جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں نماز استخارہ سکھاتے تھے جس طرح قرآن کی سورة سکھایا کرتے تھے، آپ ﷺ فرماتے تھے: جب کوئی شخص کسی کام کا ارادہ کرے، تو فرض کے علاوہ دو رکعت نفل پڑھے، پھر یہ دعا پڑھے: اللهم إني أستخيرک بعلمک وأستقدرک بقدرتک وأسألک من فضلک العظيم فإنک تقدر ولا أقدر و تعلم ولا أعلم وأنت علام الغيوب اللهم إن كنت تعلم هذا الأمر (پھر متعلق کام یا چیز کا نام لے) خيرا لي في ديني ومعاشي وعاقبة أمري أو خيرا لي في عاجل أمري وآجله۔ فاقدره لي ويسره لي و بارک لي فيه وإن كنت تعلم (پھر ویسا ہی کہے جیسے پہلی بار کہا) ، وإن کان شرا لي فاصرفه عني واصرفني عنه واقدر لي الخير حيثما کان ثم رضني به اے اللہ! میں تیرے علم کی مدد سے خیر مانگتا ہوں، اور تیری قدرت کی مدد سے قوت کا طالب ہوں، اور میں تجھ سے تیرے عظیم فضل کا سوال کرتا ہوں، اس لیے کہ تو قدرت رکھتا ہے میں قدرت نہیں رکھتا، تو جانتا ہے میں نہیں جانتا، تو غیب کی باتوں کا خوب جاننے والا ہے، اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام (جس کا میں قصد رکھتا ہوں) میرے لیے میرے دین، میری دنیا اور میرے انجام کار میں ١ ؎ بہتر ہے، تو اس کو میرے لیے مقدر کر دے، میرے لیے آسان کر دے، اور میرے لیے اس میں برکت دے، اور اگر یہ کام میرے لیے برا ہے (ویسے ہی کہے جیسا کہ پہلی بار کہا تھا) تو اس کو مجھ سے پھیر دے، اور مجھ کو اس سے پھیر دے، اور میرے لیے خیر مقدر کر دے، جہاں بھی ہو، پھر مجھ کو اس پر راضی کر دے ٢ ؎۔
It was narrated that Jabir bin Abdullah said: "The Messenger of Allah ﷺ used to teach us Istikharah, just as he used to teach us a Surah of the Qur’an. He said: If anyone of you is deliberating about a decision he has to make, then let him pray two Rakah of non-obligatory prayer, then say: (then the matter should be mentioned by name) [OAllah, I seek your guidance (in making a choice) by virtue of Your knowledge, and I seek ability by virtue of Your power, and I ask You of Your great bounty. You have power, I have none. And You know, I know not. You are the Knower of hidden things. O Allah, if in Your knowledge, this matter (then it should be mentioned by name) is good for me in my religion, my livelihood and my affairs, or both in this world and in the Hereafter then ordain it for me, make it easy for me, and bless it for me. And if in Your knowledge. Then saying similar to what he said the first time, except: (If it is bad for me then turn it away from me and turn me away from it, and ordain for me the good wherever it may be and make me pleased with it).(sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس دارفانی اور اخروی زندگی میں۔ ٢ ؎: استخارہ کے لغوی معنی خیر طلب کرنے کے ہیں، چونکہ اس دعا کے ذریعہ انسان اللہ سے خیر طلب کرتا ہے، اس لیے اسے دعائے استخارہ کہتے ہیں، اس کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ فرض نماز کے علاوہ دو رکعت نفل پڑھنے کے بعد دعا پڑھی جائے، استخارہ کا تعلق مناجات سے ہے، اور استخارہ خود کرنا چاہیے کسی اور سے کروانے ثابت نہیں ہے۔
عبداللہ بن ابی اوفی اسلمی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے، اور فرمایا: جسے اللہ سے یا اس کی مخلوق میں سے کسی سے کوئی ضرورت ہو تو وہ وضو کر کے دو رکعت نماز پڑھے، اس کے بعد یہ دعا پڑھے: لا إله إلا الله الحليم الكريم سبحان الله رب العرش العظيم الحمد لله رب العالمين اللهم إني أسألک موجبات رحمتک وعزائم مغفرتک والغنيمة من کل بر والسلامة من کل إثم أسألك ألا تدع لي ذنبا إلا غفرته ولا هما إلا فرجته ولا حاجة هي لک رضا إلا قضيتها کوئی معبود برحق نہیں سوائے اللہ کے جو حلیم ہے، کریم (کرم والا) ہے، پاکی ہے اس اللہ کی جو عظیم عرش کا مالک ہے، تمام تعریف اس اللہ کے لیے ہے، جو سارے جہان کا رب ہے، اے اللہ! میں تجھ سے ان چیزوں کا سوال کرتا ہوں جو تیری رحمت کا سبب ہوں، اور تیری مغفرت کو لازم کریں، اور میں تجھ سے ہر نیکی کے پانے اور ہر گناہ سے بچنے کا سوال کرتا ہوں، اور میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ میرے تمام گناہوں کو بخش دے، اور تمام غموں کو دور کر دے، اور کوئی بھی حاجت جس میں تیری رضا ہو اس کو میرے لیے پوری کر دے ۔ پھر اس کے بعد دنیا و آخرت کا جو بھی مقصد ہو اس کا سوال کرے، تو وہ اس کے نصیب میں کردیا جائے گا۔
It was narrated that Abdullah bin Abi Awfa AI- Aslarni said: "The Messenger of Allah ﷺ came out to us and said: Whoever has some need from Allah or from any of His creation, let him perform ablution and pray two Rakah, then let him say:(None has the right to be worshiped but Allah, the Forbearing, the Most Generous. Glory is to Allah, the Lord of the Mighty Throne. Praise is to Allah, the Lord of the worlds. O Allah, I ask you for the means of your mercy and forgiveness, the benefit of every good deed and safety from all sins. I ask You not to leave any sin of mine but You forgive it, or any distress but You relieve it, or any need that is pleasing to You but You meet it). Then he should ask Allah for whatever he wants in this world and in the Hereafter, for it is decreed."(Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥١٧٨، ومصباح الزجاجة: ٤٨٥)، قد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة ٢٣١ (٤٧٩) (ضعیف جدا) (سوید بن سعید متکلم فیہ اور فائد بن عبد الرحمن منکر الحدیث ہیں )
عثمان بن حنیف ؓ سے روایت ہے کہ ایک نابینا نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر عرض کیا: آپ میرے لیے اللہ تعالیٰ سے صحت و عافیت کی دعا فرما دیجئیے، آپ ﷺ نے فرمایا: اگر تم چاہو تو میں تمہارے لیے آخرت کی بھلائی چاہوں جو بہتر ہے، اور اگر تم چاہو تو میں تمہارے لیے دعا کروں، اس شخص نے کہا: آپ دعا کر دیجئیے، تب آپ نے اس کو حکم دیا کہ وہ اچھی طرح وضو کرے، اور دو رکعت نماز پڑھے، اس کے بعد یہ دعا کرے: اللهم إني أسألک وأتوجه إليك بمحمد نبي الرحمة يا محمد إني قد توجهت بك إلى ربي في حاجتي هذه لتقضى اللهم فشفعه في اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں، اور تیری طرف توجہ کرتا ہوں محمد ﷺ کے ساتھ جو نبی رحمت ہیں، اے محمد! میں نے آپ کے ذریعہ سے اپنے رب کی جانب اس کام میں توجہ کی تاکہ پورا ہوجائے، اے اللہ! تو میرے حق میں ان کی شفاعت قبول فرما ۔ ابواسحاق نے کہا: یہ حدیث صحیح ہے۔
It was narrated from Uthman bin Hunaif that a blind man came to the Prophet ﷺ and said: "Pray to Allah to heal me." He said: "If you wish to store your reward for the Hereafter, that is better, or if you wish, I will supplicate for you." He said: "Supplicate." So he told him to perform ablution and do it well, and to pray two Rakah, and to say this supplication:(O Allah, I ask of You and I turn my face towards You by virtue of the intercession of Muhammad the Prophet ﷺ of mercy. O Muhammad ﷺ , I have turned to my Lord by virtue of your intercession concerning this need of mine so that it may be met. O Allah, accept his intercession concerning me)”. (Sahih)
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدعوات ١١٩ (٣٥٧٨)، (تحفة الأشراف: ٩٧٦٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٣٨) (صحیح )
ابورافع ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عباس ؓ سے فرمایا: میرے چچا! کیا میں آپ کو عطیہ نہ دوں؟ کیا میں آپ کو فائدہ نہ پہنچاؤں؟ کیا میں آپ سے صلہ رحمی نہ کروں؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: آپ چار رکعت پڑھیے، اور ہر رکعت میں سورة فاتحہ اور کوئی سورة ملا کر پڑھیے، جب قراءت ختم ہوجائے تو سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر پندرہ مرتبہ رکوع سے پہلے پڑھیے، پھر رکوع کیجئیے اور انہی کلمات کو دس مرتبہ پڑھیے، پھر اپنا سر اٹھائیے اور انہیں کلمات کو دس مرتبہ پڑھیے، پھر سجدہ کیجئیے، اور انہی کلمات کو دس مرتبہ پڑھیے، پھر اپنا سر اٹھائیے، اور کھڑے ہونے سے پہلے انہی کلمات کو دس مرتبہ پڑھیے، تو ہر رکعت میں پچھتر ( ٧٥ ) مرتبہ ہوئے، اور چار رکعتوں میں تین سو ( ٣٠٠ ) مرتبہ ہوئے، تو اگر آپ کے گناہ ریت کے ٹیلوں کے برابر ہوں تو بھی اللہ انہیں بخش دے گا، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جو شخص اس نماز کو روزانہ نہ پڑھ سکے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہفتہ میں ایک بار پڑھ لے، اگر یہ بھی نہ ہو سکے، تو مہینے میں ایک بار پڑھ لے یہاں تک کہ فرمایا: سال میں ایک بار پڑھ لے ۔
It was narrated that Abu Rafi said: "The Messenger of Allah ﷺ said to Abbas (RA) : O uncle, shall I not give you a gift, shall I ot benefit you, shall Inot uphold ties of kinship with you? He Of course, a Messenger of Allah ﷺ He said: Pray four Rakah, and recite in each Rakah the spening of the Book (Al-Fatihah) and a Surah. When you have finished reciting, say:(Glory is to Allah, praise is to Allah, none has the right to be worshiped but Allah and Allah is the Most Great) fifteen times before you bow in Ruku. Then bow and say it ten times; then raise your head and say it times; then prostrate and say It ten times; then raise your head and say it ten times; then prostrate and say it ten time then raise your head and say It ten times before you stand up. That will be seventy-five times in each Rak ah and three hundred times in the four Rakah, and even if your sins are like the grains of sand, Allah will forgive you for them. He said: O Messenger of Allah, what if someone cannot say it in one day? He said:. Then say it once in a week; If you cannot, then say it once in a month until he said: Once in a year. (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٠١٥)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة ٣٠٣ (١٢٩٧)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٣٣ (٤٨٢) (صحیح) (دوسری سند سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں موسیٰ بن عبیدہ ضعیف ہیں، علماء نے اختلاف کیا ہے کہ یہ حدیث کیسی ہے، ابن خزیمہ اور حاکم نے اس کو صحیح کہا، اور ایک جماعت نے اس کو حسن کہا، اور ابن الجوزی نے اس کو موضوعات میں ذکر کیا، حافظ ابن حجر نے کہا یہ حدیث حسن ہے، اور ابن الجوزی نے برا کیا جو اس کو موضوع قرار دیا )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عباس بن عبدالمطلب ؓ سے فرمایا: اے عباس! اے چچا جان! کیا میں آپ کو عطیہ نہ دوں؟ کیا میں آپ سے اچھا سلوک نہ کروں؟ کیا میں آپ کو دس خصلتیں نہ بتاؤں کہ اگر آپ اس کو اپنائیں تو اللہ تعالیٰ آپ کے اگلے اور پچھلے، نئے اور پرانے، جانے اور انجانے، چھوٹے اور بڑے، پوشیدہ اور ظاہر سبھی گناہ بخش دے، وہ دس خصلتیں یہ ہیں: آپ چار رکعت پڑھیں، ہر رکعت میں سورة فاتحہ اور کوئی اور سورت پڑھیں، جب پہلی رکعت میں قراءت سے فارغ ہوجائیں تو کھڑے کھڑے پندرہ مرتبہ سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر کہیں، پھر رکوع کریں، اور بحالت رکوع اس تسبیح کو دس مرتبہ کہیں، پھر رکوع سے اپنا سر اٹھائیں اور ان کلمات کو دس مرتبہ کہیں، پھر سجدہ میں جائیں اور بحالت سجدہ ان کلمات کو دس مرتبہ کہیں، پھر سجدہ سے اپنا سر اٹھائیں، اور ان کلمات کو دس مرتبہ کہیں، پھر سجدہ کریں، اور ان کلمات کو دس مرتبہ کہیں، پھر سجدہ سے اپنا سر اٹھائیں اور ان کلمات کو دس مرتبہ کہیں، تو یہ ہر رکعت میں پچھتر ( ٧٥ ) مرتبہ ہوا، چاروں رکعتوں میں اسی طرح کریں، اگر آپ سے یہ ہو سکے تو روزانہ یہ نماز ایک مرتبہ پڑھیں، اور اگر یہ نہ ہو سکے تو ہفتہ میں ایک بار پڑھیں، اور اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو مہینے میں ایک بار پڑھیں، اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو اپنی عمر میں ایک بار پڑھیں۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "The Messenger of Allah ﷺ said to Abbas bin Abdul-Muttalib: 0 Abbas, O my uncle, shall I not give you a gift, shall I not give you something, shall I not tell you of something which, if you do it, will expiate for ten types of sins? If you do them, Allah will forgive you your sins, the first and the last of them, the old and the new, the unintentional and the deliberate, the minor and the major, the secret and the open, ten types of sin. Pray four Rakoh, and recite in each Rak ah the Opening of the Book (AI-Fatihah) and a Surah. When you have finished reciting in the first Rakoh, while you are standing, say: Subhan-Allah Alhamdu Lillah wa la ilaha illallah wa Allahu Akbar (Glory is to Allah, praise is to Allah, none has the right to be worshiped but Allah and Allah is the Most Great) fifteen times. Then bow and say it ten times while you are bowing .Then raise your head from Ruku’ and say it ten times. Then go into prostration and say it ten times while you are prostrating. Then raise your head from prostration and say it ten times. Then prostrate and say it ten times. Then raise your head from prostration and say it ten times. That will be seventy-five times in each Rak’ah. Do that in all four Rak’ah. if you can pray it once each day then do so. If you cannot, then once each week; if you cannot, then once each month. If you cannot, then once in your lifetime.” (Hasan)
علی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب نصف شعبان کی رات آئے تو اس رات کو قیام کرو اور دن کو روزہ رکھو۔ اس رات اللہ تعالیٰ سورج کے غروب ہوتے ہی پہلے آسمان پر نزول فرما لیتا ہے اور صبح صادق طلوع ہونے تک کہتا رہتا ہے: کیا کوئی مجھ سے بخشش مانگنے والا ہے کہ میں اسے معاف کر دوں؟ کیا کوئی رزق طلب کرنے والا ہے کہ اسے رزق دوں؟ کیا کوئی (کسی بیماری یا مصیبت میں) مبتلا ہے کہ میں اسے عافیت عطا فرما دوں؟ ۔
It was narrated thaat Ali bin Abu Talib said: The Messenger of Allaah ﷺ said:When it is the night of the middle of Shaban. spend its night in prayer and observe a fast on that day. For Allah descends at sunset on that night to the lowest heaven and says: Is there .no one who will ask Me for forglveness, that I may forgive him? Is there no one who will ask Me for provision, that I may provide for him? Is there no one who is afflicted by trouble, that I may relieve him? and so on, until dawn comes. (Maudu)
عائشہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ایک رات میں نے رسول اللہ ﷺ کو (گھر میں) نہ پایا۔ میں آپ کی تلاش میں نکلی تو دیکھا کہ آپ بقیع میں ہیں اور آپ نے آسمان کی طرف سر اٹھایا ہوا ہے۔ (جب مجھے دیکھا تو) فرمایا: عائشہ! کیا تجھے یہ ڈر تھا کہ اللہ اور اس کا رسول تجھ پر ظلم کریں گے ؟ عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ: میں نے عرض کیا: مجھے یہ خوف تو نہیں تھا لیکن میں نے سوچا (شاید) آپ اپنی کسی (اور) زوجہ محترمہ کے ہاں تشریف لے گئے ہیں۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نصف شعبان کو آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے اور بنوکلب کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ (لوگوں) کو معاف فرما دیتا ہے ۔
It was narrated that , Aisha (RA) said: "I missed the Prophet ﷺ one night, so I went out looking for him. I found him at Al-Baqi", raising his head towards the sky. He said: 0 Aisha (RA) , were you afraid that Allah and His Messenger would wrong you?" She said: "I said: No, it is not that, but I thought that you had gone to one of your other wives. He said: Allah descends on the night of the middle of Shaban to the lowest heaven, and He forgives more than the number of hairs on thesheep of Banu Kalb. (Daif)
ابوموسیٰ اشعری ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے روایت بیان کی کہ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نصف شعبان کی رات (اپنے بندوں پر) نظر فرماتا ہے، پھر مشرک اور (مسلمان بھائی سے) دشمنی رکھنے والے کے سوا ساری مخلوق کی مغفرت فرما دیتا ہے ۔
It was narrated from Abu Musa AI·Ashari that the Messenger of Allah ﷺ said: if" "Allah looks down on the night of the middle of Shaban and forgives all His creation, apart from the idolator and the Mushahin." (Daif) Another chain from Abu Musa from the prophet with similar wording.
Takhrij · تخریج
ضعیف
امام ابن ماجہ (رح) نے اپنے استاد محمد بن اسحاق کی سند سے یہ روایت بیان کی تو انہوں نے ضحاک بن عبدالرحمٰن اور ابوموسیٰ اشعری ؓ کے درمیان ضحاک کے باپ کا واسطہ بیان کیا۔
عبداللہ بن ابی اوفی ؓ سے روایت ہے کہ جس دن نبی اکرم ﷺ کو ابوجہل کا سر لائے جانے کی بشارت سنائی گئی، تو آپ ﷺ نے دو رکعت نماز پڑھی۔
It was narrated from Abdullah bin Abu Awfa that the Messenger of Allah ﷺ prayed two Rakah on the day when he was given the glad tidings of the head (death) of Abu Jahl. (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ (تحفة الأشراف: ٥١٨٦، ومصباح الزجاجة: ٤٨٩)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الصلاة ١٥٨ (١٥٠٣) (ضعیف) (شعثاء بنت عبد اللہ الاسدیہ مجہول اور سلمہ بن رجاء میں کلام ہے )
کعب بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کرلی تو وہ سجدے میں گرپڑے ١ ؎۔
It was narrated from Abdur-Rahman bin Kab bin Malik that his father said that, when Allah accepted his repentance, he fell down prostrate. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خوشی کے موقع پر یا کسی مصیبت کے ٹلنے پر سجدہ شکر ادا کرنا جائز اور صحیح ہے، واضح رہے کہ کعب بن مالک، ہلال بن أمیہ، مرارہ بن ربیع ؓ یہ تینوں غزوہ تبوک میں حاضر نہ ہو سکے تھے، جب آپ ﷺ غزوہ سے لوٹے تو یہ لوگ بہت شرمندہ ہوئے، اپنے قصور کا اعتراف کیا، ان کا قصہ بہت طویل ہے جو دوسری روایات میں موجود ہے، آخر اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کی، اور کعب ؓ نے یہ خبر سنتے ہی سجدہ شکر ادا کیا۔
ابوبکرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس جب کوئی ایسا معاملہ آتا جس سے آپ خوش ہوتے، یا وہ خوش کن معاملہ ہوتا، تو آپ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے لیے سجدے میں گرپڑتے۔
It was narrated from Abu Bakrah that when the Prophet ﷺ heard news that made him happy,or for which one should be happy, he would fall down to prostrate in gratitude to Allah, the Blessed and Exalted.(Hasan)
علی بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ جب میں نبی اکرم ﷺ سے کوئی حدیث سنتا تو جتنا اللہ چاہتا اس سے مجھے نفع دیتا، اور جب کوئی اور مجھ سے نبی اکرم ﷺ کی حدیث بیان کرتا تو میں اسے قسم کھلاتا، جب وہ قسم کھا لیتا تو میں اس کی تصدیق کرتا، ابوبکر ؓ نے مجھ سے حدیث بیان کی، وہ سچے تھے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص کسی گناہ کا ارتکاب کرتا ہے، پھر اچھی طرح وضو کرتا ہے، اور دو رکعتیں پڑھتا ہے ، مسعر کی روایت میں ہے: پھر نماز پڑھتا ہے، اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہے تو اللہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے ۔
It was narrated that Ali bin Abu Talib said: "If I heard a Hadith from the Messenger of Allah ﷺ , Allah benefited me with it as much as He willed, and if heard it from anyone else, I would ask him to swear an oath, then if he swore an oath I would believe him. Abu Bakr (RA) told me and Abu Bakr (RA) spoke the truth that the Messenger of Allah ﷺ said: There is no man who commits a sin then he performs ablution and does it well, then he prays two Rakah: (one of the narrators) Misar said: then performs prayer and seeks the forgiveness of Allah, but Allah will forgive him. (Hasan)
عاصم بن سفیان ثقفی سے روایت ہے کہ وہ لوگ غزوہ سلاسل میں گئے ١ ؎، لڑائی نہیں ہوئی، ان لوگوں نے صرف مورچہ باندھا، پھر معاویہ ؓ کے پاس واپس لوٹ آئے، اس وقت ابوایوب انصاری اور عقبہ بن عامر ؓ بھی ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، عاصم نے کہا: ابوایوب! اس سال ہم سے جہاد فوت ہوگیا، اور ہم سے بیان کیا گیا ہے کہ جو کوئی چاروں مسجدوں میں ٢ ؎ نماز پڑھے اس کے گناہ بخش دئیے جائیں گے، ابوایوب نے کہا: میرے بھتیجے! کیا میں تمہیں اس سے آسان بات نہ بتاؤں؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جو کوئی وضو کرے جیسا حکم دیا گیا ہے، اور نماز پڑھے جس طرح حکم دیا گیا ہے، تو اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے پوچھا: ایسے ہی ہے نا عقبہ؟ انہوں نے کہا: ہاں۔
It was narrated from Asim bin Sufyan Thaqafi that they went on the campaign of Salasil, but no battle took place; they only took up their positions. Then they came back to Muawiyah, and Abu Ayyub and Ugbah bin,Amir were with him. Asim said: "O Abu Ayyub, we have missed out on Jihad this year, and we were told that whoever prays in the four Masjids will be forgiven his sins." He said: "O son of my brother, shall I not tell you of something easier than that? I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Whoever performs ablution as he has been commanded, and prays as he has been commanded, will be forgiven his previous (bad) deeds. He said: "(Did he not say it) like that, 0 Uqbah?" He said: "Yes." (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: غزوہ سلاسل: یہ وہ غزوہ نہیں ہے جو نبی اکرم ﷺ کے زمانہ میں ٨ ھ میں ہوا تھا یہ کوئی ایسا غزوہ تھا، جو معاویہ ؓ کے زمانہ میں ہوا تھا۔ ٢ ؎: چاروں مسجدوں سے مراد: مسجدحرام، مسجد نبوی، مسجد اقصیٰ، اور مسجد قبا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الطہارة ١٠٨ (١٤٤)، (تحفة الأشراف: ٣٤٦٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٤٢٣) (حسن )
عثمان ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: اگر تم میں سے کسی کے آنگن میں نہر بہہ رہی ہو جس میں وہ ہر روز پانچ مرتبہ غسل کرے، تو کیا اس کے بدن پہ کچھ میل کچیل باقی رہ جائے گا؟ لوگوں نے کہا: کچھ نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: نماز گناہوں کو ایسے ہی ختم کردیتی ہے جس طرح پانی میل کچیل کو ختم کردیتا ہے ۔
Uthman said: "I heard the Messenger of AlIah say: Do you think that if there was a river in the courtyard of anyone of you,and he bathed in it five times each day would there be any dirt left on him?They said: (there would be) nothing: He said: Prayer takes away sins like water takes away dirt " (Sahih).
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٧٧٩، ومصباح الزجاجة: ٤٩٢)، ومسند احمد (١/٧٢، ١٧٧) (صحیح )
عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ایک عورت سے زنا سے کم کچھ بدتہذیبی کرلی، میں نہیں جانتا کہ وہ اس معاملہ میں کہاں تک پہنچا، بہرحال معاملہ زناکاری تک نہیں پہنچا تھا، وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور آپ سے اس کا ذکر کیا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: أقم الصلاة طرفي النهار وزلفا من الليل إن الحسنات يذهبن السيئات ذلک ذكرى للذاکرين دن کے دونوں حصوں (صبح و شام) میں اور رات کے کچھ حصہ میں نماز قائم کرو، بیشک نیکیاں برائیوں کو ختم کردیتی ہیں، اور یہ یاد کرنے والوں کے لیے نصیحت ہے (سورة هود: ١١٤ ) ، پھر اس شخص نے عرض کیا: کیا یہ حکم میرے لیے خاص ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہر اس شخص کے لیے جو اس پر عمل کرے ١ ؎۔
It was narrated from Abdullah bin Masud that a man did something with a woman that was less than adultery; I do not , know how far it went, but it was less than adultery. He went to the Prophet ﷺ and told him about that. Then Allah revealed these words: "And perform the prayer, at the two ends of the day and in some hours ofthe night. Verily, good deeds remove the evil deeds. That is a reminder for the mindful.He said: "O Messenger of Allah, is this only for me?" He said: "It is for everyone who acts upon it. " (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: دن کے دونوں کناروں سے مراد فجر اور مغرب کی نماز ہے، اور بعض کے نزدیک صرف عشاء اور بعض کے نزدیک مغرب اور عشاء دونوں مراد ہیں، اور رات کے کچھ حصہ میں سے مراد نماز تہجد ہے، امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ ممکن ہے کہ یہ آیت معراج سے قبل نازل ہوئی ہو، کیونکہ اس سے قبل دو نمازیں ہی تھیں، ایک سورج ڈوبنے سے پہلے اور ایک سورج ڈوبنے کے بعد، اور رات کے پچھلے پہر نماز تہجد تھی، اور معراج میں پانچ وقت کی نماز فرض ہوئی۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے (معراج کی رات) میری امت پر پچاس نمازیں فرض کیں، تو میں انہیں لے کر لوٹا یہاں تک کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آیا، تو انہوں نے پوچھا: آپ کے رب نے آپ کی امت پر کیا فرض کیا ہے؟ میں نے کہا: پچاس نمازیں میرے اوپر فرض کی ہیں، انہوں نے کہا: اپنے رب کے پاس پھرجائیں آپ کی امت انہیں ادا نہ کرسکے گی، میں اپنے رب کے پاس لوٹا، تو اس نے آدھی معاف کریں، میں موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس واپس آیا، اور ان سے بیان کیا، انہوں نے کہا: اپنے رب کے پاس واپس جائیں آپ کی امت اس کو انجام نہ دے سکے گی، چناچہ میں پھر اپنے رب کے پاس واپس گیا، تو اس نے فرمایا: یہ (ادا کرنے میں) پانچ وقت کی نمازیں (شمار میں) ہیں، جو (ثواب میں) پچاس نماز کے برابر ہیں، میرا فرمان تبدیل نہیں ہوتا، اٹل ہوتا ہے، میں موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آیا، تو انہوں نے کہا: اپنے رب کے پاس جائیں، تو میں نے کہا: اب مجھے اپنے رب سے شرم آتی ہے ١ ؎۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Allah enjoined fifty prayers upon my nation, and I came back with that until I came to Musa. Musa said: What has your Lord enjoined upon your nation? I said: He has enjoined fifty prayers on me: He said: Go back to your Lord, for your nation will not be able to do that. So I went back to my Lord, and He reduced it by half. I went back to Musa and told him, and he said: Go back to your Lord, for your nation will not be able to do that. So I went back to my Lord, and He said: They are five and they are fifty; My Word does not change. So I went back to Musa and he said: Go back to your Lord: I said: I feel shy before my Lord"
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ روایت مختصر ہے، مفصل واقعہ صحیحین اور دوسری کتابوں میں مذکور ہے، اس میں یہ ہے کہ پہلی بار اللہ تعالیٰ نے پچاس میں سے پانچ نمازیں معاف کیں، اور نبی اکرم ﷺ موسیٰ (علیہ السلام) کے کہنے پر بار بار اللہ تعالیٰ کے پاس جاتے رہے، اور پانچ پانچ نماز کم ہوتی رہیں یہاں تک کہ پانچ رہ گئیں، یہی عدد اللہ تعالیٰ کے علم میں مقرر تھا، اس سے کم نہیں ہوسکتا تھا، سبحان اللہ مالک کی کیا عنایت ہے، ہم ناتواں بندوں سے پانچ نمازیں تو ادا ہو نہیں سکتیں، پچاس کیونکر پڑھتے، حدیث شریف سے یہ بھی معلوم ہوا کہ رب العالمین عرش کے اوپر ہے، ورنہ بار بار نبی اکرم ﷺ کس کے پاس جاتے تھے، اور اس سے جہمیہ، معتزلہ اور منکرین صفات کا رد ہوتا ہے، جو اللہ تعالیٰ کو جہت اور مکان سے منزہ و پاک جانتے ہیں، اور لطف یہ ہے کہ باوجود اس کے پھر اس کو ہر جہت اور ہر مکان میں سمجھتے ہیں، یہ حماقت نہیں تو کیا ہے، اگر اللہ تعالیٰ (معاذ اللہ) ہر جہت اور ہر مکان میں ہوتا تو نبی اکرم ﷺ کو ساتوں آسمانوں کے اوپر جانے کی کیا ضرورت تھی؟۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ تمہارے نبی ( ﷺ ) کو پچاس نمازوں کا حکم ہوا، پھر آپ ﷺ نے تمہارے رب سے تخفیف چاہی کہ پچاس کو پانچ کر دے۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "Your Prophet ﷺ was enjoined to do fifty prayers but he returned to your Lord to make (i.e. reduce) them five prayers: (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد یہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٨٠٨، ومصباح الزجاجة: ٤٩٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣١٥) (صحیح) (سند میں شریک ضعیف ہیں، لیکن اگلی حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، نیز شواہد کے لئے دیکھئے: مصباح الزجاجة ٤٩٨ ابن ماجہ میں ابن عباس ہے، اور صحیح ابن عمر ہے جیسا کہ سنن ابی داود ( ١؍١٧١ ) میں ہے، اور اس کی سند میں ایوب بن جابر ضعیف ہے۔
عبادہ بن صامت ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: پانچ وقت کی نمازیں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر فرض کی ہیں، لہٰذا جو کوئی ان کو بجا لائے اور ان کے حق کو معمولی حقیر سمجھ کر ان میں کچھ کمی نہ کرے، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کو جنت میں داخل کرنے کا وعدہ پورا کرے گا، اور جس کسی نے ان کو اس طرح ادا کیا کہ انہیں معمولی اور حقیر جان کر ان کے حق کی ادائیگی میں کوتاہی کی تو اس کے لیے اللہ تعالیٰ کے پاس کوئی وعدہ نہیں، چاہے تو اسے عذاب دے، اور چاہے تو بخش دے ١ ؎۔
It was narrated that Ubadahh bin Samit said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Five prayers that AIlah has enjoined upon His slaves, so whoever does them, and does not omit anything out of negligence, on the Day of Resurrection Allah will make a covenant with him that He will admit him to Paradise. But whoever does them but omits something from them out of negligence, will not have such a covenant with Allah; if He Wills He will punish him, and if Be wills, He will forgive him:" (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: نماز کے حق کی ادائیگی میں کوتاہی کا مطلب یہ ہے کہ دوسرے کاموں کی طرح اس کا بھی پورا خیال نہ رکھے، کبھی پڑھے اور کبھی چھوڑ دے، یا جلدی جلدی پڑھے، شرائط اور آداب اور سنن کو اچھی طرح سے نہ بجا لائے، ایسا شخص گنہگار ہے، اللہ تعالیٰ چاہے تو اسے سزا دے، اور چاہے تو معاف کر دے۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم مسجد نبوی میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں اونٹ پر سوار ایک شخص آیا، اور اسے مسجد میں بٹھایا، پھر اسے باندھ دیا، پھر پوچھنے لگا: تم میں محمد کون ہیں؟ رسول اللہ ﷺ لوگوں کے درمیان ٹیک لگائے ہوئے بیٹھے تھے، لوگوں نے کہا: یہ ہیں جو سفید رنگ والے، اور تکیہ لگائے بیٹھے ہیں، اس شخص نے آپ ﷺ سے کہا: اے عبدالمطلب کے بیٹے! نبی اکرم ﷺ نے اس سے کہا: ہاں، میں نے تمہاری بات سن لی ، تو اس شخص نے کہا: اے محمد! میں آپ سے ایک سوال کرنے والا ہوں، اور سوال میں سختی برتنے والا ہوں، تو آپ دل میں مجھ پر ناراض نہ ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: تم جو چاہو پوچھو ، اس شخص نے کہا: میں آپ کو آپ کے رب کی قسم دیتا ہوں، اور آپ سے پہلے لوگوں کے رب کی قسم دیتا ہوں، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو سب لوگوں کی جانب نبی بنا کر بھیجا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: یا اللہ! ہاں ، پھر اس شخص نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو دن رات میں پانچ وقت نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یا اللہ! ہاں ، پھر اس شخص نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو سال کے اس مہینہ میں روزہ رکھنے کا حکم دیا ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یا اللہ! ہاں ، اس شخص نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں: کیا اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ ہمارے مالداروں سے زکاۃ و صدقات لیں، اور اس کو ہمارے غریبوں میں تقسیم کریں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یا اللہ! ہاں ، تو اس شخص نے کہا: میں آپ کی لائی ہوئی شریعت پہ ایمان لایا، اور میں اپنی قوم کے ان لوگوں کے لیے پیغام رساں کی حیثیت سے ہوں جو پیچھے رہ گئے ہیں، اور میں قبیلہ بنو سعد بن بکر کا ایک فرد ضمام بن ثعلبہ ہوں۔
It was narrated from Sharik bin Abdullah bin Abu Namir that he heard Anas bin Malik (RA) say: "While we were sitting in the Masjid, a man entered riding a camel; he made it kneel in the Masjid, then he hobbled it and said to them: Which of you is Muhammad? The Messenger of Allah ﷺ was reclining among them,so they said:This fairskinned man who is reclining:The man said to him: O son of Abdul-Muttalib! The Prophet ﷺ said: I am listening to you: The man said: O Muhammad ﷺ ! I am asking you and will be stern in asking, so do not bear any ill feelings towards me: He said: Ask whatever you think: The man said: I abjure you by your Lord and the Lord of those who came before you, has Allah sent you to all of mankind? The Messenger of Allah ﷺ said: By Allah, yes. He said: I abjure you by Allah, has Allah commanded you to pray the five prayers each day and night? The Messenger of Allah ﷺ said: By Allah, yes. He said: I abjure you by Allah, has Allah commanded you to fast this month each year? The Messenger of Allah ﷺ said: By Allah, yes. Be said: I abjure you by Allah, has Allah commanded you to take this charity from our rich and distribute it among our poor?.The Messenger of Allah ﷺ said: By Allah, yes. The man said: I believe in what you have brought, and I am the envoy of my people who are behind me. I am Dimam bin Thalabah, the brother of Banu Sad bin Bakr:" (Sahih)