عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ وہ اپنی خالہ ام المؤمنین میمونہ ؓ کے پاس سوئے، وہ کہتے ہیں: میں تکیہ کی چوڑان میں لیٹا اور نبی اکرم ﷺ اور آپ کی بیوی اس کی لمبائی میں لیٹے، نبی اکرم ﷺ سو گئے، جب آدھی رات سے کچھ کم یا کچھ زیادہ وقت گزرا تو آپ ﷺ بیدار ہوئے، اور نیند کو زائل کرنے کے لیے اپنا ہاتھ اپنے چہرہ مبارک پر پھیرنے لگے، پھر سورة آل عمران کی آخری دس آیتیں پڑھیں، اس کے بعد ایک لٹکی ہوئی مشک کے پاس گئے، اور اس سے اچھی طرح وضو کیا، پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، میں بھی اٹھا، اور میں نے بھی ویسے ہی کیا جیسے نبی اکرم ﷺ نے کیا، پھر میں گیا، اور آپ کی بغل میں کھڑا ہوگیا، آپ ﷺ نے اپنا دایاں ہاتھ میرے سر پر رکھا، اور میرے دائیں کان کو ملتے رہے، آپ نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں پھر وتر ادا کی، پھر لیٹ گئے، جب مؤذن آیا تو دو ہلکی رکعتیں پڑھیں پھر نماز (فجر) کے لیے نکل گئے۔
It was narrated from Kuraib, the freed slave of Ibn Abbas, that Ibn Abbas told him that he slept at the house of Maimunah, the wife of the Prophet, who was his maternal aunt. He said: "I lay down across the pillow and the Messenger of Allah ﷺ and his wife were laying along it. The Prophet ﷺ slept until midnight, or a little before, or a little after. The Prophet ﷺ woke up and began to rub the sleep from his face with his hand. Then he recited the last ten Verses of Surah Al Imran. Then he got up and went to a water skin that was hanging up and performed ablution from it, and he performed ablution well, then he stood up and prayed." Abdullah bin ‘Abbas said: "I stood up and did what he had done, then I went and stood beside him. The Messenger of Allah ﷺ put his right hand on my head, took hold of my right ear and tweaked it. Then he prayed two Rakah, then two Rakah, then two Rakah, then two Rakah, and then two Rakah, and then two Rakah, then he prayed Witr. Then he lay down until the Muadh-din came to him and he prayed two brief Rakah, then he went out to pray." (Sahih)
عمرو بن عبسہ ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، اور میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کے ساتھ کون کون سے لوگ اسلام لائے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ایک آزاد اور ایک غلام ١ ؎ میں نے پوچھا: کیا کوئی گھڑی دوسری گھڑی کے مقابلے میں ایسی ہے جس میں اللہ کا قرب زیادہ ہوتا ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں رات کی درمیانی ساعت (گھڑی) ٢ ؎۔
It was narrated that Amr bin Abasah said: "I came to the Messenger of Allah ﷺ and said: O Messenger of Allah, who became Muslim with you? He said: A free man and a slave. I said: Is there any hour of the night that is closer to Allah than another? He said: Yes, the last half of the night." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: آزاد سے ابوبکر صدیق ؓ اور غلام سے مراد بلال ؓ ہیں۔ ٢ ؎: یعنی درمیانی رات کے وقت، ایک دوسری حدیث میں ہے کہ اخیر تہائی رات میں اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر اترتا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ اخیر کی تہائی رات زیادہ افضل ہے، اور ممکن ہے کہ درمیانی رات کے وقت سے یہی مراد ہو، کیونکہ شروع اور آخر کے اندر سب درمیان ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٧٦٢، ومصباح الزجاجة: ٤٧٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/ ١١١، ١١٣، ١١٤، ٣٨٥) (صحیح) (سند میں عبد الرحمن بن البیلمانی کا سماع عمرو بن عبسہ سے ثابت نہیں ہے، نیز یزید بن طلق مجہول ہیں، لیکن شواہد ومتابعات کی وجہ سے حدیث صحیح ہے، لیکن جوف الليل الأوسط کا لفظ منکر ہے، صحیح الآخر کے لفظ سے ہے، یہ حدیث ( ١٢٥١ ) نمر پر گذری ملاحظہ ہو، صحیح ابی داود: ١١٥٨ )۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ شروع رات میں سو جاتے تھے، اور اخیر رات میں عبادت کرتے تھے۔
It was narrated that ‘Aisha Said: “The Messenger of Allah ﷺ used to sleep during the first part of night and stay awake during the latter part.” (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦٠١٧، ومصباح الزجاجة: ٤٧٩)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/التہجد ١٥ (١١٤٦)، صحیح مسلم/المسافرین ١٧ (٧٣٩)، سنن النسائی/قیام اللیل ١٥ (١٦٤١)، مسند احمد (٦/١٠٢، ٢٥٣) (صحیح) (اسرائیل نے اس حدیث کو ابو اسحاق سے اختلاط سے پہلے روایت کیا ہے )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس وقت اخیر کی تہائی رات رہ جاتی ہے تو ہمارا رب جو کہ برکت والا اور بلند ہے، ہر رات آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے، اور فرماتا ہے: کوئی ہے جو مجھ سے مانگے اور میں اس کو دوں؟ کوئی ہے جو مجھ سے دعا کرے اور میں اس کی دعا قبول کروں؟ کوئی ہے جو مجھ سے بخشش طلب کرے اور میں اسے بخش دوں؟ اور یہ سلسلہ طلوع فجر تک جاری رہتا ہے ، اس لیے صحابہ کرام ؓ اخیر رات میں عبادت کرنا بہ نسبت اول رات کے پسند کرتے تھے ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Our Lord, the Blessed and Exalted, descends when one third of the night remains, every night, and He says: Who will ask of me. That I may give him? Who will call upon me? That I may answer him? Who will ask my forgiveness, that? I may forgive him? until dawn comes." Hence they used to prefer voluntary prayers at the end of the night rather than at the beginning. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث بڑی عظیم الشان ہے، شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے اس کی شرح میں ایک مستقل کتاب لکھی ہے، جس کا نام کتاب شرح احادیث النزول ہے، نزول: اللہ تعالیٰ کی ایک صفت ہے جیسے سمع، بصر، کلام، ضحک، تعجب، اور صعود وغیرہ، اس کے ظاہری معنی یعنی اترنے پر ہمارا ایمان ہے، اور اس کی کیفیت اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے، اور متاخرین اہل کلام نے اس کی واہی اور کمزور تاویلیں کی ہیں، وہ کہتے ہیں کہ نزول سے مراد اس کی رحمت کا نزول ہے، یا اس کے فرشتے کا اترنا ہے، جہمیہ اور منکرین صفات نے بھی یہی کہا ہے، اور علمائے حق ہمیشہ سے ان کے مخالف اور رد کرنے والے رہے ہیں، امام الائمۃ احمد بن حنبل (رح) نے ایک جہمی سے کہا: اچھا اللہ کی رحمت یا اس کا امر کہاں سے اترتا ہے، جب تو اسی بات کا قائل نہیں ہے کہ اللہ اوپر ہے، تو رحمت اور امر کس کے پاس سے اترتا ہے، اور یہ حدیث اللہ تعالیٰ کے علو کے اثبات میں ایک قوی دلیل ہے۔
رفاعہ جہنی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیشک اللہ مہلت دیتا ہے (اپنے بندوں کو کہ وہ سوئیں اور آرام کریں) یہاں تک کہ جب رات کا آدھا یا اس کا دو تہائی حصہ گزر جاتا ہے، تو فرماتا ہے: میرے بندے! میرے سوا کسی سے ہرگز نہ مانگیں، جو کوئی مجھے پکارے گا میں اس کی دعا قبول کروں گا، جو مجھ سے سوال کرے گا میں اسے دوں گا، جو مجھ سے مغفرت چاہے گا، میں اسے بخش دوں گا، طلوع فجر تک یہی حال رہتا ہے ١ ؎۔
It was narrated that Rifa’ah Al-Juhani said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Allah provides Respite until, when half or two thirds of the night has passed. He says:"My slave does not ask of anyone other than Me. Whoever calls upon Me, I will answer him;whoever asks of Me, I will give him; whoever asks my forgiveness, I will forgive him,” until dawn comes”. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رات کے آخری حصہ میں بیدار ہو کر عبادت کرنا چاہیے، اور اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرنا اور گناہوں سے مغفرت طلب کرنا چاہیے کیونکہ یہ دعاؤں کی قبولیت کا وقت ہوتا ہے، اور خود اللہ رب العزت بندوں سے فرماتا ہے: جو کوئی مجھے پکارے گا، میں اس کی پکار کو سنوں گا، جو کوئی مانگے گا اسے دوں گا، اور جو کوئی گناہوں سے معافی طلب کرے گا، میں اسے معاف کر دوں گا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٦١١، ومصباح الزجاجة: ٤٨٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٦)، سنن الدارمی/الصلاة ١٦٨ (١٥٢٢) (صحیح) (دوسری سند سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں محمد بن مصعب ضعیف ہیں، جن کی عام احادیث او زاعی سے مقلوب (الٹی پلٹی) ہیں، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ٢ /١٩٨ )
ابومسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سورة البقرہ کی آخر کی دو آیتیں جو رات میں پڑھے گا، تو وہ دونوں آیتیں اس کو کافی ہوں گی ١ ؎۔ حفص نے اپنی حدیث میں کہا کہ عبدالرحمٰن کہتے ہیں: میں نے ابومسعود ؓ سے ملاقات کی وہ طواف کر رہے تھے تو انہوں نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی۔
It was narrated that Abu Masud said: The Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever recites the last two Verses of Sural Al- Baqarah at night, that will be sufficient for him." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: کافی ہونے سے مراد یہ ہے کہ یہ دونوں آیتیں رات کے قیام اور عبادت کے بدلہ میں کافی ہوجائیں گی، جیسا کہ ترجمہ باب سے پتہ چلتا ہے۔
ابومسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے سورة البقرہ کی آخری دو آیتیں ایک رات میں پڑھیں، تو وہ دونوں اسے کافی ہوں گی ۔
It was narrated that Abu Masud said: The Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever recites the last two Verses of Sural Al- Baqarah at night, that will be sufficient for him."(Sahih)
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب کسی شخص کو اونگھ آئے تو سو جائے یہاں تک کہ نیند جاتی رہے، اس لیے کہ اگر وہ اونگھنے کی حالت میں نماز پڑھے گا تو اسے یہ خبر نہ ہوگی کہ وہ استغفار کر رہا ہے، یا اپنے آپ کو بد دعا دے رہا ہے ۔
It was narrated that Aisha (RA) said:"The Prophet ﷺ said: ‘If anyone of you becomes drowsy, let him sleep until he feels refreshed, for he does not know, if he prays when he feels drowsy, he may want to say words seeking forgiveness but (instead) he ends up cursing himself.(Sahih)
Takhrij · تخریج
حدیث أبي بکر بن أبي شیبة أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین ٣١ (٧٨٦)، (تحفة الأشراف: ١٦٩٨٣)، وحدیث محمد بن عثمان العثمانی، تفرد بہ ابن ماجہ: (تحفة الأشراف: ١٧٠٢٩)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء ٥٣ (٢١٢)، سنن ابی داود/الصلا ٣٠٨ (١٣١٠)، سنن الترمذی/الصلاة ١٤٦ (٣٥٥)، سنن النسائی/الطہارة ١١٧ (١٦٢)، موطا امام مالک/صلاة اللیل ١ (٣)، مسند احمد (٦/٥٦، ٢٠٥)، دی/الصلاة ١٠٧ (١٤٢٣) (صحیح )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں داخل ہوئے، تو دو ستونوں کے درمیان ایک رسی تنی ہوئی دیکھی، پوچھا یہ رسی کیسی ہے؟ لوگوں نے کہا: زینب کی ہے، وہ یہاں نماز پڑھتی ہیں، جب تھک جاتی ہیں تو اسی رسی سے لٹک جاتی ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: اسے کھول دو، اسے کھول دو، تم میں سے نماز پڑھنے والے کو نماز اپنی نشاط اور چستی میں پڑھنی چاہیئے، اور جب تھک جائے تو بیٹھ رہے ١ ؎۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah ﷺ entered the Masjid and saw a rope tied between two pillars. He said, "What is this rope?" They said: "It belongs to Zainab. She prays here and when she gets tired she holds on to it." He said: "Untie it, untie it, and let any one of you pray when he has energy, and if he gets tired let him sit down." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: جب تھک جائے تو نماز سے رک جائے اور آرام کرے، مقصد یہ ہے کہ طاقت سے زیادہ نفلی عبادت ضروری نہیں ہے، جب تک دل لگے اس وقت تک کرے، بےدلی اور نفرت کے ساتھ عبادت کرنے سے بچتا رہے، اور اگر نفلی عبادت سے تھک کر کوئی آرام کرے، تاکہ دوبارہ عبادت کی قوت حاصل ہوجائے، تو اس کا یہ آرام بھی مثل عبادت کے ہوگا۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب کوئی شخص نماز کے لیے کھڑا ہو پھر (نیند کے غلبے کی وجہ سے) قرآن اس کی زبان پر لڑکھڑانے لگے، اور اسے معلوم نہ رہے کہ زبان سے کیا کہہ رہا ہے، تو اسے سو جانا چاہیئے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: "When anyone of you gets up to pray at night, and his tongue stumbles over the words of the Quran and he does not know What he is saying, let him lie down." (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٨١٥)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین ٣١ (٧٨٧)، سنن ابی داود/الصلاة ٣٠٨ (١٣١١)، مسند احمد (٢/٢١٨) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے مغرب اور عشاء کے درمیان بیس رکعت پڑھی، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا ۔
It was narrated that Aisha (RA) said:"The Messenger of Allah ﷺ said: Whoever prays twenty Rakah between Maghrib and the Isha, Allah will build for him a house in Paradise." (Maudu’)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ (تحفة الأشراف: ١٧٣٣٦، ومصباح الزجاجة: ٤٨١)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة ٢٠٤ (٤٣٥) (موضوع) (اس کی سند میں یعقوب بن ولید ہے جو حدیثیں وضع کیا کرتا تھا، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٤٦٧ )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے مغرب کے بعد چھ رکعتیں پڑھیں، اور بیچ میں زبان سے کوئی غلط بات نہیں نکالی، تو اس کی یہ نماز بارہ سال کی عبادت کے برابر قرار دی جائے گی ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said:"The Messenger of Allah ﷺ said: Whoever prays six Rakah after the Maghrib and does not speak evil between them, they will be made equivalent to twelve years worship. (Daif)
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (١١٦٧)، (تحفة الأشراف: ١٥٤١٢) (ضعیف جدا) (اس کی سند میں عمر بن ابی خثعم الیمانی منکر الحدیث اور ابو عمر حفص بن عمر ضعیف ہے )
عاصم بن عمرو کہتے ہیں کہ عراق کے کچھ لوگ عمر ؓ سے ملنے کے لیے چلے، جب آپ ان کے پاس پہنچے تو آپ نے ان سے پوچھا: تم لوگ کس جگہ سے تعلق رکھتے ہو؟ ان لوگوں نے کہا: عراق سے، پوچھا: کیا اپنے امیر کی اجازت سے آئے ہو؟ ان لوگوں نے کہا: ہاں، انہوں نے عمر ؓ سے گھر میں نماز پڑھنے کے متعلق پوچھا: تو آپ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: تو آپ ﷺ نے فرمایا: آدمی کا گھر میں نماز پڑھنا نور ہے، لہٰذا تم اپنے گھروں کو روشن کرو ۔
It was narrated that Asim bin Amr said: "A group from the people of ‘Iraq came to Umar and when they came to him, he said to them: Where are you from? They said: From the inhabitants of Iraq. He said: Have you come with permission? They said: Yes. Then they asked him about a man’s prayer in his house. Umar said: I asked the Messenger of Allah ﷺ and he said: "As for a mans prayer in his house, it is light, so illuminate your houses.":"(Daif) Another chain with similar wording.
Notes · وضاحت
١ ؎: مصباح الزجاجۃ کے دونوں نسخوں میں یحییٰ بن أبی الحسین ہے، صحیح: محمد بن أبی الحسین ہے، ملاحظہ ہو: التقریب: ٥٨٢٦ و ٥٨٥٩ )۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٤٧٦، ومصباح الزجاجة: ٤٨٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٤) (ضعیف) (اس کی سند میں عاصم بن عمرو ضعیف ہیں )
اس سند سے بھی عمر بن خطاب ؓ سے اسی جیسی روایت مرفوعاً آئی ہے۔
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٦٢١، ومصباح الزجاجة: ٤٨٢) (ضعیف) (اس کی سند میں بھی عاصم بن عمرو ضعیف ہیں )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب کوئی شخص اپنی نماز ادا کرلے تو اس میں سے اپنے گھر کے لیے بھی کچھ حصہ رکھے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اس کی نماز کی وجہ سے اس کے گھر میں خیر پیدا کرنے والا ہے ۔
It was narrated from Abu Saeed Al-Khudri that the Prophet ﷺ said: "When anyone of you has finished his prayer, let him give his house a share of that, for Allah will put something good in his house because of that prayer."(Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٩٨٥، ومصباح الزجاجة: ٤٨٣)، ومسند احمد (٣/١٥، ٥٩) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ ١ ؎۔
It was narrated that Ibn Umar said: "The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Do not make your houses into graves.
Notes · وضاحت
١ ؎: گھر کو قبرستان بنانے کا مطلب یہ ہے کہ قبرستان کی طرح گھر میں بھی عدم عبادت والی ویرانی ماحول پیدا نہ کرو، بلکہ نفلی نماز گھر ہی میں پڑھا کرو تاکہ گھر میں بھی اللہ کی عبادت والا ایک پر رونق ماحول دیکھائی دے کہ جس سے بچوں کی تربیت میں بھی پاکیزگی کا اثر نمایاں ہوگا۔
عبداللہ بن سعد ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا: دونوں میں کون افضل ہے گھر میں نماز پڑھنا یا مسجد میں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تم میرے گھر کو نہیں دیکھتے کس قدر مسجد سے قریب ہے، اس کے باوجود بھی مجھے فرض کے علاوہ نفلی نمازیں گھر میں پڑھنی زیادہ محبوب ہیں ١ ؎۔
Abdullah bin Sad said: "I asked the Messenger of Allah ﷺ Which is better prayer in my house or prayer in the Masjid? He said: Do you not see how close my house is to the Masjid? But praying in my house is dearer to me than praying in the Masjid, apart from the prescribed prayers.(Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نوافل کا گھر میں پڑھنا زیادہ افضل ہے۔
عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ میں نے عثمان بن عفان ؓ کے زمانے میں نماز الضحی (چاشت کی نماز) کے متعلق پوچھا اور اس وقت لوگ (صحابہ) بہت تھے، لیکن ام ہانی ؓ کے علاوہ کسی نے مجھے یہ نہیں بتایا کہ آپ نے یعنی نبی اکرم ﷺ نے یہ نماز پڑھی، ہاں ام ہانی ؓ نے یہ مجھے بتایا کہ آپ ﷺ نے آٹھ رکعت پڑھی ١ ؎۔
It was narrated that, Abdullah bin Harith said: "During the caliphate of Uthman when the people were present in large numbers, I asked about Duha prayer, and I could not find anyone who could tell me that he, meaning the Prophet, had prayed it, apart from Umm Hani. She told me that he had prayed it with eight Rakah" (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: بہت سی احادیث سے یہ ثابت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے چاشت کی نماز پڑھی، اور اس کے پڑھنے کی فضیلت بیان کی، اتنی بات ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اس پر مواظبت نہیں کی، یہی وجہ ہے کہ بعض صحابہ کرام ؓ نے نبی اکرم ﷺ کو پابندی سے چاشت کی نماز پڑھتے نہیں دیکھا، دوسری وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ آپ نوافل کی طرح اس کو گھر میں ادا کرتے رہے ہوں، جس سے اکثر لوگوں کو پتا نہ چلا ہو۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٦١٤)، (تحفة الأشراف: ١٨٠٠٣) (صحیح )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے نماز الضحی (چاشت کی نماز) بارہ رکعت پڑھی، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں سونے کا محل بنائے گا ۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: ‘Whoever prays Duha with twelve Rak ah, Allah will build for him a palace of gold in Paradise.(Daif)
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٢٢٩ (٤٧٣)، (تحفة الأشراف: ٥٠٥) (ضعیف) (اس کی سند میں محمد بن اسحاق مدلس اور موسیٰ بن انس ضعیف ہیں )
معاذہ عدویہ کہتی ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے پوچھا: کیا نبی اکرم ﷺ نماز الضحی (چاشت کی نماز) پڑھتے تھے؟ کہا: ہاں، چار رکعت، اور جتنا اللہ چاہتا زیادہ پڑھتے ١ ؎۔
Mu adhah AI-Adawiyyah said: "I asked ‘ Aisha (RA) : Did the Prophet ﷺ pray Duha? She said: Yes; four (Rakah) and he would add whatever Allah willed."(Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: صلاۃ الضحی (چاشت کی نماز) کم سے کم دو رکعت، اور زیادہ سے زیادہ بارہ رکعت ہے، واللہ اعلم۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ١٣ (٧١٩)، سنن الترمذی/الشمائل (٢٨٨) سنن النسائی/الکبري الصلاة ٦٧ (٤٧٩)، (تحفة الأشراف: ١٧٩٦٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٧٤، ٩٥، ١٢٠، ١٢٣، ١٤٥، ١٥٦، ١٦٨، ١٧٢، ٢٦٥) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص نماز الضحی (چاشت) کی دو رکعتوں پر محافظت کرے گا، اس کے گناہ بخش دئیے جائیں گے، خواہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Whoever regularly prays two Rakah of Duha, his sins will be forgiven even if they are like the foam of the sea."(Daif)
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٢٢٩ (٤٧٦)، (تحفة الأشراف: ١٣٤٩١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٤٣، ٤٩٧، ٤٩٩) (ضعیف) (سند میں نہ اس بن قہم ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: الارواء: ٥٦٢ )