موت کی خبر دینے کی ممانعت
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نِسْطَاسٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، قَالَ: قَالَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ: مَنِ اتَّبَعَ جِنَازَةً، فَلْيَحْمِلْ بِجَوَانِبِ السَّرِيرِ كُلِّهَا، فَإِنَّهُ مِنَ السُّنَّةِ، ثُمَّ إِنْ شَاءَ فَلْيَتَطَوَّعْ، وَإِنْ شَاءَ فَلْيَدَعْ.
ابوعبیدہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ جو کوئی جنازہ کے ساتھ جائے تو (باری باری) چارپائی کے چاروں پایوں کو اٹھائے، اس لیے کہ یہ سنت ہے، پھر اگر چاہے تو نفلی طور پر اٹھائے اور اگر چاہے تو چھوڑ دے۔
It was narrated that Abu Ubaidah said: "Abdullah bin Masud said: Whoever follows a funeral (procession), let him carry all (four) comers of it (in turn), for that is Sunnah. Then if he wishes ret him voluntarily carry it, and if he wishes let him not do so," (Daif)