روزوں کا بیان

Sunan Ibne-Majah · Chapter 9 · 145 hadiths · Page 8 of 8

1778Sunan Ibne-Majah

معتکف سر دھو سکتا ہے اور کنگھی کرسکتا ہے

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُدْنِي إِلَيَّ رَأْسَهُ وَهُوَ مُجَاوِرٌ، فَأَغْسِلُهُ، وَأُرَجِّلُهُ، وَأَنَا فِي حُجْرَتِي، وَأَنَا حَائِضٌ، وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ .

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اعتکاف کی حالت میں مسجد سے اپنا سر میری طرف بڑھا دیتے تو میں اسے دھو دیتی اور کنگھی کردیتی، اس وقت میں اپنے حجرے ہی میں ہوتی، اور حائضہ ہوتی اور آپ ﷺ مسجد میں ہوتے ١ ؎۔

It was narrated that ‘ Aisha (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ used to bring his head towards me when he was next door (observing I’tikaf), and I Would wash it and comb his hair, When I was in my apartment and I was menstruating, and he was in the mosque.” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ معتکف اعتکاف کی حالت میں اپنے بدن میں سے بعض اجزاء باہر نکال سکتا ہے، اور حجرے کا دروازہ مسجد کی طرف تھا تو آپ ﷺ مسجد کی اخیر میں بیٹھ جاتے ہوں گے اور سر مبارک حجرے کے اندر کردیتے ہوں گے، اور ام المومنین عائشہ ؓ اس کو دھو دیتی ہوں گی، تو اس طرح ام المومنین عائشہ ؓ حجرے کے اندر رہتی ہوں گی ٕاور آپ ﷺ مسجد کے اندر۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٢٨٨)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحیض ٦ (٣٠١)، الاعتکاف ٤ (٢٠٢١)، اللباس ٧٦ (٥٩٢٥)، صحیح مسلم/الحیض ٣ (٢٩٧)، سنن ابی داود/الصوم ٧٩ (٢٤٦٨)، سنن النسائی/الطہارة ١٧٦ (٢٧٦)، الحیض ٢١ (٣٨٧)، موطا امام مالک/الاعتکاف ١ (١)، ٧ (٧) مسند احمد (٦/٣٢، ٥٥، ٨٦، ١٧٠، ٢٠٤، سنن الدارمی/الطہارة ١٠٨ (١٠٩٨)، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: ٦٣٣) (صحیح )
1779Sunan Ibne-Majah

معتکف کے گھر والے مسجد میں اس سے ملاقات کرسکتے ہیں

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عُمَرَ بْنِ مُوسَى بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ: عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزُورُهُ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ فِي الْمَسْجِدِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ، فَتَحَدَّثَتْ عِنْدَهُ سَاعَةً مِنَ الْعِشَاءِ، ثُمَّ قَامَتْ تَنْقَلِبُ، فَقَامَ مَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْلِبُهَا، حَتَّى إِذَا بَلَغَتْ بَابَ الْمَسْجِدِ الَّذِي كَانَ عِنْدَ مَسْكَنِ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَرَّ بِهِمَا رَجُلَانِ مِنْ الْأَنْصَارِ، فَسَلَّمَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ نَفَذَا، فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلَى رِسْلِكُمَا إِنَّهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ ، قَالَا: سُبْحَانَ اللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَبُرَ عَلَيْهِمَا ذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنِ ابْنِ آدَمَ مَجْرَى الدَّمِ، وَإِنِّي خَشِيتُ أَنْ يَقْذِفَ فِي قُلُوبِكُمَا شَيْئًا .

ام المؤمنین صفیہ بنت حیی ؓ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ سے ملنے کے لیے آئیں، اور آپ رمضان کے آخری عشرے میں مسجد کے اندر معتکف تھے، عشاء کے وقت کچھ دیر آپ سے باتیں کیں، پھر اٹھیں اور گھر جانے لگیں، آپ ﷺ بھی ان کے ساتھ انہیں پہنچانے کے لیے اٹھے، جب وہ مسجد کے دروازہ پہ پہنچیں جہاں پہ ام سلمہ ؓ کی رہائش گاہ تھی تو قبیلہ انصار کے دو آدمی گزرے، ان دونوں نے آپ کو سلام کیا، پھر چل پڑے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنی جگہ ٹھہرو، یہ صفیہ بنت حیی (میری بیوی) ہیں ان دونوں نے کہا: سبحان اللہ، یا رسول اللہ! اور یہ بات ان دونوں پہ گراں گزری، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: شیطان انسان کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتا ہے، مجھے خدشہ ہوا کہ کہیں شیطان تمہارے دل میں کوئی غلط بات نہ ڈال دے ١ ؎۔

It was narrated from Safiyyah bint Huyai, the wife of the Prophet ﷺ , that she came to visit the Messenger of Allah ﷺ when he was in I’tikdf during the last ten days of the month of Ramadân. She spoke with him for a while during the evening, then she stood up to go back. The Messenger of Allah ﷺ got up to take her home. When she reached the door of the mosque that was by the home of Umm Salamah, the wife of the Prophet ﷺ , two men from among the Ansar passed by them. They greeted the Messenger of Allah ﷺ with peace, then went away. The Messenger of Allah ﷺ ia said: “Take it easy, she is Safiyyah bint Huyai.” They said: “Glorious is Allah, O Messenger of Allah! ﷺ ” And they were very upset by that (i.e., that he thought they may have some doubts). The Messenger of Allah ﷺ said: “The Satan flows through the son of Adam like blood, and I was afraid that he might cast some doubt into your hearts.” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی شیطان آدمی کا دشمن ہے وہ ایسے مواقع کی تاک میں رہتا ہے، تم نے اس وقت رات میں مجھ کو اکیلی عورت کے ساتھ دیکھا ہے ممکن ہے کہ شیطان تمہارے دل میں یہ خیال ڈالے کہ نبی کریم ﷺ اتنی رات کو اس اجنبی عورت کے ساتھ ہیں تو ضرور کوئی نہ کوئی بات ہوگی - معاذ اللہ اس وجہ سے میں نے بتلا دیا کہ یہ میری بیوی صفیہ ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الاعتکاف ١١ (٢٠٣٨)، ١٢ (٢٠٣٩)، بدا ٔالخلق ١١ (٣٢٨١)، الأحکام ٢١ (٧١٧١)، صحیح مسلم/السلام ٩ (٢١٧٥)، سنن ابی داود/الصوم ٧٩ (٢٤٧٠)، (تحفة الأشراف: ١٥٩٠١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٥٦، ٢٨٥، ٣٠٩، ٦/٣٣٧)، سنن الدارمی/الصوم ٥٥ (١٨٢١) (صحیح )
1780Sunan Ibne-Majah

مستحاضہ اعتکاف کرسکتی ہے

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّبَّاحُ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: اعْتَكَفَتْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ مِنْ نِسَائِهِ، فَكَانَتْ تَرَى الْحُمْرَةَ، وَالصُّفْرَةَ، فَرُبَّمَا وَضَعَتْ تَحْتَهَا الطَّسْتَ .

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ آپ کی بیویوں میں سے کسی نے اعتکاف کیا، تو وہ سرخی اور زردی دیکھتی تھیں، تو کبھی اپنے نیچے طشت رکھ لیتی تھیں ١ ؎۔

Aisha (RA) said: "One of the wives of the Messenger of Allah ﷺ observed Itikaf with him, and she used to see red and yellow discharge, and sometimes she would put a basin beneath her." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: جب خون حیض والے مقررہ دنوں سے زیادہ ہوجائے تو وہ استحاضہ ہے، مستحاضہ کو صوم و صلاۃ سب ادا کرنا چاہیے جیسا کہ اوپر گزرا، اس کا اعتکاف کرنا بھی صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحیض ١٠ (٣٠٩)، الاعتکاف ١٠ (٢٠٣٧)، سنن ابی داود/الصوم ٨١ (٢٤٧٦)، (تحفة الأشراف: ١٧٣٩٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٣١)، سنن الدارمی/الطہارة ٩٣ (٩٠٦) (صحیح )
1781Sunan Ibne-Majah

اعتکاف کا ثواب

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أُمَيَّةَ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ مُوسَى الْبُخَارِيُّ، عَنْ عُبَيْدَةَ الْعَمِّيِّ، عَنْ فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فِي الْمُعْتَكِفِ هُوَ يَعْكِفُ الذُّنُوبَ، وَيُجْرَى لَهُ مِنَ الْحَسَنَاتِ كَعَامِلِ الْحَسَنَاتِ كُلِّهَا .

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے معتکف کے بارے میں فرمایا: اعتکاف کرنے والا تمام گناہوں سے رکا رہتا ہے، اور اس کو ان نیکیوں کا ثواب جن کو وہ نہیں کرسکتا ان تمام نیکیوں کے کرنے والے کی طرح ملے گا ۔

It was narrated from Ibn Abbas that the Messenger of Allah ﷺ said concerning the person observing Itikaf "He is refraining from sin and he will be given a reward like that one who does all kinds of good deeds." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٥٩٧، ومصباح الزجاجة: ٦٣٧) (ضعیف) ( سند میں فرقد بن یعقوب ضعیف ہے )
1782Sunan Ibne-Majah

عیدین کی راتوں میں قیا م

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمَرَّارُ بْنُ حَمُّويَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ قَامَ لَيْلَتَيِ الْعِيدَيْنِ مُحْتَسِبًا لِلَّهِ، لَمْ يَمُتْ قَلْبُهُ يَوْمَ تَمُوتُ الْقُلُوبُ .

ابوامامہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص عیدین کی راتوں میں ثواب کی نیت سے اللہ کی عبادت کرے گا، تو اس کا دل نہیں مرے گا جس دن دل مردہ ہوجائیں گے ۔

It was narrated from Abu Umamah that the Prophet ﷺ said: "Whoever spends the nights of the two Eid in praying voluntary night prayers, seeking reward from Allah, his heart will not die on the Day when hearts will die." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٨٥٧، ومصباح الزجاجة: ٦٣٨) (موضوع) ( سند میں محمد بن المصفی اور بقیہ مدلس ہیں، اور دونوں کی روایت عنعنہ سے ہے، ملاحظہ ہو : الضعیفة : ٥٢١ ، ٥١٣٦ )