Sunan Ibne-Majah 1427

اقامت نماز اور اس کا طریقہ

1427Sunan Ibne-Majah

نفل نماوہاں نہ پڑھے جہاں فرض پڑھے

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيل، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ إِذَا صَلَّى أَنْ يَتَقَدَّمَ أَوْ يَتَأَخَّرَ، أَوْ عَنْ يَمِينِهِ أَوْ عَنْ شِمَالِهِ؟يَعْنِي: السُّبْحَةَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کیا تم میں کا کوئی اتنا عاجز و مجبور ہے کہ جب (فرض) نماز پڑھ چکے تو نفل کے لیے آگے بڑھ جائے، یا پیچھے ہٹ جائے، یا دائیں، بائیں ہوجائے ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: "Is anyone of you incapable, when he prays, of stepping forward or backwards, or to his right or left?" meaning in order to offer a voluntary prayer. (Daif)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأاذان ٥٧ (٨٤٨) تعلیقاً، سنن ابی داود/الصلاة ١٩٤ (١٠٠٦)، (تحفة الأشراف: ١٢١٧٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٢٥) (صحیح) (سند میں لیث بن أبی سلیم ضعیف، اور ابراہیم بن اسماعیل مجہول الحال ہیں، لیکن حدیث شواہد کی بناء پر صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: ٦٢٩ ، ٩٢٢ ، ١٠٣٤ )