Sunan Ibne-Majah 1451

جنازوں کا بیان

1451Sunan Ibne-Majah

مومن کو نزع یعنی موت کی سختی میں اجر و ثواب حاصل ہوتا ہے

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا، وَعِنْدَهَا حَمِيمٌ لَهَا يَخْنُقُهُ الْمَوْتُ، فَلَمَّا رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بِهَا قَالَ لَهَا: لَا تَبْتَئِسِي عَلَى حَمِيمِكِ، فَإِنَّ ذَلِكَ مِنْ حَسَنَاتِهِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ان کے پاس گئے، وہاں پر عائشہ ؓ کے ایک رشتہ دار کا موت سے دم گھٹ رہا تھا، جب نبی اکرم ﷺ نے عائشہ ؓ کا رنج دیکھا تو ان سے فرمایا: تم اپنے رشتہ دار پر غم زدہ نہ ہو، کیونکہ یہ اس کی نیکیوں میں سے ہے ۔

It was narrated from Aisha (RA) that the Messenger of Allah ﷺ entered upon her and there was a close relative of hers who was in the throes of death. When the Prophet ﷺ saw how upset she was, he said: "Do not grieve for your relative, for that is part of his Hasaruit (merits)." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٣٨٣، ومصباح الزجاجة: ٥١٤) (ضعیف) ( اس کی سند میں ولید بن مسلم ہیں، جو کثیر التدلیس و التسویہ ہیں، گرچہ یہاں پر صیغہ تحدیث کا ہے، لیکن رواة کے اسقاط سے تدلس التسویة کا احتمال باقی ہے کہ درمیان سے کوئی راوی ساقط کردیا ہو، ملاحظہ ہو : تہذب الکمال : ٣١/٩٧ )