Sunan Ibne-Majah 1837

زکوۃ کا بیان

1837Sunan Ibne-Majah

سوال کرنا اور مانگنا نا پسند یدہ عمل ہے۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ يَتَقَبَّلُ لِي بِوَاحِدَةٍ، وَأَتَقَبَّلُ لَهُ بِالْجَنَّةِ، قُلْتُ: أَنَا، قَالَ: لَا تَسْأَلِ النَّاسَ شَيْئًا، قَالَ: فَكَانَ ثَوْبَانُ يَقَعُ سَوْطُهُ وَهُوَ رَاكِبٌ، فَلَا يَقُولُ لِأَحَدٍ نَاوِلْنِيهِ، حَتَّى يَنْزِلَ فَيَأْخُذَهُ.

ثوبان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کون میری ایک بات قبول کرتا ہے؟ اور میں اس کے لیے جنت کا ذمہ لیتا ہوں ، میں نے عرض کیا: میں قبول کرتا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: لوگوں سے کوئی چیز مت مانگو ، چناچہ ثوبان ؓ جب سواری پر ہوتے اور ان کا کوڑا نیچے گر جاتا تو کسی سے یوں نہ کہتے کہ میرا کوڑا اٹھا دو، بلکہ خود اتر کر اٹھاتے ١ ؎۔

It was narrated from ‘Abdur-Rahinán bin Yazid, that Thawban said: “The Messenger of Allah ﷺ Who will commit himself to one thing, I will guarantee him Paradise? I said: I will. He said: Do not ask people for anything. So Thawban would drop his whip while he was on his mount, and he would not say to anyone: Get that for me rathe,; he would dismount and grab It. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ ایمان و توکل علی اللہ کا بڑا اعلیٰ درجہ ہے حالانکہ اس قسم کا سوال مباح اور جائز ہے، مگر صحابہ کرام ؓ کی شان بڑی تھی انہوں نے مخلوق سے مطلقاً سوال ہی چھوڑ دیا، صرف خالق سے سوال کرنے ہی کو بہتر سمجھا۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الزکاة ٨٦ (٢٥٩١)، (تحفة الأشراف: ٢٠٩٨)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الزکاة ٢٧ (١٦٤٣)، مسند احمد (٥/٢٧٥، ٢٧٦، ٢٧٩) (صحیح )