Sunan Ibne-Majah 1256

اقامت نماز اور اس کا طریقہ

1256Sunan Ibne-Majah

جب لوگ نماز کو وقت سے مؤخر کرنے لگیں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، فَإِنْ أَدْرَكْتَ الْإِمَامَ يُصَلِّي بِهِمْ فَصَلِّ مَعَهُمْ، وَقَدْ أَحْرَزْتَ صَلَاتَكَ، وَإِلَّا فَهِيَ نَافِلَةٌ لَكَ.

ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: نماز اس کے وقت پر پڑھو، اگر امام کو پاؤ کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا رہا ہے تو ان کے ساتھ نماز پڑھ لو، اگر تم نے نماز نہیں پڑھی ہے تو یہ تمہاری فرض نماز ہوگئی، ورنہ پھر یہ تمہارے لیے نفل (سنت) ہوجائے گی ۔

It was narrated from Abu Dharr (RA) that the Prophet ﷺ SAW said: "Offer prayer on time, and if you reached the Imam leading them in prayers (on time), then perform it with them, and you will be safe with your prayer, otherwise it will be voluntary for you." (Sahih).

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٤١ (٦٤٨)، سنن ابی داود/الصلاة ١٠ (٤٣١)، سنن الترمذی/الصلاة ١٥ (١٧٦)، (تحفة الأشراف: ١١٩٥٠)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الإمامة ٢ (٧٧٩، ٧٨٠)، ٥٥ (٨٦٠)، مسند احمد (٥/١٦٨، ١٦٩، ١٤٩، ١٥٦، ١٦٣)، سنن الدارمی/الصلاة ٢٥ (٩١٢٦٤) (صحیح )