معاذ بن جبل ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے یمن بھیجا، اور حکم دیا کہ ہر چالیس گائے میں ایک مسنة لوں، اور ٣٠ تیس گائے میں ایک تبیع یا تبیعہ لوں ١ ؎۔
It was narrated that Mufid h bin Jabal said: "The Messenger of Allah ﷺ sent me to Yemen and commanded me; for every forty cows, to take a Musinnah, and for every thirty, a Tabi or Tabiah." (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: مسنة ایسی گائے جو دو سال پورے کر کے تیسرے میں داخل ہوگئی ہو۔ اور اس کے سامنے والے دانت گر کر دوبارہ نکل آئے ہوں۔ ٢ ؎:تبیع گائے کا وہ بچھڑا جو ایک سال پورا کرکے دوسرے میں داخل ہوگیا ہو۔ ٣ ؎: تبیعہ گائے کی وہ بچھڑی جو ایک سال پورے کر کے دوسرے میں داخل ہوگئی ہو۔
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا، ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ مجھے سالم نے ایک تحریر پڑھائی جو رسول اللہ ﷺ نے زکاۃ کے سلسلے میں اپنی وفات سے پہلے لکھوائی تھی، اس تحریر میں میں نے لکھا پایا: چالیس سے ایک سو بیس بکریوں تک ایک بکری زکاۃ ہے، اگر ١٢٠ سے ایک بھی زیادہ ہوجائے تو اس میں دو سو تک دو بکریاں ہیں، اور اگر ٢٠٠ سے ایک بھی زیادہ ہوجائے تو اس میں ٣٠٠ تک تین بکریاں ہیں، اور اگر اس سے بھی زیادہ ہو تو ہر سو میں ایک بکری زکاۃ ہے، اور میں نے اس میں یہ بھی پایا: متفرق مال اکٹھا نہ کیا جائے، اور اکٹھا مال متفرق نہ کیا جائے ، اور اس میں یہ بھی پایا: زکاۃ میں جفتی کے لیے مخصوص بکرا، بوڑھا اور عیب دار جانور نہ لیا جائے ۔
It was narrated from Ibn Shihab, from Salim bin Abdullah, from his father, from the Messenger of Allah ﷺ . He (Salim) said: "My father read to me a letter that the Messenger of Allah ﷺ had written about Sadaqdt before Allah caused him to pass away. I read in it: For forty sheep, one sheep, up to one hundred and twenty. If there is more than that - even one - then two sheep, up to two hundred. If there is one more than that - even one - then three sheep, up to three hundred. If there are many sheep, then for each hundred, one sheep. And I read in it: Separate flocks should not be combined, and a combined flock should not be separated. And I read in it: And a male goat should not be taken for Sadaqah, nor a decrepit nor defective animal. (Hasan)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الزکاة ٤ (١٥٦٨)، سنن الترمذی/الزکاة ٤ (٦٢١)، (تحفة الأشراف: ٦٨٣٧)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الزکاة ١١ (٢٣)، مسند احمد (٢/١٤، ١٥)، سنن الدارمی/الزکاة ٤ (١٦٦٦) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمانوں کی زکاۃ ان کے پانی پلانے کی جگہوں میں لی جائے گی ١ ؎۔
It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: The Sadaqat of the Muslims should be taken at their watering places." (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: ہر ایک اپنے جانوروں کو اپنی بستی میں پانی پلاتا ہے تو مطلب یہ ہے کہ زکاۃ وصول کرنے والا ان کی بستیوں میں جا کر زکاۃ وصول کرے گا یہ نہ ہوگا کہ وہ اپنی بستیوں کے باہر زکاۃ دینے کے لئے بلائے جائیں، یہ بھی رعایا پر ایک شفقت ہے، پانی کے گھاٹ پر جانوروں کے زکاۃ وصول کرنے کا محصل کو فائدہ یہ بھی ہوگا کہ وہاں تمام ریوڑ اور ہر ریوڑ کے تمام جانور پانی پینے کے لیے جمع ہوتے ہیں، گنتی میں آسانی رہتی ہے، جب کہ چراگاہوں میں جانور بکھرے ہوئے ہوتے ہیں، اور وہاں ان کا شمار کرنا مشکل ہوتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٧٣٤، ومصباح الزجاجة: ٦٤٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٨٤) (حسن صحیح) (ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ١٧٧٩ )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: چالیس سے لے کر ایک سو بیس بکریوں تک ایک بکری زکاۃ ہے، اگر ایک سو بیس سے ایک بھی زیادہ ہوجائے تو دو سو تک دو بکریاں ہیں، اور اگر دو سو سے ایک بھی زیادہ ہوجائے تو تین سو تک تین بکریاں ہیں، اور اگر تین سو سے زیادہ ہوں تو ہر سو میں ایک بکری ہے، اور جو جانور اکٹھے ہوں انہیں زکاۃ کے ڈر سے الگ الگ نہ کیا جائے، اور نہ ہی جو الگ الگ ہوں انہیں اکٹھا کیا جائے، اور اگر مال میں دو شخص شریک ہوں تو دونوں اپنے اپنے حصہ کے موافق زکاۃ پوری کریں ١ ؎، اور زکاۃ میں عامل زکاۃ کو بوڑھا، عیب دار اور جفتی کا مخصوص بکرا نہ دیا جائے، الا یہ کہ عامل زکاۃ خود ہی لینا چاہے ٢ ؎۔
It was narrated from Ibn Umar, from that the Prophet ﷺ : "For forty sheep, one sheep, up to one hundred and twenty. If there is one more, then two sheep, up to two hundred. If there is one more, then three sheep, up to three hundred. If there are more than that, then for every hundred one sheep. Do not separate a combined flock and do not combine separate flocks for fear of Sadqah. Each partner (who has a share in a combined flock) should pay in proportion to his shares. And the Zakat collector should not accept any decrepit or defective animal, nor any male goat, unless he wishes to." (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: مثلاً دو شریک ہیں ایک کی ایک ہزار بکریاں ہیں، اور دوسرے کی صرف چالیس بکریاں ہیں، اس طرح کل ایک ہزار چالیس بکریاں ہوئیں، زکاۃ وصول کرنے والا آیا اور اس نے دس بکریاں زکاۃ میں لے لیں، فرض کیجیے ہر بکری کی قیمت چھبیس چھبیس روپے ہے، اس طرح ان کی مجموعی قیمت دو سو ساٹھ روپے ہوئی جس میں دس روپے اس شخص کے ذمہ ہوں گے جس کی چالیس بکریاں ہیں، اور دو سو پچاس روپے اس پر ہوں گے جس کی ایک ہزار بکریاں ہیں کیونکہ ایک ہزار چالیس کے چھبیس چالی سے بنتے ہیں جن میں سے ایک چالیسہ کی زکاۃ چالیس بکریوں والے پر ہوگی اور ٢٥ چالیسوں کی زکاۃ ایک ہزار بکریوں والے پر ہوگی، اب اگر زکاۃ وصول کرنے والے نے چالیس بکریوں والے شخص کی بکریوں سے دس بکریاں زکاۃ میں لی ہیں جن کی مجموعی قیمت دو سو ساٹھ روپے بنتی ہے تو ہزار بکریوں والا اسے ڈھائی سو روپئے واپس کرے گا، اور اگر زکاۃ وصول کرنے والے نے ایک ہزار بکریوں والے شخص کی بکریوں میں سے دس بکریاں لی ہیں تو چالیس بکریوں والا اسے دس روپیہ ادا کرے گا۔ ٢ ؎: یعنی جب کسی مصلحت کی وجہ سے محصل (زکاۃ وصول کرنے والا) کسی عیب دار یا بوڑھے یا نر جانور کو لینا چاہے تو صاحب مال پر کوئی زور نہیں کہ وہ دے ہی دے اور محصل کی مرضی کے بغیر اس قسم کے جانور کو زکاۃ میں دینا منع ہے، مصلحت یہ ہے کہ مثلاً عیب دار جانور قوی اور موٹا ہو، دودھ کی زیادہ توقع ہو، یا زکاۃ کے جانور سب مادہ ہوں، ان میں نر کی ضرورت ہو تو نر قبول کرے یا بوڑھا جانور ہو لیکن عمدہ نسل کا ہو تو اس کو قبول کرے۔ واللہ اعلم۔
رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: حق و انصاف کے ساتھ زکاۃ وصول کرنے والا اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے، جب تک کہ لوٹ کر اپنے گھر واپس نہ آجائے ١ ؎۔
It was narrated that Rafi bin Khadij said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: The person who is appointed to collect the Sadaqah - who does so with sincerity and fairness is like onewho goes out to fight for the sake of Allah, until he returns to his house. (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: حق و انصاف سے کام لے یعنی شرع کے موافق رحم، شفقت اور رضامندی کے ساتھ زکاۃ کی وصولی کرے۔
عبداللہ بن انیس ؓ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اور عمر بن خطاب ؓ نے ایک دن زکاۃ کے بارے میں آپس میں بات کی تو عمر ؓ نے کہا: کیا تم نے رسول اللہ ﷺ سے جس وقت آپ زکاۃ میں خیانت کا ذکر کر رہے تھے یہ نہیں سنا: جس نے زکاۃ کے مال سے ایک اونٹ یا ایک بکری چرا لی تو وہ قیامت کے دن اسے اٹھائے ہوئے لے کر آئے گا ؟ عبداللہ بن انیس ؓ نے کہا: کیوں نہیں (ہاں، میں نے سنا ہے) ۔
Abdullah bin Unais said that he and Umar bin Khattab were speaking about Sadaqah one day, and Umar said. "Did you not hear the Messenger of Allah ﷺ when he mentioned Ghulul with the Sadaqah (and said): Whoever steals a camel or a sheep from it, he will be brought carrying it on the Day of Resurrection?" Abdullah bin Unais said: "Yes." (Hasan)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٤٨١، ومصباح الزجاجة: ٦٤٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد ٣/٤٩٨) (صحیح) (ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٢٣٥٤ )
عمران ؓ کے غلام عطا بیان کرتے ہیں کہ عمران بن حصین ؓ زکاۃ پہ عامل بنائے گئے، جب لوٹ کر آئے تو ان سے پوچھا گیا: مال کہاں ہے؟ انہوں نے کہا: آپ نے مجھے مال لانے کے لیے بھیجا تھا؟ ہم نے زکاۃ ان لوگوں سے لی جن سے رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں لیا کرتے تھے، اور پھر اس کو ان مقامات میں خرچ ڈالا جہاں ہم خرچ کیا کرتے تھے ١ ؎۔
Ibrahim bin Ata, the freed slave of Imran bin Husain, said: "My father told me that Imran bin Husain was appointed to collect the Sadaqah. When he came back, it was said to him: Where is the wealth? He said: Was it for wealth that you sent me? We took it from where we used to take it at the time of the Messenger of Allah ﷺ , and we distributed it where we used to distribute it. "(Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ زکاۃ وصول کر کے آپ کے پاس لانا ضروری نہ تھا، بلکہ زکاۃ جن لوگوں سے لی جائے انہی کے فقراء و مساکین میں بانٹ دینا بہتر ہے، البتہ اگر دوسرے لوگ ان سے زیادہ ضرورت مند اور محتاج ہوں تو ان کو دینا چاہیے، پس میں نے سنت کے موافق جن لوگوں سے زکاۃ لینی چاہی تھی، ان سے لی اور وہیں فقیروں اور محتاجوں کو بانٹ دی، آپ کے پاس کیا لاتا؟ کیا آپ نے مجھ کو مال کے یہاں اپنے پاس لانے پر مقرر کیا تھا؟۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمان پر اس کے گھوڑے اور غلام میں زکاۃ نہیں ہے ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "The Muslim is not obliged to pay Sadaqah on his slave nor his horse." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث ان لوگوں کی دلیل ہے جو غلام، لونڈی اور گھوڑوں میں زکاۃ کو واجب نہیں کہتے، اور بعضوں نے کہا: اس حدیث میں گھوڑوں سے مراد غازی اور مجاہد کا گھوڑا ہے، جیسے زید بن ثابت ؓ سے منقول ہے، اور بعض نے کہا: اگر گھوڑے جنگل میں چرتے ہوں اور ان میں نر اور مادہ دونوں ہوں تو ان کے مالک کو اختیار ہے خواہ ہر گھوڑے کے بدلے ایک دینار زکاۃ دے یا جملہ گھوڑوں کی قیمت لگا کر اس کا چالیسواں حصہ دے، ایسا ہی عمر ؓ سے منقول ہے، امام ابوحنیفہ کا بھی یہی قول ہے، لیکن صاحبین اور جمہور علماء اور ائمہ اہل حدیث کا یہ قول ہے کہ گھوڑے، غلام اور لونڈی میں مطلقاً زکاۃ نہیں ہے اور یہی صحیح ہے۔
معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں یمن بھیجا اور فرمایا: (زکاۃ میں) غلہ میں سے غلہ، بکریوں میں سے بکری، اونٹوں میں سے اونٹ، اور گایوں میں سے گائے لو ۔
It was narrated from Muadh bin Jabal that the Messenger of Allah ﷺ sent him to Yemen and said to him, "Take grains from grains, sheep from sheep, camels from camels and cows from cows." (Daif)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الزکاة ١١ (١٥٩٩)، (تحفة الأشراف: ١١٣٤٨) (ضعیف) (عطاء بن یسار اور معاذ ؓ کے درمیان انقطاع ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٣٥٤٤ )
عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ان پانچ چیزوں میں زکاۃ مقرر کی ہے: گیہوں، جو، کھجور، انگور اور مکئی میں۔
It was narrated from Amr bin Shu aib, from his father, that his grandfather said: "The Messenger of Allah ﷺ only prescribed Zakat on these five things: wheat, barley, dates, raisins and com: (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٧٩٥، ومصباح الزجاجة: ٦٤٧) (ضعیف جدا) (محمد بن عبید اللہ متروک ہے، لیکن لفظ الأربعة کے ساتھ یہ صحیح ہے، ہاں الذُّرَةِ کا ذکر منکر ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ٨٠١ )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو غلہ بارش یا چشمہ کے پانی سے پیدا ہوتا ہو اس میں دسواں حصہ زکاۃ کا ہے، اور جو غلہ پانی سینچ کر پیدا ہو اس میں بیسواں حصہ زکاۃ ہے ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: ‘For crops that are irrigated by the sky (i.e., rain) and springs, one-tenth. For those that are irrigated by watering, one half of one-tenth.” (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: اوپر کی حدیث میں آیا ہے کہ زکاۃ پانچ چیزوں میں ہے: گیہوں، جو، کھجور، انگور اور مکئی، اس میں مزید آسانی یہ ہے کہ یہ (عشر اور نصف عشر) دسواں اور بیسواں حصہ بھی صرف انہیں پانچ چیزوں سے لیا جائے گا جن کا ذکر اوپر ہوا، باقی تمام غلے اور میوہ جات، پھل پھول اور سبزیاں و ترکاریاں وغیرہ وغیرہ میں زکاۃ معاف ہے، اور ایک شرط یہ بھی ہے یہ پانچ چیزیں بھی پانچ وسق یعنی ( ٧٥٠ ) کلو گرام اور بقول شیخ عبداللہ البسام ( ٩٠٠ کلو گرام) سے کم نہ ہوں، ورنہ ان میں بھی زکاۃ معاف ہوگی، لیکن امام ابوحنیفہ اس حدیث سے یہ دلیل لیتے ہیں کہ جملہ پیداوار میں دسواں اور بیسواں حصہ ہے کیونکہ ماسقت السماء کا لفظ عام ہے، علامہ ابن القیم فرماتے ہیں: احادیث میں تطبیق دینا ضروری ہے اور جب غور سے دیکھو تو کوئی تعارض نہیں ہے، اس حدیث میں مقصود یہ ہے کہ بارش سے ہونے والی زراعت (کھیتی) میں دسواں حصہ ہے، کنویں اور نہر سے سینچی جانے والی زراعت میں بیسواں حصہ، (اس لیے کہ اس میں آدمی کو پیسہ خرچ کرنا پڑتا ہے اور محنت بھی) لیکن اس میں اموال زکاۃ اور مقدار نصاب کی تصریح نہیں ہے، یہ تصریح دوسری احادیث میں وارد ہے کہ زکاۃ صرف پانچ چیزوں میں ہے اور پانچ وسق سے کم میں زکاۃ نہیں ہے تو یہ عام اسی خاص پر محمول ہوگا۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جو غلہ اور پھل بارش، نہر، چشمہ یا زمین کی تری (سیرابی) سے پیدا ہو اس میں دسواں حصہ زکاۃ ہے، اور جسے جانوروں کے ذریعہ سینچا گیا ہو اس میں بیسواں حصہ ہے ۔
It was narrated from Sâlim that his father said: “I heard the Messenger of Allah ﷺ say: ‘For whatever is irrigated by the sky, rivers and springs, or draws up water from deep roots, one-tenth. For whatever is irrigated by animals (i.e., by artificial means) one half of one-tenth.” (Sahih)
معاذ بن جبل ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے یمن بھیجا، اور حکم دیا کہ جو پیداوار بارش کے پانی سے ہو اور جو زمین کی تری سے ہو اس میں دسواں حصہ زکاۃ لوں، اور جو چرخی کے پانی سے ہو اس میں بیسواں حصہ لوں۔ یحییٰ بن آدم کہتے ہیں: بعل، عثری اور عذی وہ زراعت (کھیتی) ہے جو بارش کے پانی سے سیراب کی جائے، اور عثری اس زراعت کو کہتے ہیں: جو خاص بارش کے پانی سے ہی بوئی جائے اور دوسرا پانی اسے نہ پہنچے، اور بعل وہ انگور ہے جس کی جڑیں زمین کے اندر پانی تک چلی گئی ہوں اور اوپر سے پانچ چھ سال تک پانی دینے کی حاجت نہ ہو، بغیر سینچائی کے کام چل جائے، اور سیل کہتے ہیں وادی کے بہتے پانی کو، اور غیل کہتے ہیں چھوٹے سیل کو ١ ؎۔
It was narrated that Muadh bin Jabal said: "The Messenger of Allah ﷺ sent me to Yemen and commanded me to take one-tenth of that which was irrigated from the sky and that which was irrigated by deep roots, and to take one half of onetenth of that which was irrigated by means of buckets." (Daif) Yahya bin Adam said: The Ba and Alhari and Adhyu are (crops) irrigated by rain. Athari is the crop irrigated by the clouds and rain especially. It is only watered by rain. Bal is the garden (grapevine) whose roots have gone down in to the earth to the water. Hence it does not need irrigation, even if it is not watered for five or six years. This is Bal. Sail is the water of the valley when it flows (freely) and Ghail is a lesser Sail.
Notes · وضاحت
١ ؎: سیل اور غیل دونوں کو اسی لئے بیان کیا کہ بعض روایتوں میں غیل کی جگہ سیل ہے، مطلب یہ ہے کہ جو زراعت سیل (سیلاب) کے پانی سے پیدا ہو اس میں دسواں حصہ لازم ہوگا کیونکہ وہ بارش والے پانی کی زراعت کے مثل ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٣٦٤)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الزکاة ٢٥ (٢٤٩٢)، مسند احمد (٥/٢٣٣)، سنن الدارمی/الزکاة ٢٩ (١٧٠٩) (حسن صحیح )
عتاب بن اسید ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ لوگوں کے پاس ایک شخص کو بھیجتے جو ان کے انگوروں اور پھلوں کا اندازہ لگاتا ١ ؎۔
It was narrated from Attiib bin Asid that the Prophet ﷺ used to send to the people one who would assess their vineyards and fruits. (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: خرص کا مطلب تخمینہ اور اندازہ لگانے کے ہیں یعنی کھجور وغیرہ کے درخت پر پھلوں کا اندازہ کرنا کہ اس درخت میں اتنا پھل نکلے گا، اور اندازے کے بعد رعایا کو اجازت دے دی جاتی ہے کہ وہ پھل توڑ لیں، پھر اندازہ کے موافق ان سے دسواں یا بیسواں حصہ لے لیا جاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الزکاة ١٣ (١٦٠٣، ١٦٠٤)، سنن الترمذی/الزکاة ١٧ (٦٤٤)، سنن النسائی/الزکاة ١٠٠ (٢٦١٩)، (تحفة الأشراف: ٩٧٤٨) (ضعیف) (سعید بن مسیب اور عتاب ؓ کے درمیان سند میں انقطاع ہے )
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے جب خیبر فتح کیا، تو آپ نے ان سے شرط لے لی کہ زمین آپ کی ہوگی، اور ہر صفراء اور بیضاء یعنی سونا و چاندی بھی آپ ہی کا ہوگا، اور آپ سے خیبر والوں نے کہا: ہم یہاں کی زمین کے بارے میں زیادہ بہتر جانتے ہیں، لہٰذا آپ ہمیں یہ دے دیجئیے، ہم اس میں کھیتی کریں گے، اور جو پھل پیدا ہوگا وہ آدھا آدھا کرلیں گے، اسی شرط پر آپ ﷺ نے خیبر کی زمین ان کے حوالے کردی، جب کھجور توڑنے کا وقت آیا، تو آپ ﷺ نے عبداللہ بن رواحہ ؓ کو ان کے پاس بھیجا، انہوں نے کھجور کا تخمینہ لگایا، جس کو اہل مدینہ خرص کہتے ہیں، تو انہوں نے کہا: اس میں اتنا اور اتنا پھل ہے، یہودی یہ سن کر بولے: اے ابن رواحہ! آپ نے تو بہت بڑھا کر بتایا، ابن رواحہ ؓ نے کہا: ٹھیک ہے میں کھجوریں اتروا کر انہیں جمع کرلیتا ہوں اور جو اندازہ میں نے کیا ہے اس کا آدھا تم کو دے دیتا ہوں، یہودی کہنے لگے: یہی حق ہے، اور اسی کی وجہ سے آسمان و زمین قائم ہیں، ہم آپ کے اندازے کے مطابق حصہ لینے پر راضی ہیں ١ ؎۔
It was narrated from Ibn Abbas that when the Prophet ﷺ conquered Khaibar, he stipulated that the land, and all the yellow and white, meaning gold and silver, belonged to him. The people of Khaibar said to him: "We know the land better, so give it to us so that we may work the land, and you will have half of its produce and we will have half." He maintained that, he gave it to them on that basis. When the time for the date harvest came, he sent Ibn Rawahah to them. He assessed the date palms, and he said: "For this tree, such and such (amount)." They said: "You are demanding too much of us, O Ibn Rawahah!" He said: "This is my assessment, and I will give you half of what I say." They said: "This is fair, and fairness is what heaven and earth are based on." They said: "We agree to take (accept) what you say." (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: دوسری روایت میں ہے کہ یہودیوں نے عبداللہ بن رواحہ ؓ کو رشوت دینا اور اپنے سے ملانا چاہا کہ کھجور کا تخمینہ کمی کے ساتھ لگا دیں، لیکن وہ نہ مانے اور ٹھیک ٹھیک تخمینہ لگایا، اس وقت یہودیوں نے کہا: ایسے ہی لوگوں سے آسمان اور زمین قائم ہے، سبحان اللہ، صحابہ کرام ؓ کا یہ حال تھا کہ غربت و افلاس اور پریشانی و مصیبت کی حالت میں بھی سچائی اور ایمان داری کو نہیں چھوڑتے تھے، جب ہی تو اسلام کو یہ ترقی حاصل ہوئی، اور آج اسلامی عقائد و اقدار اور تعلیمات کو چھوڑ کر مسلمان دنیا میں ذلیل و خوار ہیں۔
عوف بن مالک اشجعی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ گھر سے نکلے، اور ایک شخص نے کھجور کے کچھ خوشے مسجد میں لٹکا دئیے تھے، آپ کے ہاتھ میں چھڑی تھی، آپ ﷺ اس خوشہ میں اس چھڑی سے کھٹ کھٹ مارتے جاتے، اور فرماتے: اگر یہ زکاۃ دینے والا چاہتا تو اس سے بہتر زکاۃ دیتا، یہ زکاۃ والا قیامت کے دن خراب ہی کھجور کھائے گا ١ ؎۔
It was narrated that Awf bin Malik AI-Ashjai said: "The Messenger of Allah ﷺ went out, and a man had hung up one or more bunches of dates. He (the Prophet ﷺ ) had a stick in his hand and he started hitting that bunch of dates repeatedly, saying: If the owner of these dates wanted to give in charity, he should have given something better than these. The owner of this charity will eat rotten and shriveled dates on the Day of Resurrection:" (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جیسا دیا ویسا پائے گا، اللہ تعالیٰ غنی و بےپرواہ ہے، اس کے نام پر تو بہت عمدہ مال دینا چاہیے، وہ نیت کو دیکھتا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الزکاة ١٦ (١٦٠٨)، سنن النسائی/الزکاة ٢٧ (٢٤٩٥)، (تحفة الأشراف: ١٠٩١٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٣، ٢٨) (حسن )
براء بن عازب ؓ کہتے ہیں آیت کریمہ: ومما أخرجنا لکم من الأرض ولا تيمموا الخبيث منه تنفقون (سورة التوبة: 267) انصار کے بارے میں نازل ہوئی، جب باغات سے کھجور توڑنے کا وقت آتا تو وہ اپنے باغات سے کھجور کے چند خوشے (صدقے کے طور پر) نکالتے، اور مسجد نبوی میں دونوں ستونوں کے درمیان رسی باندھ کر لٹکا دیتے، پھر فقراء مہاجرین اس میں سے کھاتے، انصار میں سے کوئی یہ کرتا کہ ان خوشوں میں خراب کھجور کا خوشہ شامل کردیتا، اور یہ سمجھتا کہ بہت سارے خوشوں میں ایک خراب خوشہ رکھ دینا جائز ہے، تو انہیں لوگوں کے سلسلہ میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: ولا تيمموا الخبيث منه تنفقون قصد نہ کرو خراب کا اس میں سے کہ اسے خرچ کرو اور تم اسے خود ہرگز لینے والے نہیں ہو، الا یہ کہ چشم پوشی سے کام لو، اگر تمہیں کوئی ایسے خراب مال سے تحفہ بھیجے تو تم کبھی بھی اس کو قبول نہ کرو گے مگر شرم کی وجہ سے، اور دل میں غصہ ہو کر کہ اس نے تمہارے پاس ایسی چیز بھیجی ہے جو تمہارے کام کی نہیں ہے، اور تم جان لو کہ اللہ تمہارے صدقات سے بےنیاز ہے۔
It was narrated that Barâ’ bin ‘ Azib (RA) said concerning the Verse: “And of that which We have produced from the earth for you, and do not aim at that which is bad to spend from it.” “This was revealed concerning the Ansar. At the time of the new date-palm harvest, they would take a bunch of dates that were beginning to ripen and hang it on a rope between two of the pillars in the mosque of the Messenger of Allah ﷺ , and the poor Emigrants would eat from it. One of them deliberately mixed a bunch containing rotten and shriveled dates, and thought that this was permissible because of the large number of dates that had been put there. So the following was revealed about the one who did that: ‘...and do not aim at that which is bad to spend from it’. Meaning do not seek out the rotten and shriveled dates to give in charity: ‘...(though) you would not accept it save if you close your eyes and tolerate therein.’ Meaning, if you were given this as a gift you would only accept it because you felt embarrassed, and you would be angry that he had sent you something of which you have no need. And know that Allah has no need of your charity.” (Hasan)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٩٨، ومصباح الزجاجة: ٦٤٨)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/تفسیر القرآن ٣ (٢٩٨٧) (صحیح )