ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کی تجہیز و تکفین کا ذمہ دار ہو، تو اسے اچھا کفن دے ۔
It was narrated from Abu Qatadah that the Messenger of Allah ﷺ said: "If anyone of you is charged with taking care of his brother (after death), let him shroud him well." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اچھے کفن سے مراد کپڑے کی صفائی اور سفیدی ہے، قیمتی کپڑا مراد نہیں، اس لئے کہ قیمتی کفن سے آپ ﷺ نے منع فرمایا ہے۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم ﷺ کے صاحبزادے ابراہیم کا انتقال ہوا تو آپ ﷺ نے لوگوں سے فرمایا: انہیں کفن میں داخل نہ کرنا جب تک کہ میں دیکھ نہ لوں ، پھر آپ ﷺ آئے، اور ان کے اوپر جھک کر روئے۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "When Ibrahim the son of the Prophet ﷺ died, the Prophet ﷺ said to them: Do not wrap him in his shroud until I look at him: He came to him, bent over him and wept: (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٠٨، ومصباح الزجاجة: ٥٢٥) (ضعیف) (اس حدیث کی سند میں ابو شیبہ یوسف بن ابراہیم منکر الحدیث ہیں، بلکہ یہ صاحب عجائب کے نام سے مشہور ہیں )
بلال بن یحییٰ کہتے ہیں کہ جب حذیفہ ؓ کا کوئی رشتہ دار انتقال کرجاتا تو کہتے: کسی کو اس کے انتقال کی خبر مت دو، میں ڈرتا ہوں کہ کہیں یہ نعی ١ ؎ نہ ہو، میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے ان کانوں سے نعی سے منع فرماتے سنا ہے۔
It was narrated that Bilal (RA) bin Yahya said: "If one of the members of his family died, Hudhaifah would say: Do not inform anyone of it, for I am afraid that that would be a public death announcement. I heard the Messenger of Allah ﷺ with these two ears of mine forbidding making public death announcements:" (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: نعی: کسی کے مرنے کی خبر دینے کو نعی کہتے ہیں، نعی جائز ہے، خود نبی اکرم ﷺ نے نجاشی کی وفات کی خبر دی ہے اسی طرح زید بن حارثہ، جعفر بن ابی طالب اور عبداللہ بن رواحہ ؓ کی وفات کی خبریں بھی آپ نے لوگوں کو دی ہیں، جس نعی کی ممانعت حدیثوں میں وارد ہے، یہ وہ نعی ہے جسے اہل جاہلیت کرتے تھے، جب کوئی مرجاتا تو وہ ایک شخص کو بھیجتے جو محلوں اور بازاروں میں پھر پھر کر اس کے مرنے کا اعلان کرتا۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الجنائز ١٢ (٩٨٦)، (تحفة الأشراف: ٣٣٠٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٨٥، ٤٠٦) (حسن )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جنازہ کو جلدی لے کر چلو کیونکہ اگر وہ نیک ہے تو تم اس کو نیکی کی طرف جلدی پہنچا دو گے، اور اگر بد ہے تو بدی کو اپنی گردن سے اتار پھینکو گے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger Allah ﷺ said: Hasten with the funeral (procession), for if the person was righteous then you are advancing him towards good and if he was otherwise then it is evil which you are taking off your necks." (Sahih)
ابوعبیدہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ جو کوئی جنازہ کے ساتھ جائے تو (باری باری) چارپائی کے چاروں پایوں کو اٹھائے، اس لیے کہ یہ سنت ہے، پھر اگر چاہے تو نفلی طور پر اٹھائے اور اگر چاہے تو چھوڑ دے۔
It was narrated that Abu Ubaidah said: "Abdullah bin Masud said: Whoever follows a funeral (procession), let him carry all (four) comers of it (in turn), for that is Sunnah. Then if he wishes ret him voluntarily carry it, and if he wishes let him not do so," (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٦١٢، ومصباح الزجاجة: ٥٢٦) (ضعیف) (اس سند میں انقطاع ہے، کیونکہ ابو عبیدة (عامر) نے اپنے والد سے کوئی حدیث نہیں سنی ہے )
ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک جنازہ دیکھا جسے لوگ دوڑتے ہوئے لے جا رہے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اطمینان سے چلو ۔
It was narrated from Abu Musa that the Prophet ﷺ saw a "funeral (procession) with which the people were rushing. He said: "You should move with tranquility," (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩١٢٩، ومصباح الزجاجة: ٥٢٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٤٠٣، ٤٠٦، ٤١٢) (منکر) (اس کی سند میں لیث بن ابی سلیم ضعیف ہیں، اور ابوہریرہ ؓ کی سابقہ حدیث کے معارض ہے، اس لئے یہ حدیث منکر ہے )
رسول اللہ ﷺ کے غلام ثوبان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک جنازہ میں کچھ لوگوں کو جانوروں پر سوار دیکھا، تو فرمایا: تمہیں شرم نہیں آتی کہ اللہ کے فرشتے پیدل چل رہے ہیں اور تم سوار ہو ۔
It was narrated that Thawban, the freed slave of the Messenger of Allah ﷺ said: "The Messenger of Allah ﷺ saw some people riding on their animals in a funeral (procession). He said:Do you not feel ashamed that the angels of Allah are walking on foot and you are riding?" (Daif)
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الجنائز ٢٨ (١٠١٢)، (تحفة الأشراف: ٢٠٨١)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجنائز ٤٨ (٣١٧٧) (ضعیف) (اس کی سند میں ابوبکر بن ابی مریم ضعیف ہیں، اور بقیہ بن ولید مدلس ہیں )
مغیرہ بن شعبہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: سوار شخص جنازہ کے پیچھے چلے اور پیدل شخص (آگے پیچھے، دائیں، بائیں) جہاں چاہے چلے ۔
Al-Mughirah bin Shubah said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: The rider should travel behind the funeral (procession) but the one who is walking may walk wherever he wants: (Hasan)
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ابوبکر، عمر اور عثمان ؓ عنہم جنازہ کے آگے چلتے تھے۔
lt was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ , Abu Bakr, Umar and Uthman used to walk ahead of the funeral (procession)." (Hasan)
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جنازہ کے پیچھے چلنا چاہیئے، اس کے آگے نہیں چلنا چاہیئے، جو کوئی جنازہ کے آگے ہو وہ اس کے ساتھ نہیں ہے ۔
It was narrated from "Abdullah bin Masud that the Messenger of Allah ﷺ said: The funeral should be followed and should not follow. There should be no one with it who walks ahead of it. "(Daif)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الجنائز ٥٠ (٣١٨٤)، سنن الترمذی/الجنائز ٢٧ (١٠١١)، (تحفة الأشراف: ٩٦٣٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٧٨، ٣٩٤، ٤١٥، ٤١٩، ٤٣٢) (ضعیف) (اس کی سند میں ابو ماجدہ حنفی ضعیف ہیں )
عمران بن حصین اور ابوبرزہ اسلمی ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک جنازہ میں نکلے، تو آپ نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ انہوں نے اپنی چادریں پھینک دیں، اور صرف قمیصیں پہنے ہوئے چل رہے تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تم لوگ دور جاہلیت کا طریقہ اپناتے ہو یا جاہلیت کے طریقہ کی مشابہت کرتے ہو؟ میں نے ارادہ کیا کہ تم پر ایسی بد دعا کروں کہ تم اپنی صورتوں کے علاوہ دوسری صورتوں میں اپنے گھروں کو لوٹو یہ سنتے ہی ان لوگوں نے اپنی چادریں لے لیں، اور دوبارہ ایسا نہ کیا۔
It was narrated that Imran bin Husain and Abu Barzah said: "We went out with the Messenger of Allah ﷺ to attend a funeral, and he saw some people who had cast aside their upper sheets and were walking in their shirts only. The Messenger of Allah ﷺ said: Are you adopting the practice of the days of Ignorance? or; Are you imitating the behavior of the days of Ignorance? I was about to supplicate against you that you would return in a different form. So they put their sheets back on and never did that again." (Maudu)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٨٦٤، ١١٦٠٢، ومصباح الزجاجة: ٥٢٨) (موضوع) (اس کی سند میں نفیع بن حارث متروک الحدیث اور متہم بالوضع ہے، نیز علی بن الحزور متروک و منکر الحدیث ہے، نیز ملاحظہ ہو: المشکاة: ١٧٥٠ )
علی بن ابی طالب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب جنازہ تیار ہو تو اس (کے دفنانے) میں دیر نہ کرو ۔
It was narrated from Ali bin Abu Talib that the Messenger of Allah ﷺ said: "Do not delay the funeral once it is ready." (Sahih)
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ١٢٧ (١٧١)، (تحفة الأشراف: ١٠٢٥١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٠٥، ١٠٢٥١) (ضعیف) (اس میں سعید بن عبد اللہ اور ان کے شیخ محمد بن عمر بن علی مجہول ہیں )
ابوبردہ ؓ کہتے ہیں کہ جب ابوموسیٰ اشعری ؓ کی وفات کا وقت ہوا، تو انہوں نے وصیت کی کہ میرے جنازے کے ساتھ آگ نہ لے جانا، لوگوں نے پوچھا: کیا اس سلسلے میں آپ نے کچھ سنا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے۔
It was narrated from Abu Hariz that Abu Burdah said: "Abu Musa Ashari left instructions, when he was dying, saying: Do not follow me with a censer. They said to him: Did you hear something concerning that? He said: Yes, from the Messenger of Allah ﷺ ." (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩١١٠، ومصباح الزجاجة: ٥٢٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٩٧) (حسن) (شواہد کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے، ورنہ اس کی سند میں ابو حریز عبد اللہ بن حسین ہیں، جن کے بارے میں ابن حجر نے صدوق یخطی کہا ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس شخص کی نماز جنازہ سو مسلمانوں نے پڑھی اسے بخش دیا جائے گا ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: "Whoever has the funeral "prayer offered for him by one hundred Muslims, he will be forgiven." (Sahih)
عبداللہ بن عباس ؓ کے غلام کریب کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس ؓ کے ایک بیٹے کا انتقال ہوگیا، تو انہوں نے مجھ سے کہا: اے کریب! جاؤ، دیکھو میرے بیٹے کے جنازے کے لیے کچھ لوگ جمع ہوئے ہیں؟ میں نے کہا: جی ہاں، انہوں نے کہا: تم پر افسوس ہے، ان کی تعداد کتنی سمجھتے ہو؟ کیا وہ چالیس ہیں؟ میں نے کہا: نہیں، بلکہ وہ اس سے زیادہ ہیں، تو انہوں نے کہا: تو پھر میرے بیٹے کو نکالو، میں قسم کھاتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: اگر چالیس ١ ؎ مومن کسی مومن کے لیے شفاعت کریں تو اللہ تعالیٰ ان کی شفاعت کو قبول کرے گا ۔
It was narrated that Kuraib the freed slave of Abdullah bin Abbas said: "A son of Abdullah bin Abbas died, and he said to me: O Kuraib! Cet up and see if anyone has assembled (to pray) for my son. I said: Yes. He said: Woe to you, how many do you see? Forty? I said: No, rather there are more. He said: Take my son out, for J bear witness that I heard the Messenger of Allah ﷺ say: "No (group of) forty believers intercede for a believer, but Allah will accept their intercession." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اوپر کی حدیث میں سو مسلمان کا ذکر ہے، اور اس حدیث میں چالیس کا، بظاہر دونوں میں تعارض ہے، تطبیق کی صورت یہ ہے کہ پہلے نبی اکرم ﷺ کو سو کی تعداد بتائی گئی تھی، پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر مزید احسان فرمایا، اور اس تعداد میں تخفیف فرما دی، اور سو سے گھٹا کر چالیس کردی، نیز چالیس کا عدد مغفرت کے لئے کافی ہے، اب اگر سو ہوں گے تو اور زیادہ مغفرت کی امید ہے، ان شاء اللہ العزیز۔
مالک بن ہبیرہ شامی ؓ (انہیں صحبت رسول کا شرف حاصل تھا) کہتے ہیں کہ جب ان کے پاس کوئی جنازہ لایا جاتا، اور وہ اس کے ساتھ آنے والوں کی تعداد کم محسوس کرتے تو انہیں تین صفوں میں تقسیم کردیتے، پھر اس کی نماز جنازہ پڑھتے اور کہتے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: جس کسی میت پہ مسلمانوں کی تین صفوں نے صف بندی کی، تو اس کے لیے جنت واجب ہوگئی ۔
Malik bin Hubairah Ash-Shami, who was a Companion of the Prophet ﷺ said: "If a funeral procession was brought and the number of people who followed it Was considered to be small, they would be organized into three rows, then the funeral prayer Would be offered." He said: "The Messenger of Allah ﷺ said: No three rows of Muslims offer the funeral prayer for one who has died, but he will be guaranteed (Paradise). (Daif)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الجنائز ٤٣ (٣١٦٦)، سنن الترمذی/الجنائز ٤٠ (١٠٢٨)، (تحفة الأشراف: ١١٢٠٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٧٩) (ضعیف) (اس میں محمد بن اسحاق مدلس ہیں، اور عنعنہ سے روایت کی ہے، تراجع الألبانی: رقم: ٣٦٣ )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے سامنے سے ایک جنازہ لے جایا گیا، لوگوں نے اس کی تعریف کی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس پر (جنت) واجب ہوگئی پھر آپ کے سامنے سے ایک اور جنازہ لے جایا گیا، تو لوگوں نے اس کی برائی کی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس پر (جہنم) واجب ہوگئی ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے اس کے لیے بھی فرمایا: واجب ہوگئی ، اور اس کے لیے بھی فرمایا: واجب ہوگئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: لوگوں کی گواہی واجب ہوگئی، اور مومن زمین میں اللہ تعالیٰ کے گواہ ہیں ١ ؎۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "A funeral (procession) passed by the Prophet ﷺ and they praised (the deceased) and spoke well of him. He said: (Paradise is) guaranteed for him. Then another funeral passed by and they spoke badly of him, and he (the Prophet ﷺ ) said: (Hell is) guaranteed for him. It was said: O Messenger of Allah, you said that (Paradise was) guaranteed for this one and that (Hell was) guaranteed for the other one. He said: It is the testimony of the people, and the believers are the witnesses of Allah on earth. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ پکے سچے مسلمان جن کا شیوہ عدل و انصاف ہے، جس شخص کی دینی اور اخلاقی بنیادوں پر تعریف کریں، گویا وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک جنتی ہے، اور جس کی وہ ہجو اور برائی کریں وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک برا ہے، کیونکہ واقعہ یہ ہے کہ موت سے تمام دنیاوی عداوتیں اور دشمنیاں ختم ہوجاتی ہیں، اور دشمن بھی اس وقت دشمن نہیں رہتا، لہذا اب جو کوئی اس کی برائی بیان کرے گا تو اس کا سبب دنیوی عداوت نہ ہوگا، بلکہ حقیقت میں اس کے اخلاق یا دین میں کوئی برائی ہوگی۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو اس کی اچھی خصلتوں کی تعریف کی گئی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس پر (جنت) واجب ہوگئی پھر آپ کے پاس سے ایک اور جنازہ گزرا، اس کی بری خصلتوں کا تذکرہ ہوا، آپ ﷺ نے فرمایا: اس پر (جہنم) واجب ہوگئی، تم لوگ زمین میں اللہ کے گواہ ہو ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "A funeral passed by the Prophet ﷺ and they praised (the deceased) and spoke well of him and mentioned his good characteristics. He said: (paradise is) guaranteed for him: Then another funeral passed by and they spoke badly of him and mentioned his bad characteristics, and he (the Prophet ﷺ ) said: (Hell is) guaranteed for him. You are the witnesses of Allah on earth. (Hasan)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٥٠٧٤، ومصباح الزجاجة: ٥٣١)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجنائز ٨٠ (٣٢٣٣)، سنن النسائی/الجنائز ٥٠ (١٩٣٥)، مسند احمد (٢/٢٦١، ٤٩٩) (صحیح )