انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز فجر میں دعائے قنوت پڑھتے رہے، اور عرب کے ایک قبیلہ (قبیلہ مضر پر) ایک مہینہ تک بد دعا کرتے رہے، پھر اسے آپ نے ترک کردیا ١ ؎۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah ﷺ SAW used to recite Qunut in The Subh prayer, and he used to supplicate in it against one of the Arab tribes for a month, then he stopped doing so. (Sahih).
Notes · وضاحت
١ ؎: قبیلہ مضر: جنہوں نے چند قراء کرام ؓ کو دھوکے سے مار ڈالا تھا۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نماز فجر سے اپنا سر اٹھاتے تو فرماتے: اللهم أنج الوليد بن الوليد وسلمة بن هشام وعياش بن أبي ربيعة والمستضعفين بمكة اللهم اشدد وطأتک على مضر واجعلها عليهم سنين كسني يوسف اے اللہ! ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابی ربیعہ اور مکہ کے کمزور حال مسلمانوں کو نجات دیدے، اے اللہ! تو اپنی پکڑ قبیلہ مضر پر سخت کر دے، اور یوسف (علیہ السلام) کے عہد کے قحط کے سالوں کی طرح ان پر بھی قحط مسلط کر دے) ١ ؎۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "When the Messenger of Allah ﷺ SAW raised his head from Ruku in the Subh prayer, he said: O Allah, save Al-Walid bin Walid, Salamah bin Hisham and Ayyash bin Abu Rabiah, and the oppressed in Makkah. O Allah, tighten your grip on Mudar, and send them years of famine like the famine of Yusuf." (Sahih).
Notes · وضاحت
١ ؎: جیسے سالہا سال یوسف (علیہ السلام) کے عہد میں مصر میں گزرے تھے کہ پانی بالکل نہیں برسا اور قحط ہوگیا، ویسا ہی کفار مضر پر قحط بھیج تاکہ یہ بھوک سے تباہ و برباد ہوجائیں۔ دوسری روایت میں دعاء قنوت یوں وارد ہے: اللهم اغفر للمؤمنين والمؤمنات و المسلمين و المسلمات، و ألف بين قلوبهم، و أصلح ذات بينهم، وانصرهم على عدوک وعدوهم، اللهم العن الکفرة الذين يصدون عن سبيلك، ويکذبون رسلک، ويقاتلون أوليائك، اللهم خالف بين کلمتهم، و زلزل أقدامهم، و أنزل بهم بأسک الذي لاترده عن القوم المجرمين۔ جب کافر مسلمانوں کو ستائیں یا مسلمانوں پر کوئی آفت کافروں کی طرف سے آئے تو اس دعاء قنوت کو پڑھے، اور اس کے بعد یوں کہے: اللهم أنج فلانا وفلانا اور فلاں کی جگہ ان مسلمانوں کا نام لے جن کا چھڑانا کافروں سے مطلوب ہو۔ والمستضعفين بمكة میں مکہ کی جگہ پر اس کا نام لے جہاں یہ مسلمان کافروں کے ہاتھ سے تکلیف اٹھا رہے ہوں۔ اللهم اشدد وطأتک على مضر کی جگہ بھی ان کافروں کا نام لے جو مسلمانوں کو تکلیف دیتے ہیں۔ حدیث میں ولید، سلمہ اور عیاش ؓ کے لئے آپ ﷺ نے دعا کی، یہ سب مسلمان ہوگئے تھے لیکن مکہ میں ابوجہل اور دوسرے کافروں نے ان کو سخت قید اور تکلیف میں رکھا تھا۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے نماز میں دو کالوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا: سانپ کو اور بچھو کو ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ SAW commanded killing the two black ones during prayer; the scorpion and the snake. (Sahih).
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ یہ دونوں سخت موذی جانور ہیں اور اگر نماز کے تمام ہونے کا انتظار کیا جائے گا تو ان کے بھاگ جانے کا اندیشہ ہے، اس لئے نماز کے اندر ہی ان کو مارنا درست ہوا، اگرچہ چلنے اور عمل کثیر کی حاجت پڑے پھر بھی نماز فاسد نہ ہوگی، اور پھر مارنے کے بعد نماز وہیں سے شروع کر دے جہاں تک پڑھی تھی، واضح رہے جن کاموں کے کرنے کی اجازت نبی اکرم ﷺ نے دی ہے ان سے نماز فاسد نہیں ہوتی جیسے سانپ بچھو مارنا، اگر کوئی اور گھر میں نہ ہو تو زنجیر کھول دینا، اشارہ سے سلام کا جواب دینا، ضرورت کے وقت کھنکار دینا مثلاً باہر کوئی پکارے اور یہ گھر کے اندر نماز میں ہو تو کھنکار دے، قیام اور رکوع منبر پر کرنا، اور سجدہ کے لئے نیچے اترنا، پھر منبر پر چلے جانا، بچے کو کندھے پر اٹھا لینا، رکوع اور سجدہ کے وقت اس کو زمین پر بٹھا دینا پھر قیام کے وقت لے لینا، بھولے سے بات کرنا، اور امام بھول جائے تو اس کو بتانا یعنی لقمہ دینا، نفل نماز میں قرآن (مصحف) میں دیکھ کر پڑھنا، کوئی نمازی کے سامنے سے گزرتا ہو تو ہاتھ سے اس کو ہٹانا یا ہاتھ سے اس کو ضرب لگانا۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کو ایک بچھو نے نماز میں ڈنک مار دیا، نماز سے فارغ ہو کر آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ بچھو پر لعنت کرے کہ وہ نمازی و غیر نمازی کسی کو نہیں چھوڑتا، اسے حرم اور حرم سے باہر، ہر جگہ میں مار ڈالو ۔
It was narrated that Aisha (RA) said: "The Prophet ﷺ SAW was stung by a scorpion while he was performing prayer, and he said: May Allah curse the scorpion, for it does not spare anyone, whether he is praying or not. Kill them whether you are in Ihram or not. In AI-Hill (outside the sacred precincts of Makkah) or Al-hararn (the sacred precincts of Makkah). (Hasan).
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦١٢٥، ومصباح الزجاجة: ٤٣٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٥٠) (صحیح) (اس کی سند میں حکم بن عبد الملک ضعیف ہیں، لیکن دوسرے طرق سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دو نمازوں سے منع فرمایا، ایک فجر کے بعد نماز پڑھنے سے سورج نکلنے تک، دوسرے عصر کے بعد نماز پڑھنے سے سورج ڈوب جانے تک ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ SAW forbade two prayers: prayer after the Fajr until the sun has risen, and prayer after Asr until the sun has set. (Sahih).
Notes · وضاحت
١ ؎: مکروہ اوقات میں سے اس حدیث میں دو وقت، مذکور ہیں اور دوسری حدیث میں دیگر تین اوقات مذکور ہیں، ایک سورج نکلنے کے وقت، دوسرے سورج ڈوبنے کے وقت، تیسرے ٹھیک دوپہر کے وقت، علماء کا اس مسئلہ میں بہت اختلاف ہے، دلائل متعارض ہیں، اور اہل حدیث نے اس کو ترجیح دی ہے کہ ان اوقات میں بلاضرورت اور بلاسبب اور ضرورت سے جیسے طواف کے بعد دو رکعت یا تحیۃ المسجد کی سنت اور واجب کی قضا جیسے وتر یا فجر یا ظہر کے دو رکعت کی قضا ان اوقات میں درست اور صحیح ہے، اسی طرح مکہ مستثنیٰ ہے، وہاں ہر وقت نماز صحیح ہے، اسی طرح جمعہ کی نماز مستثنیٰ ہے اور وہ ٹھیک دوپہر کے وقت بھی صحیح ہے۔
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: نماز عصر کے بعد کوئی نماز نہیں یہاں تک کہ سورج ڈوب جائے اور نماز فجر کے بعد کوئی نماز نہیں یہاں تک کہ سورج نکل آئے ۔
It was narrated from Abu Saeed AI-Khudri that the Prophet ﷺ SAW said: "There is no prayer after the Asr until the sun has set, and there is no prayer after the Fajr until the sun has risen." (Sahih).
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میرے پاس کئی اچھے لوگوں نے گواہی دی، ان میں میرے نزدیک سب زیادہ اچھے شخص عمر ؓ تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نماز فجر کے بعد کوئی نماز نہیں یہاں تک کہ سورج نکل آئے، اور عصر کے بعد کوئی نماز نہیں یہاں تک کہ سورج ڈوب جائے ۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "Good men among whom was Umar bin Khattab, and the best of them in my view is Umar, testified before me that the Messenger of Allah ﷺ SAW said: There is no prayer after Fajr until the sun has risen, and there is no prayer after the Asr until the sun has set. (Sahih).
عمرو بن عبسہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر عرض کیا: کیا کوئی وقت اللہ تعالیٰ کے نزدیک دوسرے وقت سے زیادہ محبوب و پسندیدہ ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، رات کا بیچ کا حصہ، لہٰذا اس میں جتنی نمازیں چاہتے ہو پڑھو، یہاں تک کہ صبح صادق ہوجائے، پھر رک جاؤ یہاں تک کہ سورج نکل آئے، اور جب تک وہ ڈھال کے مانند رہے رکے رہو یہاں تک کہ وہ پوری طرح روشن ہوجائے، پھر جتنی نمازیں چاہتے ہو پڑھو یہاں تک کہ ستون کا اپنا اصلی سایہ رہ جائے، پھر رک جاؤ یہاں تک کہ سورج ڈھل جائے، اس لیے کہ دوپہر کے وقت جہنم بھڑکائی جاتی ہے، پھر عصر تک جتنی نماز چاہو پڑھو، پھر رک جاؤ یہاں تک کہ سورج ڈوب جائے اس لیے کہ اس کا نکلنا اور ڈوبنا شیطان کی دونوں سینگوں کے درمیان ہوتا ہے۔
It was narrated that Amr bin Abasah said: "I came to the Messenger of Allah ﷺ SAW and said: Is there any time that is more beloved to Allah than another? He said: Yes, the middle of the night, so pray as much as you want until dawn comes. Then refrain from praying until the sun has risen, and as long as it looks like a shield until it becomes c- apparent. Then pray as much as you want until a pole stands on its shadow (i.e., noon), then refrain from praying until it has crossed the zenith, for Hell is heated up at midday. Then pray as much as you want until you pray Asr, then refrain from praying until the sun has set, for sets between the two horns of Satan and it rises between the two horns of Satan. (Da’if).
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/المواقیت ٣٩ (٥٨٥)، (تحفة الأشراف: ١٠٧٦٢)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین ٥٢ (٨٣٢)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٩٩ (١٢٧٧)، سنن الترمذی/الدعوات ١١٩ (٣٥٧٩)، مسند احمد (٤/١١١، ١١٤، ٣٨٥)، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: ١٣٦٤) (صحیح) (دوسرے طرق سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں یزید بن طلق مجہول اور عبد الرحمن بن البیلمانی ضعیف ہیں، نیز جوف الليل الأوسط کا جملہ منکر ہے، بلکہ صحیح جملہ جوف الليل الاخير ہے، جو دوسری حدیثوں سے ثابت ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ صفوان بن معطل ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: اللہ کے رسول! میں آپ سے ایک ایسی بات پوچھ رہا ہوں جسے آپ جانتے ہیں میں نہیں جانتا، آپ ﷺ نے پوچھا: وہ کیا ہے؟ صفوان ؓ نے کہا: رات اور دن میں کوئی وقت ایسا بھی ہے جس میں نماز مکروہ ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں ، جب تم نماز فجر پڑھ لو تو نماز سے رکے رہو یہاں تک کہ سورج نکل آئے، اس لیے کہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان نکلتا ہے، پھر نماز پڑھو اس میں فرشتے حاضر ہوں گے اور وہ قبول ہوگی، یہاں تک کہ سورج سیدھے سر پہ نیزے کی طرح آجائے تو نماز چھوڑ دو کیونکہ اس وقت جہنم بھڑکائی جاتی ہے، اور اس کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، یہاں تک کہ سورج تمہارے دائیں ابرو سے ڈھل جائے، لہٰذا جب سورج ڈھل جائے (تو نماز پڑھو) اس میں فرشتے حاضر ہوں گے اور وہ قبول ہوگی، یہاں تک کہ عصر پڑھ لو، پھر (عصر کے بعد) نماز چھوڑ دو یہاں تک کہ سورج ڈوب جائے ۔
. It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "Safwan bin Muattal asked the Messenger of Allah ﷺ SAW: O Messenger of Allah, want to ask you about something of which you have knowledge and I know nothing. He said: What is it? He said: Is there any time of the night or day when it is disliked to perform prayer? He said: Yes, when you have prayed the Subh, then do not pray until the sun has risen, for it rises between the two horns of Satan. Then pray, for the prayer is attended (by the angels) and is acceptable (to Allah) until the sun is right overhead like a spear. For at that time Hell is heated up and its gates are opened. (Then refrain from prayer) until the sun passes the zenith. Then when it has passed the zenith, the prayer is attended (by the angels) and is acceptable (to Allah) until you pray the Asr. Then stop praying until the sun has set.(Hasan).
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٩٦٣، ومصباح الزجاجة: ٤٣٨)، ومسند احمد (٥/٣١٢) (صحیح )
ابوعبداللہ صنابحی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیشک سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان نکلتا ہے، یا فرمایا کہ سورج کے ساتھ وہ اس کی دونوں سینگیں نکلتی ہیں، جب سورج بلند ہوجاتا ہے تو وہ اس سے الگ ہوجاتا ہے، پھر جب سورج آسمان کے بیچ میں آتا ہے تو وہ اس سے مل جاتا ہے، پھر جب سورج ڈھل جاتا ہے تو شیطان اس سے الگ ہوجاتا ہے، پھر جب ڈوبنے کے قریب ہوتا ہے تو وہ اس سے مل جاتا ہے، پھر جب ڈوب جاتا ہے تو وہ اس سے جدا ہوجاتا ہے، لہٰذا تم ان تین اوقات میں نماز نہ پڑھو ١ ؎۔
It was narrated from Abu Abdullah As-Sunabihi that the Messenger of Allah ﷺ SAW said: "The sun rises between the two horns of Satan" or he said "The two horns of Satan rise with it, and when it has risen, Satan parts from it. When it is in the middle of the sky he accompanies it, then when it has crossed the zenith he parts from it. When it is about to set, he accompanies it, and when it has set he parts from it. So do not pray at these three times." (Sahih).
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ یہ اوقات مشرکین کی عبادت کے اوقات ہیں جو اللہ کے سوا سورج کی عبادت کرتے ہیں، تو ان اوقات میں گو اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جائے لیکن مشرکین کی مشابہت کی وجہ سے مکروہ اور منع ٹھہری۔ یہاں ایک اعتراض ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ زمین کروی (گول) ہے اور وہ سورج کے گرد گھوتی ہے اب جو لوگ زمین کے چاروں طرف رہتے ہیں، ان کا کوئی وقت اس سے خالی نہ ہوگا یعنی کہیں دوپہر ضرور ہی ہوگی اور کہیں سورج نکل رہا ہوگا اور کہیں ڈوب رہا ہوگا، پس ہر وقت میں نماز منع ٹھہرے گی، اس کا جواب یہ ہے کہ ہر ایک ملک والوں کو اپنے طلوع اور غروب اور استواء سے غرض ہے، دوسرے ملکوں سے غرض نہیں، پس جس وقت ہمارے ملک میں زوال ہوجائے تو نماز صحیح ہوگی، حالانکہ جس وقت ہمارے ہاں زوال ہوا ہے اس وقت ان لوگوں کے پاس جو مغرب کی طرف ہٹے ہوئے ہیں استواء کا وقت ہوا۔ ایک اعتراض اور ہوتا ہے کہ جب سورج کسی وقت میں خالی نہ ہوا یعنی کسی نہ کسی ملک میں اس وقت استواء ہوگا، اور کسی نہ کسی ملک میں اس وقت طلوع ہوگا، اور کسی نہ کسی ملک میں غروب تو شیطان سورج سے جدا کیونکر ہوگا بلکہ ہر وقت سورج کے ساتھ رہے گا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ بیشک جو شیطان سورج پر متعین ہے وہ ہر وقت اس کے ساتھ رہتا ہے، اور سورج کے ساتھ ہی ساتھ پھرتا رہتا ہے، لیکن جدا ہونے کا مقصد یہ ہے کہ سورج کے ساتھ ہی وہ ہماری سمت سے ہٹ جاتا ہے، اور مشرکوں کی عبادت کا وقت ہمارے ملک میں ختم ہوجاتا ہے، اور ہمارے لیے نماز کی ادائیگی اور عبادت کرنا صحیح ہوجاتا ہے، گو نفس الامر میں وہ سورج سے جدا نہ ہو اس لئے کہ ہر گھڑی کہیں نہ کہیں طلوع اور غروب اور استواء کا وقت ہے۔ واللہ اعلم۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/المواقیت ٣٠ (٥٦٠)، (تحفة الأشراف: ٩٦٧٨)، موطا امام مالک/القرآن ١٠ (٤٤)، مسند احمد (٤/٣٤٨، ٣٤٩) (ضعیف) (ابوعبد اللہ صنابحی عبد الرحمن بن عسیلہ تابعی ہیں اس لئے یہ حدیث مرسل اور ضعیف ہے نیز ملاحظہ ہو: ضعیف الجامع برقم: ١٤٧٢ )
جبیر بن مطعم ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے بنی عبدمناف! دن و رات کے جس وقت میں جو کوئی خانہ کعبہ کا طواف کرنا یا نماز پڑھنا چاہے اسے نہ روکو ١ ؎۔
It was narrated that Jubair bin Mutim said: "The Messenger of Allah ﷺ SAW said: O Banu Abd Manaf! Do not prevent anyone from circumambulating this House or praying at any time he wants of the day or night." (Sahih).
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے اہل حدیث اور شافعی اور احمد اور اسحاق نے مکہ کو ممانعت کی حدیثوں سے مستثنی کیا ہے، اور مسجد حرام میں ہر وقت طواف اور نماز کو جائز رکھا ہے۔
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: شاید تم لوگ ایسے لوگوں کو پاؤ گے، جو نماز بےوقت پڑھیں گے، اگر تم ایسے لوگوں کو پاؤ تو نماز اپنے گھر ہی میں وقت مقررہ پر پڑھ لو، پھر ان کے ساتھ بھی پڑھ لو اور اسے نفل (سنت) بنا لو ١ ؎۔
It was narrated that Abdullah bin Masud said: "The Messenger of Allah ﷺ SAW said: You may come across people who offer a prayer at the wrong time. If you meet them, then perform prayer in your houses at the time that you know, then pray with them and make that voluntary."(Sahih).
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی دوسری نماز کو کیونکہ وہ بےوقت ہے گو جماعت سے ہے، اور بعضوں نے کہا ہے کہ اول نماز نفل ہوجائے گی اور یہ فرض، اور بعضوں نے کہا اللہ تعالیٰ کو اختیار ہے جس کو چاہے فرض کر دے اور جس کو چاہے نفل کر دے۔ اب یہ حدیث عام ہے اور ہر ایک نماز کو شامل ہے کہ جماعت کے ساتھ اس کو دوبارہ پڑھ سکتے ہیں، اور بعضوں نے کہا ہے کہ صرف ظہر اور عشاء کو دوبارہ پڑھے، بقیہ کو دوبارہ نہ پڑھے۔ واللہ اعلم۔
ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: نماز اس کے وقت پر پڑھو، اگر امام کو پاؤ کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا رہا ہے تو ان کے ساتھ نماز پڑھ لو، اگر تم نے نماز نہیں پڑھی ہے تو یہ تمہاری فرض نماز ہوگئی، ورنہ پھر یہ تمہارے لیے نفل (سنت) ہوجائے گی ۔
It was narrated from Abu Dharr (RA) that the Prophet ﷺ SAW said: "Offer prayer on time, and if you reached the Imam leading them in prayers (on time), then perform it with them, and you will be safe with your prayer, otherwise it will be voluntary for you." (Sahih).
عبادہ بن صامت ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: عنقریب کچھ ایسے حکمران ہوں گے جو کاموں میں مشغول رہیں گے، اور وہ نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کریں گے (تو تم وقت پہ نماز پڑھ لو) اور ان کے ساتھ اپنی نماز کو نفل بنا لو ۔
It was narrated from "Ubadahh bin Samit that the Prophet ﷺ SAW said: "There will be leaders who will be distracted by matters and they will delay the prayer until after its proper time. So make your prayer with them voluntary."(Sahih).
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز خوف کی (کیفیت) کے بارے میں فرمایا: امام اپنے ساتھ مجاہدین کی ایک جماعت کو نماز پڑھائے، اور وہ ایک رکعت ادا کریں، اور دوسری جماعت ان کے اور دشمن کے درمیان متعین رہے، پھر جس گروہ نے ایک رکعت اپنے امام کے ساتھ پڑھی وہ ہٹ کر اس جماعت کی جگہ چلی جائے جس نے نماز نہیں پڑھی، اور جنہوں نے نماز نہیں پڑھی ہے وہ آئیں، اور اپنے امام کے ساتھ ایک رکعت پڑھیں، اب امام تو اپنی نماز سے فارغ ہوجائے گا، اور دونوں جماعتوں میں سے ہر ایک اپنی ایک ایک رکعت پڑھیں، اگر خوف و دہشت اس سے بھی زیادہ ہو، (صف بندی نہ کرسکتے ہوں) تو ہر شخص پیدل یا سواری پر نماز پڑھ لے ١ ؎۔ راوی نے کہا کہ سجدہ سے مراد رکعت ہے۔
It was narrated that Ibn Umar said: "The Messenger of Allah ﷺ SAW concerning the fear prayer: "The Imam should lead one group in prayer, and they should perform one prostration, and there should be another group between them and the enemy (guarding them). Then those who did the prostration with their leader should move away, and take the place of those who have not yet prayed. Then those who have not yet prayed should come forward and perform one prostration with their leader. Then their leader should move away, and his prayer will be complete. Then each group should perform one prostration by itself. If the fear is too great, then (they should pray) on foot or riding." He said: What is meant by prostration here is a Rakah.(Sahih).
Notes · وضاحت
١ ؎: گو منہ قبلہ کی طرف نہ ہو اور سجدہ اور رکوع اشارے سے کرے، ابن عمر ؓ سے معلوم ہوا کہ منہ قبلہ کی طرف ہو یا نہ ہو، جاننا چاہیے کہ خوف کی نماز کا ذکر قرآن مجید میں ہے پر وہ مجمل ہے، اور احادیث میں اس کی تفصیل کئی طرح سے وارد ہے، صحیحین میں جابر ؓ سے مروی ہے کہ ہر گروہ کے ساتھ دو رکعتیں پڑھے، تو امام کی چار رکعتیں ہوں گی اور مقتدیوں کی دو دو رکعتیں۔
سہل بن ابی حثمہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نماز خوف کے بارے میں کہا: امام قبلہ رو کھڑا ہو، اور ایک جماعت اس کے ساتھ کھڑی ہو، اور ایک جماعت دشمن کے سامنے اس طرح کھڑی ہو کہ ان کے رخ صف کی جانب ہوں، امام انہیں ایک رکعت پڑھائے، پھر وہ اسی جگہ میں امام سے علیحدہ اپنے لیے ایک ایک رکوع اور دو دو سجدے کر کے دوسری رکعت پوری کریں، پھر یہ لوگ دوسری جماعت کی جگہ چلے جائیں، اب وہ جماعت آئے اور امام ان کو ایک رکوع اور دو سجدے سے نماز پڑھائے، امام کی نماز دو رکعت ہوئی، اور دوسری جماعت کی ابھی ایک ہی رکعت ہوئی، لہٰذا وہ لوگ ایک رکوع اور دو سجدے الگ الگ کر کے نماز پوری کرلیں ١ ؎۔ محمد بن بشار کہتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن سعید القطان سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھ سے شعبة عن عبدالرحمٰن بن القاسم عن أبيه عن صالح بن خوات عن سهل بن أبي حثمة کے طریق سے نبی اکرم ﷺ سے مرفوعاً ً یحییٰ بن سعید کی روایت کے مثل بیان کیا۔ محمد بن بشار کہتے ہیں کہ یحییٰ القطان نے مجھ سے کہا کہ اسے بھی اس کے پاس ہی لکھ لو اور مجھے تو حدیث یاد نہیں، لیکن یہ یحییٰ کی حدیث کے ہم مثل ہے۔
It was narrated from Sahl bin Abu Hathmah that he said concerning the fear prayer: "The Imam should stand facing the Qiblah, and a group of them should stand with him, and another group should stand in the direction of the enemy, facing towards the row (of worshipers). He should lead them in one Rakah, then they .should bow and do two prostrations by themselves where they are. Then they should go and take the place of the others, and the others should come and pray one Rakah, bowing and prostrating with the leader. Then he will have prayed two Rakah and they will have prayed one; then they should perform another Rakah, bowing and performing two prostrations." (Sahih).
Notes · وضاحت
١ ؎: اور اتنی دیر تک کہ دوسرا گروہ اس رکعت سے فارغ ہو امام خاموش بیٹھا رہے، جب یہ دوسری رکعت سے فارغ ہوں تو امام سلام پھیرے اور دونوں گروہ سلام پھیر دیں، کیونکہ دونوں کی نماز ختم ہوگئی، اور پہلے گروہ کو لازم ہے کہ چپکے سے دشمن کے سامنے کھڑے رہیں بات نہ کریں یہاں تک کہ سلام پھیر دیں۔
جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنے اصحاب کو صلاۃ خوف پڑھائی، آپ ﷺ نے ان سب کے ساتھ رکوع کیا، پھر سجدہ کیا، اور اس صف نے سجدہ کیا جو آپ سے قریب تھی، اور دوسرے لوگ کھڑے رہے، یہاں تک کہ جب آپ ﷺ کھڑے ہوگئے تو ان لوگوں نے اپنے طور سے دو سجدے کئے، پھر پہلی صف پیچھے آگئی اور وہاں جا کر کھڑی ہوگئی، جہاں یہ لوگ تھے، اور درمیان ہی سے یہ لوگ آگے بڑھ گئے اور ان لوگوں کی جگہ کھڑے ہوگئے، اور پچھلی صف ہٹ کر اگلی کی جگہ کھڑی ہوگئی، اب پھر نبی اکرم ﷺ نے ان سب لوگوں کے ساتھ رکوع کیا، اور آپ نے اور آپ سے قریبی صف نے سجدہ کیا، جب یہ صف سجدے سے فارغ ہوگئی تو دوسری صف نے اپنے دو سجدے کئے، اس طرح سب نے ایک رکوع اور دو سجدے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ کئے، اور ہر جماعت نے دو سجدے اپنے اپنے طور پر کئے، اور دشمن قبلہ کے سامنے تھا ١ ؎۔
It was narrated from Jabir bin Abdullah that the Prophet ﷺ SAW led his Companions in the fear prayer. He led them all in bowing, then the Messenger of Allah ﷺ SAW and the row nearest him prostrated, and the others stood up, then when he stood up, they prostrated twice by themselves. Then the front row moved back and took their place, and they moved forward until they formed the front row. Then the Prophet ﷺ SAW led them all in bowing, then the Messenger of AlIah SAW and the row nearest him prostrated, and when they raised their heads, the others prostrated twice. So all of them bowed with the Prophet ﷺ SAW and some of them prostrated by themselves, and the enemy was in the direction of the Qiblah. (Sahih).
Notes · وضاحت
١ ؎: پس یہاں اس کی ضرورت نہ تھی کہ ایک گروہ جائے اور دوسرا آئے صرف یہ ضروری تھا کہ سب لوگ ایک ساتھ سجدہ نہ کریں ورنہ احتمال ہے کہ دشمن غفلت میں کچھ کر بیٹھے، لہذا سجدہ میں تفریق ہوئی، باقی ارکان سب نے ایک ساتھ ادا کئے، اس حدیث سے یہ نکلتا ہے کہ جیسا موقع ہو اسی طرح سے صلاۃ خوف پڑھنا اولیٰ ہے، اور ہر ایک صورت جائز ہے۔
ابومسعود ؓ سے کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیشک سورج و چاند کسی کے موت کی وجہ سے نہیں گہناتے ١ ؎، لہٰذا جب تم اسے گہن میں دیکھو تو اٹھو، اور نماز پڑھو ۔
It was narrated that Abu Masud said: The Messenger of Allah ﷺ SAW said: "The sun and the moon do not become eclipsed for the death of anyone among mankind. If you see that, then stand and perform prayer."(Sahih).
Notes · وضاحت
١ ؎: بلکہ یہ دونوں اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں، یعنی اس کی قدرت کی نشانی ہے، اور سچی حکمت تھی جو آپ ﷺ نے لوگوں کو بتائی، اور ان کے غلط خیال کی تردید کہ گرہن کسی بڑے کی موت کی وجہ سے لگتا ہے، اگر ایسا ہو تو گرہن سورج اور چاند کا اپنے مقررہ اوقات پر نہ ہوتا بلکہ جب دنیا میں کسی بڑے کی موت کا حادثہ پیش آتا اس وقت گرہن لگتا حالانکہ اب علمائے ہئیت نے سورج اور چاند کے گرہن کے اوقات ایسے معلوم کرلیے ہیں کہ ایک منٹ بھی ان سے آگے پیچھے نہیں ہوتا، اور سال بھر سے پہلے یہ لکھ دیتے ہیں کہ ایک سال میں سورج گرہن فلاں تاریخ اور فلاں وقت میں ہوگا، اور چاند گرہن فلاں تاریخ اور فلاں وقت میں، اور یہ بھی بتلا دیتے ہیں کہ سورج یا چاند کا قرص گرہن سے کل چھپ جائے گا یا اس قدر حصہ، اور یہ بھی دکھلا دیتے ہیں کہ کس میں کتنا گرہن ہوگا، ان کے نزدیک زمین اور چاند کے گرہن کی علت حرکت ہے اور زمین کا سورج اور چاند کے درمیان حائل ہونا ہے۔ واللہ اعلم۔
نعمان بن بشیر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں سورج میں گہن لگا تو آپ گھبرا کر اپنا کپڑا گھسیٹتے ہوئے مسجد میں آئے اور سورج روشن ہونے تک برابر نماز پڑھتے رہے، پھر فرمایا: کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ سورج اور چاند کسی بڑے آدمی کی موت کی وجہ سے گہن لگتا ہے جبکہ ایسا نہیں ہے، بیشک سورج اور چاند کو کسی کی موت و پیدائش کی وجہ سے نہیں گہناتے، بلکہ اللہ تعالیٰ جب کسی چیز پر اپنی تجلی کرتا ہے تو وہ عاجزی سے جھک جاتی ہے ١ ؎۔
It was narrated that Numan bin Bashir said: "The sun was eclipsed at the time of the Messenger of Allah ﷺ SAW, and he came out alarmed, dragging his lower garment, until he reached the Masjid. He continued to perform prayer until the eclipse was over then he said: Some people claim that the sun and moon only become eclipsed because of the death of a great leader. That is not so. The sun and the moon do not become eclipsed for the death or birth of anyone. When Allah manifests Himself to anything in His creation, it humbles itself before Him." (Daif).
Notes · وضاحت
١ ؎: اور دوسری حدیثوں میں دعا اور تکبیر اور صدقہ اور استغفار بھی وارد ہے، جب تک گرہن ختم نہ ہوجائے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٢٦٨ (١١٩٣)، سنن النسائی/الکسوف ١٦ (١٤٨٦)، (تحفة الأشراف: ١١٦٣١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٦٧، ٢٦٩، ٢٧١، ٢٧٧) (منکر) ( اس میں فَإِذَا تَجَلَّى اللَّهُ لِشَيْئٍ مِنْ خَلْقِهِ خَشَعَ لَهُ کا ٹکڑا منکر ہے، سابقہ حدیث ملاحظہ ہو جو کافی ہے )