نماز فجر میں قنو ت
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يَقْنُتُ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ، يَدْعُو عَلَى حَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ شَهْرًا، ثُمَّ تَرَكَ.
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز فجر میں دعائے قنوت پڑھتے رہے، اور عرب کے ایک قبیلہ (قبیلہ مضر پر) ایک مہینہ تک بد دعا کرتے رہے، پھر اسے آپ نے ترک کردیا ١ ؎۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah ﷺ SAW used to recite Qunut in The Subh prayer, and he used to supplicate in it against one of the Arab tribes for a month, then he stopped doing so. (Sahih).
Notes · وضاحت
١ ؎: قبیلہ مضر: جنہوں نے چند قراء کرام ؓ کو دھوکے سے مار ڈالا تھا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المغازي ٢٩ (٤٠٨٩)، صحیح مسلم/المساجد ٥٤ (٦٧٧)، سنن النسائی/التطبیق ٢٧ (١٠٧٢)، (تحفة الأشراف: ١٣٥٤)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة ٣٤٥ (١٤٤٤)، مسند احمد (٣/١١٥، ١٨٠، ٢١٧، ٢٦١) (صحیح )