (ضعیف) (اس سند میں ابوالخطاب مجہول الحال ہیں، اور رزیق کے بارے میں کلام ہے، ابن الجوزی نے اسے علل متناھیہ میں داخل کیا ہے ( ٢؍٨٦ ) ذھبی نے میزان الاعتدال ( ٤؍٥٢٠ ) میں اسے، منکر جداً یہ بہت منکر ہے کہا ہے )
ابی بن کعب ؓ کہتے ہیں کہ جب مسجد چھپر کی تھی تو رسول اللہ ﷺ کھجور کے ایک تنے کی طرف نماز پڑھتے تھے، اور اسی تنے پر ٹیک لگا کر خطبہ دیتے تھے، تو صحابہ کرام ؓ میں سے ایک شخص نے کہا: کیا آپ اجازت دیتے ہیں کہ ہم آپ کے لیے کوئی ایسی چیز بنائیں جس پر آپ جمعہ کے دن کھڑے ہو کر خطبہ دیں تاکہ لوگ آپ کو دیکھ سکیں، اور آپ انہیں اپنا خطبہ سنا سکیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں پھر اس شخص نے تین سیڑھیاں بنائیں، یہی منبر کی اونچائی ہے، جب منبر تیار ہوگیا، تو لوگوں نے اسے اس مقام پہ رکھا جہاں اب ہے، جب نبی اکرم ﷺ نے منبر پر کھڑے ہونے کا ارادہ کیا، تو اس تنے کے پاس سے گزرے جس کے سہارے آپ خطبہ دیا کرتے تھے، جب آپ تنے سے آگے بڑھ گئے تو وہ رونے لگا، یہاں تک کہ پھوٹ پھوٹ کر رویا، اس وقت آپ منبر سے اترے اور اس پر اپنا ہاتھ پھیرا، تب وہ خاموش ہوا، ١ ؎ پھر آپ منبر پہ لوٹے، جب آپ نماز پڑھتے تھے تو اسی تنے کی جانب پڑھتے تھے، پھر جب (عمر ؓ کے زمانہ میں تعمیر نو کے لیے) مسجد ڈھائی گئی، اور اس کی لکڑیاں بدل دی گئیں، تو اس تنے کو ابی بن کعب ؓ نے لے لیا، اور وہ ان کے گھر ہی میں رہا یہاں تک کہ پرانا ہوگیا، پھر اسے دیمک کھا گئی، اور وہ گل کر ریزہ ریزہ ہوگیا۔
It was narrated from Tufail bin Ubayy bin Kab that his father said: "The Messenger of Allah ﷺ used to pray facing the trunk of a date-palm tree when the Masjid was still a hut, and he used to deliver the sermon leaning on that trunk. A man from among his Companions said: Would you like us to make you something upon which you can stand on Fridays so that the people will be able to see you and hear your sermon? He said: Yes. So he made three steps for him, as a pulpit. When they put the pulpit in place, they put it in the place where it stands now. When the Messenger of Allah ﷺ wanted to stand on the pulpit, he passed by the tree trunk from which he used to deliver the sermon, and when he went beyond the trunk, it moaned and split and cracked. The Messenger of Allah ﷺ came down when he heard the voice of the trunk, and rubbed it with his hand until it fell silent. Then he went back to the pulpit and when he prayed, he prayed facing it. When the Masjid was knocked down (for renovation) and (the pillars, etc.) were changed, Ubayy bin Kab took that trunk and kept it in his house until it became very old and the termites consumed it and it became grains of dust." (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں نبی اکرم ﷺ کا ایک مشہور معجزہ مذکور ہے، یعنی لکڑی کا آپ ﷺ کی جدائی کے غم میں رونا، نیز اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر چیز میں نفس اور جان ہے، یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے کچھ بعید نہیں کہ وہ جس کو چاہے قوت گویائی عطا کر دے، اور اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہو کہ منبر نبوی کی تین سیڑھیاں تھیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٤، ومصباح الزجاجة: ٤٩٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٣٧)، سنن الدارمی/المقدمة ٦ (٣٦) (حسن) (کھجور کے تنے کی گریہ وزاری سے متعلق کئی احادیث ہیں، جب کہ بعض اس بارے میں ہیں، نیز تفصیل کے لئے دیکھئے فتح الباری ٦؍٦٠٣ )
انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کھجور کے ایک تنے کے سہارے خطبہ دیتے تھے، جب منبر تیار ہوگیا تو آپ منبر کی طرف چلے، وہ تنا رونے لگا تو آپ نے اسے اپنے گود میں لے لیا، تو وہ خاموش ہوگیا، آپ ﷺ نے فرمایا: اگر میں اسے گود میں نہ لیتا تو وہ قیامت تک روتا رہتا ۔
It was narrated from Anas that the Prophet ﷺ used to deliver the sermon leaning on a tree trunk. When he started to use the pulpit, he went to the pulpit, and the trunk made a sorrowful sound. So he came to it and embraced it, and it calmed down. He said: "I had not embraced it, it would have continued to grieve until the Day of Resurrection." (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٨٩، ٦٢٩٧، ومصباح الزجاجة: ٥٠٠)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/المناقب ٦ (٣٦٣١)، مسند احمد (١/ ٢٤٩، ٢٦٧، ٢٦٦، ٣٦٣)، سنن الدارمی/المقدمة ٦ (٤٠) (صحیح )
ابوحازم کہتے ہیں کہ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کے منبر کے بارے میں اختلاف کیا کہ وہ کس چیز کا بنا ہوا تھا، تو لوگ سہل بن سعد ؓ کے پاس آئے، اور ان سے پوچھا؟ انہوں نے کہا: اب لوگوں میں کوئی ایسا باقی نہیں رہا جو اس منبر کا حال مجھ سے زیادہ جانتا ہو، وہ غابہ ١ ؎ کے جھاؤ کا تھا، جس کو فلاں بڑھئی نے بنایا تھا، جو فلاں عورت کا غلام تھا، بہرحال وہ غلام منبر لے کر آیا، جب وہ رکھا گیا تو آپ اس پر کھڑے ہوئے، اور قبلہ کی طرف رخ کیا، اور لوگ آپ کے پیچھے کھڑے ہوئے، آپ نے قراءت کی پھر رکوع کیا، اور رکوع سے اپنا سر اٹھایا، اور الٹے پاؤں پیچھے ہٹے، اور زمین پہ سجدہ کیا، پھر منبر کی طرف لوٹ گئے، اور قراءت کی، پھر رکوع کیا پھر رکوع سے اٹھ کر سیدھے کھڑے ہوئے، پھر الٹے پاؤں پیچھے لوٹے، (اور منبر سے اتر کر) زمین پر سجدہ کیا۔
It was narrated that Abu Hazim said: "The people differed concerning the pulpit of the Messenger of Allah ﷺ and what it was made of. So they came to Sahl bin Sad and asked him. He said: There is no one left who knows more about that than I. It is made of tamarisk (a type of tree) from Ghabah. It was made by so-and-so, the freed slave of so-and-so (a woman), (who was) a carpenter. He brought it and he (the Prophet) stood on it when it was put in position. He faced the Qibla and the people stood behind him. He raised his head, then he moved backwards until he prostrated on the ground, then he went back to the pulpit and recited Quran, then bowed and raised his head then he moved backwards until he prostrated on the ground."(Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: غابہ: ایک مقام کا نام ہے، جو مدینہ سے نو میل کے فاصلہ پر واقع ہے۔
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک درخت کی جڑ، یا یوں کہا: ایک تنے کے سہارے کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے، پھر آپ ﷺ نے ایک منبر بنوا لیا، تو وہ تنا سسکیاں لے لے کر رونے لگا، یہاں تک کہ اس کے رونے کی آواز مسجد والوں نے بھی سنی، رسول اللہ ﷺ اس کے پاس آئے، اس پر اپنا ہاتھ پھیرا، تو وہ خاموش ہوگیا، بعض نے کہا کہ اگر آپ ﷺ اس کے پاس نہ آتے تو وہ قیامت تک روتا رہتا۔
It was narrated that Jabir bin Abdullah said: "The Messenger of Allah ﷺ used to stand by the root of a tree, or by a tree trunk, then he started to use a pulpit. The tree trunk made a grieving sound." Jabir said: that the people in the Masjid could hear it. Until the Messenger of Allah ﷺ came to it and rubbed and it calmed down. Some of them said: If he had not come to it, it would have grieved until the Day of Resurrection. (Sahih.)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣١١٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجمعة ٢٦ (٩١٨)، المناقب ٢٥ (٣٥٨٤)، سنن النسائی/الجمعة ١٧ (١٣٩٧)، مسند احمد (٣/٣٠٦)، سنن الدارمی/الصلاة ٢٠٢ (١٦٠٣) (صحیح )
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ ایک رات میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، آپ برابر کھڑے رہے یہاں تک کہ میں نے ایک برے کام کا ارادہ کرلیا، (راوی ابو وائل کہتے ہیں:) میں نے پوچھا: وہ کیا؟ کہا: میں نے یہ ارادہ کرلیا کہ میں بیٹھ جاؤں، اور آپ کو (کھڑا) چھوڑ دوں۔
It was narrated from Abu Wail that Abdullah said: l prayed one night with the Messenger of Allah ﷺ and he kept standing until I thought of doing something bad." I said: "What was that?" He said: "I thought of sitting down and leaving him." (Sahih)
Notes · وضاحت
نماز تہجد باجماعت جائز ہے۔ نماز تہجد میں طویل قرات افضل ہے۔ شاگردوں کو تربیت دینے کے لیے ان سے مشکل کام کروانا جائز ہے اگرچہ اس میں مشقت ہو۔ استاد کا خود نیک عمل کرنا شاگردوں کو اس کا شوق دلاتا اور ہمت پیدا کرتا ہے۔ صحابہ کرام ؓ نیک کا اس قدر شوق رکھتے تھے کہ افضل کام کو چھوڑ کر جائز کام اختیار کرنے کو انہوں نے برا کام قرار دیا۔
مغیرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز کے لیے کھڑے ہوئے، یہاں تک کہ آپ کے پیروں میں ورم آگیا، تو عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے اور پچھلے تمام گناہ بخش دئیے ہیں (پھر آپ اتنی مشقت کیوں اٹھاتے ہیں) ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا میں (اللہ کا) شکر گزار بندہ نہ بنوں ١ ؎۔
It was narrated from Ziyad bin "llaqah that he heard Mughirah say: "The Messenger of Allah ﷺ stood (in prayer) until his feet became swollen. It was said: O Messenger of Allah, Allah has forgiven you your past and future sins. He said: Should I not be a thankful slave?
Notes · وضاحت
١ ؎: اس مغفرت پر شکر نہ ادا کروں؟ سبحان اللہ! جب نبی کریم ﷺ نے باوصف ایسے علو مرتبہ اور جلالت شان کے کہ اللہ تعالیٰ کے بعد آپ کا درجہ ہے، عبادت کو ترک نہ کیا، اور دوسرے لوگوں سے زیادہ آپ اللہ تبارک و تعالیٰ کی اطاعت و عبادت اور ذکر الٰہی میں مصروف رہتے تھے، تو کسی دوسرے کا یہ خیال کب صحیح ہوگا کہ آدمی جب ولایت کے اعلی درجہ کو پہنچ جاتا ہے تو اس کے ذمہ سے عبادت ساقط ہوجاتی ہے، یہ صاف ملحدانہ خیال ہے، بلکہ جتنا بندہ اللہ سے زیادہ قریب ہوتا جاتا ہے اتنا ہی اس کا شوق عبادت بڑھتا جاتا ہے، دوسری روایت میں ہے کہ آپ ﷺ ساری رات نماز میں کھڑے رہتے یہاں تک کہ آپ کے پاؤں سوج جاتے، اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ما أنزلنا عليك القرآن لتشقى یعنی ہم نے آپ پر اس لئے قرآن نہیں اتارا کہ آپ اتنی مشقت اٹھائیں (سورة طه: 2)۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز پڑھتے یہاں تک کہ آپ کے پاؤں سوج جاتے، آپ سے عرض کیا گیا: اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے اور پچھلے سارے گناہ معاف کر دئیے ہیں (پھر آپ اتنی مشقت کیوں اٹھاتے ہیں) ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں ١ ؎۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ used to pray until his feet became swollen, It was said: O Messenger of Allah, Allah has forgiven you your past and future sins. He said: Should I not be a thankful slave?" (Sahih)
ابوفاطمہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے ایسا عمل بتائیے جس پر میں جما رہوں اور اس کو کرتا رہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تم اپنے اوپر سجدے کو لازم کرلو، اس لیے کہ جب بھی تم کوئی سجدہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے تمہارا ایک درجہ بلند کرے گا، اور ایک گناہ مٹا دے گا ۔
It was narrated from Kathir bin Murrah that Abu Fatimah told him: " said: O Messenger of Allah! ﷺ Tell me of a deed that I can adhere to and act upon. He said: "You should prostrate, for you will not prostrate to Allah but He will raise you in status one degree thereby and erase from you one sin." (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٠٧٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٧٦، ٢٨٠) (حسن صحیح )