جنازوں کا بیان

Sunan Ibne-Majah · Chapter 8 · 206 hadiths · Page 2 of 11

1453Sunan Ibne-Majah

مومن کو نزع یعنی موت کی سختی میں اجر و ثواب حاصل ہوتا ہے

حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ كَرْدَمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْأَبِي مُوسَى، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَتَى تَنْقَطِعُ مَعْرِفَةُ الْعَبْدِ مِنَ النَّاسِ؟، قَالَ: إِذَا عَايَنَ.

ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: بندے سے لوگوں کی پہچان کب ختم ہوجاتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جب وہ (موت کے فرشتوں کو) دیکھ لیتا ہے ۔

It was narrated that Abu Musa said: "I asked the Messenger of Allah ﷺ When does a person stop recognizing people? He said When he sees:(Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩١٣٠، ومصباح الزجاجة: ٥١٥) (ضعیف جدًا) ( اس میں نصر بن حماد ہے، جس پر حدیث گھڑنے کی تہمت ہے )
1454Sunan Ibne-Majah

میّت کی آنکھیں بند کرنا

1454 حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق الْفَزَارِيُّ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي سَلَمَةَ، وَقَدْ شَقَّ بَصَرُهُ، فَأَغْمَضَهُ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ الرُّوحَ إِذَا قُبِضَ تَبِعَهُ الْبَصَرُ.

ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ابوسلمہ ؓ کے پاس گئے، ان کی آنکھ کھلی ہوئی تھی، تو آپ ﷺ نے اسے بند کردیا، پھر فرمایا: جب روح قبض کی جاتی ہے، تو آنکھ اس کا پیچھا کرتی ہے ١ ؎۔

It was narrated that Umm Salamah said: "The Messenger of Allah ﷺ entered upon Abu Salamah (after he had died), and his eyes were wide open. He closed his eyes, then he said. When the soul is taken, the sight allows it:" (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: مردے کی آنکھ اس واسطے کھلی رہ جاتی ہے کہ روح کو جاتے وقت وہ دیکھتا ہے، پھر آنکھ بند کرنے کی طاقت نہیں رہتی اس لئے آنکھ کھلی رہ جاتی ہے،واللہ اعلم۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجنائز ٤ (٩٢٠)، سنن ابی داود/الجنائز ٢١ (٣١١٨)، (تحفة الأشراف: ١٨٢٠٥)، مسند احمد (٦/٢٩٧) (صحیح )
1455Sunan Ibne-Majah

میّت کی آنکھیں بند کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا قَزَعَةُ بْنُ سُوَيْدٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا حَضَرْتُمْ مَوْتَاكُمْ فَأَغْمِضُوا الْبَصَرَ، فَإِنَّ الْبَصَرَ يَتْبَعُ الرُّوحَ، وَقُولُوا خَيْرًا، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُؤَمِّنُ عَلَى مَا قَالَ أَهْلُ الْبَيْتِ.

شداد بن اوس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم اپنے مردوں کے پاس جاؤ تو ان کی آنکھیں بند کر دو، اس لیے کہ آنکھ روح کا پیچھا کرتی ہے، اور (میت کے پاس) اچھی بات کہو، کیونکہ فرشتے گھر والوں کی بات پر آمین کہتے ہیں ۔

It was narrated from Sha dd ad bin Aws that the Messenger of Allah ﷺ said: "When you come to your dead ones, close their eyes, for the sight follows the soul. And say good things, for the Angels say Amin to what the members of the household say. " (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٨٢٨، ومصباح الزجاجة: ٥١٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٢٥) (حسن) (سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ١٠٩٢ )
1456Sunan Ibne-Majah

میّت کا بوسہ لینا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْالْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَبَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ وَهُوَ مَيِّتٌ، فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى دُمُوعِهِ تَسِيلُ عَلَى خَدَّيْهِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عثمان بن مظعون ؓ ١ ؎ کا بوسہ لیا، اور وہ مردہ تھے، گویا کہ میں نبی اکرم ﷺ کے آنسوؤں کو دیکھ رہی ہوں جو آپ کے رخسار مبارک پہ بہہ رہے تھے۔

It was narrated that Aisha (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ kissed Uthmn bin Mazun when he had died, and it is as if I can see him with his tears flowing down his cheeks." (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: عثمان بن مظعون ؓ نبی اکرم ﷺ کے رضاعی بھائی تھے، اور دونوں ہجرتوں میں شریک تھے، اور بدر کی لڑائی میں حاضر تھے، اور مہاجرین میں سے مدینہ میں سب سے پہلے آپ ہی کی وفات ہوئی، شعبان کے مہینے میں ہجرت کے ڈھائی سال کے بعد، اور جب آپ دفن ہوئے تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ہمارا پیش خیمہ اچھا ہے، اور وہ بقیع میں دفن ہوئے، عابد، زاہد اور فضلائے صحابہ میں سے تھے، اور نبی کریم ﷺ نے ایک پتھر خود اٹھایا اور ان کی قبر پر رکھا، ؓ وأرضاہ۔ ٢ ؎: اس حدیث سے میت پر رونے کا جواز ثابت ہوتا ہے، رہی ممانعت والی روایت تو اسے آواز اور جزع و فزع (بےصبری) کے ساتھ رونے پر محمول کیا جائے گا، یا یہ ممانعت عورتوں کے ساتھ مخصوص ہوگی کیونکہ اکثر وہ بےصبری ہوتی ہیں، اور رونے پیٹنے لگتی ہیں، اس لئے سدباب کے طور پر انہیں اس سے منع کردیا گیا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الجنائز ٤٠ (٣١٦٣)، سنن الترمذی/الجنائز ١٤ (٩٨٩)، (تحفة الأشراف: ١٧٤٥٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٣، ٥٥، ٢٠٦٧) (صحیح) (دوسری سند سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں عاصم بن عبیداللہ ضعیف ہیں، تراجع الألبانی، رقم: ٤٩٥ )
1457Sunan Ibne-Majah

میّت کا بوسہ لینا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، وَسَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْسُفْيَانَ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَائِشَةَ: أَنَّ أَبَا بَكْرٍ قَبَّلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مَيِّتٌ.

عبداللہ بن عباس اور عائشہ ؓ کہتے ہیں کہ ابوبکر ؓ نے نبی اکرم ﷺ کا بوسہ لیا، اور آپ کی وفات ہوچکی تھی۔

It was narrated from Ibn Abbas and Aisha (RA) that Abu Bakr (RA) kissed the Prophet ﷺ when he died. (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المغازي ٨٣ (٤٤٥٥، ٤٤٥٦)، الطب ٢١ (٥٧٠٩)، سنن الترمذی/الشمائل ٥٣ (٣٧٣)، سنن النسائی/الجنائز ١١ ١٨٤١)، (تحفة الأشراف: ٥٨٦٠، ١٦٣١٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٥٥) (صحیح )
1458Sunan Ibne-Majah

میّت کو نہلانا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ نُغَسِّلُ ابْنَتَهُ أُمَّ كُلْثُومٍ، فَقَالَ: اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي، فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ، فَأَلْقَى إِلَيْنَا حَقْوَهُ، وَقَالَ: أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ.

ام عطیہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس آئے، ہم آپ کی بیٹی ام کلثوم ؓ کو غسل دے رہے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: انہیں تین بار، یا پانچ بار، یا اس سے زیادہ اگر تم مناسب سمجھو تو پانی اور بیری کے پتے سے غسل دو ١ ؎، اور اخیر بار کے غسل میں کافور یا کہا: تھوڑا سا کافور ملا لو، جب تم غسل سے فارغ ہوجاؤ تو مجھے خبر کرو ، لہٰذا جب ہم غسل سے فارغ ہوئے تو ہم نے آپ ﷺ کو خبر کی، آپ نے اپنا تہبند ہماری طرف پھینکا اور فرمایا: اسے جسم سے متصل کفن میں سب سے نیچے رکھو ٢ ؎۔

Muhammad bin Sirin narrated that Umm Atiyyah said: "The Messenger of Allah ﷺ entered upon us when we were washing his daughter Umm Kulthum. He said: Wash her three Or five times, or more than that if you think you need to, with water and lote leaves, and put camphor or a little camphor in (the water) for the last Washing. When you have finished, call for me. When we finished, we called him, and he gave his waist-wrapper to us andsaid: Shroud her with it. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: بیری کا پتہ استعمال کرنا مستحب ہے کیونکہ وہ میل کچیل کو صاف کرتا ہے، کیڑوں کو دفع کرتا ہے، اور بدبو کو بھی ختم کرتا ہے۔ ٢ ؎: شعار یعنی (اندر کا کپڑا) عربی میں اس کو کہتے ہیں جو کپڑا جسم سے لگا رہے، بطور تبرک آپ ﷺ نے اپنا کپڑا ام کلثوم ؓ کو دیا، اور اس حدیث سے یہ بھی پتہ چلا کہ غسل میں کافور ملانا بھی مستحب ہے، بہتر یہ ہے کہ اخیر بار جو غسل دیں اس میں کافور ملا ہوا ہو، جیسا کہ حدیث میں مذکور ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٣١ (١٦٧)، الجنائز ٨ (١٢٥٣)، ٩ (١٢٥٤)، ١٠ (١٢٥٥)، ١١ (١٢٥٦)، ١٢ (١٢٥٧)، ١٣ (١٢٥٨)، ١٤ (١٢٦٠)، ١٥ (١٢٦١)، ١٦ (١٢٦٢)، ١٧ (١٢٦٣)، صحیح مسلم/الجنائز ١٢ (٩٣٩)، سنن ابی داود/الجنائز ٣٣ (٣١٤٦٣١٤٢)، سنن النسائی/الجنائز ٢٨ (١٨٨٢)، ٣٠ (١٨٨٤)، ٣٦ (١٨٩٥)، (تحفة الأشراف: ١٨٠٩٤)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الجنائز ١٥ (٩٩٠)، موطا امام مالک/الجنائز ١ (٢)، مسند احمد (٦/٤٠٧، ٤٠٨، ٥/٨٤، ٨٥، ٤٠٧) (صحیح )
1459Sunan Ibne-Majah

میّت کو نہلانا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، حَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، بِمِثْلِ حَدِيثِ مُحَمَّدٍ، وَكَانَ فِي حَدِيثِ حَفْصَةَاغْسِلْنَهَا وِتْرًا، وَكَانَ فِيهِ اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا، أَوْ خَمْسًا، وَكَانَ فِيهِ ابْدَءُوا بِمَيَامِنِهَا، وَمَوَاضِعِ الْوُضُوءِ مِنْهَا، وَكَانَ فِيهِ أَنَّ أُمَّ عَطِيَّةَ قَالَتْ: وَامْشِطْنَهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ.

اس سند سے بھی ام عطیہ ؓ سے محمد بن سیرین کی سابقہ حدیث کی طرح مروی ہے اور حفصہ ؓ کی روایت میں یہ ہے کہ: ان کو طاق بار غسل دو ، اور اس میں یہ بھی ہے کہ: انہیں تین بار یا پانچ بار غسل دو، اور دائیں طرف کے اعضاء وضو سے غسل شروع کرو ۔ اور اس روایت میں یہ بھی ہے کہ ام عطیہ ؓ نے کہا: ہم نے ان کے بالوں میں کنگھی کر کے تین چوٹیاں کردیں ١ ؎۔

It was narrated from Ayyub who said: "Hafsah narrated to me, from Umm Atiyyah" and it is similar to the Hadith of Muhammad. And in the narration of Hafsah it says: "Wash her an odd number of times." And: "Wash her three or five times," And "Start on her right, with the places washed in ablution." And it says that Umm Atiyyah said: "And we combed her hair into three braids." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: امام ابن القیم نے کہا کہ بالوں میں سنت یہی ہے کہ ان کی تین چوٹیاں کی جائیں، صحیحین میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ان کے بالوں کی تین چوٹیاں کر دو، ام عطیہ ؓ نے کہا کہ ہم نے ان کا سر گوندھا، دو حصے کر کے دونوں چھاتیوں پر ڈال دیئے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ الجنائز ٩ (١٢٥٤)، ١٣ (١٢٥٨)، صحیح مسلم/الجنائز ١٢ (٩٣٩)، سنن النسائی/الجنائز ٣٤ (١٨٨٩)، (تحفة الأشراف: ١٨١١٥) (صحیح )
1460Sunan Ibne-Majah

میّت کو نہلانا

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُبْرِزْ فَخِذَكَ، وَلَا تَنْظُرْ إِلَى فَخِذِ حَيٍّ، وَلَا مَيِّتٍ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا: تم اپنی ران نہ کھولو، اور کسی زندہ یا مردہ کی ران نہ دیکھو ۔

It was narrated that Ali said: "The Prophet ﷺ said to me: Do not show your thigh, and do not look at the thigh of anyone, living or dead. (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎ اس حدیث کو مؤلف نے اس باب میں اس لئے ذکر کیا ہے کہ مردے کو غسل دینے میں اس کی ران نہ کھولیں اور نہ ستر بلکہ کپڑا ستر پر ڈھانپ کر غسل دیں کیونکہ ستر مردہ اور زندہ کا یکساں ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الجنائز ٣٢ (٣١٤٠)، (تحفة الأشراف: ١٠١٣٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٤٦) (ضعیف جدًا) (بشربن آدم ضعیف ہیں، نیز سند میں دو جگہ انقطاع ہے، ابن جریج اور حبیب کے درمیان، اور حبیب اور عاصم کے درمیان، ملاحظہ ہو: الإرواء: ٢٦٩ )
1461Sunan Ibne-Majah

میّت کو نہلانا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ مُبَشِّرِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِيُغَسِّلْ مَوْتَاكُمُ الْمَأْمُونُونَ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہارے مردوں کو امانت دار لوگ غسل دیں ۔

It was narrated from Abdullah bin Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: Let the honest wash your dead." (Maudu)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٧٣٩، ومصباح الزجاجة: ٥١٧) (موضوع) (اس کی سند میں بقیہ بن الولید مدلس ہیں، نیز ان کے شیخ مبشر بن عبید پر حدیث وضع کرنے کی تہمت ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٤٣٩٥ )
1462Sunan Ibne-Majah

میّت کو نہلانا

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ غَسَّلَ مَيِّتًا وَكَفَّنَهُ وَحَنَّطَهُ وَحَمَلَهُ وَصَلَّى عَلَيْهِ، وَلَمْ يُفْشِ عَلَيْهِ مَا رَأَى، خَرَجَ مِنْ خَطِيئَتِهِ مِثْلَ يَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے کسی مردے کو غسل دیا، اسے کفن پہنایا، اسے خوشبو لگائی، اور اسے کندھا دے کر قبرستان لے گیا، اس پہ نماز جنازہ پڑھی، اور اگر کوئی عیب دیکھا تو اسے پھیلایا نہیں، تو وہ اپنے گناہوں سے اس طرح پاک ہوگیا جیسے وہ اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا ۔

It was narrated from Ali that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever washes a deceased person, shrouds him, embalms him, carries him and offers the funeral prayer for him, and does not disclose wha t he has seen, he will emerge from his sins as on the day his mother bore him." (Maudu)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠١٣٤، ومصباح الزجاجة: ٥١٨) (ضعیف جدًا) (اس کی سند میں عباد بن کثیر ہے جن کے بارے میں امام احمد نے کہا ہے کہ غفلت کے سبب جھوٹی حدیثیں روایت کرتے ہیں، نیز اس کی سند میں عمرو بن خالد کذاب ہے )
1463Sunan Ibne-Majah

میّت کو نہلانا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْأَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ غَسَّلَ مَيِّتًا فَلْيَغْتَسِلْ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کسی مردے کو غسل دے وہ خود بھی غسل کرے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever washes a dead person, let him take a bath. " (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حکم مستحب ہے، کیونکہ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ليس عليكم في غسل ميتكم إذا اغسلتموه أن ميتكم يموت طاهرًا، وليس بنجس فحسبکم أن يغسلوا أيديكم جب تم لوگ اپنے میت کو غسل دو، تو تمہارے اوپر کچھ نہیں ہے، سوائے اس کہ تم اپنے ہاتھوں کو دھو لو، کیونکہ تمہارے میت پاک و صاف ہو کر وفات پائے ہیں وہ نجس نہیں ہیں نیز امام خطابی فرماتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ کسی بھی عالم نے میت کو غسل دینے سے یا اسے اٹھانے سے غسل کو واجب کہا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الجنائز ١٧ (٩٩٣)، (تحفة الأشراف: ١٢٧٢٦)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجنائز ٣٩ (٣١٦١)، مسند احمد (٢/٢٧٢) (صحیح )
1464Sunan Ibne-Majah

مرد کا اپنی بیوی کو اور بیوی کا خاوند کو غسل دینا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الذَّهَبِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَوْ كُنْتُ اسْتَقْبَلْتُ مِنَ الأَمْرِ، مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا غَسَّلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ نِسَائِهِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ اگر مجھے اپنی اس بات کا علم پہلے ہی ہوگیا ہوتا جو بعد میں ہوا تو نبی اکرم ﷺ کو آپ کی بیویاں ہی غسل دیتیں ١ ؎۔

It was narrated that , Aisha (RA) said: "If I had known then what I know now, no one would have washed the Prophet ﷺ but his wives." (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عورت اپنے شوہر کو غسل دے سکتی ہے کیونکہ بیوی محرم راز ہوتی ہے، اور اس سے ستر بھی نہیں ہوتا، پس اس کا غسل دینا شوہر کو بہ نسبت دوسروں کے اولیٰ اور بہتر ہے، اور ابوبکر صدیق ؓ کو ان کی بیوی اسماء بنت عمیس ؓ نے غسل دیا، اور کسی صحابی نے اس پر نکیر نہیں کی، اور یہ مسئلہ اتفاقی ہے، نیز ام المؤمنین عائشہ ؓ نے نبی اکرم ﷺ کو غسل نہ دے سکنے پر افسوس کا اظہار کیا ہے، اگر یہ جائز نہ ہوتا تو وہ افسوس کا اظہار نہ کرتیں، جیسا کہ امام بیہقی فرماتے ہیں: فتلهفت على ذلک ولا يتلهف إلا على ما يجوز۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦١٨٢، ومصباح الزجاجة: ٥١٩)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجنائز ٣٢ (٣١٤١)، مسند احمد (٦/٢٦٧) (صحیح) (سند میں ابن اسحاق مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، لیکن منتقی ابن الجارو د، صحیح ابن حبان اور مستدرک الحاکم میں تحد یث کی صراحت ہے، دفاع عن الحدیث النبوی ٥٣ -٥٤، والإرواء: ٧٠٠ )
1465Sunan Ibne-Majah

مرد کا اپنی بیوی کو اور بیوی کا خاوند کو غسل دینا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْبَقِيعِ، فَوَجَدَنِي وَأَنَا أَجِدُ صُدَاعًا فِي رَأْسِي، وَأَنَا أَقُولُ وَا رَأْسَاهُ، فَقَالَ: بَلْ أَنَا يَا عَائِشَةُ وَا رَأْسَاهُ، ثُمَّ قَالَ: مَا ضَرَّكِ لَوْ مِتِّ قَبْلِي، فَقُمْتُ عَلَيْكِ فَغَسَّلْتُكِ، وَكَفَّنْتُكِ، وَصَلَّيْتُ عَلَيْكِ، وَدَفَنْتُكِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بقیع سے لوٹے تو مجھے اس حال میں پایا کہ میرے سر میں درد ہو رہا تھا، اور میں کہہ رہی تھی: ہائے سر!، تو آپ ﷺ نے فرمایا: بلکہ اے عائشہ! میں ہائے سر کہتا ہوں ١ ؎، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: تمہارا کیا نقصان ہوگا اگر تم مجھ سے پہلے مرو گی تو تمہارے سارے کام میں انجام دوں گا، تمہیں غسل دلاؤں گا، تمہاری تکفین کروں گا، تمہاری نماز جنازہ پڑھاؤں گا، اور تمہیں دفن کروں گا ۔

It was narrated that , Aisha (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ came back from Al-Baqi and I had a headache and was saying: O my head! He said: Rather, I should say, O my head, o Aisha (RA) ! Then he said: It will not matter if you were to die before me, for I will take care of you, wash you, shroud you, offer the funeral prayer for you and bury you." (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اے عائشہ! بلکہ میرے سر میں درد ہو رہا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦٣١٣، ومصباح الزجاجة: ٥٢٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٢٨)، سنن الدارمی/المقدمة ١٤ (٨١) (حسن )
1466Sunan Ibne-Majah

آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کیسے غسل دیا گیا ؟

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْأَزْهَرِ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمَّا أَخَذُوا فِي غُسْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَادَاهُمْ مُنَادٍ مِنَ الدَّاخِلِ، لَا تَنْزِعُوا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَمِيصَهُ.

بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ جب لوگوں نے نبی اکرم ﷺ کو غسل دینا شروع کیا ١ ؎ تو کسی آواز لگانے والے نے اندر سے آواز لگائی کہ رسول اللہ ﷺ کا کرتہ نہ اتارو۔

It was narrated from Abu Buraidah that his father said: "When they started to wash the Prophet ﷺ a voice called out from inside (the house) saying: Do not remove the shirt of the Messenger of Allah ﷺ ". (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی آپ ﷺ کے کپڑے نکالنے کے سلسلے میں متردد ہوئے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٩٤٢، ومصباح الزجاجة: ٥٢١) (منکر) (اس کی سند میں ابو بردہ عمر و بن یزید التیمی ضعیف ہیں )
1467Sunan Ibne-Majah

آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کیسے غسل دیا گیا ؟

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خِذَامٍ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: لَمَّا غَسَّلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ذَهَبَ يَلْتَمِسُ مِنْهُ مَا يَلْتَمِسُ مِنَ الْمَيِّتِ، فَلَمْ يَجِدْهُ، فَقَالَ بِأَبِي الطَّيِّبُ: طِبْتَ حَيًّا وَطِبْتَ مَيِّتًا.

علی بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ جب انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو غسل دیا، تو آپ کے جسم مبارک سے وہ ڈھونڈنے لگے جو میت کے جسم میں ڈھونڈتے ہیں ١ ؎ لیکن کچھ نہ پایا، تو کہا: میرے باپ آپ پر قربان ہوں، آپ پاک صاف ہیں، آپ زندگی میں بھی پاک تھے، مرنے کے بعد بھی پاک رہے ٢ ؎۔

It was narrated that Ali bin Abu Talib said that when he washed the Messenger of Allah ﷺ he looked for what which is usually looked for on the deceased (i.e., dirt), and he found none. He said: "May my father be sacrificed for you, you are pure; you were pure in life and you are pure in death." (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی نجاست وغیرہ۔ ٢ ؎: نبی اکرم ﷺ کے مزاج میں اللہ تعالیٰ نے نہایت نفاست، لطافت اور طہارت رکھی تھی، آپ خوشبو کا بہت استعمال کرتے تھے اور بدبو سے نہایت نفرت کرتے، آپ کے کپڑے اور بدن ہمیشہ معطر رہتے، یہاں تک کہ آپ جس کوچہ اور گلی سے چلے جاتے تو وہ معطر ہوجاتا، اور لوگ پہچان لیتے کہ آپ ادھر سے تشریف لے گئے ہیں، ایک بار آپ ﷺ نے شہد کا استعمال کیا، تو بعض ازواج مطہرات ؓن نے کہا کہ آپ کے منہ سے مغافیر (گوند) کی بو آتی ہے، آپ نے شہد کا استعمال اپنے اوپر حرام کرلیا، غرض آپ اس سے بہت بچتے تھے کہ آپ کے کپڑے یا بدن میں کسی قسم کی بو ہو جو دوسرے کو بری معلوم ہو، اور اسی وجہ سے آپ کچی پیاز یا لہسن نہیں کھاتے تھے، جب نبی اکرم ﷺ منافقوں کے سردار عبداللہ بن ابی ابن سلول سے ملنے گئے، جو بڑا دنیا دار اور مال دار تھا، تو وہ کہنے لگا کہ آپ اپنے گدھے کو مجھ سے ذرا دور رکھئیے اس کی بدبو سے مجھے تکلیف ہوتی ہے، صحابہ کرام ؓ نے جواب دیا کہ قسم اللہ کی! آپ ﷺ کے گدھے کی بو تیرے بدن کی بو سے اچھی ہے، غرض سر سے پاؤں تک آپ لطافت و طہارت اور خوشبو ہی میں ڈوبے ہوئے تھے، اللہ تعالیٰ نے وفات کے بعد بھی آپ کو پاک و صاف رکھا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠١١٥، ومصباح الزجاجة: ٥٢٢) (صحیح) (اس کی سند میں یحییٰ بن خذام مجہول ہیں، لیکن متابعت کی وجہ سے سند صحیح ہے )
1468Sunan Ibne-Majah

آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کیسے غسل دیا گیا ؟

حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَنَا مُتُّ فَاغْسِلْنِي بِسَبْعِ قِرَبٍ مِنْ بِئْرِي بِئْرِ غَرْسٍ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب میں انتقال کر جاؤں تو مجھے میرے کنویں (بئر غرس) کے سات مشکیزوں سے غسل دینا ۔

It was narrated from Ali that the Messenger of Allah ﷺ said: "When I die, then wash me with seven buckets from my well, the well of Ghars. " (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠١٦٤، ومصباح الزجاجة: ٥٢٣) (ضعیف) (اس کی سند میں عباد بن یعقوب متروک ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ١٢٣٧ )
1469Sunan Ibne-Majah

نبی اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کفن

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُفِّنَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ يَمَانِيَةٍ، لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ، وَلَا عِمَامَةٌ، فَقِيلَ لِعَائِشَةَ: إِنَّهُمْ كَانُوا يَزْعُمُونَ أَنَّهُ قَدْ كَانَ كُفِّنَ فِي حِبَرَةٍ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: قَدْ جَاءُوا بِبُرْدِ حِبَرَةٍ فَلَمْ يُكَفِّنُوهُ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کو تین سفید یمنی کپڑوں میں کفنایا گیا، جس میں کرتہ اور عمامہ نہ تھا، ام المؤمنین عائشہ ؓ سے پوچھا گیا کہ لوگ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ کو دھاری دار چادر میں کفنایا گیا تھا؟ تو عائشہ ؓ نے کہا: لوگ دھاری دار چادر لائے تھے مگر انہوں نے آپ ﷺ کو اس میں نہیں کفنایا ١ ؎۔

It was narrated from Aisha (RA) that the Prophet ﷺ was shrouded in three white Yemeni cloths, among which there was no shirt and no turban. It was said to Aisha (RA) : "They used to claim that he was shrouded in Hibarah." Aisha (RA) said: "They brought a Hibarah Burd, but they did not shroud him in it." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ سفید کپڑا کفن کے لیے بہتر ہے، یہ بھی معلوم ہوا کہ تین کپڑوں سے زیادہ مکروہ ہے بالخصوص عمامہ جسے متاخرین حنفیہ اور مالکیہ نے رواج دیا ہے، یہ بدعت ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجنائز ١٣ (٩٤١)، سنن ابی داود/الجنائز ٣٤ (٣١٥٢)، سنن الترمذی/الجنائز ٢٠ (٩٩٦)، سنن النسائی/الجنائز ٣٩ (١٩٠٠)، (تحفة الأشراف: ١٦٧٨٦)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجنائز ١٨ (١٢٦٤)، ٢٣ (١٢٧١)، ٢٤ (١٢٧٢)، ٩٤ (١٣٨٧)، موطا امام مالک/الجنائز ٢ (٥) مسند احمد (٦/٤٠، ٩٣، ١١٨، ١٣٢، ١٦٥) (صحیح )
1470Sunan Ibne-Majah

نبی اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کفن

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: هَذَا مَا سَمِعْتُ مِنْ أَبِي مُعَيْدٍ حَفْصِ بْنِ غَيْلَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: كُفِّنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثِ رِيَاطٍ بِيضٍ سُحُولِيَّةٍ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سحول کے بنے ہوئے تین باریک سفید کپڑوں میں کفنائے گئے۔

It was narrated that Abdullah bin Umar said: "The Messenger of Allah ﷺ was shrouded in three thin white Suhuli cloths: (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: سحول: یمن کے ایک گاؤں کا نام ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٦٧٦، ومصباح الزجاجة: ٥٢٤) (حسن صحیح) (عائشہ ؓ کی سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں عمرو بن ابی سلمہ ضعیف ہیں )
1471Sunan Ibne-Majah

نبی اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کفن

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كُفِّنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ، قَمِيصُهُ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ، وَحُلَّةٌ نَجْرَانِيَّةٌ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تین کپڑوں میں کفنائے گئے، ایک اپنی قمیص میں جس میں آپ ﷺ نے وفات پائی تھی، اور دوسرے نجرانی ١ ؎ جوڑے میں۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "The Messenger of Allah ﷺ was shrouded in three garments: The shirt in which he died, and a Najrani Hullah.(Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: نجران: یمن سے متصل سعودی عرب کے ایک علاقہ کا نام ہے، اور نجران مشہور شہر بھی ہے۔
Takhrij · تخریج
حدیث یزید بن أبي زیاد عن الحکم تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٤٨٥)، وحدث یزید بن أبي زیاد عن مقسم أخرجہ، سنن ابی داود/الجنائز ٣٤ (٣١٥٣)، (تحفة الأشراف: ٦٤٩٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٢٢) (ضعیف) (اس کی سند میں یزید بن أبی زیاد ضعیف ہیں )
1472Sunan Ibne-Majah

مستحب کفن

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ الْمَكِّيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَيْرُ ثِيَابِكُمُ الْبَيَاضُ، فَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ، وَالْبَسُوهَا.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہارے کپڑوں میں سب سے بہتر سفید کپڑا ہے، لہٰذا تم اپنے مردوں کو اسی میں کفناؤ، اور اسی کو پہنو ۔

It was narrated from Ibn Abbas that the Messenger of Allah ﷺ said: "The best of your garments are those which are white, so shroud your dead in them, and wear them." (Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/اللباس ١٦ (٤٠٦١)، سنن الترمذی/الجنائز ١٨ (٩٩٤)، (تحفة الأشراف: ٥٥٣٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٣١، ٢٤٧، ٢٧٤، ٣٦٨، ٣٥٥، ٣٦٣)، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: (٣٥٦٦) (صحیح )