صدقہ فطر
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، عَلَى كُلِّ حُرٍّ، أَوْ عَبْدٍ ذَكَرٍ، أَوْ أُنْثَى مِنَ الْمُسْلِمِينَ.
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے صدقہ فطر میں ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو مسلمانوں میں سے ہر ایک پر فرض کیا، خواہ وہ آزاد ہو یا غلام، مرد ہو یا عورت ١ ؎۔
It was narrated that Ibn U mar sa id: "The Messenger of Allah ﷺ enjoined Sadaqatul-Fitr, one Sit of barley or one Sil of dates for every Muslim, free or slave, male or female." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: فَرَضَ معنی میں وَجَبَ کے ہے، صدقہ فطر کے وجوب کی یہ حدیث واضح دلیل ہے، امام اسحاق بن راہویہ نے اس کے وجوب پر اجماع کا دعویٰ کیا ہے، ایک قول یہ بھی ہے کہ فَرَضَ قدر کے معنی میں ہے لیکن یہ ظاہر کے خلاف ہے، من المسلمین سے معلوم ہوا کہ کافر غلام کا صدقہ فطر نہیں نکالا جائے گا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ٧١ (١٥٠٦)، صحیح مسلم/الزکاة ٤ (٩٨٤)، سنن ابی داود/الزکاة ١٩ (١٦١١)، سنن الترمذی/الزکاة ٣٥ (٦٧٦)، سنن النسائی/الزکاة ٣٢ (٢٥٠٤)، ٣٣ (٢٥٠٥)، (تحفة الأشراف: ٨٣٢١)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الزکاة ٢٨ (٥٢)، مسند احمد (٢/٥، ٥٥، ٦٣، ٦٦، ١٠٢، ١١٤، ١٣٧)، سنن الدارمی/الزکاة ٢٧ (١٧٠٢) (صحیح )