پانچ نمازوں کی فرضیت اور ان کی نگہداشت کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُصْمٍ أَبِي عُلْوَانَ، عَنْابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أُمِرَ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَمْسِينَ صَلَاةً، فَنَازَلَ رَبَّكُمْ أَنْ يَجْعَلَهَا خَمْسَ صَلَوَاتٍ.
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ تمہارے نبی ( ﷺ ) کو پچاس نمازوں کا حکم ہوا، پھر آپ ﷺ نے تمہارے رب سے تخفیف چاہی کہ پچاس کو پانچ کر دے۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "Your Prophet ﷺ was enjoined to do fifty prayers but he returned to your Lord to make (i.e. reduce) them five prayers: (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد یہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٨٠٨، ومصباح الزجاجة: ٤٩٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣١٥) (صحیح) (سند میں شریک ضعیف ہیں، لیکن اگلی حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، نیز شواہد کے لئے دیکھئے: مصباح الزجاجة ٤٩٨ ابن ماجہ میں ابن عباس ہے، اور صحیح ابن عمر ہے جیسا کہ سنن ابی داود ( ١؍١٧١ ) میں ہے، اور اس کی سند میں ایوب بن جابر ضعیف ہے۔