شکرانے میں نماز اور سجدہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْأَبِيهِ، قَالَ: لَمَّا تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ، خَرَّ سَاجِدًا.
کعب بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کرلی تو وہ سجدے میں گرپڑے ١ ؎۔
It was narrated from Abdur-Rahman bin Kab bin Malik that his father said that, when Allah accepted his repentance, he fell down prostrate. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خوشی کے موقع پر یا کسی مصیبت کے ٹلنے پر سجدہ شکر ادا کرنا جائز اور صحیح ہے، واضح رہے کہ کعب بن مالک، ہلال بن أمیہ، مرارہ بن ربیع ؓ یہ تینوں غزوہ تبوک میں حاضر نہ ہو سکے تھے، جب آپ ﷺ غزوہ سے لوٹے تو یہ لوگ بہت شرمندہ ہوئے، اپنے قصور کا اعتراف کیا، ان کا قصہ بہت طویل ہے جو دوسری روایات میں موجود ہے، آخر اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کی، اور کعب ؓ نے یہ خبر سنتے ہی سجدہ شکر ادا کیا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١١٥٥، ومصباح الزجاجة: ٤٩١) (صحیح )