Sunan Ibne-Majah 1360

اقامت نماز اور اس کا طریقہ

1360Sunan Ibne-Majah

رات کو تہجد کتنی رکعات پڑھے ؟

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ تِسْعَ رَكَعَاتٍ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ رات میں نو رکعتیں پڑھتے تھے ١ ؎۔

It was narrated from, Aisha (RA) that the Prophet ﷺ used to pray nine Rakah at night. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس باب میں مختلف روایات وارد ہوئی ہیں، کسی میں سات رکعت ہے، کسی میں نو رکعت، کسی میں گیارہ رکعت، اور کسی میں تیرہ رکعت کا ذکر ہے، واضح رہے آپ ﷺ تہجد کی ہمیشہ آٹھ رکعت پڑھتے، اور یہ اختلاف وتر میں ہے کیونکہ آپ کبھی وتر کی ایک رکعت پڑھتے، تو کل نو رکعت ہوتیں، اور کبھی تین رکعت پڑھتے تو گیارہ رکعت ہوتیں، اور کبھی پانچ رکعت وتر پڑھتے تو سب مل کر تیرہ رکعت ہوجاتیں، اور بعض نے تیرہ رکعت کی اس طرح توجیہ کی ہے کہ آپ آٹھ رکعت تہجد، اور تین رکعت وتر، اور دو رکعت فجر کی سنتیں سب مل کر تیرہ رکعت ہوتیں ہیں پڑھتے تھے جیسا کہ آنے والی حدیث میں مذکور ہے واللہ اعلم۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٢١١ (٤٤٣، ٤٤٤)، سنن النسائی/قیام اللیل ٣٣ (١٦٩٧)، (تحفة الأشراف: ١٥٩٥١)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان ١٢ (٦١٩)، الوتر ٣ (١١٢٣)، صحیح مسلم/المسافرین ١٧ (٧٣٨)، سنن ابی داود/الصلاہ ٢٩٣ (١٣٣٤)، مسند احمد (٦/١٠٠، ٢٥٣)، سنن الدارمی/الصلاة ١٤٨، (١٤٨٧) (صحیح )