جب نمازی کو اونگھ آنے لگے
حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى اللَّيْثِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَرَأَى حَبْلًا مَمْدُودًا بَيْنَ سَارِيَتَيْنِ، فَقَالَ: مَا هَذَا الْحَبْلُ؟، قَالُوا لِزَيْنَبَ: تُصَلِّي فِيهِ، فَإِذَا فَتَرَتْ تَعَلَّقَتْ بِهِ، فَقَالَ: حُلُّوهُ حُلُّوهُ لِيُصَلِّ أَحَدُكُمْ نَشَاطَهُ، فَإِذَا فَتَرَ فَلْيَقْعُدْ.
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں داخل ہوئے، تو دو ستونوں کے درمیان ایک رسی تنی ہوئی دیکھی، پوچھا یہ رسی کیسی ہے؟ لوگوں نے کہا: زینب کی ہے، وہ یہاں نماز پڑھتی ہیں، جب تھک جاتی ہیں تو اسی رسی سے لٹک جاتی ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: اسے کھول دو، اسے کھول دو، تم میں سے نماز پڑھنے والے کو نماز اپنی نشاط اور چستی میں پڑھنی چاہیئے، اور جب تھک جائے تو بیٹھ رہے ١ ؎۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah ﷺ entered the Masjid and saw a rope tied between two pillars. He said, "What is this rope?" They said: "It belongs to Zainab. She prays here and when she gets tired she holds on to it." He said: "Untie it, untie it, and let any one of you pray when he has energy, and if he gets tired let him sit down." (Sahih)