عیدین کی نماز
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَلَّى يَوْمَ الْعِيدِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ.
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے عید کے دن بغیر اذان اور اقامت کے نماز پڑھی۔
It was narrated from Ibn Abbas (RA) that the Prophet ﷺ prayed on the day of ‘Eid with no Adhãn and no Iqa’mah. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس پر سب کا اتفاق ہے اور صحیح میں جابر بن سمرہ ؓ سے بھی ایسی ہی روایت ہے، اس لئے نماز عید میں اذان یا اقامت کہنا بدعت ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العیدین ٨ (٩٦٢)، صحیح مسلم/العیدین (٨٨٤)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٥٠ (١١٤٧)، (تحفة الأشراف: ٥٦٩٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٢٧، ٢٤٢، ٢٨٥، ٣٣١، ٣٤٥، ٣٤٦) (صحیح )