اقامت نماز اور اس کا طریقہ

Sunan Ibne-Majah · Chapter 7 · 630 hadiths · Page 28 of 32

1343Sunan Ibne-Majah

اگر نیند کی وجہ سے رات کا ورد رہ جائے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَنْبَأَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ، وَعُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَاهُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ نَامَ عَنْ حِزْبِهِ أَوْ عَنْ شَيْءٍ مِنْهُ، فَقَرَأَهُ فِيمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَصَلَاةِ الظُّهْرِ، كُتِبَ لَهُ كَأَنَّمَا قَرَأَهُ مِنَ اللَّيْلِ.

عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنا پورا وظیفہ (ورد) یا اس کا کچھ حصہ چھوڑ کر سو جائے، اور اسے فجر و ظہر کے درمیان پڑھ لے، تو اس کو ایسا لکھا جائے گا گویا اس نے رات میں پڑھا ۔

It was narrated that Abdur-Rahman bin"Abdin AI-Qeri said: "I heard Umar bin Khattab say: The Messenger of Allah ﷺ said: Whoever sleeps and misses his daily portion of Quran, or any part of it, let him read it between the Fajr prayer and the Zuhr prayer, and it will be recorded as if he had read it during the night." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ١٨ (٧٤٧)، سنن ابی داود/الصلاة ٣٠٩ (١٣١٣)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٩١ (الجمعة ٥٦) (٨٥١)، سنن النسائی/قیام اللیل ٥٦ (١٧٩١، ١٧٩٢، ١٧٩٣)، (تحفة الأشراف: ١٠٥٩٢)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/القرآن ٣ (٣)، مسند احمد (١/٣٢، ٥٣)، سنن الدارمی/الصلاة ١٦٧ (١٥١٨) (صحیح )
1344Sunan Ibne-Majah

اگر نیند کی وجہ سے رات کا ورد رہ جائے

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَمَّالُ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ، عَنْحَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ أَتَى فِرَاشَهُ وَهُوَ يَنْوِي أَنْ يَقُومَ فَيُصَلِّيَ مِنَ اللَّيْلِ فَغَلَبَتْهُ عَيْنُهُ حَتَّى يُصْبِحَ، كُتِبَ لَهُ مَا نَوَى وَكَانَ نَوْمُهُ صَدَقَةً عَلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ.

ابوالدرداء ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنے بستر پہ آئے، اور ارادہ رکھتا ہو کہ رات میں اٹھ کر نماز پڑھے گا، پھر اسے ایسی نیند آئی کہ صبح ہوگئی، تو اس کا ثواب اس کی نیت کے مطابق لکھا جائے گا، اور اس کا سونا اس کے رب کی طرف سے اس پر صدقہ ہوگا ۔

It was narrated that Abu Darda conveyed that the Prophet ﷺ said: "Whoever goes to bed Intending to wake up and pray during the night, but is overwhelmed by sleep until morning comes. What he intended will be recorded for him, and his sleep is a charity given to him by his Lord: (Sahih)

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/قیام اللیل ٥٤ (١٧٨٨)، (تحفة الأشراف: ١٠٩٣٧) (صحیح) (ملاحظہ ہو: الإرواء: ٤٥٤ )
1345Sunan Ibne-Majah

کتنے دن میں قرآن ختم کرنا مستحب ہے ؟

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْلَى الطَّائِفِيِّ، عَنْعُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ جَدِّهِ أَوْسِ بْنِ حُذَيْفَةَ، قَالَ: قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَفْدِ ثَقِيفٍ، فَنَزَّلُوا الْأَحْلَافَ عَلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، وَأَنْزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَنِي مَالِكٍ فِي قُبَّةٍ لَهُ، فَكَانَ يَأْتِينَا كُلَّ لَيْلَةٍ بَعْدَ الْعِشَاءِ، فَيُحَدِّثُنَا قَائِمًا عَلَى رِجْلَيْهِ حَتَّى يُرَاوِحَ بَيْنَ رِجْلَيْهِ، وَأَكْثَرُ مَا يُحَدِّثُنَا مَا لَقِيَ مِنْ قَوْمِهِ مِنْ قُرَيْشٍ، وَيَقُولُ: وَلَا سَوَاءَ كُنَّا مُسْتَضْعَفِينَ مُسْتَذَلِّينَ، فَلَمَّا خَرَجْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ كَانَتْ سِجَالُ الْحَرْبِ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ، نُدَالُ عَلَيْهِمْ وَيُدَالُونَ عَلَيْنَا، فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ لَيْلَةٍ أَبْطَأَ عَنِ الْوَقْتِ الَّذِي كَانَ يَأْتِينَا فِيهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقَدْ أَبْطَأْتَ عَلَيْنَا اللَّيْلَةَ، قَالَ: إِنَّهُ طَرَأَ عَلَيَّ حِزْبِي مِنَ الْقُرْآنِ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَخْرُجَ حَتَّى أُتِمَّهُ، قَالَ أَوْسٌ: فَسَأَلْتُ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ تُحَزِّبُونَ الْقُرْآنَ؟، قَالُوا: ثَلَاثٌ، وَخَمْسٌ، وَسَبْعٌ، وَتِسْعٌ، وَإِحْدَى عَشْرَةَ، وَثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَحِزْبُ الْمُفَصَّلِ.

اوس بن حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس ثقیف کے ایک وفد میں آئے، تو لوگوں نے قریش کے حلیفوں کو مغیرہ بن شعبہ ؓ کے پاس اتارا، اور رسول اللہ ﷺ نے بنو مالک کو اپنے ایک خیمہ میں اتارا، چناچہ آپ ﷺ ہر رات عشاء کے بعد ہمارے پاس تشریف لاتے، اور کھڑے کھڑے باتیں کرتے یہاں تک کہ ایک پاؤں سے دوسرے پاؤں پر بدل بدل کر کھڑے رہتے، اور اکثر وہ حالات بیان کرتے جو اپنے خاندان قریش سے آپ کو پیش آئے تھے، اور فرماتے: ہم اور وہ برابر نہ تھے، ہم کمزور اور بےحیثیت تھے، لیکن جب ہم مدینہ آئے تو لڑائی کا ڈول ہمارے اور ان کے درمیان رہا، ہم ان کے اوپر ڈول نکالتے اور وہ ہمارے اوپر ڈول نکالتے ١ ؎ ایک رات آپ ﷺ نے اپنے وقت مقررہ پر آنے میں تاخیر کی؟ تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے آج رات تاخیر کی؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: میرا قرآن کا وظیفہ پڑھنے سے رہ گیا تھا، میں نے مناسب نہیں سمجھا کہ اس کو پورا کئے بغیر نکلوں ۔ اوس کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے اصحاب سے پوچھا: آپ لوگ قرآن کے وظیفے کیسے مقرر کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: پہلا حزب تین سورتوں کا (بقرہ، آل عمران اور نساء) دوسرا حزب پانچ سورتوں کا (مائدہ، انعام، اعراف، انفال اور براءۃ) ، تیسرا حزب سات سورتوں کا (یونس، ہود، یوسف، رعد، ابراہیم، حجر اور نمل) ، چوتھا حزب نو سورتوں کا (بنی اسرائیل، کہف، مریم، طہٰ، انبیاء، حج، مومنون، نور اور فرقان) ، پانچواں حزب گیارہ سورتوں کا (شعراء، نحل، قصص، عنکبوت، روم، لقمان، سجدہ، احزاب، سبا، فاطر اور یٰسین) ، اور چھٹا حزب تیرہ سورتوں کا (صافات، ص، زمر، ساتوں حوامیم، محمد، فتح اور حجرات) ، اور ساتواں حزب مفصل کا (سورۃ ق سے آخر قرآن تک) ۔

It was narrated from Uthman bin AbduJlah bin Aws that his grandfather Aws bin Hudhaifah said: "We came to the Messenger of Allah ﷺ in the delegation of Thaqif. The allies of Quraish stayed at the house of Mughirah bin Shubah, and the Messenger of Allah ﷺ camped Bani Malik in a tent belonging to him. He used to come to us every night after the Isha and speak to us standing on his two feet, until he started to shift his weight from one foot to the other. Most of what he told us was what he had suffered from his people Quraish . He said: (The two sides) were not equal. We were weak and oppressed and humiliated, and when we went ou t to AI- Madinah, the outcome of the battles between us varied; sometimes we would defeat them and sometimes they would defeat us. One night he was later than he usually was, and I said:O Messenger of Allah, you have come to us late tonight. He said: ‘It occurred to me that I had not read my daily portion of Quran and I did not want to come out until I had completed it. Aws said: "I asked the Companions of the Messenger of Allah ﷺ How did you used to divide the Quran? They said A third, a fifth, a seventh, a ninth, an eleventh a thirteenth and Hizbul-Mufassal (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: لڑائی کا ڈول ہمارے اور ان کے درمیان رہا یعنی کبھی ہمیں فتح حاصل ہوتی اور کبھی انہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٣٢٦ (١٣٩٣)، (تحفة الأشراف: ١٧٣٧) (ضعیف) (اس سند میں ابوخالد متکلم فیہ نیز عثمان لین الحدیث ہیں، نیز ملاحظہ ہو: ضعیف ابی داود: ٢٤٦ )
1346Sunan Ibne-Majah

کتنے دن میں قرآن ختم کرنا مستحب ہے ؟

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ حَكِيمِ بْنِ صَفْوَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: جَمَعْتُ الْقُرْآنَ، فَقَرَأْتُهُ كُلَّهُ فِي لَيْلَةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي أَخْشَى أَنْ يَطُولَ عَلَيْكَ الزَّمَانُ وَأَنْ تَمَلَّ، فَاقْرَأْهُ فِي شَهْرٍ، فَقُلْتُ: دَعْنِي أَسْتَمْتِعْ مِنْ قُوَّتِي وَشَبَابِي، قَالَ: فَاقْرَأْهُ فِي عَشْرَةٍ، قُلْتُ: دَعْنِي أَسْتَمْتِعْ مِنْ قُوَّتِي وَشَبَابِي، قَالَ: فَاقْرَأْهُ فِي سَبْعٍ، قُلْتُ: دَعْنِي أَسْتَمْتِعْ مِنْ قُوَّتِي وَشَبَابِي، فَأَبَى.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ میں نے قرآن حفظ کیا، اور پورا قرآن ایک ہی رات میں پڑھنے کی عادت بنا لی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے ڈر ہے کہ کچھ ہی عرصہ گزرنے کے بعد تم اکتا جاؤ گے، لہٰذا تم اسے ایک مہینے میں پڑھا کرو میں نے کہا: مجھے اپنی قوت اور جوانی سے فائدہ اٹھانے دیجئیے آپ ﷺ نے فرمایا: تو دس دن میں پڑھا کرو میں نے کہا: مجھے اپنی قوت اور جوانی سے فائدہ اٹھانے دیجئیے، آپ ﷺ نے فرمایا: ٹھیک ہے تو سات دن میں پڑھا کرو میں نے کہا: مجھے اپنی قوت اور جوانی سے فائدہ اٹھانے دیجئیے، تو آپ ﷺ نے انکار کردیا ١ ؎۔

It was narrated that ‘Abdullah bin ‘Amr said: “I memorized the Qura’an and recited it all in one night. The Messenger of Allah ﷺ said :’I am afraid that you may live a long life and that you may get bored. Recite it over the period of a month.’ I said: ‘Let me benefit from my strength and my youth.’ He said: ‘Recite it in ten days.’ I said let me benefit from my strength and my youth.’ He said: “recite it in seven days.’ I said: Let me benefit from my strength and my youth, but he refused (to alter it any further)." (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی سات دن سے کم میں ختم قرآن کی اجازت نہ دی، صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ سات دن سے کم میں ختم قرآن نہ کرو، قسطلانی نے کہا کہ یہ نہی حرمت کے لئے نہیں ہے، اور بعض اہل ظاہر کے نزدیک تین دن سے کم میں قرآن ختم کرنا حرام ہے، نووی کہتے ہیں کہ اس کی کوئی حد نہیں، جب تک جی لگے اور جتنی طاقت ہو، اس کے لحاظ سے قرآن پڑھے، اور بہتر یہی ہے کہ سات دن سے کم میں ختم نہ کرے، انتہاء تین دن میں، اور قرآن کے معانی اور مطالب میں غور و فکر کر کے پڑھے، اور ہمارے زمانہ میں تو قرآن کے معانی کا ترجمہ ہر زبان میں ہوگیا ہے، پس ترجمہ کے ساتھ تلاوت کرنا زیادہ ثواب ہے، فقیہ ابواللیث کہتے ہیں کہ اقل درجہ یہ ہے کہ آدمی سال بھر میں قرآن دو بار ختم کرے، اور حسن بن زیاد نے ابوحنیفہ رحمۃ اللہ سے نقل کیا ہے کہ جس نے سال بھر میں دو بار پورے قرآن کی قراءت مکمل کی اس نے قرآن کا حق ادا کیا، کیونکہ جبرئیل (علیہ السلام) نے جس سال نبی کریم ﷺ کی وفات ہوئی، دو بار قرآن کا دور کیا، اور بعض نے کہا چالیس دن سے زیادہ ختم قرآن میں تاخیر کرنا مکروہ ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٩٤٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم ٥٤ (١٩٧٨)، فضائل القرآن ٣٤ (٥٠٥٣، ٥٠٥٤)، صحیح مسلم/الصوم ٣٥ (١١٥٩)، سنن ابی داود/الصلاة ٣٢٥ (١٣٨٨)، سنن الترمذی/القراء ات ١٣ (٢٩٤٦)، سنن النسائی/الصیام ٤٥ (٢٣٩١، ٢٣٩٢)، مسند احمد (٢/١٦٣، ١٩٩)، سنن الدارمی/فضائل القرآن ٣٢ (٣٥١٣) (صحیح )
1347Sunan Ibne-Majah

کتنے دن میں قرآن ختم کرنا مستحب ہے ؟

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَمْ يَفْقَهْ مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فِي أَقَلَّ مِنْ ثَلَاثٍ.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے قرآن تین دن سے کم میں پڑھا، اس نے سمجھ کر نہیں پڑھا ۔

It was narrated from Abdullah bin Amr that the Messenger of Allah ﷺ said. "No one properly understands who reads the Quran in less than three days." (Sahih)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٣٢٦ (١٣٩٤)، سنن الترمذی/القراء ا ت ١٣ (٢٩٤٩)، (تحفة الأشراف: ٨٩٥٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٦٣، ١٩٩)، سنن الدارمی/الصلاة ١٧٣ (١٥٣٤)، فضائل القرآن ٣٢ (٣٥١٤) (صحیح )
1348Sunan Ibne-Majah

کتنے دن میں قرآن ختم کرنا مستحب ہے ؟

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَا أَعْلَمُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ الْقُرْآنَ كُلَّهُ حَتَّى الصَّبَاحِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ مجھے نہیں معلوم کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک ہی رات میں پورا قرآن پڑھا ہو۔

It was narrated that ‘ Aisha (RA) said: "I did not know of the Prophet ﷺ of Allah reciting the entire Quran until morning." (Sahih)

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/قیام اللیل ١٥ (١٦٤٢)، (تحفة الأشراف: ١٦١٠٨)، و صحیح مسلم/المسافرین ١٨ (٧٤٦) (صحیح )
1349Sunan Ibne-Majah

رات کی نماز میں قرآت

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَتْ: كُنْتُ أَسْمَعُ قِرَاءَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ، وَأَنَا عَلَى عَرِيشِي.

ام ہانی بنت ابی طالب ؓ کہتی ہیں کہ میں رات میں نبی اکرم ﷺ کی قراءت اپنے گھر کی چھت پہ لیٹی ہوئی سنتی رہتی تھی۔

It was narrated that Umm Hani bint Abi Talib said. "I used to hear the Prophet ﷺ reciting at night when I was on the roof of my house." (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٨٠١٦، ومصباح الزجاجة: ٤٧٤)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الافتتاح ٨١ (١٠١٤)، مسند احمد (٦/٣٤٢، ٣٤٣، ٣٤٤)، سنن الترمذی/الشمائل ٤٣ (٣١٨) (حسن صحیح) (اس حدیث کی تخریج میں بوصیری نے شمائل ترمذی اور سنن کبریٰ کا ذکر کیا ہے، جب کہ یہ صغریٰ میں بھی ہے اس لئے یہ زوائد میں سے نہیں ہے )
1350Sunan Ibne-Majah

رات کی نماز میں قرآت

حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ قُدَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ جَسْرَةَ بِنْتِ دَجَاجَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ، يَقُولُ: قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِآيَةٍ حَتَّى أَصْبَحَ يُرَدِّدُهَا، وَالْآيَةُ إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ سورة المائدة آية 118.

جسرۃ بنت دجاجہ کہتی ہیں کہ میں نے ابوذر ؓ کو کہتے ہوئے سنا کہ نبی اکرم ﷺ تہجد کی نماز میں کھڑے ہوئے، اور ایک آیت کو صبح تک دہراتے رہے، اور وہ آیت یہ تھی: إن تعذبهم فإنهم عبادک وإن تغفر لهم فإنك أنت العزيز الحکيم اگر تو ان کو عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں، اور اگر تو ان کو بخش دے، تو تو عزیز (غالب) ، اور حکیم (حکمت والا) ہے (سورة المائدة: 118) ۔

It was narrated that Jasrah bint Dijajah said: "I heard Abu Dharr (RA) say. ‘The Prophet ﷺ stood reciting a Verse and repeating it until morning came. That Verse was."If You punish them, they are Your slaves, and if You forgive them, verily, You, only You, are the All-Mighty, the All-Wise.",(Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ سورة المائدۃ کی اخیر آیت ہے، اور عیسیٰ (علیہ السلام) کی زبان پر وارد ہوئی، وہ قیامت کے دن یہ کہیں گے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٠١٢، ومصباح الزجاجة: ٤٧٥)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الافتتاح ٧٩ (١٠١١)، مسند احمد (٥/١٤٩) (حسن) (اس کی تخریج میں بوصیری نے سنن کبریٰ کا حوالہ دیا ہے، جب کہ یہ صغریٰ میں موجود ہے، اس لئے یہ زوائد میں سے نہیں ہے )
1351Sunan Ibne-Majah

رات کی نماز میں قرآت

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الْأَحْنَفِ، عَنْصِلَةَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَلَّى، فَكَانَ إِذَا مَرَّ بِآيَةِ رَحْمَةٍ سَأَلَ، وَإِذَا مَرَّ بِآيَةِ عَذَابٍ اسْتَجَارَ، وَإِذَا مَرَّ بِآيَةٍ فِيهَا تَنْزِيهٌ لِلَّهِ سَبَّحَ.

حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نماز میں جب کسی رحمت کی آیت سے گزرتے تو اللہ تعالیٰ سے اس کا سوال کرتے، اور عذاب کی آیت آتی تو اس سے پناہ مانگتے، اور جب کوئی ایسی آیت آتی جس میں اللہ تعالیٰ کی پاکی ہوتی تو تسبیح کہتے ١ ؎۔

It was narrated from Hudhaifah that the Prophet ﷺ prayed, and when he recited a Verse which mentioned mercy, he would ask for mercy; when he recited a Verse that mentioned punishment he would pray for deliverance from it; and when he recited a Verse that mentioned the Tanzih of Allah, he would glorify Him (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: تلاوت قرآن کے آداب میں سے یہ ہے کہ قرآن شریف سمجھ کر پڑھے، اور رحمت اور وعدوں کی آیتوں پر دعا کرے، اور عذاب و وعید کی آیتوں پر استغفار کرے، اور اللہ کی پناہ مانگے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ٢٧ (٧٧٢)، سنن ابی داود/الصلاة ١٥١ (٨٧١)، سنن الترمذی/الصلاة ٧٩ (٢٦٢)، سنن النسائی/الافتتاح ٧٧ (١٠٠٩)، التطبیق ٧٤ (١١٣٤)، (تحفة الأشراف: ٣٣٥٨)، وحم (٥/٣٨٢، ٣٨٤، ٣٩٤)، سنن الدارمی/الصلاة ٦٩ (١٣٤٥) (صحیح )
1352Sunan Ibne-Majah

رات کی نماز میں قرآت

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ تَطَوُّعًا، فَمَرَّ بِآيَةِ عَذَابٍ، فَقَالَ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ وَوَيْلٌ لِأَهْلِ النَّارِ.

ابولیلیٰ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے پہلو میں نماز پڑھی، آپ رات میں نفل نماز پڑھ رہے تھے، جب عذاب کی آیت سے گزرے تو فرمایا: میں اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں جہنم کے عذاب سے، اور تباہی ہے جہنمیوں کے لیے ۔

It was narrated that Abu Lalla said: "I prayed beside the Prophet ﷺ when he was praying voluntary prayers at night. He recited a Verse which mentioned punishment and said: I seek refuge with Allah from the Fire, woe to the people of the Fire." (Daif)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ١٥٣ (٨٨١)، (تحفة الأشراف: ١٢١٥٣) وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٤٧) (ضعیف) (اس سند میں محمد بن عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ ضعیف ہیں )
1353Sunan Ibne-Majah

رات کی نماز میں قرآت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنْ قِرَاءَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: كَانَ يَمُدُّ صَوْتَهُ مَدًّا.

قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک ؓ سے نبی اکرم ﷺ کی قراءت کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: آپ ﷺ اپنی آواز کو کھینچتے تھے۔

It was narrated that Qatadah said: "I asked Anas bin Malik (RA) about the recitation of the Prophet ﷺ and he said: ‘He used to elongate his voice. (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/فضائل القرآن ٢٩ (٥٠٤٥)، سنن ابی داود/الصلاة ٣٥٥ (١٤٦٥)، سنن النسائی/الافتتاح ٨٢ (١٠١٥)، (تحفة الأشراف: ١١٤٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١١٩، ١٢٧، ١٩٨، ٢٨٩)، سنن الترمذی/الشمائل ٤٣ (٣١٥) (صحیح )
1354Sunan Ibne-Majah

رات کی نماز میں قرآت

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ بُرْدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ، عَنْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: أَتَيْتُ عَائِشَةَ، فَقُلْتُ: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْهَرُ بِالْقُرْآنِ، أَوْ يُخَافِتُ بِهِ؟، قَالَتْ: رُبَّمَا جَهَرَ، وَرُبَّمَا خَافَتَ، قُلْتُ: اللَّهُ أَكْبَرُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي هَذَا الْأَمْرِ سَعَةً.

غضیف بن حارث کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین عائشہ ؓ کے پاس آیا، اور ان سے پوچھا: رسول اللہ ﷺ قرآن بلند آواز سے پڑھتے تھے یا آہستہ؟ انہوں نے کہا: کبھی بلند آواز سے پڑھتے تھے اور کبھی آہستہ، میں نے کہا: اللہ اکبر، شکر ہے اس اللہ کا جس نے اس معاملہ میں وسعت رکھی ہے۔

It was narrated that Ghudaif bin Harith said. "I came to ‘ Aisha (RA) and asked: Did the Messenger of Allah ﷺ recite Quran loudly or softly? She said. Sometimes he would recite loud and sometimes softly. I said, Allah u Akbar! Praise is to Allah who has made this matter one of broad scope." (Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٩٠ (٢٢٦)، فضائل القرآن ٢٣ (٢٢٩٤)، سنن النسائی/الطہارة ١٤١ (٢٢٣)، الغسل ٦ (٤٠٥)، (تحفة الأشراف: ١٧٤٢٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/ ١٣٨، ١٤٩) (حسن صحیح )
1355Sunan Ibne-Majah

جب رات میں بیدار ہو تو کیا دعا پڑھے ؟

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَهَجَّدَ مِنَ اللَّيْلِ قَالَ: اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيَّامُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ مَالِكُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ الْحَقُّ، وَوَعْدُكَ حَقٌّ، وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ، وَقَوْلُكَ حَقٌّ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، وَالنَّبِيُّونَ حَقٌّ، وَمُحَمَّدٌ حَقٌّ، اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ، وَبِكَ خَاصَمْتُ، وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ، فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِكَ. حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي مُسْلِمٍ الْأَحْوَلُ خَالُ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، سَمِعَ طَاوُسًا، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ لِلتَّهَجُّدِ فَذَكَرَ نَحْوَهُ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب رات میں تہجد پڑھتے تو یہ دعا پڑھتے: اللهم لک الحمد أنت نور السموات والأرض ومن فيهن ولک الحمد أنت قيام السموات والأرض ومن فيهن ولک الحمد أنت مالک السموات والأرض ومن فيهن ولک الحمد أنت الحق ووعدک حق ولقاؤك حق وقولک حق والجنة حق والنار حق والساعة حق والنبيون حق ومحمد حق اللهم لك أسلمت وبک آمنت وعليك توکلت وإليك أنبت وبک خاصمت وإليك حاکمت فاغفر لي ما قدمت وما أخرت وما أسررت وما أعلنت أنت المقدم وأنت المؤخر لا إله إلا أنت ولا إله غيرک ولا حول ولا قوة إلا بك اے اللہ! تیری حمد وثناء ہے، تو آسمان و زمین اور ان میں کی تمام چیزوں کا نور ہے، تیری حمد وثناء ہے، تو آسمان و زمین اور ان میں کی تمام چیزوں کی تدبیر کرنے والا ہے، تیری حمد وثناء ہے، تو آسمان و زمین اور ان میں کی تمام چیزوں کا مالک ہے، تیری حمد وثناء ہے، تو برحق ہے، تیرا وعدہ سچا ہے، تیری ملاقات برحق ہے، تیری بات سچی ہے، جنت و جہنم برحق ہیں، قیامت برحق ہے، انبیاء برحق ہیں، اور محمد ﷺ برحق ہیں، اے اللہ! میں نے تیرے آگے گردن جھکائی، اور تجھ پر ایمان لایا، اور تجھ ہی پر بھروسہ کیا، اور تیری ہی طرف رجوع کیا، اور تیری ہی دلیلوں سے لڑا، اور تیری ہی طرف انصاف کے لیے آیا، تو میرے اگلے اور پچھلے ظاہر اور پوشیدہ گناہوں کو بخش دے، تو ہی آگے کرنے والا ہے، تو ہی پیچھے کرنے والا ہے، تو ہی معبود ہے، تیرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، اور تیرے سوا کسی کا زور اور طاقت نہیں)۔

It was narrated that Ibn Abbas said:"When the Messenger of Allah ﷺ prayed Tahajjud at night, he would say: "Allahumma lakal-hamd, Anta nurus-samawati wal-ard wa man fihinna. Wa Lakal-hamd . Anta qayyamus-samawati wal-ard wa man fihinna . Wa lakal-hamd , Anta malikus-samawati wal-ard wa man fihinna. Wa lakal-hamd, Antal-haqq, waduka haqq, wa liqauka haqq, wa qawluka haqq, wal-jannatu haqq, wan-nar haqq, was-saatu huqq, wan-nabiyyuna haqq , wa Muhammadun haqq. Allahumma laka aslamtu, wa bika amantu, wa alaika tawakkaItu wa ilaika anabtu, wa bika khamastu , wa ilaik a hakamtu, faghfirli ma qaddamtu wama akhkhartu wama asrartu wama alantu . Antal-muqaddimu wa Antal-muakhkhiru. Lailaha ilia anta wa la ilaha ghairuka, wa la hawa wala quwwuta illa bika (O Allah, to You is praise, You are the Light of the heavens and the earth, and everyone therein. To you is praise, you are the Sustainer of the heavens and the earth, and everyone therein. To you is praise, you are the Sovereign of the heavens and the earth, and everyone therein. To You is praise, You are the Truth; Your promise IS true, the meeting with You is true, Your saying is true, Paradise is true, the Fire is true, the Hour is true, the Prophets are true, and Muhammad is true. O Allah, to you have I submitted, in You I believe, in You have I put my trust, to You I turn in repentance, by Your help I argue, to You I refer my case, so forgive me for my past and future sins, what I have done in secret and what I have done openly. You are the One Who brings forward and puts back. None who has the right to be worshiped but you, and there is none who has the right to be worshiped other than you. And there is no power and nor strength except with you." (Sahih) Another chain that Ibn Abbas narrated: "When the Messenger of Allah ﷺ stood during the night for Tahhajud," and he mentioned something similar.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/التہجد ١ (١١٢٠)، والدعوات ١٠ (٦٣١٧)، التوحید ٨ (٧٣٨٥)، ٢٤ (٧٤٤٢)، ٣٥ (٧٤٩٩)، صحیح مسلم/المسافرین ٢٦ (٧٦٩)، سنن النسائی/قیام اللیل ٩ (١٦٢٠)، (تحفة الأشراف: ٥٧٠٢)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/القرآن ٨ (٣٤)، مسند احمد (١/٢٩٨، ٣٥٨، ٣٦٦)، سنن الدارمی/الصلاة ١٦٩ (١٥٢٧) (صحیح ) اس سند سے بھی ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب رات میں تہجد کے لیے کھڑے ہوئے ... پھر انہوں نے اسی جیسی حدیث ذکر کی۔
1356Sunan Ibne-Majah

جب رات میں بیدار ہو تو کیا دعا پڑھے ؟

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي أَزْهَرُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْعَاصِمِ بْنِ حُمَيْدٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ: مَاذَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْتَتِحُ بِهِ قِيَامَ اللَّيْلِ؟، قَالَتْ: لَقَدْ سَأَلْتَنِي عَنْ شَيْءٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ قَبْلَكَ، كَانَ يُكَبِّرُ عَشْرًا، وَيَحْمَدُ عَشْرًا، وَيُسَبِّحُ عَشْرًا، وَيَسْتَغْفِرُ عَشْرًا، وَيَقُولُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، وَاهْدِنِي، وَارْزُقْنِي، وَعَافِنِي، وَيَتَعَوَّذُ مِنْ ضِيقِ الْمُقَامِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

عاصم بن حمید کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے پوچھا: نبی اکرم ﷺ نماز تہجد کی ابتداء کس چیز سے کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: تم نے مجھ سے ایک ایسی چیز کے متعلق سوال کیا ہے کہ تم سے پہلے کسی نے بھی اس کے متعلق یہ سوال نہیں کیا تھا، آپ ﷺ دس مرتبہ الله أكبر، دس مرتبہ الحمد لله، دس مرتبہ سبحان الله، دس مرتبہ استغفرالله کہتے، اور اس کے بعد یہ دعا پڑھتے: اللهم اغفر لي واهدني وارزقني وعافني اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھے ہدایت دے، مجھے رزق دے، اور مجھے عافیت دے ، اور آپ ﷺ قیامت کے دن جگہ کی تنگی سے پناہ مانگتے تھے)۔

it was narrated that’ Asim bin Humaid said: "I asked Aisha (RA) : with what did the Prophet ﷺ Start voluntary night prayers? She said: you have asked me about something which no one has asked before. He used to say Allahu Akbar ten times, and AI-Hamdu Lillah ten times and Subhan-Allah ten times, and Astaghfirullah ten times, and he would say Allahumma aghfirli wahdini, warzuqni, wa afini (O Allah, forgive me, guide me, grant me provision and give me good health),"and he would seek refuge from the difficulty of the standing on the Day of Resurrection." (Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ١٢١ (٧٦٦)، سنن النسائی/قیام اللیل ٩ (١٦١٨)، (تحفة الأشراف: ١٦١٦٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٤٣) (حسن صحیح )
1357Sunan Ibne-Majah

جب رات میں بیدار ہو تو کیا دعا پڑھے ؟

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْيَمَامِيُّ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ: بِمَ كَانَ يَسْتَفْتِحُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ؟، قَالَتْ: كَانَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ رَبَّ جِبْرَئِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَإِسْرَافِيلَ، فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ، اهْدِنِي لِمَا اخْتُلِفَ فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِكَ، إِنَّكَ لَتَهْدِي إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ: احْفَظُوهُ جِبْرَئِيلَ مَهْمُوزَةً فَإِنَّهُ كَذَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے پوچھا: نبی اکرم ﷺ جب رات میں قیام کرتے تو کس دعا سے اپنی نماز شروع کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ یہ دعا پڑھتے تھے: اللهم رب جبرئيل وميكائيل وإسرافيل فاطر السموات والأرض عالم الغيب والشهادة أنت تحکم بين عبادک فيما کانوا فيه يختلفون اهدني لما اختلف فيه من الحق بإذنك إنک لتهدي إلى صراط مستقيم اے اللہ! جبرائیل، ١ ؎ میکائیل، اور اسرافیل کے رب، آسمان و زمین کے پیدا کرنے والے، غائب اور حاضر کے جاننے والے، تو اپنے بندوں کے درمیان ان کے اختلافی امور میں فیصلہ کرتا ہے، تو اپنے حکم سے اختلافی امور میں مجھے حق کی راہنمائی فرما، بیشک تو ہی راہ راست کی راہنمائی فرماتا ہے۔ عبدالرحمٰن بن عمر کہتے ہیں: یاد رکھو جبرائیل ہمزہ کے ساتھ ہے کیونکہ نبی اکرم ﷺ سے ایسا ہی منقول ہے۔

It was narrated that Abu Salamah bin Abdur-Rahman said: "I asked’ Aisha (RA) : ‘With what did the Prophet ﷺ start his voluntary night prayers? She said: ‘He would say: (O Allah, Lord of jibrail, Mikail and Israfil, Creator of the heavens and the earth, Knower of the unseen and the scene, you judge between your slaves concerning that wherein they differ. Guide me to the disputed matters of truth by You’re Leave, for you are the One Who guides to the Straight Path)." (Sahih) (One of the narrators) Abdur- Rahman bin ‘Umar said: "Bear in mind the word Jibra’il with a Hamzah - this is how it was narrated from the Prophet."

Notes · وضاحت
١ ؎: اور قرآن میں جو جبریل کا لفظ آیا ہے، اس میں بھی قراءت کا اختلاف ہے، بعض جبریل پڑھتے ہیں، اور بعض جبرائیل، اور بعض جبرئیل، یہ عبرانی لفظ ہے، اس کے معنی اللہ کا بندہ، اور جبرئیل وحی کے فرشتہ ہیں، میکائیل روزی کے، اسرافیل صور پھونکنے کے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ٢٦ (٧٧٠)، سنن ابی داود/الصلاة ١٢١ (٧٦٧)، سنن الترمذی/الدعوات ٣١ (٣٤٢٠)، سنن النسائی/قیام اللیل ١١ (١٦٢٦)، (تحفة الأشراف: ١٧٧٧٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٥٦) (حسن) (شواہد کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے، ورنہ سند میں یحییٰ بن ابی کثیر مدلس ہیں، اور یہاں عنعنہ سے روایت کی ہے )
1358Sunan Ibne-Majah

رات کو تہجد کتنی رکعات پڑھے ؟

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، وَهَذَا حَدِيثُ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُصَلِّي مَا بَيْنَ أَنْ يَفْرُغَ مِنْ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى الْفَجْرِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُسَلِّمُ فِي كُلِّ اثْنَتَيْنِ وَيُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ، وَيَسْجُدُ فِيهِنَّ سَجْدَةً بِقَدْرِ مَا يَقْرَأُ أَحَدُكُمْ خَمْسِينَ آيَةً قَبْلَ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهُ، فَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ مِنَ الْأَذَانِ الْأَوَّلِ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ، قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نماز عشاء کے بعد سے فجر تک گیارہ رکعت پڑھتے تھے، اور ہر دو رکعت پر سلام پھیرتے، اور ایک رکعت وتر پڑھتے تھے، اور ان رکعتوں میں سجدہ اتنا طویل کرتے کہ کوئی سر اٹھانے سے پہلے پچاس آیتیں پڑھ لے، اور جب مؤذن صبح کی پہلی اذان سے فارغ ہوجاتا تو آپ کھڑے ہوتے، اور دو ہلکی رکعتیں پڑھتے۔

It was narrated that Aisha (RA) said, and this is the Hadith of Abu Bakr (RA) : "During the period after he finished prayer the Isha until the Fajr, the Prophet ﷺ used to pray eleven Rakah, saying the Salam after each two Rakah and praying Witr with one Rak ah. He would prostrate for as long as it takes anyone of you to recite fifty Verses before he would raise his head. When the Muadh-dhin fell silent after the first Adhan for the Subh prayer, he would get up and pray two brief Rakah." (Sahih)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٣١٦ (١٣٣٦، ١٣٣٧)، سنن النسائی/الأذان ٤١ (٦٨٦)، (تحفة الأشراف: ١٥٦١٥، ١٦٦١٨، ومصباح الزجاجة: ٤٧٧)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان ١٢ (٦١٩)، ا التہجد ٣ (١١٢٣)، صحیح مسلم/المسافرین ١٧ (٧٣٦)، سنن الترمذی/الصلاہ ٢٠٩ (٤٤١)، موطا امام مالک/صلاة اللیل ٢ (٨)، مسند احمد (٦/٣٤، ٣٥)، سنن الدارمی/الصلاہ ١٤٨ (١٤٨٧) (صحیح) (بوصیری نے اس حدیث کی تخریج میں سنن کبریٰ کا ذکر کیا ہے، جب کہ یہ سنن صغری میں ہے، اس لئے یہ زدائد میں سے نہیں ہے، کما سیأتی: ٣٦١ أیضاً )
1359Sunan Ibne-Majah

رات کو تہجد کتنی رکعات پڑھے ؟

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ رات میں تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے۔

It was narrated that, Aisha (RA) said: "The Prophet ﷺ used to pray thirteen Rakah at night." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ١٧ (٧٣٧)، (تحفة الأشراف: ١٧٠٥٢)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/التہجد ١٠ (١١٤٠)، سنن ابی داود/الصلاة ٣١٦ (١٣٣٤)، سنن الترمذی/الصلاة ٢١٠ (٤٤٤)، موطا امام مالک/صلاة اللیل ٢ (٨) (صحیح) (دوسری روایت میں ہے کہ تیرہ رکعتوں میں ایک رکعت وتر کی، اور دو رکعت فجر کی سنت تھی، نیز دوسری احادیث میں ١١ رکعت کا ذکر ہے اس لئے بعض اہل علم نے ١٣ والی رکعت کو شاذ کہا ہے، ملاحظہ ہو: فتح الباری و تمام المنة)۔
1360Sunan Ibne-Majah

رات کو تہجد کتنی رکعات پڑھے ؟

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ تِسْعَ رَكَعَاتٍ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ رات میں نو رکعتیں پڑھتے تھے ١ ؎۔

It was narrated from, Aisha (RA) that the Prophet ﷺ used to pray nine Rakah at night. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس باب میں مختلف روایات وارد ہوئی ہیں، کسی میں سات رکعت ہے، کسی میں نو رکعت، کسی میں گیارہ رکعت، اور کسی میں تیرہ رکعت کا ذکر ہے، واضح رہے آپ ﷺ تہجد کی ہمیشہ آٹھ رکعت پڑھتے، اور یہ اختلاف وتر میں ہے کیونکہ آپ کبھی وتر کی ایک رکعت پڑھتے، تو کل نو رکعت ہوتیں، اور کبھی تین رکعت پڑھتے تو گیارہ رکعت ہوتیں، اور کبھی پانچ رکعت وتر پڑھتے تو سب مل کر تیرہ رکعت ہوجاتیں، اور بعض نے تیرہ رکعت کی اس طرح توجیہ کی ہے کہ آپ آٹھ رکعت تہجد، اور تین رکعت وتر، اور دو رکعت فجر کی سنتیں سب مل کر تیرہ رکعت ہوتیں ہیں پڑھتے تھے جیسا کہ آنے والی حدیث میں مذکور ہے واللہ اعلم۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٢١١ (٤٤٣، ٤٤٤)، سنن النسائی/قیام اللیل ٣٣ (١٦٩٧)، (تحفة الأشراف: ١٥٩٥١)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان ١٢ (٦١٩)، الوتر ٣ (١١٢٣)، صحیح مسلم/المسافرین ١٧ (٧٣٨)، سنن ابی داود/الصلاہ ٢٩٣ (١٣٣٤)، مسند احمد (٦/١٠٠، ٢٥٣)، سنن الدارمی/الصلاة ١٤٨، (١٤٨٧) (صحیح )
1361Sunan Ibne-Majah

رات کو تہجد کتنی رکعات پڑھے ؟

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ مَيْمُونٍ أَبُو عُبَيْدٍ الْمَدِينِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْأَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ، فَقَالَا: ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، مِنْهَا ثَمَانٍ وَيُوتِرُ بِثَلَاثٍ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْفَجْرِ.

عامر شعبی کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمر ؓ سے رسول اللہ ﷺ کی رات کی نماز کے متعلق پوچھا تو ان دونوں نے کہا: تیرہ رکعت، ان میں آٹھ رکعت (تہجد کی ہوتی) اور تین رکعت وتر ہوتی، اور دو رکعت فجر کے بعد کی۔

It was narrated that ‘Amir Ash·Shabi said: "I asked Abdullah bin Abbas and, Abdullah bin Umar about the Prophets prayer at night. They said: (He prayed) thirteen Rakah, including eight, and three for Witr, and two Rakah after the Fajr:" (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٧٧٠، ومصباح الزجاجة: ٤٧٦) (صحیح) (دوسری سندوں سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں ابواسحاق مدلس ہیں، اور عنعنہ سے روایت کی ہے )
1362Sunan Ibne-Majah

رات کو تہجد کتنی رکعات پڑھے ؟

حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعِ بْنِ ثَابِتٍ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَهُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: قُلْتُ: لَأَرْمُقَنَّ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّيْلَةَ، قَالَ: فَتَوَسَّدْتُ عَتَبَتَهُ أَوْ فُسْطَاطَهُ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَوْتَرَ، فَتِلْكَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً.

زید بن خالد جہنی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے جی میں کہا کہ میں آج رات رسول اللہ ﷺ کی نماز ضرور دیکھوں گا، میں نے آپ کی چوکھٹ یا خیمہ پر ٹیک لگا لیا، آپ کھڑے ہوئے، آپ نے دو ہلکی رکعتیں پڑھیں، پھر اس کے بعد دو رکعتیں کافی لمبی پڑھیں، پھر دو رکعتیں پچھلی دو رکعتوں سے کچھ ہلکی پڑھیں، پھر دو رکعتیں پچھلی دو رکعتوں سے ہلکی پڑھیں، پھر دو رکعتیں پچھلی دو رکعتوں سے ہلکی پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں، پھر وتر ادا کی تو یہ سب تیرہ رکعتیں ہوئیں ١ ؎۔

It was narrated that Zaid bin Khalid AI-Juhani said: "I said, I must observe how the Messenger of ﷺ Allah prays tonight. So I lay down at his door. The Messenger of Allah ﷺ got up and prayed two brief Rak’ah, then two long ones, which were very, very long, then two Rakah which were shorter than the ones preceding them, then two Rakah which were shorter than the ones preceding them, then two Rakah which were shorter than the ones preceding them, then two Rakah, then Witr. That was thirteen Rakah." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس روایت سے تہجد کی بارہ رکعت نکلتی ہیں، اور ایک رکعت وتر کی، اور احتمال ہے کہ تہجد کی آٹھ ہی رکعت ہوں، اور پانچ وتر کی ہوں، لیکن دو، دو رکعت الگ الگ پڑھنے سے راوی کو گمان ہوا ہو کہ یہ بھی تہجد ہے، واللہ اعلم۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ٢٦ (٧٦٥)، سنن ابی داود/الصلاة ٣١٦ (١٣٦٦)، (تحفة الأشراف: ٣٧٥٣)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/صلاة اللیل ٢ (١٣)، سنن الترمذی/الشمائل (٢٦٩)، مسند احمد (٥/١٩٢) (صحیح )