عید سے پہلے یا بعد نماز پڑھنا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَرَجَ فَصَلَّى بِهِمُ الْعِيدَ لَمْ يُصَلِّ قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا.
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عید گاہ کی طرف گئے تو آپ نے لوگوں کو عید کی نماز پڑھائی، اور اس سے پہلے یا بعد کوئی اور نماز نہ پڑھی۔
It was narrated from lbn ‘Abbâs that the Messenger of Allah ﷺ went out and led them in the ‘Eid prayer, and he did not pray before it or after it. (Sahih)
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العیدین ٨ (٩٦٤)، ٢٦ (٩٨٩)، الزکاة ٢١ (١٤٣١)، اللباس ٥٧ (٥٨٨١)، ٥٩ (٥٨٨٣)، صحیح مسلم/العیدین ٢ (٨٨٤)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٥٦ (١١٥٩)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٧٠ (الجمعة ٣٥) (٥٣٧)، سنن النسائی/العیدین ٢٨ (١٥٨٨)، (تحفة الأشراف: ٥٥٥٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/ ٢٨٠، ٣٤٠، ٣٥٥)، سنن الدارمی/الصلاة ٢١٩ (١٦٤٦) (صحیح )