Sunan Ibne-Majah 1823

زکوۃ کا بیان

1823Sunan Ibne-Majah

شہد کی زکوة

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ أَبِي سَيَّارَةَ الْمُتَعِيُّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي نَحْلًا، قَالَ: أَدِّ الْعُشْرَ ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ احْمِهَا لِي، فَحَمَاهَا لِي .

ابوسیارہ متقی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے پاس شہد کی مکھیاں ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اس کا دسواں حصہ بطور زکاۃ ادا کرو ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ جگہ میرے لیے خاص کر دیجئیے، چناچہ آپ نے وہ جگہ میرے لیے خاص کردی ١ ؎۔

It was narrated that Abu Sayyarah Al-Mutai said. "I said: O Messenger of Allah ﷺ I have bees. He said: Give one-tenth. I said: O Messenger of Allah ﷺ Protect it for me. And he protected it for me." (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی بطور حفاظت و نگرانی اور اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے جاگیر میں دے دی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٠٥٥، ومصباح الزجاجة: ٦٤٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٣٦) (حسن) (سند میں سلیمان بن موسیٰ ضعیف ہے، سلیمان کی کسی صحابی سے ملاقات نہیں ہے، موت سے کچھ پہلے مختلط ہوگئے تھے، لیکن عبد اللہ بن عمرو ؓ کی حدیث سے تقویت پا کر یہ حسن ہے، کماسیأتی )