Sunan Ibne-Majah 1819

زکوۃ کا بیان

1819Sunan Ibne-Majah

کھجور اور انگور کا تخمینہ

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، وَالزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ التَّمَّارُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ عَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يَبْعَثُ عَلَى النَّاسِ مَنْ يَخْرُصُ عَلَيْهِمْ كُرُومَهُمْ وَثِمَارَهُمْ .

عتاب بن اسید ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ لوگوں کے پاس ایک شخص کو بھیجتے جو ان کے انگوروں اور پھلوں کا اندازہ لگاتا ١ ؎۔

It was narrated from Attiib bin Asid that the Prophet ﷺ used to send to the people one who would assess their vineyards and fruits. (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: خرص کا مطلب تخمینہ اور اندازہ لگانے کے ہیں یعنی کھجور وغیرہ کے درخت پر پھلوں کا اندازہ کرنا کہ اس درخت میں اتنا پھل نکلے گا، اور اندازے کے بعد رعایا کو اجازت دے دی جاتی ہے کہ وہ پھل توڑ لیں، پھر اندازہ کے موافق ان سے دسواں یا بیسواں حصہ لے لیا جاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الزکاة ١٣ (١٦٠٣، ١٦٠٤)، سنن الترمذی/الزکاة ١٧ (٦٤٤)، سنن النسائی/الزکاة ١٠٠ (٢٦١٩)، (تحفة الأشراف: ٩٧٤٨) (ضعیف) (سعید بن مسیب اور عتاب ؓ کے درمیان سند میں انقطاع ہے )