اقامت نماز اور اس کا طریقہ

Sunan Ibne-Majah · Chapter 7 · 630 hadiths · Page 24 of 32

1263Sunan Ibne-Majah

سورج اور چاند گرہن کی نماز

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِيعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي حَيَاةِ ِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَقَامَ فَكَبَّرَ فَصَفَّ النَّاسُ وَرَاءَهُ، فَقَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً، ثُمَّ كَبَّرَ، فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، ثُمَّ قَامَ فَقَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً هِيَ أَدْنَى مِنَ الْقِرَاءَةِ الْأُولَى، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا هُوَ أَدْنَى مِنَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، فَاسْتَكْمَلَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ، وَانْجَلتَ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَنْصَرِفَ، ثُمَّ قَامَ فَخَطَبَ النَّاسَ، فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا، فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلَاةِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں سورج گرہن ہوا تو آپ ﷺ مسجد گئے، اور کھڑے ہو کر الله أكبر کہا، لوگوں نے بھی آپ کے پیچھے صف لگائی، آپ نے لمبی قراءت کی، پھر الله أكبر کہا، اور دیر تک رکوع کیا، پھر رکوع سے اپنا سر اٹھایا، اور سمع الله لمن حمده ربنا ولک الحمد کہا، پھر کھڑے ہوئے اور لمبی قراءت کی جو پہلی قراءت سے کم تھی، پھر الله أكبر کہا، اور لمبا رکوع کیا جو پہلے رکوع سے کم تھا، پھر سمع الله لمن حمده ربنا ولک الحمد کہا، پھر دوسری رکعت میں بھی ایسا ہی کیا، اور چار رکوع اور چار سجدے مکمل کئے، آپ ﷺ کے سلام پھیرنے سے پہلے سورج روشن ہوچکا تھا، پھر آپ کھڑے ہوئے، خطبہ دیا، اور اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کی جس کا وہ مستحق ہے، پھر فرمایا: بیشک سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، وہ کسی کی موت و پیدائش کی وجہ سے نہیں گہناتے، لہٰذا جب تم ان کو گہن میں دیکھو تو نماز کی طرف دوڑ پڑو ۔

It was narrated that Aisha (RA) said: "The sun was eclipsed during the life of the Messenger of Allah ﷺ SAW. The Messenger of Allah ﷺ SAW went out to the Masjid and stood and said the Takbir, and the people formed rows behind him. The Messenger, of Allah SAW recited for a long time, then he said the Takbir and bowed for a long time. Then he raised his head and said: Sami Allahu liman hamidah, Rabbana wa lakal-hamd. Then he stood and recited for a long time, but shorter than the first recitation. Then he said the Takbir and bowed for a long time, but less than the first bowing. Then he said: Sami Allahu liman hamidah, Rabbana wa lakal-hamd. Then he did the same in the next Rakah, and he completed four Rakah and four sets of prostration, and the eclipse ended before he finished. Then he stood and addressed the people. He praised Allah as He deserves to be praised, then he said: The sun and the moon are two of the signs of Allah. They do not become eclipsed for the death or birth of anyone. If you see that then seek help in prayer." (Sahih).

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الکسوف ٤ (١٠٤٦)، ٥ (١٠٤٧)، ١٣ (١٠٥٨)، العمل في الصلاة ١١ (١٢١٢)، بدأالخلق ٤ (٣٢٠٣)، صحیح مسلم/الکسوف ١ (٩٠١)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٦٢ (١١٨٠)، سنن النسائی/الکسوف ١١ (١٤٧٦)، (تحفة الأشراف: ١٦٦٩٢)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الکسوف ١ (١)، مسند احمد (٦/٧٦، ٨٧، ١٦٤، ١٦٨)، سنن الدارمی/الصلاة ١٨٧ (١٥٧٠) (صحیح )
1264Sunan Ibne-Majah

سورج اور چاند گرہن کی نماز

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ عِبَادٍ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْكُسُوفِ، فَلَا نَسْمَعُ لَهُ صَوْتًا.

سمرہ بن جندب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں گہن کی نماز پڑھائی، تو ہمیں آپ کی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی ١ ؎۔

It was narrated that Samurah bin Jundab said: "The Messenger of Allah ﷺ SAW led us in the eclipse prayer, and we did not hear his voice." (Hasan).

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے ابوحنیفہ (رح) نے استدلال کیا ہے کہ کسوف کی نماز میں جہر نہ کرے، جب کہ یہ حدیث ضعیف ہے، اور ضعیف حدیث قابل استدلال نہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٢٦٢ (١١٨٤)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٨٠ (٥٦٢) سنن النسائی/الکسوف ١٩ (١٤٩٦)، (تحفة الأشراف: ٤٥٧٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٤، ١٦، ١٧، ١٩، ٢٣) (ضعیف) (اس حدیث کی سند میں راوی ثعلبہ بن عباد مجہول ہیں، ملاحظہ ہو: ضعیف ابی داود: ٢١٦ )
1265Sunan Ibne-Majah

سورج اور چاند گرہن کی نماز

حَدَّثَنَا مُحْرِزُ بْنُ سَلَمَةَ الْعَدَنِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ الْجُمَحِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْكُسُوفِ، فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ رَفَعَ، فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ رَفَعَ، ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ، ثُمَّ رَفَعَ، ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ، ثُمَّ رَفَعَ، فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ رَفَعَ، فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ رَفَعَ، ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ، ثُمَّ رَفَعَ، ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَقَالَ: لَقَدْ دَنَتْ مِنِّي الْجَنَّةُ حَتَّى لَوِ اجْتَرَأْتُ عَلَيْهَا لَجِئْتُكُمْ بِقِطَافٍ مِنْ قِطَافِهَا، وَدَنَتْ مِنِّي النَّارُ حَتَّى قُلْتُ أَيْ رَبِّ وَأَنَا فِيهِمْ، قَالَ نَافِعٌ: حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ: وَرَأَيْتُ امْرَأَةً تَخْدِشُهَا هِرَّةٌ لَهَا، فَقُلْتُ: مَا شَأْنُ هَذِهِ؟، قَالُوا: حَبَسَتْهَا حَتَّى مَاتَتْ جُوعًا لَا هِيَ أَطْعَمَتْهَا، وَلَا هِيَ أَرْسَلَتْهَا تَأْكُلُ مِنْ خِشَاشِ الْأَرْضِ.

اسماء بنت ابی بکر ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے گہن کی نماز پڑھائی، اور کافی لمبا قیام کیا، پھر کافی لمبا رکوع کیا، پھر رکوع سے سر اٹھایا تو کافی لمبا قیام کیا، پھر کافی لمبا رکوع کیا، پھر رکوع سے سر اٹھایا، پھر سجدہ کیا تو کافی لمبا سجدہ کیا، پھر سجدے سے سر اٹھایا، پھر سجدہ کیا، اور کافی لمبا سجدہ کیا، پھر سجدے سے سر اٹھایا اور لمبا قیام کیا، پھر لمبا رکوع کیا، پھر رکوع سے سر اٹھایا اور لمبا قیام کیا، پھر لمبا رکوع کیا پھر رکوع سے سر اٹھایا اور لمبا سجدہ کیا، پھر سجدہ سے سر اٹھایا اور لمبا سجدہ کیا، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: جنت مجھ سے اتنی قریب ہوگئی کہ اگر میں جرات کرتا تو تمہارے پاس اس کے خوشوں (گچھوں) میں سے کوئی خوشہ (گچھا) لے کر آتا، اور جہنم بھی مجھ سے اتنی قریب ہوگئی کہ میں نے کہا: اے رب! (کیا لوگوں پر عذاب آجائے گا) جبکہ میں ان کے درمیان موجود ہوں؟ ۔ نافع کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا: میں نے ایک عورت کو دیکھا کہ اس کو اس کی بلی نوچ رہی تھی، میں نے پوچھا: اس کا سبب کیا ہے؟ فرشتوں نے بتایا کہ اس عورت نے اسے باندھ رکھا تھا یہاں تک کہ وہ بھوک کی وجہ سے مرگئی، نہ اس نے اسے کھلایا اور نہ چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لیتی ١ ؎۔

It was narrated that Asma bint Abu Bakr (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ SAW performed the eclipse prayer. He stood for a long time, then he bowed for a long time, then he stood up and stood for a long time, then he bowed for a long time, then he stood up, then he prostrated for a long time, then he sat up, then he prostrated for a long time. He stood for a long time, then he bowed for a long time, then he stood up and stood for a long time, then he bowed for a long time, then he stood up, then he prostrated for a long time, then he sat up, then he prostrated for a long time. Then he finished and said: Paradise was brought close to me, so that if I had dared, I could have brought you some of its fruits. And Hell was brought near to me, until I said, O Lord, am I one of them?" Nafi said: "l think that he said: And I saw a woman being scratched by a cat that belonged to her. I said: "What is wrong with this woman?" They said: "She detained it until it died of hunger; she did not feed it and she did not let it loose to eat of the vermin of the earth." (Sahih).

Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث میں خشاش کا لفظ ہے خائے معجمہ سے یعنی زمین کے کیڑے مکوڑے اور بعضوں نے حشاش کہا ہے حائے حطی سے، اور یہ سہو ہے کیونکہ حشاش سوکھی گھاس کو کہتے ہیں، اسی سے حشیش ہے، اور وہ بلی کی غذا نہیں ہے، اس حدیث سے بھی ہر رکعت میں دو رکوع ثابت ہوتے ہیں، اور یہ بھی معلوم ہوا کہ جاندار کو قید میں رکھنا اور اس کو خوراک نہ دینا یہاں تک کہ وہ ہلاک ہوجائے بہت بڑا گناہ ہے، جس کی وجہ سے آدمی جہنم میں جائے گا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٩٠ (٧٤٩)، سنن النسائی/الکسوف ٢١ (١٤٩٩)، (تحفة الأشراف: ١٥٧١٧)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الکسوف ٢ (٤)، مسند احمد (٦/٣١٥) (صحیح )
1266Sunan Ibne-Majah

نماز استسقاء

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كِنَانَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَرْسَلَنِي أَمِيرٌ مِنَ الْأُمَرَاءِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَسْأَلُهُ عَنِ الصَّلَاةِ فِي الِاسْتِسْقَاءِ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مَا مَنَعَهُ أَنْ يَسْأَلَنِي؟، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَاضِعًا، مُتَبَذِّلًا، مُتَخَشِّعًا، مُتَرَسِّلًا، مُتَضَرِّعًا، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَمَا يُصَلِّي فِي الْعِيدِ، وَلَمْ يَخْطُبْ خُطْبَتَكُمْ هَذِهِ.

اسحاق بن عبداللہ بن کنانہ کہتے ہیں کہ امراء میں سے کسی امیر نے مجھے ابن عباس ؓ کے پاس نماز استسقاء کے متعلق پوچھنے کے لیے بھیجا، تو ابن عباس ؓ نے کہا: امیر نے مجھ سے خود کیوں نہیں پوچھ لیا؟ پھر بتایا کہ رسول اللہ ﷺ عاجزی کے ساتھ سادہ لباس میں، خشوع خضوع کے ساتھ، آہستہ رفتار سے، گڑگڑاتے ہوئے (عید گاہ کی طرف) روانہ ہوئے، پھر آپ ﷺ نے نماز عید کی طرح دو رکعت نماز پڑھائی، اور اس طرح خطبہ نہیں دیا جیسے تم دیتے ہو ١ ؎۔

It was narrated from Hisham bin Ishaq bin Abdullah bin Kinanah that his father said: “One of the chiefs sent me to Ibn ‘Abbâs to ask him about the prayer for rain. Ibn ‘Abbâs said: ‘What kept han from asking me?’ He said: ‘The Messenger of Allah ﷺ went out humbly, walking with a humble and moderate gait, imploring, and he performed two Rak’ah as he used to pray for ‘Eid, but he did not give a sermon like this sermon of yours.” (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: حجۃ اللہ البالغۃ میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنی امت کے لئے استسقاء کئی بار مختلف طریقوں سے کیا لیکن جو طریقہ سنت کا اپنی امت کے لئے اختیار کیا وہ یہ ہے کہ لوگوں سمیت نہایت عاجزی کے ساتھ عید گاہ تشریف لے گئے، اور دو رکعتیں پڑھیں، ان میں زور سے قراءت کی، پھر خطبہ پڑھا، اور قبلے کی طرف منہ کیا، خطبہ میں دعا مانگی، اور دونوں ہاتھ اٹھائے، اور اپنی چادر پلٹی، استسقاء کی نماز دو رکعت مسنون ہے، ان کے بعد خطبہ ہے، اس کے وجوب کی کوئی دلیل نہیں ہے، اور ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک استسقاء میں صرف دعا اور استغفار کافی ہے، جب کہ متعدد احادیث میں نماز وارد ہے، اور جن حدیثوں میں نماز کا ذکر نہیں ان سے نماز کی نفی لازم نہیں آتی، اور ابن ابی شیبہ نے جو عمر ؓ سے روایت کی ہے کہ وہ استسقاء کو نکلے پھر نہ زیادہ کیا استغفار پر، یہ ایک صحابی کا موقوف اثر ہے، قطع نظر اس کے سنت کے ترک سے اس کی سنیت باطل نہیں ہوتی، اور اسی پر وہ مرفوع حدیث بھی محمول ہوگی جس میں نماز کا ذکر نہیں ہے، اور صحابہ کرام رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں آپ کا وسیلہ لیتے تھے اور عمر ؓ نے آپ ﷺ کی وفات کے بعد آپ ﷺ کے چچا عباس ؓ کا وسیلہ لیا، اس معنی میں کہ نبی اکرم ﷺ نے خود استسقاء کی نماز ادا فرمائی، اور بارش کی دعا کی، آپ سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے یہاں اور کون تھا، پھر عمر ؓ نے آپ کے چچا عباس ؓ کو نماز استسقاء کے لیے آگے بڑھایا کیونکہ آپ کی بزرگی، صالحیت اور اللہ کے رسول سے تعلق کی وجہ سے اس بات کی توقع کی تھی کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں آپ کی دعا قبول ہوگی، اور بعض روایتوں میں نماز سے پہلے خطبہ وارد ہے، اور دونوں طرح صحیح ہے، (ملاحظہ ہو: الروضہ الندیہ)۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٢٥٨ (١١٦٥)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٧٨ (الجمعة ٤٣) (٥٥٨، ٥٥٩)، سنن النسائی/الاستسقاء ٣ (١٥٠٧)، ٤ (١٥٠٩)، ١٣ (١٥٢٢)، (تحفة الأشراف: ٥٣٥٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٣٠، ٢٦٠، ٣٥٥) (حسن) (تراجع الألبانی: رقم: ٥٣٤ )
1267Sunan Ibne-Majah

نماز استسقاء

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبَّادَ بْنَ تَمِيمٍ، يُحَدِّثُ أَبِي، عَنْ عَمِّهِ، أَنَّهُ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَرَجَ إِلَى الْمُصَلَّى لِيَسْتَسْقِي، فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، وَقَلَبَ رِدَاءَهُ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْعَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، قَالَ سُفْيَانُ، عَنْ الْمَسْعُودِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا بَكْرِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو: أَجَعَلَ أَعْلَاهُ أَسْفَلَهُ أَوِ الْيَمِينَ عَلَى الشِّمَالِ؟ قَالَ: لَا، بَلِ الْيَمِينَ عَلَى الشِّمَالِ.

عبداللہ بن زید بن عاصم ؓ سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ عید گاہ کی جانب نماز استسقاء کے لیے نکلے، آپ نے قبلہ کی طرف رخ کیا، اپنی چادر کو پلٹا، اور دو رکعت نماز پڑھائی ١ ؎۔

It was narrated that ‘Abdullâh bin Abu Bakr (RA) said: “I heard ‘Abbâs bin Tamim narrating to my father that his paternal uncle had seen the Prophet ﷺ i going out to the prayer place to pray for rain. He faced the Qiblah and turned his cloak around, and prayed two Rak’ah.” (One of the narrators) Muhammad bin Sabbâh said: “Sufyân told us something similar, narrating from Yahya bin Sa’eed, from Abu Bakr (RA) bin Muhammad bin ‘Amr bin Hazm, from ‘Abbas bin Tamim, from his paternal uncle, from the Prophet ﷺ , Sufyán narrated that Al-Mas’udi said: “I asked Abu Bakr (RA) bin Muhammad bin ‘Amr (RA) : ‘Did he turn it upside down or right to left? He said: ‘No, it was right to left. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی چادر کو اس طرح پلٹا کہ اوپر کا حصہ نیچے ہوگیا، اور نیچے کا اوپر، اور داہنا کنارہ بائیں طرف ہوگیا، اور بایاں کنارہ داہنی طرف اس کا طریقہ یہ ہے کہ داہنے ہاتھ سے چادر کا نیچے کا بایاں کونہ اور بائیں ہاتھ سے نیچے کا داہنا کونہ پکڑ کر پیٹھ کے پیچھے اپنے دونوں ہاتھوں کو پھرا دے اس طرح سے کہ جو کونہ داہنے ہاتھ سے پکڑا ہے وہ داہنے کندھے پر آجائے، اور جو بائیں ہاتھ سے پکڑا ہے وہ بائیں کندھے پر آجائے۔ اس سند سے بھی عباد بن تمیم نے اپنے چچا (عبداللہ بن زید ؓ) سے اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، اس میں اتنا زیادہ ہے کہ سفیان ثوری نے مسعودی سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے ابوبکر بن محمد بن عمرو سے پوچھا کہ چادر کو کیسے پلٹا، کیا اوپر کا حصہ نیچے کردیا، یا دائیں کو بائیں جانب کردیا؟ انہوں نے کہا: نہیں، بلکہ دائیں کو بائیں جانب کرلیا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الاستسقاء ١ (١٠٠٥)، ٤ (١٠١١)، ١٥ (١٠٢٣)، ١٦ (١٠٢٤)، ١٧ (١٠٢٥)، ١٨ (١٠٢٦)، ١٩ (١٠٢٧)، ٢٠ (١٠٢٨)، الدعوات ٢٥ (٦٣٤٣)، صحیح مسلم/الاستسقاء ١ (٨٩٤)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٥٨ (١١٦١)، ٢٥٩ (١١٦٦)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٧٨ (الجمعة ٤٣) (٥٥٦)، سنن النسائی/الاستسقاء ٢ (١٥٠٦)، ٣ (١٥٠٨)، ٥ (١٥١٠)، ٦ (١٥١١)، ٧ (١٥١٢)، ٨ (١٥١٣)، ١٢ (١٥٢١)، ١٤ (١٥٢٣)، (تحفة الأشراف: ٥٢٩٧)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ صلاةالإستسقاء ١ (١) مسند احمد (٤/٣٩، ٤٠، ٤١، ٤٢)، سنن الدارمی/الصلاة ١٨٨ (١٥٧٤) (صحیح )
1268Sunan Ibne-Majah

نماز استسقاء

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ، وَالْحَسَنُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ، قَالَا: حَدَّثَنَا، وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُالنُّعْمَانَ يُحَدِّثُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا يَسْتَسْقِي، فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ بِلَا أَذَانٍ، وَلَا إِقَامَةٍ، ثُمَّ خَطَبَنَا وَدَعَا اللَّهَ، وَحَوَّلَ وَجْهَهُ نَحْوَ الْقِبْلَةِ رَافِعًا يَدَيْهِ، ثُمَّ قَلَبَ رِدَاءَهُ، فَجَعَلَ الْأَيْمَنَ عَلَى الْأَيْسَرِ، وَالْأَيْسَرَ عَلَى الْأَيْمَنِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن نماز استسقاء پڑھنے کے لیے نکلے، تو بغیر اذان و اقامت کے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی، پھر خطبہ دیا، اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی، اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے ہوئے اپنا منہ قبلہ کی طرف کیا، پھر اپنی چادر پلٹی تو دایاں جانب بائیں کندھے پر اور بایاں جانب دائیں کندھے پر کرلیا ١ ؎۔

It was narrated that Abu urairah said: “The Messenger of Alláh ﷺ went out one day to pray for rain. He led us in praying two Rak’ah without any adhan or Iqamah, then he addressed us and supplicated to Allâh He turned to face the Qiblah, raising his hands, then he turned his cloak around, putting its right on the left and its left on the right.” (Da’if)

Notes · وضاحت
١ ؎: استسقا (بارش طلب کرنے) میں جہاں تک ہو سکے امام کو اور رعایا کو اللہ تعالیٰ سے گڑگڑا کر رو رو کر دعائیں مانگنی چاہیے، اور سب لوگوں کو اپنے گناہوں سے توبہ اور استغفار کرنا چاہیے، کیونکہ پانی گناہوں کی نحوست سے رک جاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٢٩١، ومصباح الزجاجة: ٤٤٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٢٦) (ضعیف) (بوصیری نے اسناد کو صحیح کہا اور رجال کو ثقات بتایا، جب کہ سند میں نعمان بن راشد صدوق سئی الحفظ ہیں، ابن خزیمہ فرماتے ہیں کہ نعمان کی توثیق کے سلسلہ میں دل میں کچھ شک ہے، اس لئے کہ ان کی زہری سے روایت میں بہت خلط ملط ہے، اگر یہ خبر ثابت ہوجائے، تو اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے خطبہ دیا اور دعا کی، اور دو مرتبہ اپنی چادر پلٹی، ایک بار صلاة سے پہلے ایک بار اس کے بعد صحیح ابن خزیمہ: ٢ /٣٣٨، لیکن البانی صاحب نے حدیث کی تضعیف کی )
1269Sunan Ibne-Majah

استسقاء میں دعا

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ، أَنَّهُ قَالَ لِكَعْبٍ: يَا كَعْبُ بْنَ مُرَّةَ، حَدِّثْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحْذَرْ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتَسْقِ اللَّهَ، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ اسْقِنَا غَيْثًا مَرِيئًا مَرِيعًا، طَبَقًا عَاجِلًا غَيْرَ رَائِثٍ، نَافِعًا غَيْرَ ضَارٍّ، قَالَ: فَمَا جَمَّعُوا حَتَّى أُجِيبُوا، قَالَ: فَأَتَوْهُ، فَشَكَوْا إِلَيْهِ الْمَطَرَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَهَدَّمَتِ الْبُيُوتُ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا، قَالَ: فَجَعَلَ السَّحَابُ يَنْقَطِعُ يَمِينًا وَشِمَالًا.

شرحبیل بن سمط کہتے ہیں کہ انہوں نے کعب ؓ سے کہا: کعب بن مرہ! آپ ہم سے رسول اللہ ﷺ کی کوئی حدیث بیان کیجئیے اور احتیاط برتئے، تو انہوں نے کہا: ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ سے بارش مانگئے، آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر فرمایا: اللهم اسقنا غيثا مريئا مريعا طبقا عاجلا غير رائث نافعا غير ضار اے اللہ! ہم پر اچھے انجام والی، سبزہ اگانے والی، زمین کو بھر دینے والی، جلد برسنے والی، تھم کر نہ برسنے والی، فائدہ دینے والی اور نقصان نہ پہنچانے والی بارش برسا کعب ؓ کہتے ہیں: ابھی نماز جمعہ سے ہم فارغ بھی نہ ہوئے تھے کہ بارش ہونے لگی اور مسلسل ہوتی رہی، بالآخر پھر لوگ آپ کے پاس آئے، اور بارش کی کثرت کی شکایت کی اور کہا اللہ کے رسول! مکانات گرگئے، پھر آپ ﷺ نے یوں دعا فرمائی اللهم حوالينا ولا علينا اے اللہ! بارش ہمارے اردگرد میں ہو ہم پر نہ ہو ، کعب ؓ کہتے ہیں: آپ ﷺ کا یہ فرمانا تھا کہ بادل دائیں اور بائیں پھٹنے لگا ١ ؎۔

It was narrated from Shurahbil bin Simt that he said to Ka’b: “O Ka’b bin Murrah, narrate to us a Hadith from the Messenger of Allah ﷺ , but be careful” He said: “A man caine to the Prophet ﷺ and said: ‘O Messenger of Allah, ask Allah for rain!’ So the Messenger of Allah ﷺ raised his hands and said: ‘O Allah! Send wholesome, productive rain upon all of us, sooner rather than later, beneficial and not harmful.’ No sooner had they finished performing Friday (prayer) but they were revived. Then they came to him and complained to him about the rain, saying: ‘O Messenger of Allah, the houses have been destroyed!’ He said: ‘O Allah, around us and not upon us.’ Then the clouds began to disperse right and left.” (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١١٦٥، ومصباح الزجاجة: ٤٤١، ٤٤٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٣٥، ٢٣٦) (صحیح) (ملاحظہ ہو: الإرواء: ٢/١٤٥ )
1270Sunan Ibne-Majah

استسقاء میں دعا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْقَاسِمِ أَبُو الْأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقَدْ جِئْتُكَ مِنْ عِنْدِ قَوْمٍ مَا يَتَزَوَّدُ لَهُمْ رَاعٍ، وَلَا يَخْطِرُ لَهُمْ، فَحْلٌ، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَحَمِدَ اللَّهَ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ اسْقِنَا غَيْثًا مُغِيثًا مَرِيئًا طَبَقًا مَرِيعًا غَدَقًا عَاجِلًا غَيْرَ رَائِثٍ، ثُمَّ نَزَلَ، فَمَا يَأْتِيهِ أَحَدٌ مِنْ وَجْهٍ مِنَ الْوُجُوهِ إِلَّا قَالُوا قَدْ أُحْيِينَا.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ایک دیہاتی نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میں آپ کے پاس ایک ایسی قوم کے پاس سے آیا ہوں جس کے کسی چرواہے کے پاس توشہ (کھانے پینے کی چیزیں) نہیں، اور کوئی بھی نر جانور (کمزوری دور دبلے پن کی وجہ سے) دم تک نہیں ہلاتا، تو آپ ﷺ منبر پر چڑھے اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کی پھر یوں دعا فرمائی: اللهم اسقنا غيثا مغيثا مريئا طبقا مريعا غدقا عاجلا غير رائث اے اللہ! ہمیں سیراب کردینے والا، فائدہ دینے والا، ساری زمین پر برسنے والا، سبزہ اگانے والا، زور کا برسنے والا، جلد برسنے والا اور تھم کر نہ برسنے والا پانی نازل فرما ، پھر آپ ﷺ منبر سے اتر گئے، اس کے بعد جو بھی جس کسی سمت سے آتا وہ یہی کہتا کہ ہمیں زندگی عطا ہوگئی۔

It was narrated that Ibn Abbas (RA) said: “A Bedouin came to the Prophet ﷺ and said: ‘O Messenger of Allah, I have come to you from people who have no place to graze their flocks and even their male camels have become weak. He mounted the pulpit and praised Allah, then he ‘O Allah, send upon us all abundant, wholesome rain, productive and plentiful, sooner than later.’ Then the rain came down, and no one came to him from any direction but they ‘We have been revived.”

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٣٩٢، ومصباح الزجاجة: ٤٤٤) (صحیح) (بوصیری نے حدیث کو صحیح کہا ہے، اور رجال کو ثقات لیکن اس حدیث کی سند میں حبیب بن ابی ثابت مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ٢؍١٤٦ ، اسی کے ہم مثل اوپر صحیح حدیث گذری، اور بعض اجزاء حدیث کو اصحاب سنن اربعہ نے روایت کیا ہے، ملاحظہ ہو: مصباح الزجاجہ ب تحقیق الشہری: ٤٤٨ )
1271Sunan Ibne-Majah

استسقاء میں دعا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ بَرَكَة، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اسْتَسْقَى حَتَّى رَأَيْتُ أَوْ رُئِيَ بَيَاضُ إِبْطَيْهِ، قَالَ مُعْتَمِرٌ: أُرَاهُ فِي الِاسْتِسْقَاءِ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے بارش کی دعا مانگی یہاں تک کہ میں نے آپ کی بغل کی سفیدی دیکھی، یا یوں کہا کہ یہاں تک کہ آپ کی بغل کی سفیدی دکھائی دی۔ معتمر کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ یہ استسقاء کے بارے میں ہے۔

Mu’tamir narrated from his father, from Barakah, from Bashir bin Nahik, from Abu Hurairah (RA) : “The Prophet ﷺ supplicated for rain (raising his hands) until Isaw or one could see the whiteness of his armpits.” (Sahih) (One of the narrators) Mu’tanmir said: during the prayer for rain.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٢٢٢، ومصباح الزجاجة: ٤٤٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد ٢/٢٣٥، ٣٧٠) (صحیح )
1272Sunan Ibne-Majah

استسقاء میں دعا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَمْزَةَ، حَدَّثَنَا سَالِمٌ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رُبَّمَا ذَكَرْتُ قَوْلَ الشَّاعِرِ، وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَمَا نَزَلَ حَتَّى جَيَّشَ كُلُّ مِيزَابٍ بِالْمَدِينَةِ، فَأَذْكُرُ قَوْلَ الشَّاعِرِ: وَأَبْيَضَ يُسْتَسْقَى الْغَمَامُ بِوَجْهِهِ، ثِمَالُ الْيَتَامَى عِصْمَةٌ لِلْأَرَامِلِ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي طَالِبٍ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ جب میں رسول اللہ ﷺ کے چہرہ مبارک کو منبر پہ دیکھتا تھا، تو اکثر مجھے شاعر کا یہ شعر یاد آجاتا تھا، آپ ابھی منبر سے اترے بھی نہیں کہ مدینہ کے ہر پر نالہ میں پانی زور سے بہنے لگا، وہ شعر یہ ہے: وہ سفید فام شخصیت (رسول اللہ ﷺ ) جس کے چہرے کے وسیلے سے بادل سے بارش مانگی جاتی ہے، یتیموں کا نگہبان، بیواؤں کا محافظ۔ یہ ابوطالب کا کلام ہے۔

Sâlim narrated that his father said: “Sometimes I remember the words of the poet when I was looking at the face of the Messenger of Allah ﷺ on the pulpit. He did not come down until all the waterspouts in Al-Madinah were filled with rain. And I remember what the poet said: ‘He has a white complexion and rain is sought by virtue of his countenance, He cares for the orphans, and protects the widows.’ These are the words of Abu Tâlib.” (Hasan)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الاستسقاء ٣ تعلیقاً وموصولا (١٠٠٩ عقیب حدیث عبد اللہ بن دینار)، (تحفة الأشراف: ٦٧٧٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٩٣) (حسن )
1273Sunan Ibne-Majah

عیدین کی نماز

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ صَلَّى قَبْلَ الْخُطْبَةِ، ثُمَّ خَطَبَ، فَرَأَى أَنَّهُ لَمْ يُسْمِعِ النِّسَاءَ، فَأَتَاهُنَّ فَذَكَّرَهُنَّ، وَوَعَظَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ، وَبِلَالٌ قَائِلٌ بِيَدَيْهِ هَكَذَا، فَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ تُلْقِي الْخُرْصَ وَالْخَاتَمَ وَالشَّيْءَ.

عطاء کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس ؓ کو کہتے سنا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے خطبے سے پہلے نماز ادا کی، پھر خطبہ دیا، آپ ﷺ نے محسوس کیا کہ عورتوں تک آواز نہیں پہنچ سکی ہے لہٰذا آپ ان کے پاس آئے، ان کو (بھی) وعظ و نصیحت کی، اور انہیں صدقہ و خیرات کا حکم دیا، اور بلال ؓ اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنا دامن پھیلائے ہوئے تھے جس میں عورتیں اپنی بالیاں، انگوٹھیاں اور دیگر سامان ڈالنے لگیں ١ ؎۔

It was narrated that ‘Atâ’ said: “I heard Ibn ‘Abbâs say: ‘I ‘bear witness that the Messenger Allah ﷺ prayed before the sermon, then he delivered the sermon, And he thought that the women had not heard, so he went over to them and reminded them (of Allah) and preached to them enjoined them to give in charity, and Bilal (RA) was spreading his hands like this, and their women started giving their earings, rings and things.’” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عورتوں کو نماز عید کے لئے عید گاہ جانا صحیح ہے، دوسری حدیث میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے باپردہ اور کنواری عورتوں کو بھی عیدگاہ جانے کا حکم دیا یہاں تک کہ حائضہ عورتوں کو بھی، اور فرمایا: وہ مسجد کے باہر رہ کر دعا میں شریک رہیں، اور یہ بھی معلوم ہوا کہ پہلے عیدگاہ میں نماز عید پڑھے اس کے بعد خطبہ دے، اور نماز عیدین کے بارے میں اختلاف ہے کہ واجب ہے یا سنت، اور حق یہ ہے کہ واجب ہے اور بعضوں نے کہا آیت:فصل لربک و انحر سے عید کی نماز مراد ہے اور جب عید کے دن جمعہ آجائے تو عید کی نماز پڑھنے سے جمعہ واجب نہیں رہتا یعنی جمعہ کا وجوب ساقط ہوجاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العیدین ١٦ (٩٧٥)، ١٨ (٩٧٧)، الزکاة ٣٣ (١٤٤٩)، النکاح ١٢٥ (٥٢٤٩)، اللباس ٥٦ (٥٨٨٠)، الاعتصام ١٦ (٧٣٢٥)، صحیح مسلم/العیدین (٨٨٤)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٤٨ (١١٤٢)، سنن النسائی/العیدین ١٣ (١٥٧٠)، (تحفة الأشراف: ٥٨٨٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٢٠، ٢٢٦، ٢٤٢، ٣٤٥، ٣٤٦، ٣٥٧، ٣٦٨)، سنن الدارمی/الصلاة ٢١٨ (١٦٤٤) (صحیح )
1274Sunan Ibne-Majah

عیدین کی نماز

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَلَّى يَوْمَ الْعِيدِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے عید کے دن بغیر اذان اور اقامت کے نماز پڑھی۔

It was narrated from Ibn Abbas (RA) that the Prophet ﷺ prayed on the day of ‘Eid with no Adhãn and no Iqa’mah. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس پر سب کا اتفاق ہے اور صحیح میں جابر بن سمرہ ؓ سے بھی ایسی ہی روایت ہے، اس لئے نماز عید میں اذان یا اقامت کہنا بدعت ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العیدین ٨ (٩٦٢)، صحیح مسلم/العیدین (٨٨٤)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٥٠ (١١٤٧)، (تحفة الأشراف: ٥٦٩٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٢٧، ٢٤٢، ٢٨٥، ٣٣١، ٣٤٥، ٣٤٦) (صحیح )
1275Sunan Ibne-Majah

عیدین کی نماز

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ رَجَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وعَنْقَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: أَخْرَجَ مَرْوَانُ الْمِنْبَرَ يَوْمَ الْعِيدِ، فَبَدَأَ بِالْخُطْبَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ؟ فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا مَرْوَانُ، خَالَفْتَ السُّنَّةَ، أَخْرَجْتَ الْمِنْبَرَ يَوْمَ عِيدٍ، وَلَمْ يَكُنْ يُخْرَجُ بِهِ، وَبَدَأْتَ بِالْخُطْبَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ، وَلَمْ يَكُنْ يُبْدَأُ بِهَا؟، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: أَمَّا هَذَا فَقَدْ قَضَى مَا عَلَيْهِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ رَأَى مُنْكَرًا، فَاسْتَطَاعَ أَنْ يُغَيِّرَهُ بِيَدِهِ فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ بِلِسَانِهِ فَبِقَلْبِهِ، وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ (گورنر) مروان عید کے دن (عید گاہ) منبر لے گئے، اور نماز سے پہلے خطبہ شروع کردیا، ایک شخص نے کھڑے ہو کر کہا: مروان! آپ نے خلاف سنت عمل کیا، عید کے دن منبر لے آئے، جب کہ پہلے ایسا نہیں ہوتا تھا، اور آپ نے نماز سے پہلے خطبہ شروع کردیا جب کہ نماز سے پہلے خطبہ نہیں ہوتا تھا، ابو سعید خدری ؓ نے کہا: اس شخص نے اپنی ذمہ داری ادا کردی، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص خلاف شرع کام ہوتے ہوئے دیکھے اور اپنے ہاتھ سے اسے بدلنے کی طاقت رکھتا ہو تو چاہیئے کہ اسے اپنے ہاتھ سے بدل دے، اگر ہاتھ سے بدلنے کی طاقت نہ ہو تو زبان سے، اور اگر زبان سے بھی کچھ نہ کہہ سکتا ہو تو دل میں برا جانے، اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے ١ ؎۔

It was narrated that Abu Sa’eed said: “Marwân brought the pulpit out one ‘Eid day and started to deliver the sermon before the prayer. A man stood up and said: ‘O Commander of the Believers, you have gone against the Sunnah. You have brought the pulpit out on the day of ‘Eid and it was not brought out before, and you started with the sermon before the prayer, when this was not done before.’ Abu Sa’eed said: ‘As for this man, he has done his duty. I heard the Messenger of Allah ﷺ say: “Whoever among you sees an evil action, and he is able to change it with his hand, then change it with his hand (by taking action); if he cannot, (do so) with his tounge then with his tongue (by speaking out); and if he cannot then with his heart (by hating it and feeling that it is wrong), arid that is the weakest of faith.” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ایمان کا اخیر درجہ ہے اگر خلاف شرع کام کو دل سے بھی برا نہ جانے بلکہ ایسے کاموں پر چپ رہے اور دل میں بھی نفرت نہ لائے تو اس شخص میں ذرا بھی ایمان نہیں ہے، اس حدیث کو یاد رکھنا چاہیے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإیمان ٢٠ (٤٩)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٤٨ (١١٤٠)، سنن الترمذی/الفتن ١١ (٧١٧٢)، سنن النسائی/الإیمان ١٧ (٥٠١١)، (تحفة الأشراف: ٤٠٨٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العیدین ٦ (٩٥٦)، مسند احمد (٣/١٠، ٤٩، ٥٢، ٥٣، ٥٤، ٩٢) (صحیح )
1276Sunan Ibne-Majah

عیدین کی نماز

حَدَّثَنَا حَوْثَرَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ عُمَرُ يُصَلُّونَ الْعِيدَ قَبْلَ الْخُطْبَةِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ، ابوبکر اور عمر ؓ عید کی نماز خطبہ سے پہلے پڑھا کرتے تھے۔

It was narrated that Ibn ‘Umar said: “The Prophet ﷺ then Abu Bakr, then ‘Umar, used to pray the ‘Eid prayer before delivering the sermon.” (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العیدین ٨ (٩٦٣)، ١٩ (٩٧٩)، صحیح مسلم/العیدین (٨٨٨)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٦٦ (الجمعة ٣١) (٥٣١)، (تحفة الأشراف: ٧٨٢٣)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/العیدین ٨ (١٥٦٥)، مسند احمد (٢/١٢، ٣٨) (صحیح )
1277Sunan Ibne-Majah

عید بن کی تکبیرات

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ سَعْدٍ مُؤَذِّنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يُكَبِّرُ فِي الْعِيدَيْنِ: فِي الْأُولَى سَبْعًا قَبْلَ الْقِرَاءَةِ، وَفِي الْآخِرَةِ خَمْسًا قَبْلَ الْقِرَاءَةِ.

رسول اللہ ﷺ کے مؤذن سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عیدین کی پہلی رکعت میں قراءت سے پہلے سات تکبیریں اور دوسری رکعت میں قراءت سے پہلے پانچ تکبیریں کہا کرتے تھے۔

‘Abdur-Rahmân bin Sa’d bin ‘Ammâr bin Sa’d, the Mu’adhdhifl of the Messenger of Allah ﷺ , narrated from his father, from his father, from his grandfathers that the Messenger of Allah ﷺ used to say the Takbir in the ‘Eid prayer, seven times in the first (Rak’ah) before reciting Qur’ân, and five times in the second before reciting Qur’ân.(Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٨٢٩، ومصباح الزجاجة: ٤٤٦)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الصلاة ٢٢٠ (١٦٤٧) (صحیح) (عبدالرحمن بن سعد ضعیف اور ان کے والد مجہول الحال ہیں، لیکن اگلی حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإروا اء: ٣ /١٠٩ )
1278Sunan Ibne-Majah

عید بن کی تکبیرات

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْلَى، عَنْعَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَبَّرَ فِي صَلَاةِ الْعِيدِ سَبْعًا، وَخَمْسًا.

عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے نماز عید میں سات اور پانچ تکبیریں کہیں۔

It was narrated from ‘Amr bin Shu’aib, from his father, from his grandfather that the Prophet ﷺ a said the Takbir seven times and five times in the ‘Eid prayer.(Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٢٥١، (١١٥١)، (تحفة الأشراف: ٨٧٢٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٨٠) (صحیح )
1279Sunan Ibne-Majah

عید بن کی تکبیرات

حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عَقِيلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَثْمَةَ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَبَّرَ فِي الْعِيدَيْنِ: سَبْعًا فِي الْأُولَى، وَخَمْسًا فِي الْآخِرَةِ.

عمرو بن عوف ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عیدین کی پہلی رکعت میں سات تکبیریں اور دوسری میں پانچ تکبیریں کہیں۔

Kathir bin ‘Abdullah bin ‘Amr bin ‘Awf narrated, from his father, from his grandfather, that the Messenger of Allah ﷺ said the Takbir in the ‘Rid prayers, seven times in the first Rak’ah and five times in the second. (Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الجمعة ٣٤ (٥٣٦)، (تحفة الأشراف: ١٠٧٧٤) (صحیح) (اس سند میں کثیر بن عبد اللہ ضعیف ہیں، لیکن اصل حدیث کث r ت طرق کی وجہ سے صحیح ہے، جیسا کہ اس باب کی سابقہ اور آنے والی احادیث سے واضح ہے )
1280Sunan Ibne-Majah

عید بن کی تکبیرات

حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، وَعُقَيْلٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَبَّرَ فِي الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى سَبْعًا وَخَمْسًا سِوَى تَكْبِيرَتَيِ الرُّكُوعِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عید الاضحی اور عید الفطر میں رکوع کی تکبیروں کے علاوہ سات اور پانچ تکبیریں کہیں۔

It was narrated from ‘ Aisha (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said the Takbir seven and five times in (the prayer for ‘Eid) Fitr and Adha, apart from the Takbir for Ruku’ (bowing). (Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٢٥١ (١١٤٩)، (تحفة الأشراف: ١٦٤٢٥، ١٦٥٤٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٦٥، ٧٠) (صحیح )
1281Sunan Ibne-Majah

عیدین کی نماز قرائت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يَقْرَأُ فِي الْعِيدَيْنِ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَهَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ.

نعمان بن بشیر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عیدین کی نماز میں سبح اسم ربک الأعلى اور هل أتاک حديث الغاشية پڑھتے تھے۔

It was narrated from Nu’mán bin Bashir that the Messenger of Allah ﷺ used to recite “Glorify the Name of your Lord, the Most High,” and “Has there come to you the narration of the overwhelming? In the Eid prayer. (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجمعة ١٦ (٨٧٨)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٤٢ (١١٢٢)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٦٨ (الجمعة ٣٣) (٥٣٣)، سنن النسائی/الجمعة ٣٩ (١٤٢٥)، (تحفة الأشراف: ١١٦١٢)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجمعة ٩ (١٩)، مسند احمد (٤/٢٧١، ٢٧٣، ٢٧٦، ٢٧٧)، سنن الدارمی/الصلاة ٢٢١ (١٦٤٨) (صحیح )
1282Sunan Ibne-Majah

عیدین کی نماز قرائت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: خَرَجَ عُمَرُ يَوْمَ عِيدٍ، فَأَرْسَلَ إِلَى أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي مِثْلِ هَذَا الْيَوْمِ؟، قَالَ: بِـقَ وَاقْتَرَبَتْ.

عبیداللہ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ عمر ؓ عید کے دن نکلے تو ابو واقد لیثی ؓ کے پاس یہ پوچھنے کے لیے انہوں نے آدمی بھیجا کہ نبی اکرم ﷺ اس دن نماز عید میں کون سی سورة پڑھتے تھے، تو انہوں نے کہا: سورة قٓ اور اقتربت الساع ۃ ۔

It was narrated that Ubaidullah, bin ‘Abdullâh said: Umar went out on the day of Eid and sent word to Abu Wâqid Al-Laithi asking what the Prophet ﷺ used to recite on this day. He said: ‘Qaf and ‘Iqtarabat.’“ (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/العیدین ٣ (٨٩١)، سنن ابی داود/الصلا ة ٢٥٢ (١١٥٤)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٦٨ (الجمعة ٣٣)، ٥٣٤، ٥٣٥)، سنن النسائی/العیدین ١١ (١٥٦٨)، (تحفة الأشراف: ١٥٥١٣)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/العیدین ٤ (٨)، مسند احمد (٥/٢١٧، ٢١٨، ٢١٩) (صحیح )