زکوۃ کا بیان

Sunan Ibne-Majah · Chapter 10 · 62 hadiths · Page 3 of 4

1823Sunan Ibne-Majah

شہد کی زکوة

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ أَبِي سَيَّارَةَ الْمُتَعِيُّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي نَحْلًا، قَالَ: أَدِّ الْعُشْرَ ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ احْمِهَا لِي، فَحَمَاهَا لِي .

ابوسیارہ متقی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے پاس شہد کی مکھیاں ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اس کا دسواں حصہ بطور زکاۃ ادا کرو ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ جگہ میرے لیے خاص کر دیجئیے، چناچہ آپ نے وہ جگہ میرے لیے خاص کردی ١ ؎۔

It was narrated that Abu Sayyarah Al-Mutai said. "I said: O Messenger of Allah ﷺ I have bees. He said: Give one-tenth. I said: O Messenger of Allah ﷺ Protect it for me. And he protected it for me." (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی بطور حفاظت و نگرانی اور اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے جاگیر میں دے دی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٠٥٥، ومصباح الزجاجة: ٦٤٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٣٦) (حسن) (سند میں سلیمان بن موسیٰ ضعیف ہے، سلیمان کی کسی صحابی سے ملاقات نہیں ہے، موت سے کچھ پہلے مختلط ہوگئے تھے، لیکن عبد اللہ بن عمرو ؓ کی حدیث سے تقویت پا کر یہ حسن ہے، کماسیأتی )
1824Sunan Ibne-Majah

شہد کی زکوة

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ أَخَذَ مِنَ الْعَسَلِ الْعُشْرَ.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے شہد سے دسواں حصہ زکاۃ لی۔

It was narrated from Abdullah bin Amr that the Prophet ﷺ took one-tenth of honey (as Zakat). (Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الزکاة ١٢ (١٦٠٢)، (تحفة الأشراف: ٨٦٥٧)، سنن النسائی/الزکاة ٢٩ (٢٥٠١) (حسن صحیح )
1825Sunan Ibne-Majah

صدقہ فطر

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَرَ بِزَكَاةِ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، قَالَ عَبْدُ اللَّه: فَجَعَلَ النَّاسُ عِدْلَهُ مُدَّيْنِ مِنْ حِنْطَةٍ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کھجور اور جو سے ایک ایک صاع صدقہ فطر ادا کرنے کا حکم دیا۔ عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں: پھر لوگوں نے دو مد گیہوں کو ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو کے برابر کرلیا ١ ؎۔

It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah ﷺ enjoined Zakatul-Fitr, one Sa of dates or one Sa of barley. Abdullah said: The people made two Mudd (equal to half of a Sa) of wheat as its equivalent. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: صدقہ فطر وہ صدقہ ہے جو عیدالفطر کے دن نماز عید سے پہلے دیا جاتا ہے، اہل حدیث کے نزدیک ہر قسم میں سے کھجور یا غلہ سے ایک صاع، حجازی صاع سے دینا چاہیے جو پانچ رطل اور ایک تہائی رطل کا ہوتا ہے، اور موجودہ وزن کے حساب سے تقریباً ڈھائی کلو ہوتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ٧٠ (١٥٠٣)، ٧١ (١٥٠٤)، ٧٤ (١٥٠٧)، ٧٧ (١٥١١)، ٧٨ (١٥١٢)، صحیح مسلم/الزکاة ٤ (٩٨٤)، (تحفة الأشراف: ٨٢٧٠)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الزکاة ١٩ (١٦١٥)، سنن الترمذی/الزکاة ٣٥ (٦٧٦)، ٣٦ (٦٧٧)، سنن النسائی/الزکاة ٣٠ (٢٥٠٢)، موطا امام مالک/الزکاة ٢٨ (٥٢)، مسند احمد (٢/٥، ٥٥، ٦٣، ٦٦، ١٠٢، ١١٤، ١٣٧)، سنن الدارمی/الزکاة ٢٧ (١٧٠٢) (صحیح )
1826Sunan Ibne-Majah

صدقہ فطر

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، عَلَى كُلِّ حُرٍّ، أَوْ عَبْدٍ ذَكَرٍ، أَوْ أُنْثَى مِنَ الْمُسْلِمِينَ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے صدقہ فطر میں ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو مسلمانوں میں سے ہر ایک پر فرض کیا، خواہ وہ آزاد ہو یا غلام، مرد ہو یا عورت ١ ؎۔

It was narrated that Ibn U mar sa id: "The Messenger of Allah ﷺ enjoined Sadaqatul-Fitr, one Sit of barley or one Sil of dates for every Muslim, free or slave, male or female." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: فَرَضَ معنی میں وَجَبَ کے ہے، صدقہ فطر کے وجوب کی یہ حدیث واضح دلیل ہے، امام اسحاق بن راہویہ نے اس کے وجوب پر اجماع کا دعویٰ کیا ہے، ایک قول یہ بھی ہے کہ فَرَضَ قدر کے معنی میں ہے لیکن یہ ظاہر کے خلاف ہے، من المسلمین سے معلوم ہوا کہ کافر غلام کا صدقہ فطر نہیں نکالا جائے گا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ٧١ (١٥٠٦)، صحیح مسلم/الزکاة ٤ (٩٨٤)، سنن ابی داود/الزکاة ١٩ (١٦١١)، سنن الترمذی/الزکاة ٣٥ (٦٧٦)، سنن النسائی/الزکاة ٣٢ (٢٥٠٤)، ٣٣ (٢٥٠٥)، (تحفة الأشراف: ٨٣٢١)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الزکاة ٢٨ (٥٢)، مسند احمد (٢/٥، ٥٥، ٦٣، ٦٦، ١٠٢، ١١٤، ١٣٧)، سنن الدارمی/الزکاة ٢٧ (١٧٠٢) (صحیح )
1827Sunan Ibne-Majah

صدقہ فطر

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَشِيرِ بْنِ ذَكْوَانَ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْخَوْلَانِيُّ، عَنْ سَيَّارِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّدَفِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَكَاةَ الْفِطْرِ طُهْرَةً لِلصَّائِمِ مِنَ اللَّغْوِ، وَالرَّفَثِ، وَطُعْمَةً لِلْمَسَاكِينِ، فَمَنْ أَدَّاهَا قَبْلَ الصَّلَاةِ فَهِيَ زَكَاةٌ مَقْبُولَةٌ، وَمَنْ أَدَّاهَا بَعْدَ الصَّلَاةِ، فَهِيَ صَدَقَةٌ مِنَ الصَّدَقَاتِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے صدقہ فطر روزہ دار کو فحش اور بیہودہ باتوں سے پاک کرنے، اور مسکینوں کی خوراک کے لیے فرض قرار دیا، لہٰذا جس نے اسے نماز عید سے پہلے ادا کردیا، تو یہ مقبول زکاۃ ہے اور جس نے نماز کے بعد ادا کیا تو وہ عام صدقات میں سے ایک صدقہ ہے ١ ؎۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "The Messenger of Allah ﷺ enjoined Zakatul·Fitr as a purification for the fasting person from idle talk and obscenities, and to feed the poor. Whoever pays it before the (Eid) prayer, it is an accepted Zakah, and whoever pays it after the prayer, it is (ordinary) charity." (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: لیکن صدقہ فطر نہ ہوا، صحیحین میں عبداللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے عید کی نماز کے لئے نکلنے سے پہلے صدقہ فطر ادا کرنے کا حکم دیا، سنت یہی ہے کہ صدقہ فطر نماز کے لئے جانے سے پہلے دے دے، اور اگر رمضان کے اندر ہی عید سے پہلے دے دے تو بھی جائز ہے، لیکن عید کی صبح سے زیادہ اس میں تاخیر کرنا جائز نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الزکاة ١٧ (١٦٠٩)، (تحفة الأشراف: ٦١٣٣) (حسن )
1828Sunan Ibne-Majah

صدقہ فطر

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَدَقَةِ الْفِطْرِ قَبْلَ أَنْ تُنْزَلَ الزَّكَاةُ، فَلَمَّا نَزَلَتِ الزَّكَاةُ لَمْ يَأْمُرْنَا، وَلَمْ يَنْهَنَا، وَنَحْنُ نَفْعَلُهُ.

قیس بن سعد ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے زکاۃ کا حکم نازل ہونے سے پہلے ہمیں صدقہ فطر ادا کرنے کا حکم دیا، لیکن جب زکاۃ کا حکم نازل ہوگیا تو نہ تو ہمیں صدقہ فطر دینے کا حکم دیا، اور نہ ہی منع کیا، اور ہم اسے دیتے رہے ١ ؎۔

It was narrated that Qais bin Sad said: "The Messenger of Allah ﷺ enjoined Sadaqatul-Fitr upon us before (the command of) Zakat was revealed. When (the command of) Zakat was revealed, he neither ordered us (to pay) nor forbade us (from paying it), so we did it." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی آپ ﷺ نے نیا حکم نہیں دیا، پہلا حکم ہی کافی تھا، زکاۃ کا حکم اترنے سے صدقہ فطر موقوف نہیں ہوا، بلکہ اس کی فرضیت اپنے حال پر باقی رہی۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الزکاة ٣٥ (٢٥٠٨)، (تحفة الأشراف: ١١٠٩٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٤٢، ٦/٦) (صحیح )
1829Sunan Ibne-Majah

صدقہ فطر

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ الْفَرَّاءِ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: كُنَّا نُخْرِجُ زَكَاةَ الْفِطْرِ إِذْ كَانَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ، صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، صَاعًا مِنْ أَقِطٍ، صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ، فَلَمْ نَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى قَدِمَ عَلَيْنَا مُعَاوِيَةُ الْمَدِينَةَ، فَكَانَ فِيمَا كَلَّمَ بِهِ النَّاسَ، أَنْ قَالَ: لَا أُرَى مُدَّيْنِ مِنْ سَمْرَاءِ الشَّامِ إِلَّا تَعْدِلُ صَاعًا مِنْ هَذَافَأَخَذَ النَّاسُ بِذَلِكَ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: لَا أَزَالُ أُخْرِجُهُ كَمَا كُنْتُ أُخْرِجُهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَدًا مَا عِشْتُ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ جب ہم میں رسول اللہ ﷺ موجود تھے ہم تو صدقہ فطر میں ایک صاع گیہوں، ایک صاع کھجور، ایک صاع جو، ایک صاع پنیر، اور ایک صاع کشمش نکالتے تھے، ہم ایسے ہی برابر نکالتے رہے یہاں تک کہ معاویہ ؓ ہمارے پاس مدینہ آئے، تو انہوں نے جو باتیں لوگوں سے کیں ان میں یہ بھی تھی کہ میں شام کے گیہوں کا دو مد تمہارے غلوں کی ایک صاع کے برابر پاتا ہوں، تو لوگوں نے اسی پر عمل شروع کردیا۔ ابو سعید خدری ؓ نے کہا: میں جب تک زندہ رہوں گا اسی طرح ایک صاع نکالتا رہوں گا جس طرح رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں نکالا کرتا تھا ١ ؎۔

It was narrated that Abu Saeed Al-Khudri said: "We used to pay Zakatul-Fitr when the Messenger of Allah ﷺ was among us, one Sit of food, one Sa of dates, one sa of barley, one Sa of sun-baked cottage cheese, one Sa of raisins. We continued to do that until Muawiyah came to us in AI-Madinah. One of the things he said to the people was: I think that two Mudd wheat from Sham is equivalent to one sa of this (i.e., dates). So the people followed that." Abu Saeed said: "I will continue to pay it as I used to pay it at the time of the Messenger of Allah ﷺ , for as long as Llive." (sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: صاعاً من طعام میں طعام سے گیہوں مراد ہے طعام کا لفظ بعد میں ذکر کی گئی اشیاء کے ساتھ بولا گیا ہے تاکہ طعام اور دوسری اجناس کے درمیان فرق و تغایر واضح ہوجائے، طعام بول کر اہل عرب عموماً گیہوں ہی مراد لیتے ہیں، اور ایک قول یہ بھی ہے کہ طعام میں اجمال ہے اور مابعد اس کی تفصیل ہے، ایک صاع پانچ رطل اور تہائی رطل کا ہوتا ہے، جدید حساب کے مطابق ایک صاع کا وزن ڈھائی کلو گرام کے قریب ہوتا ہے، لیکن شیخ عبد اللہ البسام نے توضیح الأحکام میں صاع کا وزن تین کلو گرام بیان کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ٧٢ (١٥٠٥)، ٧٣ (١٥٠٦)، ٧٥ (١٥٠٨)، ٧٦ (١٥١٠)، صحیح مسلم/الزکاة ٤ (٩٨٥)، سنن ابی داود/الزکاة ١٩ (١٦١٦، ١٦١٧)، سنن الترمذی/الزکاة ٣٥ (٦٧٣)، سنن النسائی/الزکاة ٣٧ (٢٥١٣)، (تحفة الأشراف: ٤٢٦٩)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الزکاة ٢٨ (٥٣)، مسند احمد (٣/٢٣، ٧٣، ٩٨)، سنن الدارمی/الزکاة ٢٧ (١٧٠٤) (صحیح )
1830Sunan Ibne-Majah

صدقہ فطر

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدِ بْنِ عَمَّارٍ الْمُؤَذِّنِ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعْدٍ مُؤَذِّنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَرَ بِصَدَقَةِ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ سُلْتٍ.

مؤذن رسول سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک صاع کھجور، ایک صاع جو اور ایک صاع سلت (بےچھلکے کا جو) صدقہ فطر میں دینے کا حکم دیا۔

It was narrated from Ammar bin Saeed. the Muadhdhin of the Messenger of Allah ﷺ , from his father, that the Messenger of Allah ﷺ enjoined Sadaqatul-Fitr, one SiI of dates, one Sa of barley, or one Sa of Suit (a kind of barley without skin on it, resembling wheat). (sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٣٤٥، ومصباح الزجاجة: ٦٥٠) (صحیح) (اس سند میں عمار بن سعد تابعی ہیں، اس لئے یہ روایت مرسل ہے، نیز عبد الرحمن بن سعد ضعیف ہیں، لیکن حدیث شواہد کی بناء پر صحیح ہے )
1831Sunan Ibne-Majah

عشر وخراج

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ جُنَيْدٍ الدَّامَغَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ الْمُرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو حَمْزَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ مُغِيرَةَ الْأَزْدِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ حَيَّانَ الْأَعْرَجِ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَضْرَمِيِّ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبَحْرَيْنِ، أَوْ إِلَى هَجَرَ، فَكُنْتُ آتِي الْحَائِطَ يَكُونُ بَيْنَ الْإِخْوَةِ يُسْلِمُ أَحَدُهُمْ، فَآخُذُ مِنَ الْمُسْلِمِ الْعُشْرَ، وَمِنَ الْمُشْرِكِ الْخَرَاجَ.

علاء بن حضرمی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے بحرین ہجر بھیجا، میں ایک باغ میں جاتا جو کئی بھائیوں میں مشترک ہوتا، اور ان میں سے ایک مسلمان ہوچکا ہوتا، تو میں مسلمان سے عشر (دسواں) حصہ لیتا، اور کافر سے خراج (محصول) لیتا ١ ؎۔

It was narrated that Ala bin Hadrami said: "The Messenger of Allah ﷺ sent me to Bahrain or Hajar. I used to go to a garden that was shared by some brothers, one of whom had become Muslim. I would take the Ushr (one-tenth of the harvest) from the Muslim, and the Kharilj from the Mushrik." (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: بحرین یا ہجر سے مراد سعودی عرب کے مشرقی زون کا علاقہ احساء ہے۔ عشر کا معنی دسواں حصہ ہے، یہ مسلمانوں سے لیا جاتا ہے، اور خراج وہ محصول ہے جو کفار سے لیا جاتا ہے، اس میں اسلامی حکمراں کو اختیار ہے کہ جس قدر مناسب سمجھے ان کی زراعت سے محصول لے لے لیکن نصف سے زیادہ لینا کسی طرح درست نہیں، واضح رہے کہ یہ کافروں کے مسلمان ہونے کے لئے نہایت عمدہ حکمت عملی تھی کہ دنیا میں مال سب کو عزیز ہے خصوصاً دنیا داروں کو تو جب کافر دیکھیں گے کہ ان کو جزیہ دینا پڑتا ہے، اور زراعت میں سے صرف دسواں یا بیسواں حصہ لیا جائے گا، تو بہت سے کافر مسلمان ہوجائیں گے، گو دنیاوی طمع و لالچ ہی سے سہی، لیکن ان کی اولاد پھر سچی مسلمان ہوگی، اور کیا عجب ہے کہ ان کو بھی مسلمانوں کی صحبت سے سچا ایمان نصیب ہو۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ، ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٠١٠، ومصباح الزجاجة: ٦٥١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٥٢) (ضعیف) (مغیرہ الأزدی اور محمد بن زید مجہول ہیں، اور حیان کی علاء سے روایت مرسل ہے )
1832Sunan Ibne-Majah

وسق سا ٹھ صاع ہیں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، عَنْ إِدْرِيسَ الْأَوْدِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْوَسْقُ سِتُّونَ صَاعًا.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے ۔

It was narrated from Abu Sa eed and attributed to the Prophet ﷺ "A Wasq is sixty Sa." (Daif)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الزکاة ١ (١٥٥٩)، بلفظ مختوما بدل صاعا سنن النسائی/الزکاة ٢٤ (٢٤٨٨)، (تحفة الأشراف: ٤٠٤٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٥٩، ٨٣، ٩٧) (ضعیف) (سند میں محمد بن عبید اللہ متروک الحدیث ہے )
1833Sunan Ibne-Majah

وسق سا ٹھ صاع ہیں

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، وَأَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْوَسْقُ سِتُّونَ صَاعًا.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے ۔

It was narrated that Jabir bin Abdullah said: "The Messenger of Allah ﷺ said: A Wasq is sixty Sa. (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٤٨٤، ٢٩٤٢، ومصباح الزجاجة: ٦٥٢) (ضعیف جدا) (سند میں محمد بن عبید اللہ متروک الحدیث ہے )
1834Sunan Ibne-Majah

رشتہ دار کو صدقہ دینا

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْمُصْطَلِقِ ابْنِ أَخِي زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُجْزِئُ عَنِّي مِنَ الصَّدَقَةِ النَّفَقَةُ عَلَى زَوْجِي، وَأَيْتَامٍ فِي حِجْرِي؟، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَهَا أَجْرَانِ، أَجْرُ الصَّدَقَةِ، وَأَجْرُ الْقَرَابَةِ. حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ابْن أَخِي زَيْنَبَ، عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کی بیوی زینب ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ اگر میں اپنے شوہر اور زیر کفالت یتیم بچوں پر خرچ کروں تو کیا زکاۃ ہوجائے گی؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس کو دہرا اجر ملے گا، ایک صدقے کا اجر، دوسرے رشتہ جوڑنے کا اجر ١ ؎۔

It was narrated that Zainab the wife of Abdullah said: "I asked the Messenger of Allah ﷺ : Will it be accepted as charity on my part if I spend on my husband and the orphans in my care? The Messenger of Allah ﷺ said: She will have two rewards, the reward for charity and the reward for upholding the ties of kinship. (Sahih) Another chain from Zainab the wife of Abdullah, from the Prophet ﷺ , with similar wording.

Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ اگر زکاۃ اپنے غریب و مفلس فاقے والے رشتہ دار کو دے یا بیوی شوہر کو دے تو اور زیادہ ثواب ہے، اور زکاۃ بھی ادا ہوجائے گی۔ اس سند سے بھی عبداللہ بن مسعود ؓ کی بیوی زینب ؓ سے اسی جیسی روایت مرفوعاً آئی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ٤٨ (١٤٦٦)، صحیح مسلم/الزکاة ١٤ (١٠٠٠)، سنن الترمذی/الزکاة ١٢ (٦٣٥، ٦٣٦)، سنن النسائی/الزکاة ٨٢ (٢٥٨٤)، (تحفة الأشراف: ١٥٨٨٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٥٠٢، ٣٦٣)، سنن الدارمی/الزکاة ٢٣ (١٦٩٤) (صحیح ) انظر ما قبلہ
1835Sunan Ibne-Majah

رشتہ دار کو صدقہ دینا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّدَقَةِ، فَقَالَتْ زَيْنَبُ امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ: أَيُجْزِينِي مِنَ الصَّدَقَةِ أَنْ أَتَصَدَّقَ عَلَى زَوْجِي وَهُوَ فَقِيرٌ، وَبَنِي أَخٍ لِي أَيْتَامٍ، وَأَنَا أُنْفِقُ عَلَيْهِمْ هَكَذَا، وَهَكَذَا، وَعَلَى كُلِّ حَالٍ؟، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: وَكَانَتْ صَنَاعَ الْيَدَيْنِ.

ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں صدقہ کا حکم دیا، تو عبداللہ بن مسعود ؓ کی بیوی زینب ؓ نے کہا: کیا میری زکاۃ ادا ہوجائے گی اگر میں اپنے شوہر پہ جو محتاج ہیں، اور اپنے بھتیجوں پہ جو یتیم ہیں صدقہ کروں، اور میں ہر حال میں ان پر ایسے اور ایسے خرچ کرتی ہوں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں ۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ دست کاری کرتی تھیں (اور پیسے کماتی تھیں) ۔

It was narrated that Umm Salamah said: "The Messenger of Allah ﷺ enjoined charity upon us. Zainab. the wife of Abdullah, said: Will it be accepted as charity on my part if I give charity to my husband who is poor, and to the children of a brother of mine who are orphans, spending such and such on them, and in all circumstances? He said: Yes. (Sahih) One of the narrators said: "She used to prepare handicraft articles."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٨٢٦٨)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الزکاة ٤٨ (١٤٦٧)، صحیح مسلم/الزکاة ٤ (١٠٠١) (صحیح) (ام سلمہ ؓ کی یہ حدیث دوسرے طریق سے صحیح ہے، جس میں یہ صراحت ہے کہ یہی سائلہ تھیں )
1836Sunan Ibne-Majah

سوال کرنا اور مانگنا نا پسند یدہ عمل ہے۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَوْدِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَأَنْ يَأْخُذَ أَحَدُكُمْ أَحْبُلَهُ، فَيَأْتِيَ الْجَبَلَ، فَيَجِئَ بِحُزْمَةِ حَطَبٍ عَلَى ظَهْرِهِ فَيَبِيعَهَا فَيَسْتَغْنِيَ بِثَمَنِهَا، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ أَعْطَوْهُ، أَوْ مَنَعُوهُ.

زبیر بن عوام ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر تم میں سے کوئی اپنی رسی لے اور پہاڑ پر جا کر ایک گٹھا لکڑیوں کا اپنی پیٹھ پر لادے، اور اس کو بیچ کر اس کی قیمت پر قناعت کرے، تو یہ اس کے لیے لوگوں کے سامنے مانگنے سے بہتر ہے کہ لوگ دیں یا نہ دیں ١ ؎۔

It was narrated from Hisham bin Urwah, from his father, that his grandfather said: "The Messenger of Allah ﷺ said: If one of you were to take his rope (or ropes) and go to the mountains, and bring a bundle of firewood on his back to sell, and thus become independent of means, that would be better for him than begging from people who may either give him something or not give him anything. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اگر مانگنے پر دیں تو مانگنے کی ایک ذلت ہوئی، اور نہ دیں تو دوہری ذلت مانگنے کی، اور مانگنے پر نہ ملنے کی، برخلاف اس کے اپنی محنت سے کمانے میں کوئی ذلت نہیں اگرچہ مٹی ڈھو کر یا لکڑیاں چن کر اپنی روزی حاصل کرے، یہ جو مسلمان خیال کرتے ہیں کہ پیشہ یا محنت کرنے میں ذلت اور ننگ و عار ہے، یہ سب شیطانی وسوسہ ہے، اس سے زیادہ ننگ و عار اور ذلت و رسوائی سوال کرنے اور ہاتھ پھیلانے میں ہے، بلکہ پیشے اور محنت میں گو وہ کتنا ہی حقیر ہو بشرطیکہ شرع کی رو سے منع نہ ہو کوئی ذلت نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ٥٠ (١٤٧١)، (تحفة الأشراف: ٣٦٣٣) (صحیح )
1837Sunan Ibne-Majah

سوال کرنا اور مانگنا نا پسند یدہ عمل ہے۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ يَتَقَبَّلُ لِي بِوَاحِدَةٍ، وَأَتَقَبَّلُ لَهُ بِالْجَنَّةِ، قُلْتُ: أَنَا، قَالَ: لَا تَسْأَلِ النَّاسَ شَيْئًا، قَالَ: فَكَانَ ثَوْبَانُ يَقَعُ سَوْطُهُ وَهُوَ رَاكِبٌ، فَلَا يَقُولُ لِأَحَدٍ نَاوِلْنِيهِ، حَتَّى يَنْزِلَ فَيَأْخُذَهُ.

ثوبان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کون میری ایک بات قبول کرتا ہے؟ اور میں اس کے لیے جنت کا ذمہ لیتا ہوں ، میں نے عرض کیا: میں قبول کرتا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: لوگوں سے کوئی چیز مت مانگو ، چناچہ ثوبان ؓ جب سواری پر ہوتے اور ان کا کوڑا نیچے گر جاتا تو کسی سے یوں نہ کہتے کہ میرا کوڑا اٹھا دو، بلکہ خود اتر کر اٹھاتے ١ ؎۔

It was narrated from ‘Abdur-Rahinán bin Yazid, that Thawban said: “The Messenger of Allah ﷺ Who will commit himself to one thing, I will guarantee him Paradise? I said: I will. He said: Do not ask people for anything. So Thawban would drop his whip while he was on his mount, and he would not say to anyone: Get that for me rathe,; he would dismount and grab It. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ ایمان و توکل علی اللہ کا بڑا اعلیٰ درجہ ہے حالانکہ اس قسم کا سوال مباح اور جائز ہے، مگر صحابہ کرام ؓ کی شان بڑی تھی انہوں نے مخلوق سے مطلقاً سوال ہی چھوڑ دیا، صرف خالق سے سوال کرنے ہی کو بہتر سمجھا۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الزکاة ٨٦ (٢٥٩١)، (تحفة الأشراف: ٢٠٩٨)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الزکاة ٢٧ (١٦٤٣)، مسند احمد (٥/٢٧٥، ٢٧٦، ٢٧٩) (صحیح )
1838Sunan Ibne-Majah

محتاج نہ ہونے کے باوجودمانگنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ سَأَلَ النَّاسَ أَمْوَالَهُمْ تَكَثُّرًا، فَإِنَّمَا يَسْأَلُ جَمْرَ جَهَنَّمَ، فَلْيَسْتَقِلَّ مِنْهُ، أَوْ لِيُكْثِرْ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے لوگوں سے مال بڑھانے کے لیے مانگا، تو وہ جہنم کے انگارے مانگتا ہے، چاہے اب وہ زیادہ مانگے یا کم مانگے ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever begs from people so as to accumulate more riches, he is asking for a live coal from Hell, so let him ask for a lot or a little." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الزکاة ٣٥ (١٠٤١)، (تحفة الأشراف: ١٤٩١٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٣١) (صحیح )
1839Sunan Ibne-Majah

محتاج نہ ہونے کے باوجودمانگنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ، وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: صدقہ و خیرات کسی مالدار یا ہٹے کٹے صحت مند آدمی کے لیے حلال نہیں ہے ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Charity is not permissible for a rich person, or for one who is strong and healthy." (Sahih)

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الزکاة ٩٠ (٢٥٩٨)، (تحفة الأشراف: ١٢٩١٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٧٧، ٣٨٩) (صحیح )
1840Sunan Ibne-Majah

محتاج نہ ہونے کے باوجودمانگنا

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ سَأَلَ وَلَهُ مَا يُغْنِيهِ، جَاءَتْ مَسْأَلَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ خُدُوشًا، أَوْ خُمُوشًا، أَوْ كُدُوحًا فِي وَجْهِهِ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا يُغْنِيهِ؟، قَالَ: خَمْسُونَ دِرْهَمًا، أَوْ قِيمَتُهَا مِنَ الذَّهَبِ، فَقَالَ رَجُلٌ لِسُفْيَانَ: إِنَّ شُعْبَةَ لَا يُحَدِّثُ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ، فَقَالَ سُفْيَانُ: قَدْ حَدَّثَنَاهُ زُبَيْدٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص سوال کرے اور اس کے پاس اتنا مال ہو جو اسے بےنیاز کرتا ہو، تو یہ سوال قیامت کے دن اس کے چہرے پہ زخم کا نشان بن کر آئے گا ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کتنا مال آدمی کو بےنیاز کرتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: پچاس درہم یا اس کی مالیت کا سونا ١ ؎۔ ایک شخص نے سفیان ثوری سے کہا: شعبہ تو حکیم بن جبیر سے روایت نہیں کرتے؟ سفیان ثوری نے کہا کہ یہ حدیث ہم سے زبید نے بھی محمد بن عبدالرحمٰن کے واسطے سے روایت کی ہے۔

It was narrated from Abdullah bin Masud that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever begs when he has enough to suffice him, his begging will come on the Day of Resurrection like lacerations on his face." It was said: Messenger of Allah, what is sufficient for him?" He said: "Fifty Dirham, or their value in gold." (Daif) Another chain of narrators for the Hadith has been discussed by Sufyan (one of the narrators).

Notes · وضاحت
١ ؎: ابوداود کی روایت میں ہے: غنا کی حد یہ ہے کہ آدمی کے پاس صبح و شام کا کھانا ہو، اور ایک روایت میں ہے کہ ایک اوقیہ کا مالک ہو، اور اس روایت میں پچاس درہم مذکور ہے، شافعی نے دوسرے قول کو لیا ہے اور احمد اور اسحاق اور ابن مبارک نے پہلے قول کو، بعض لوگوں نے تیسرے قول کو اور ابوحنیفہ نے کہا جو دو سو درہم کا مالک ہے یا اس قدر مالیت کا اسباب اس کے پاس ہے اس کے لیے سوال صحیح نہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الزکاة ٢٣ (١٦٢٦)، سنن الترمذی/الزکاة ٢٢ (٦٥٠)، سنن النسائی/الزکاة ٨٧ (٢٥٩٣)، (تحفة الأشراف: ٩٣٨٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٨٨، ٤٤١)، سنن الدارمی/الزکاة ٥ ١ (١٦٨٠) (صحیح )
1841Sunan Ibne-Majah

جن لوگوں کے لئے صدقہ حلال ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ، إِلَّا لِخَمْسَةٍ لِعَامِلٍ عَلَيْهَا، أَوْ لِغَازٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَوْ لِغَنِيٍّ اشْتَرَاهَا بِمَالِهِ، أَوْ فَقِيرٍ تُصُدِّقَ عَلَيْهِ فَأَهْدَاهَا لِغَنِيٍّ، أَوْ غَارِمٍ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مالدار کے لیے زکاۃ حلال نہیں ہے مگر پانچ آدمیوں کے لیے: زکاۃ وصول کرنے والے کے لیے، اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کے لیے، یا ایسے مالدار کے لیے جس نے اپنے پیسے سے اسے خرید لیا ہو، یا کوئی فقیر ہو جس پر صدقہ کیا گیا ہو، پھر وہ کسی مالدار کو اسے ہدیہ کر دے، (تو اس مالدار کے لیے وہ زکاۃ حلال ہے) یا وہ جو مقروض ہو۔

It was narrated from Abu Sa te ed AI-Khudri that the Messenger of Allah ﷺ said: "Charity is not perrrussible for a rich man except in five cases: One who is appointed to collect it, a warrior fighting in the cause of Allah, a rich man who buys It with his own money, a poor man who receives the charity and gives it as a gift to a rich man, and a debtor." (Sahih)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الزکاة ٢٤ (١٦٣٥)، (تحفة الأشراف: ٤١٧٧)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الزکاة ١٧ (٢٩)، مسند احمد (٣/٤، ٣١، ٤٠، ٥٦، ٩٧) (صحیح )
1842Sunan Ibne-Majah

صدقہ کی فضیلت

حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا تَصَدَّقَ أَحَدٌ بِصَدَقَةٍ مِنْ طَيِّبٍ، وَلَا يَقْبَلُ اللَّهُ إِلَّا الطَّيِّبَ، إِلَّا أَخَذَهَا الرَّحْمَنُ بِيَمِينِهِ، وَإِنْ كَانَتْ تَمْرَةً فَتَرْبُو فِي كَفِّ الرَّحْمَنِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى حَتَّى تَكُونَ أَعْظَمَ مِنَ الْجَبَلِ، وَيُرَبِّيهَا لَهُ كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فُلُوَّهُ، أَوْ فَصِيلَهُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: جو شخص حلال مال سے صدقہ دے، اور اللہ تعالیٰ تو حلال ہی قبول کرتا ہے، اس کے صدقہ کو دائیں ہاتھ میں لیتا ہے، گرچہ وہ ایک کھجور ہی کیوں نہ ہو، پھر وہ صدقہ رحمن کی ہتھیلی میں بڑھتا رہتا ہے، یہاں تک کہ پہاڑ سے بھی بڑا ہوجاتا ہے، اور اللہ تعالیٰ اس کو ایسے ہی پالتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی اپنے گھوڑے یا اونٹ کے بچے کو پالتا ہے ١ ؎۔

It was narrated from gaeed bin Yasar that heard Abu Hurairah (RA) say: The Messenger of Allah ﷺ said: No one gives charity from good sources _ for Allah does not accept anything but that which is good _ but the Most Merciful takes it in His Right Hand. even if it is a date, and it flourishes ,, Hand of the Most Merciful until it becomes bigger than a mountain, and He tends it as anyone of you would tend to his colt (i.e., young pony) or his young (weaned) camel:" (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں اللہ تعالیٰ کے لئے یمین (داہنا ہاتھ) اور کف (یعنی مٹھی) ثابت کیا گیا ہے، دوسری حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دونوں ہاتھ یمین (داہنے) ہیں، ایسی حدیثوں سے جہمیہ اور معتزلہ اور اہل کلام کی جان نکلتی ہے، جب کہ اہل حدیث ان کو اپنی آنکھوں پر رکھتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ اللہ کا پہنچاننے والا اس کے رسول سے زیادہ کوئی نہ تھا، پس جو صفات اللہ تعالیٰ نے خود اپنے لئے ثابت کیں یا اس کے رسول نے بیان کیں، ہم ان سب کو مانتے ہیں، لیکن ان کو مخلوقات کی صفات سے مشابہ نہیں کرتے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات مشابہت سے پاک ہے، لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْئٌ وَهُوَ السَّمِيعُ البَصِيرُ (سورة الشورى: 11) یہی نجات کا راستہ ہے، محققین علمائے سلف اور ائمہ اسلام نے اسی کو اختیار کیا ہے، اہل تاویل کہتے ہیں کہ یہ مجازی ہے، مطلب یہ ہے کہ وہ صدقہ قبول ہوجاتا ہے، اور بڑھنے کا معنی یہ ہے کہ اس کا ثواب عظیم ہوتا ہے۔ واللہ اعلم
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ٨ (٤١١٠ تعلیقاَ )، التوحید ٢٣ (٧٤٣٠ تعلیقاً )، صحیح مسلم/الزکاة ١٩ (١٠١٤)، سنن الترمذی/الزکاة ٢٨ (٦٦١)، سنن النسائی/الزکاة ٤٨ (٢٥٢٦)، (تحفة الأشراف: ١٣٣٧٩)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصدقة ١ (١) مسند احمد (٢/٢٦٨، ٣٣١، ٣٨١، ٤١٨، ٤١٩، ٢٣١، ٤٧١، ٥٣٨، ٥٤١)، سنن الدارمی/الزکاة ٣٥ (١٧١٧) (صحیح )